اسلام آباد (ٹی این ایس) مہنگی بجلی کے منفی معاشی اثرات

 
0
7

اسلام آباد (ٹی این ایس)  نینشل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 1 روپے 42 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کر دیا ہے کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک میں بجلی کی قیمتوں میں 156 فیصد تک اضافہ کیا جا چکا ہے دنیا کی کمزور معیشتوں کو اس وقت ایک سنگین طوفان کا سامنا ہے جس کی بڑی وجہ اجناس اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ایک مضبوط ڈالر مرکزی بنک کی گرتی ہوئی لیکویڈیٹی اور تیزی سے پولرائزڈ اور کم عالمی اقتصادی نظام ہیں ملک میں اشیائے ضروریہ خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ روز افزوں ہے مگر حکومت اس سلسلے میں کوئی قابل ذکر قدم اٹھانے سے گریزاں دکھائی دیتی ہے توانائی کی قیمتوں میں بے محابا اضافہ گھریلو صارفین کی آمدنی پر سب سے بھاری پڑ رہا ہے قبل ازیں خاندانوں کے اخراجات کی بڑی مدات میں تعلیم اور خوراک کے اخراجات شامل ہوتے تھے مگر اب بجلی اور گیس کے بل بھرنا گھریلو صارفین کے لئے بنیادی اخراجات میں سر فہرست ہے اس کا نتیجہ دیگر مدات پر کیسے اثر انداز ہورہا ہے یہ انداز کرنا مشکل نہیں شہریوں کی اچھی صحت معیاری تعلیم ریاست کی ترقی اور استحکام کی ضمانت ہوتی ہے مگر منہ زور مہنگائی سے نمٹنے والے پاکستانیوں کے لئے جسم و جان کا رشتہ بر قرار رکھنا اور اپنے بجلی گیس کنکشن کو منقطع ہونے سے بچانا دیگر معاملات کی نسبت زیادہ اہم ہوچکا ہے آمدنی اور تنخواہ دار طبقہ کیلئے جو نصف سے زیادہ آبادی کا حامل ہے روزمرہ اشیائے ضروریہ کا حصول مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بن رہا ہے جبکہ غریب اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں میں فرق دکھائی نہیں دیتا اس سارے منظر نامے میں عوام کے لئے کیا ہے یہ ایک مشکل اور تکلیف دہ سوال ہے جس کا جواب یہ ہے کہ عوام کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے مہنگائی بے روز گاری اور ذلت کے پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس میں بجلی کی نمایاں اہمیت ہے جس کی وجہ سے نرخوں میں ردوبدل اس وقت انتہائی حساس ہو جاتا ہے جب مہنگائی ایک اہم سیاسی اور معاشی دباؤ کا نکتہ بنی ہوئی ہے اگرچہ مہنگائی کی شرح 2023 میں اپنی تقریبا 40 فیصد کی بلند ترین سطح سے کافی کم ہے پاکستان کا پاور سیکٹر طویل عرصے سے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے جو ادا نہیں کیے گئے بلز اور سبسڈی کا ایک سلسلہ ہے جو پیداواری کمپنیوں تقسیم کاروں اور حکومت کے درمیان جمع ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے 2023 سے آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات کے تحت بار بار نرخوں میں اضافے نے بجلی کی لاگت کو ناقابل برداشت سطح تک پہنچا دیا ہے نتیجتا توانائی کا پورا ڈھانچہ پیدواری کارگردگی کے بجائے مالی دباؤ کا مرکز بن چکا ہے عوام کو درپیش موجودہ مشکلات کے تناظر میں عالمی مالیاتی فنڈز ٹیکسوں کی بھر مار کے حوالے سے متعدد بار یہ واضح کرچکا ہے کہ ہم پاکستان سے صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ امیروں سے مزید ٹیکس لئے جائیں اور غریبوں کو تحفظ دیا جائے یہی وہ بات ہے جو پاکستان کے عوام بھی چاہتے ہیں مگر بد قسمتی سے شہباز شریف کی قیادت میں بر سر اقتدار مسلم لیگ (ن) کی حکومت تواتر کے ساتھ ایک عام آدمی کو قربانی کا بکرا سمجھ کر کند چھری کے ساتھ ذبح کرنے پر تلی ہوئی ہے پاکستان کے اندر اس وقت واضح طور پر دو ریاستیں موجود ہیں ایک متوسط غریب اور پس ماندہ طبقات پر مشتمل اور دوسری وہ جس کا نہ صرف وسائل پر قبضہ ہے بلکہ اقتدار و اختیار کی مختلف شکلیں بھی اسی کے زیر اثر ہیں اس لئے کوئی چاہ کر بھی ان کا کچھ نہیں بگا سکتا عوام کی غالب اکثریت کو کھانے کو روٹی اور علاج کے لئے دوا بھی مسیر نہ ہو اور افراد کی ایک قلیل تعداد ہر طرح کی سہولیات اور آسائشوں کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہو تو مسلسل احساس محرومی کسی ایسی صورت حال کو جنم دینے کا باعث بن جاتی ہے جو کسی کے وہم گمان میں بھی نہیں ہوتی توانائی کے بحران کو سنبھالنے کے نام پر شہباز شریف حکومت تواتر کے ساتھ کم آمدنی والے طبقات پر مختلف مدات میں جو اضافی بوجھ ڈال رہی ہے یہ طرز عمل توانائی کے شعبے میں اصلاحات نہیں بلکہ کمزور اور سطحی پالیسی کی علامت اور اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت کے پاس توانائی سیکٹر کو بحرانوں اور مشکلات سے نکالنے کے لئے کوئی ٹھوس اور واضح پالیسی موجود نہیں حکومت یہ نکتہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں کہ حقیقی استحکام عوامی بوجھ بڑھانے سے نہیں بلکہ نظام کی خرابیوں کو دور کرنے سے حاصل ہوتا ہے اپنی ناکامیوں اور غلطیوں کو تسلیم کرکے ہی مستقبل کے حوالے سے بہتر منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے مہنگی ترین توانائی اور ٹیکسز کے مسائل کو اگر حکومت زمینی سطح پر آکر نہیں سمجھے گی تو ان کا حل بھی نہیں نکال سکے گی حکومت پاور سیکٹر کے ان مسائل پر توجہ مرکوز کرے جو مہنگی بجلی کا اصل سبب ہیں غریبوں کی روٹی آدھی کرنے سے مسائل حل ہوں گے نہ ملک مشکل سے نکلے گا توانائی کے شعبے میں شفافیت آئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی ٹرانسمیشن لاسز اور بجلی چوری کے خلاف سخت اقدامات ہی پاور سیکٹر کے مسائل کا پائیدار حل ہیں یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ توانائی کا محفوظ مستقبل قابل تجدید توانائی میں ہے اور پاکستان نے 2030 تک 30 فیصد بجلی قابل تجدید توانائی سے پیدا کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے لیکن اس حوالے سے عملی اقدامات کا فقدان ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس حوالے سے بلا تاخیر اقدامات کرے تاکہ عوام کو سستی بجلی میسر آسکے**