اسلام آباد (ٹی این ایس) کبھی ہاں، کبھی ناں، ایران کا انکار، امریکہ کااصرار,اسلام آباد تیار ، 22 اپریل 2026 کو ختم ہونے والی دو ہفتہ کی جنگ بندی کے تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا دور بہت اہم ہو گیا ہے,اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اس وقت شدید غیر یقینی اور “کبھی ہاں، کبھی ناں” کی صورتحال سے دوچار ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ مذاکرات کے لیے بضد ہے، وہیں ایران نے بحری ناکہ بندی اور امریکی رویے کے باعث فی الوقت ان میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ’ایرانی کبھی طاقت کے آگے سر نہیں جھکائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران میں امریکی حکومت کے حوالے سے ’گہرا تاریخی عدم اعتماد‘ پایا جاتا ہے جو کہ اب بھی موجود ہے۔ ایکس پر جاری بیان میں ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ بامعنی مذاکرات کی بنیاد وعدوں کی پاسداری پر قائم ہوتی ہے۔ ’امریکی حکام کی جانب سے غیر تعمیری اور متضاد اشارے ایک تلخ پیغام دیتے ہیں؛ وہ ایران کے ہتھیار ڈالنے کے خواہاں ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی نئی قیادت عقلمند ہے تو ایران کا مستقبل خوشحال اور عظیم ہو سکتا ہے۔ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے لیے اسرائیل نے انھیں راغب نہیں کیا اور سات اکتوبر 2023 کے واقعے نے ان کے دیرینہ موقف کو تقویت بخشی کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے۔ اس حوالے سے تازہ ترین صورتحال اور توقعات درج ذیل ہیں:
امریکہ کا اصرار: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی وفد، جس میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف شامل ہیں، مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہو چکا ہے۔ امریکہ جنگ بندی میں توسیع اور ایک مستقل فریم ورک کا خواہاں ہے، تاہم اس نے خبردار بھی کیا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کے انفراسٹرکچر پر حملے کیے جا سکتے ہیں۔
ایران کا انکار: ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی IRNA نے مذاکرات کی خبروں کو “میڈیا گیم” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ جب تک خلیج عمان میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی اور تہران کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ میز پر نہیں بیٹھے گا۔
پاکستان کی کوششیں: پاکستان کے وزیر اعظم اور آرمی چیف نے حالیہ دنوں میں علاقائی رہنماؤں سے رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ مذاکرات کے عمل کو ٹوٹنے سے بچایا جا سکے۔ دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور وفود کی آمد کے لیے تیاریاں مکمل ہیں۔
توقعات: تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر مذاکرات ہوتے بھی ہیں تو اس ہفتے کسی حتمی معاہدے کی توقع کم ہے۔ فوری مقصد صرف جنگ بندی کی مدت میں اضافہ (ممکنہ طور پر 45 دن تک) ہو سکتا ہے تاکہ وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا دور شروع
سے پہلے فریقین کے درمیان پائے جانے والے شدید اختلافات نے ان مذاکرات پر سوالیہ نشان لگا دیئے تھے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے عالمی سطح پر اسلام آباد کی آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ پاکستان خطے میں امن کی خاطر بامقصد مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل تیار ہے دارالحکومت میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے
سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار , صدر ڈپلومیٹک کرسپانڈنٹس فورم آف پاکستان (DCFP) اصغر علی مبارک کے مطابق دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے, دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران پر اپنے “جوہری پروگرام” کو مستقل طور پر ترک کرنے کے لیے دباؤ ڈالتی رہی , امریکی وفد، جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، ان مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچا تھا تاکہ جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلا جا سکے، تاہم امریکہ نے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اصرار بھی کیا تھا
یاد رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ نے ہفتے کی صبح امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا تھاایران نے مذاکرات کے اس دوسرے دور میں شرکت سے انکار کیا تھا, ایران کا مؤقف رہا تھا کہ وہ اس وقت تک مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا جب تک امریکہ اپنی “بحری ناکہ بندی” ختم نہیں کرتا, ایران نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا تھا ، جس کی اطلاع پاکستان کو بطور ثالث فراہم کر دی گئی ایران کی جانب سے ان مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کے اشارے ملنے کے باوجود اسلام آباد میں بیک چینل سفارت کاری جاری رہی تاکہ 22 اپریل کی ڈیڈ لائن سے قبل کسی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔
سفارت کاری یا ڈپلومیسی کا “ختم ہونے والا نقطہ” عموماً اس وقت آتا ہے جب مذاکرات اور گفت و شنید کے تمام راستے مسدود ہو جائیں اور فریقین طاقت کے استعمال یا جنگ کو واحد حل سمجھنے لگیں۔ موجودہ عالمی تناظر میں، خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے، سفارت کاری کی اس آخری حد کا ذکر کثرت سے کیا جا رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ (22 اپریل 2026) کو ختم ہونے والی ہے۔ ترکیہ جیسے ممالک اس میں توسیع کے لیے پرامید ہیں کیونکہ اس کے بعد سفارت کاری کا متبادل ایک نئی جنگ ہو سکتی ہے۔ ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقدہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں یہ موقف پیش کیا گیا کہ عالمی جسٹس سسٹم کی ناکامی کے باعث بحرانوں کا حل صرف اور صرف مؤثر سفارت کاری میں ہی پوشیدہ ہے۔ پاکستان اس نازک صورتحال میں فعال سفارت کاری کا حصہ ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے انطالیہ فورم کے لیڈرز پینل میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا، جس کا مقصد خطے میں جنگ کو روکنا اور امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پر محیط عدم اعتماد کا گھنٹوں میں ختم ہونا ناممکن ہے۔ اگر مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچے تو سفارت کاری کا یہ نقطہ ختم ہو کر براہِ راست عسکری تصادم میں بدل سکتا ہے، جیسا کہ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی سمندری راستوں کی ناکہ بندی کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کے دوسرے دور پر تو ایرانی حکام کے بیان کے بعد شکوک کے بادل منڈلانے لگے ہیں لیکن اسلام آباد میں اس تناظر میں جاری تیاریوں میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی ہے۔ امریکی وفد کی آمد سے قبل راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر امریکی طیاروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف اسلام آباد کا ریڈ زون سخت حفاظتی حصار میں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ان کے نمائندے پیر کو پاکستان پہنچ جائیں گے تاہم ایران نے پیر کی صبح کہا ہے کہ اس نے امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے وفد بھیجنے کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے اس بارے میں بیان کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کے اس دوسرے دور کے حوالے سے سکیورٹی کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جو21 اپریل کو شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ پاکستان جا سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد سکیورٹی انتظامات میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ 11 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں ہوا تھا، جس کے بعد اب ان غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کو ممکنہ دوسرے دور کی تیاریاں قرار دیا جارہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی نمائندوں کی پیر کے روز پاکستان روانگی کے بیان کے بعد وائٹ ہاؤس نے امریکی میڈیا کو تصدیق کی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کریں گے، تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے حوالے سے تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق ایران نے امریکا کے غیر حقیقی مطالبات، مؤقف میں مسلسل تبدیلی کو مذاکرات میں پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکا کی جانب سے جاری بحری ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق ایران نے ابھی تک مذاکراتی وفد کو اسلام آباد روانہ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک امریکی بحری ناکہ بندی نافذ رہے گی، کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان آنے کی تصدیق کی ہے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی امریکی وفد کا حصہ ہوں گے، یہ تینوں شخصیات اس سے قبل مذاکرات کے پہلے دور میں بھی شریک تھیں۔ ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں صدر ٹرمپ نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تو اس صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس کو امریکا واپس جانا پڑے گا۔ جس کی وجہ امریکی سیکرٹ سروس کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت صدر اور نائب صدر کو بیک وقت ایک ہی مقام پر رکھنے سے گریز کیا جاتا ہے، یہی اصول اندرونِ ملک سفر کے دوران بھی لاگو ہوتا ہے۔ سفارتی حلقوں نے امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کے لیے وفد کی روانگی کے اعلان کے باوجود دوسرے فریق کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کو غیر معمولی واقعہ قرار ہے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز بھی سوشل میڈیا پر ایک بیان میں عندیہ دیا تھا کہ یہ تنازع تقریباً ختم ہو چکا ہے اور ایران نے امریکا کے بیشتر مطالبات تسلیم کر لیے ہیں جب کہ ایران کو اپنی شرائط منوانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے، تاہم ایرانی اعلیٰ قیادت نے اس بیان کو جھوٹ قرار دیا تھا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے متضاد بیانات اور ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کے باوجود اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے لیے بھرپور تیاریاں جاری ہیں۔ الجزیرہ نے اپنی بھی ایک رپورٹ میں پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نتیجہ مختلف زمینی حقائق اور حالیہ سرگرمیوں کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز امریکی فضائیہ کے دو کارگو طیاروں نے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر لینڈ کیا جب کہ ایئرپورٹ سے ریڈ زون تک جانے والی سڑکوں کو بھی بند کر دیا گیاہے , اسلام آباد اور اطراف میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات نظر آئے، جس کے تحت شہر کے اہم ہوٹلوں میں گزشتہ روز بکنگ بند کردی گئی ,راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کو بھی پمز اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک مکمل طور پر معطل کر دیا گیا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران تقریباً 5 فیصد اضافہ دیکھا گیا ، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے ٹوٹنے کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی غیر یقینی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب امریکا نے ایک ایرانی کارگو جہاز کو قبضے میں لے لیا اور خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے امکانات پیدا ہو گئے۔ رائٹرز کے مطابق برطانوی برینٹ کروڈ آئل 4.19 ڈالر (4.6 فیصد) اضافے کے ساتھ 94.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ آئل 4.60 ڈالر (5.5 فیصد) اضافے کے ساتھ 88.45 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ واضح رہے کہ دونوں بینچ مارکس میں جمعہ کے روز 9 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جو 18 اپریل کے بعد ایک دن کی سب سے بڑی گراوٹ تھی۔ یہ کمی اس اعلان کے بعد سامنے آئی تھی جب ایران نے کہا تھا کہ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کھلی رہے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے کہا تھا کہ ایران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ آئندہ کبھی آبنائے ہرمز بند نہیں کرے گا، جس کے ذریعے جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی سپلائی گزرتی تھی۔ اسپاٹا کموڈٹیز کی تجزیہ کار جون گوہ کے مطابق جمعہ کو آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلے رکھنے کے اعلان کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی پاسداران انقلاب کی جانب سے پہلے ہی کئی ٹینکروں پر حملے کیے جا چکے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مارکیٹ کی بنیادی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے کیونکہ روزانہ 10 سے 11 ملین بیرل خام تیل کی پیداوار متاثر یا بند ہے۔ خیال رہے کہ امریکا نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ایک ایرانی کارگو جہاز کو قبضے میں لے لیا جو اس کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا تہران نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے مجوزہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا، جو دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے سے قبل شروع ہونا تھے۔ دوسری جانب کیپلر کے ڈیٹا کے مطابق ہفتے کے روز 20 سے زائد بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز کو عبور کیا تھا، جو خام تیل، مائع پیٹرولیم گیس، دھاتوں اور کھاد لے جا رہے تھے۔ یہ یکم مارچ کے بعد کسی بھی دن سب سے زیادہ ٹریفک تھی۔امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
اخبار نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسلام آباد جائیں گے۔یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے ایران کے ساتھ مذاکرات کے پہلے دور میں بھی یہی شخصیات پاکستان آئی تھیں۔اس سے قبل ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ معاہدے پر دستخط کے لیے خود بھی اسلام آباد جا سکتے ہیں۔نیویارک پوسٹ کی طرف سے پاکستان جانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ ‘شاید میں بعد میں کسی اور تاریخ کو چلا جاؤں۔ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ کل کیا ہوتا ہے۔’دوسری جانب ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے ٹیم کے ناموں کا اعلان تو دور کی بات، خود مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے بھی مثبت جواب نہیں دیا گیا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد وزیراعظم ہاؤس نے اس گفتگو کا جو اعلامیہ جاری کیا، اس میں یہ تو درج ہے کہ دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا لیکن پاکستان میں ایران امریکہ مذاکرات کے متوقع دوسرے دور سے متعلق کوئی بھی تفصیلات نہیں دی گئیں توقع کی جا رہی تھی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور سوموار کے روز شروع ہو گا۔ تاہم اب ممکنہ مذاکرات کب ہوں گے اس حوالے سے صورتحال غیر واضح ہے اور متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں امریکی مذاکراتی وفد کی قیادت کریں گے جیسا کہ رواں ماہ کے آغاز میں مذاکرات کے پہلے دور کے دوران انھوں نے کیا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ وینس آج رات اسلام آباد پہنچیں گے۔تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے متضاد اشارے مل رہے ہیں، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں کہ تہران آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق اختلافات کی وجہ سے عین موقع پر مذاکرات سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی قائم کر رکھی ہے اور ایک ایرانی مال بردار جہاز کو بھی تحویل میں لے لیا تھا۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کرے۔ اس نوعیت کی شٹل ڈپلومیسی عموماً پیچیدہ ہوتی ہے اور اس میں آخری لمحات تک تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ تاہم اس سب کے باوجود غیر یقینی کی یہ سطح کچھ غیر معمولی ہے۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ دونوں فریقوں کو ان مذاکرات میں پیش رفت اور کسی پائیدار طویل المدتی امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے کتنی بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے نئے رہنما عقلمند ہیں تو ایران کا مستقبل بہت تابناک ہو سکتا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے لیے اسرائیل نے انھیں راغب نہیں کیا اور سات اکتوبر 2023 کے واقعے نے ان کے دیرینہ موقف کو تقویت بخشی کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے۔ صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایران کی نئی قیادت عقلمند ہے تو ایران کا مستقبل خوشحال اور عظیم ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو وہ خود ایرانی قیادت سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ صدر ٹرمپ نے امریکی جریدے دی نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرد کشنر پر مشتمل امریکی وفد ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہو گیا ہے اور توقع ہے کہ وہ اگلے چند گھنٹوں میں اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔ ’وہ (اسلام آباد وقت کے مطابق) آج رات وہاں پہنچ جائیں گے۔‘ انھوں نے مذاکرات کے حوالے سے شکوک و شبہات دور کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔ ’لہذا میں اس وقت فرض کروں گا کہ کوئی بھی کھیل نہیں کھیل رہا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو وہ سینئر ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ ’مجھے ان سے ملنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔‘ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’اگر وہ (ایرانی قیادت) ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس کچھ بہت قابل لوگ ہیں۔۔۔۔ لیکن مجھے ان سے ملنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔‘ اس سے پہلے چین کے صدر شی جنپنگ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی معمول کی آمدورفت جاری رہنی چاہیے۔ چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، صدر شی نے یہ بات سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہی۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے شی جنپنگ کا کہنا تھا کہ چین فوری اور جامع جنگ بندی اور عسکری کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے اور امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ چینی صدر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی معمول کے مطابق آمدورفت خطے کے ممالک اور عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔













