اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے تاریخی امن معاہدے میں ایک کلیدی اور مرکزی ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔
دنیا کے دو بڑے حریف ممالک امریکا اور ایران نے تاریخی امن معاہدے پر آن لائن دستخط کیے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر الیکٹرانک دستخط کیے ، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث دستاویز کی توثیق کی۔
دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کے خاتمے اور علاقائی امن کی بحالی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر بے حد سراہا جا رہا ہے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے نفاذ اور مانیٹرنگ کی بھاری ذمہ داری کو کامیابی سے نبھانا پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا سفارتی امتحان ہے، پاکستان کا کام صرف معاہدہ کروانا نہیں تھا، بلکہ وہ اس کے نفاذ اور “آئندہ مراحل” میں بھی مرکزی کردار ہے,جنیوا دورے کی منسوخی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ الیکٹرانک/آن لائن دستخط ہو جانے کی وجہ ہے۔ جب دونوں صدور نے ڈیجیٹل توثیق کر دی تو علامتی دورے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ معاہدہ مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے، اس لیے سفارتی توجہ اب رسمی تقریبات کے بجائے براہِ راست نفاذ پر مرکوز کر دی گئی ہے
امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کے فقدان کو دور کرنے کے لیے پاکستان دونوں فریقین کے اقدامات کی نگرانی اور ان کے درمیان رابطے کا بنیادی ذریعہ رہے گا
اسلام آباد معاہدہ ایک عبوری فریم ورک ہے, اب ماہرین فوجی حکام اور اقتصادی ماہرین سر جوڑ کر بیٹھیں گے یہ ماہرین اگلے 60 دنوں میں ایران کے جوہری پروگرام کی حدود طے کرنے اور امریکا کی طرف سے پابندیاں ہٹانے کے پیچیدہ تکنیکی طریقہ کار کو حتمی شکل دیں گے
بین الاقوامی جریدے Forbes کے تجزیوں کے مطابق، پاکستان اس مانیٹرنگ کو درج ذیل وجوہات کی بنا پر کامیابی سے آگے بڑھا سکتا ہے: پاکستان وہ واحد ملک ہے جو ایران کے ساتھ طویل سرحد برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ امریکا کا ایک اہم غیر ناٹو اتحادی بھی ہے۔ اس منفرد پوزیشن کی وجہ سے دونوں فریقین پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے ایرانی قیادت اور امریکی انتظامیہ (صدر ٹرمپ) دونوں کے ساتھ مضبوط ورکنگ روابط ہیں، جو کسی بھی ہنگامی ڈیڈ لاک کو توڑنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں پاکستان اس مانیٹرنگ میں اکیلا نہیں ہے۔ قطر، سعودی عرب، اور چین جیسے ممالک اس امن عمل کے پسِ پردہ ضامن ہیں، جو پاکستان کو تکنیکی اور سفارتی مدد فراہم کرتے رہیں گے مانیٹرنگ کی راہ میں حائل بڑے چیلنجز (خدشات)جہاں پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد سہولت کار مانا جا رہا ہے،
وہاں کچھ سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں ماہرین کے مطابق، پاکستان ایک “سہولت کار” ہے، کوئی عالمی سپر پاور نہیں۔ اگر مستقبل میں امریکا یا ایران میں سے کوئی بھی فریق معاہدے کی کسی شق (مثلاً مائنز کی صفائی یا پابندیاں ہٹانے) سے پیچھے ہٹتا ہے، تو پاکستان کے پاس انہیں زبردستی پابند کرنے کی عسکری یا اقتصادی طاقت نہیں ہے۔ بیروت یا خطے میں کسی بھی تیسرے فریق کی کارروائی (جیسا کہ ماضی میں ہوا) عارضی جنگ بندی اور مانیٹرنگ کے پورے عمل کو سیکنڈوں میں سبوتاژ کر سکتی ہے، جسے سنبھالنا پاکستان کے کنٹرول سے باہر ہوگا : پاکستان خود اس وقت شدید معاشی چیلنجز اور اندرونی سیاسی معاملات سے نبردآزما ہے، جس کی وجہ سے اتنے بڑے عالمی معاہدے کی طویل مدتی مانیٹرنگ کے لیے مسلسل توجہ برقرار رکھنا ایک مشکل ٹاسک ہوگا۔ پاکستان نے دونوں ممالک کو میز پر لا کر اور آن لائن دستخط کروا کرسفارتی جنگ جیت لی ہے۔ اگلا مرحلہ یعنی تکنیکی ماہرین کی سطح پر مانیٹرنگ (مشترکہ نگرانی کمیٹیاں) پاکستان کی سفارتی تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج ہے کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ پاکستان کس حد تک قطر اور چین جیسے شراکت داروں کو اپنے ساتھ مانیٹرنگ کے عمل میں شامل رکھتا ہے تاکہ اس کی سفارتی بات میں وزن قائم رہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اس معاہدے میں دونوں ملکوں کے بیچ ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور بطور ثالث میں نے اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ مزید بتایا کہ امریکا اور ایران کا یہ معاہدہ فوری طور پر لاگو ہو جائے گا جس کے تحت ایران اب سمندر کا اہم ترین راستہ یعنی آبنائے ہرمز دوبارہ عام جہازوں کے لیے کھول دے گا اور امریکا بھی ایران کی بندرگاہوں پر لگی اپنی بحری ناکہ بندی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ اس پورے علاقے میں امن اور سکون لانے کے لیے سب سے مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔وزیراعظم پاکستان نے کہا ہے کہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے سب سے بڑے مذہبی رہنما یعنی سپریم لیڈر اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
وزیراعظم نے مذاکرات میں شامل افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے اس بڑی کامیابی کو سچ کرنے میں بہت اہم کام کیا، جبکہ ایران کی طرف سے باقر قالیباف، عباس عراقچی اور سکندر مومنی بھی تعریف کے حقدار ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بھی بتایا کہ قطر کی حکومت اور وہاں کے رہنماؤں نے اس معاہدے کو اس آخری مرحلے تک پہنچانے میں بہت زیادہ مدد فراہم کی ہے، جبکہ انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس امن کے لیے کام کیا۔
وزیراعظم نے خاص طور پر پاکستان کی فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے معاملے کو حل کرانے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار سب سے اہم اور بہترین ثابت ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے دورے کے دوران وہاں کے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ رات کے کھانے کے موقع پر اس اہم دستاویز پر دستخط کیے۔دستخط کرنے کے بعد صدر ٹرمپ نے وہاں موجود صحافیوں کو خوشی سے بتایا کہ انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت پر اپنے دستخط کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر پاکستان کی کوششوں کی کھل کر تعریف کی اور کہا کہ پاکستان اور قطر نے ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے سب سے بہترین کام کیا ہے، پاکستان کے وزیراعظم نے مجھ سے کہا تھا کہ ایک بہت بڑا کام ہونے جا رہا ہے، اور میں یہ مانتا ہوں کہ اس تاریخی معاہدے کو کرانے میں پاکستان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اس بڑے معاہدے کے بعد ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی دستخط ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی فوج کچھ عرصے تک خلیج میں موجود رہے گی، جبکہ ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے مقرر کردہ 60 دن کی مدت کوئی مشکل یا حتمی ڈیڈ لائن نہیں ۔
اگر تہران مثبت طرزِ عمل اختیار کرتا ہے تو اس کے ساتھ تعلقات میں نمایاں پیشرفت ممکن ہے۔ ایران اچھا برتاؤ کرے تو اسے 300 ارب ڈالر کا فنڈ حاصل ہو سکتا ہے اور پابندیوں کے حوالے سے بھی پیش رفت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے پاس ایران کی بڑی مقدار میں رقم منجمد ہے اور یہ رقم دراصل ایران کی ملکیت ہے۔ ان کے بقول کسی نہ کسی وقت یہ رقم ایران کو واپس کرنا ہوگی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر امریکا ایران کی رقم واپس نہ کرے تو پھر کون ڈالر میں سرمایہ کاری کرے گا؟ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ نہ ایٹمی بم بنائے گا اور نہ ہی اسے حاصل کرے گا۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری ذخائر اور دیگر تکنیکی امور پر بات چیت بھی جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔ یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے مجوزہ معاہدے پر اسرائیلی قیادت مطمئن ہے اور اسرائیلی رہنما اس پیش رفت سے خوش ہیں,امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کی اصل اور مکمل تحریر سامنے آ گئی ہے، جس کا اعلان امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار نے ایک بریفنگ کے دوران کیا ,اس پورے معاہدے کا اگر خلاصہ دیکھا جائے تو اس میں بنیادی بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے جنگ ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ ایران اب اپنے سمندری راستے یعنی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا جبکہ امریکا ایران پر قائم اپنی سمندری ناکہ بندی کو ختم کر دے گا۔اس کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی پروگرام پر بات چیت کے لیے ساٹھ دنوں کا وقت طے کیا گیا ہے اور ان ساٹھ دنوں کے دوران ایران کو اپنا تیل بیچنے کی عارضی اجازت بھی مل گئی ہے۔ اگر ایران ایٹمی پروگرام کا فائنل معاہدہ کر لیتا ہے تو اسے اربوں ڈالر کی بڑی معاشی امداد بھی دی جائے گی۔ معاہدہ کے چودہ نکات کی اصل تفصیلات درج ذیل ہیں۔
پہلے نقطے کے مطابق، ریاست ہائے متحدہ امریکا اور ایران کی اسلامی جمہوریہ نے اس جنگ میں شامل اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس دستاویز پر دستخط کر کے یہ اعلان کیا ہے کہ تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوجی کارروائیاں فوری اور ہمیشہ کے لیے ختم کر دی جائیں گی۔ دونوں ملکوں نے عہد کیا ہے کہ وہ اب سے ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگ یا فوجی کارروائی شروع نہیں کریں گے اور نہ ہی ایک دوسرے کو دھمکی دیں گے یا طاقت کا استعمال کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی لبنان کی آزادی اور اس کی حدود کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا دوسرے نکتے میں امریکا اور ایران نے یہ ذمہ داری اٹھائی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی آزادی، حکومت اور ملکی حدود کا پورا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے گھر کے یعنی اندرونی معاملات میں کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کریں گے۔ تیسرےنکتے کے تحت دونوں ملکوں نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ساٹھ دنوں کے اندر حتمی اور پکا معاہدہ تیار کرنے کے لیے بات چیت مکمل کریں گے، اور اگر دونوں ملک راضی ہوں تو اس وقت کو آگے بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ چوتھے نکتےے میں یہ طے پایا ہے کہ جیسے ہی اس خط پر دستخط ہوں گے، امریکا فوری طور پر ایران کے خلاف لگی اپنی سمندری ناکہ بندی اور ہر قسم کی رکاوٹوں کو ہٹانے کا کام شروع کر دے گا اور تیس دنوں کے اندر اس ناکہ بندی کو پوری طرح ختم کر دیا جائے گا۔امریکا نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ معاہدے کے تیس دنوں کے اندر وہ اپنی تمام فوجیں ایران کے آس پاس کے علاقوں سے واپس بلا لے گا۔ پانچویں نکتےطے کے مطابق دستخط ہوتے ہی ایران اپنی طرف سے پوری کوشش کرے گا کہ خلیجِ فارس سے لے کر عمان کے سمندر تک تجارتی جہازوں کو ساٹھ دنوں کے لیے بغیر کسی فیس یا ٹیکس کے بالکل مفت اور محفوظ راستہ فراہم کیا جائے۔
ایران اس سمندری راستے یعنی آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور سہولیات کے لیے عمان اور خلیج کے دیگر ساحلی ملکوں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی قوانین کے تحت بات چیت کرے گا۔چھٹے نکتے کے تحت امریکا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس علاقے کے دوسرے ساتھی ملکوں کے ساتھ مل کر ایران کی دوبارہ تعمیر اور معاشی ترقی کے لیے ایک پکا پلان بنائے گا جس کے لیے کم از کم تین سو ارب ڈالر یعنی کھربوں روپے کا انتظام یقینی بنایا جائے گا۔اس پلان کو لاگو کرنے کے طریقہ کار کو ساٹھ دنوں کے اندر فائنل معاہدے کا حصہ بنایا جائے گا اور اس کے لیے تمام ضروری مالیاتی اجازت نامے اور لائسنس امریکا خود جاری کرے گا۔ساتویں نکتےے میں امریکا نے یہ ذمہ داری لی ہے کہ وہ ایران پر لگی ہر قسم کی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی پابندیاں اور امریکا کی اپنی طرف سے لگی تمام چھوٹی بڑی پابندیاں شامل ہیں، آٹھویں نکتے میں ایران نے ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے وعدہ کیا ہے کہ وہ کبھی بھی ایٹمی ہتھیار یعنی ایٹم بم نہیں بنائے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا۔دونوں ملک ایران کی جائز ایٹمی ضرورتوں پر فائنل معاہدے میں مزید بات چیت کرنے پر بھی راضی ہو گئے ہیں۔نویں نکتے کے مطابق جب تک پکا معاہدہ نہیں ہو جاتا، دونوں ملک موجودہ حالت کو برقرار رکھیں گے، دسویں نکتے کے تحت امریکا نے ذمہ داری اٹھائی ہے کہ دستخط ہوتے ہی امریکی محکمہ خزانہ ایران کو اپنا کچا تیل، بیچنے کے لیے اجازت نامے جاری کرے گا
گیارہویں نکتے میں امریکا نے وعدہ کیا ہے کہ معاہدے پر عمل شروع ہوتے ہی ایران کے روکے گئے یا منجمد کیے گئے تمام پیسے اور اثاثے پوری طرح بحال کر دیے جائیں گےبارہویں نکتےکے تحت دونوں ملک اس بات پر راضی ہوئے ہیں کہ اس پورے معاہدے پر نظر رکھنے کے لیے ایک نگرانی کرنے والی کمیٹی یعنی انتظامی نظام بنایا جائے گا جو یہ دیکھے گا کہ سب لوگ اپنے وعدے پورے کر رہے ہیں یا نہیں۔تیرہویں نکتے میں یہ طے کیا گیا ہے کہ معاہدے پر دستخط ہونے اور جنگ بندی، سمندری ناکہ بندی ہٹانے، تیل کی فروخت اور پیسوں کی واپسی جیسے بنیادی نکات پر عمل شروع ہونے کے بعد، دونوں ملک باقی ماندہ امور پر فائنل معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز کریں گےسب سے آخر میں چودھویں نکتے میں یہ صاف لکھ دیا گیا ہے کہ اس فائنل امن معاہدے کو پکا اور قانونی طور پر لازمی کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک بڑی اور اہم قرار داد بھی پاس کروائی جائے گی تاکہ کوئی بھی ملک اپنی بات سے پیچھے نہ ہٹ سکے۔













