اسلام آباد (ٹی این ایس) فیصل کامران فرض شناسی، جرات کی روشن مثال انسان کا دل یوں تو دیکھنے میں جسم کا ایک ٹکڑا ہے لیکن اسی ٹکڑے میں خواہشات کی ایک دنیا بسی ہوئی ہے کہ اگر ہفت اقلیم حاصل ہو جائے تب بھی آسودہ نہ ہو خواہشات کی کثرت انسان کو ٹکراو کی طرف لے جاتی ہے کیوںکہ اس دنیا میں کروڑوں انسان بستے ہیں اگر ایک انسان اپنی تمام خواہشات کو پورا کرنا چاہے تو اسے اس بستی میں بسنے والے بہت سے انسانوں کو خواہشات کا خون کرنا ہوگا اس کے بغیر وہ اپنی تمام چاہتوں کو پورا نہیں کر سکتا انسان کی اِن ہی ان گنت اور بے شمار خواہشوں اور چاہتوں کو کنٹرول میں رکھنے دوسروں کے ساتھ ظلم وزیادتی کو روکنے اور اخلاقی حدود سے باہر نہ جانے کی غرض سے قانون بنائے جاتے ہیں فیصل کامران جیسے باصلاحیت اور جرات مند افسر ثابت کرتے ہیں کہ پیشہ ورانہ دیانت اور عوامی خدمت ہی پولیس کی حقیقی شناخت ہے دہشت گردی جرائم اور سماجی چیلنجز کے اس دور میں جدید باکردار اور عوام دوست پولیس ہی محفوظ پاکستان کی ضمانت ہے عدل قانون اور عوامی اعتماد کا مضبوط رشتہ ہی ایک پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے قانون انسان کو مہذب بناتا ہے اس کے ذریعہ ہر شخص کو اس کا جائز حق ملتا ہے قانون انسان کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ دوسروں کے حقوق میں بے جا مداخلت نہ کرے قانون اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ انسان اخلاق کے دائرہ میں رہتے ہوئے زندگی گزارے کوئی گروہ قانونی نظام کے بغیر مہذب اور شائستہ زندگی نہیں گزار سکتا اسلام میں قانون کا اصل سر چشمہ اللہ تعالی کی ذات ہے لیکن انتظامی قوانین وضع کرنے کا حق حکومت کو حاصل ہے عدلیہ قانون کی تشریح کرتی ہے اور جہاں ابہام ہو وہاں اسکی مراد متعین کرتی ہے اور انتظامیہ قانون کو نافذ کرتا ہے قانون کے نفاذ میں ایک اہم پہلو قانون کی حفاظت کا ہے اس بات کی نگرانی بھی ضروری ہوتی ہے کہ کہیں کوئی بندہ ہوس قانون کو توڑنے کا مرتکب تو نہیں ہورہا ہے وہ دوسروں پر ظلم تو نہیں کررہا ہے؟ دوسروں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے کا مرتکب تو نہیں ہورہا ہے؟ قانون اور حقوق کے تحفظ کی یہ ذمہ داری اندرون ملک جس گروہ سے متعلق ہے وہ ہے پولیس پولیس ہی معاشرہ کو کنٹرول کرتی ہے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ بیجا خواہشات کو اپنے کنٹرول میں رکھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ظلم و زیادتی کے مرتکب نہ ہوں معاشرہ میں عدل و انصاف کو قائم رکھنے اور ظلم و زیادتی اور حق تلفی کو روکنے میں پولیس کا نہایت اہم کردار ہے صدیوں پر محیط معلومِ انسانی تاریخ کے دوران مختلف ناموں سے پولیس ہی معاشرے سے جرائم کے خاتمے ،امن کے قیام اور قانون کی بالا دستی کے لیے اپنا متعین کردار ادا کرتی چلی آرہی ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید گیرائی اور گہرائی ضرور پیدا ہوئی ہے تا ہم کوئی بھی اور ادارہ اس کی جگہ نہیں لے سکا ہاں البتہ سہولت کاری کے لیے ریاست کے مختلف ادارے پولیس کی معاونت کی ذمہ داریاں ضرور نبھاتے ہیں ایک عرصے سے جنگ و جدل کی آماجگاہ بنے پاکستان میں پولیس کی ذمہ داریوں میں معتدبہ اضافہ ہوگیا ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق اس قومی ادارے کو مناسب وسائل کی فراہمی قوانین میں تبدیلی میرٹ کی بالادستی تربیت کی مناسب سہولتیں آزادی عمل اور پوسٹنگ اور ٹرانسفرز میں اشرافیہ اوربر سر اقتدار طبقات سے وہ آزادی حاصل نہیں ہو سکی جو کسی بھی جمہوری اور فلاحی معاشرے کا طرہ امتیاز سمجھی جاتی ہے اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ کسی بھی معاشرے میں امن و امان صرف قانون کی موجودگی سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ایسے باکردار باصلاحیت اور دوراندیش افسران ضروری ہوتے ہیں جو قانون کو انصاف خدمت اور انسانیت کے تقاضوں کے مطابق نافذ کریں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران کا شمار ایسے ہی باکردار باصلاحیت جرات مند فرض شناس اور دور اندیش افسران میں ہوتا ہے فیصل کامران نے پیشہ ورانہ مہارت نظم و ضبط دیانت داری اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ ایک اچھا پولیس افسر صرف قانون نافذ کرنے والا نہیں بلکہ معاشرہ میں عدل و انصاف کو قائم رکھنے ظلم و زیادتی حق تلفی کو روکنے عوام میں عتماد اور تحفظ کا احساس پیدا کرنے والا بھی ہوتا ہے پاکستان پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے محمد فیصل کامران نے2009 میں بطور اے ایس پی اپنی ملازمت کا آغاز کیا اور پولیس کے مختلف اہم انتظامی اور فیلڈ عہدوں کے علاوہ وزیر اعظم کے چیف سیکورٹی آفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں فیلڈ پولیسنگ کے اس وسیع تجربے نے انہیں جرائم کی نوعیت عوامی مسائل اور مثر قانون نافذ کرنے کے عملی تقاضوں سے گہری واقفیت عطا کی 2022 میں اسلام آباد پولیس میں ایس ایس پی آپریشنز تعینات ہوئے 2024 میں انہیں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور مقرر کردیا گیا لاہور پولیس کے آپریشنز ونگ کی سربراہ کی حیثیت سے امن و امان سکیورٹی جرائم کی روک تھام اور پولیس کے آپریشنل معاملات کے علاوہ مذہبی اجتماعات قومی تقریبات وی آئی پی سکیورٹی کے لیے خصوصی سکیورٹی پلانز کی تیاری اور عمل درآمد بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے فیصل کامران نے لاہور میں تعیناتی کے بعد پولیسنگ کے ایک نئے تصور کو فروغ دیا جس میں عوام کو مرکزِ نگاہ رکھا جار ہا ہے جرائم کی روک تھام تھانوں کی کارکردگی میں بہتری پولیس اہلکاروں کی جوابدہی شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر ان کی خصوصی توجہ ہے ان کا موقف ہے کہ پولیس کا اصل وقار اختیارات سے نہیں عوام کے اعتماد سے وابستہ ہے پنجاب کے دارلحکومت میں روزانہ ہزاروں واقعات مذہبی اجتماعات سیاسی سرگرمیاں قومی تقریبات اور دیگر حساس سیکورٹی معاملات لاہور پولیس کے لئے ایک مسلسل امتحان ہوتے ہیں لیکن ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران ہمیشہ اپنی ٹیم کے ساتھ فیلڈ میں رہ کر نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی بلکہ یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ ایک کامیاب کمانڈر وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑا ہو اپنے ماتحت عملے میں احساس ذمہ داری پیدا کرنا بھی ایک اچھی قیادت کی پہچان ہوتی ہے فیصل کامران کی پولیس فورس میں نظم و ضبط میرٹ قانون کی بالادستی اور خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دینے کی کوششیں قابل تحسین ہیں ڈی آئی جی آپریشنز شہریوں کی عزت اور انصاف کی بر وقت فراہمی کو ہی پولیس کی اصل کامیابی سمجھتے ہیں پاکستان اس وقت جس پیچیدہ داخلی سلامتی کے منظر نامے سے گزر رہا ہے اس میں دہشت گردی انتہا پسندی منظم جرائم اور سماجی بے چینی جیسے عوامل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیںان حالات میں مضبوط پیشہ ور اور عوام دوست پولیس داخلی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے لئے ناگزیر ہے کیونکہ دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ صرف عسکری محاذ پر نہیں بلکہ شہری گلیوں محلوں بازاروں اور تھانوں میں بھی لڑی جاتی ہے پولیس اس جنگ میں پہلی دفاعی لائن ہے جو روزمرہ کی بنیاد پر براہِ راست عوام سے جڑی ہوتی ہے اور جس کے کندھوں پر امن و امان کی بھاری ذمے داری رکھی گئی ہے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران دہشت گردی اسٹریٹ کرائم منظم اور سائبر جرائم سے نمٹنے کے لئے پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے ٹھوس اور عملی اقدامات کر رہے ہیں روایتی پولیسنگ کے ساتھ ساتھ جدید حکمت عملی موثر نگرانی اور فوری رد عمل ان کی ترجیحات میں سر فہرست ہے بلاشبہ کسی بھی افسر کی کامیابی کا فیصلہ وقت اور اس کی کارکردگی کرتے ہیں مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ جو افسر ان دیانت، جرات قانون کی بالادستی اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بناتے ہیں وہ لوگوں کی آنکھوں کا تارا بن جاتے ہیں ظلم و زیادتی کو روکنا در اصل پورے سماج کا اخلاقی و مذہبی فریضہ ہے پولیس گویا اس ذمہ داری کو پورے معاشرہ کی طرف سے ادا کرتی ہے عدل کو قائم کرنا اور معاشرہ کو ظلم سے بچائے رکھنا اتنی بڑی نیکی ہے کہ ایمان کے علاوہ شاید ہی کوئی اور نیکی اس کا مقابلہ کرسکے دعا ہے کہ محمد فیصل کامران اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قائدانہ اوصاف کے ذریعے لاہور پولیس کو مزید مضبوط جدید اور عوام دوست ادارہ بنانے میں کامیاب ہوں کیونکہ ایک مضبوط پولیس ہی ایک محفوظ پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی ضمانت ہوتی ہے عوام کو بھی چاہئے کہ وہ انصاف پسند اور ذمہ دار پولیس عہدیداروں کی حوصلہ افزائی کریں انہیں اپنا محسن سمجھیں اور سنجیدگی کے ساتھ ان تک عوامی جذبات پہنچائیں کیوںکہ بعض دفعہ باہمی غلط فہمی کی وجہ سے ایسے واقعات پیش آجاتے ہیں جو نفرت اور عناد کو جنم دینے کا باعث ہوتے ہیں داخلی سلامتی کے موجودہ چیلنجز میں سائبر کرائم آن لائن انتہا پسندی اور سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت انگیز مواد کا پھیلا بھی شامل ہے پولیس کو اب صرف روایتی جرائم سے نہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے بھی نمٹنا ہے اس کے لیے خصوصی تربیت جدید سافٹ ویئر اور ماہر افرادی قوت کی ضرورت ہے اگر پولیس اس میدان میں مضبوط ہو جائے تو دہشت گرد تنظیموں کی آن لائن بھرتی اور پروپیگنڈا مہمات کو موثر انداز میں روکا جا سکتا ہے مارچ 2025 تک لاہور پولیس میں احتسابی کارروائیوں کے دوران 355 افسران و اہلکاروں کو کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال، بدانتظامی اور غفلت پر محکمانہ سزائیں دی گئیں جن میں 17 اہلکار ملازمت سے برطرف بھی کیے گئے مئی 2025 میں بتایا گیا کہ گزشتہ تقریباً 11 ماہ میں 400 سے زائد اہلکاروں کے خلاف مختلف محکمانہ سزائیں دی جا چکی تھیں مختلف ہفتہ وار “آرڈرلی روم اجلاسوں میں بھی انہوں نے متعدد اہلکاروں کو تنخواہ کٹوتی انکریمنٹ روکنے سروس ضبط کرنے اور وارننگ جیسی سزائیں دیں ڈی آئی جی فیصل کامران کے اس احتسابی عمل سے پنجاب پولیس بہتر اصلاحات نظر آ رہی ہے عوامی اعتماد کے بغیر کوئی بھی پولیس فورس کامیاب نہیں ہو سکتی پاکستان میں پولیس کو درپیش مسائل بھی کسی سے پوشیدہ نہیں وسائل کی کمی سیاسی مداخلت جدید ٹیکنالوجی کا فقدان ناکافی تربیت اور افرادی قوت پر بڑھتا ہوا دبا ایسے عوامل ہیں جو پولیس کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں اس کے باوجود پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں ہزاروں اہلکار شہید اور زخمی ہوئے، مگر ادارے نے اپنی ذمے داریوں سے پیچھے ہٹنے کے بجائے مزید عزم کے ساتھ کام جاری رکھا پولیس ہی وہ ادارہ ہے جو کمیونٹی کی سطح پر روابط استوار کر کے مقامی علما اساتذہ اور سماجی رہنماں کے ساتھ مل کر انتہا پسندی کے بیانیے کا توڑ کر سکتی ہے پولیس اصلاحات کا سوال پاکستان میں طویل عرصے سے زیرِ بحث ہے مگر عملی پیش رفت سست روی کا شکار رہی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں بھرتیوں کا شفاف نظام تربیت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال فرانزک سہولیات کی بہتری ڈیجیٹل پولیسنگ اور اہلکاروں کی فلاح و بہبود ایسے اقدامات ہیں جو پولیس کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنا سکتے ہیں ایک مطمئن اور محفوظ پولیس اہلکار ہی بہتر انداز میں عوام کی خدمت کر سکتا ہے پولیس شہدا کی قربانیوں کو یاد رکھنا محض یادگاروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کے خاندانوں کی کفالت بچوں کی تعلیم اور معاشی تحفظ کو یقینی بنانا بھی ریاست کی ذمے داری ہے**













