اسلام آباد، 10 اگست 2026ء (ٹی این ایس): وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت ریرا سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس، نئے قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کے مختلف آپشنز کا جائزہ
وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت اسلام آباد میں ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی (ریرا) سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں موجودہ قانون پر نظرثانی اور نئے قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی و چیف کمشنر اسلام آباد لیفٹیننٹ (ر) سہیل اشرف، سیکریٹری داخلہ احمد رضا سرور، سیکریٹری قانون و انصاف راجہ نعیم اکبر، ایڈیشنل سیکریٹری وزارتِ قانون و انصاف محمد خشیح الرحمٰن خان سمیت دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں اسلام آباد میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے مؤثر، شفاف اور عوام دوست ریگولیٹری نظام کی ضرورت پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے RERA سے متعلق موجودہ قانونی فریم ورک، اس کے نفاذ، ادارہ جاتی ذمہ داریوں اور ریگولیٹری امور کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی سے متعلق قانون سازی کے حوالے سے مزید مشاورت کرنے اور مختلف قانونی و ریگولیٹری آپشنز کا جامع جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے RERA سے متعلق معاملات کے مزید جائزے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی قائم کردی۔ ذیلی کمیٹی وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون و انصاف اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔
وفاقی وزیر قانون نے ذیلی کمیٹی کو RERA سے متعلق مختلف قانونی آپشنز، ریگولیٹری فریم ورک اور ادارہ جاتی انتظامات کا جائزہ لے کر 20 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ اسلام آباد کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ایسا ریگولیٹری نظام وضع کیا جائے جو شہریوں کے مفادات اور پراپرٹی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ شفافیت، جوابدہی اور مؤثر ریگولیشن کو یقینی بنائے۔
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد کو پاکستان کا ماڈل سٹی بنانے کے لیے اس کے ریگولیٹری اور ادارہ جاتی نظام کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے پراپرٹی حقوق کا تحفظ، مؤثر ریگولیٹری نظام اور عوامی مفادات کا تحفظ اصلاحات کے بنیادی مقاصد ہونے چاہییں۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ کم لاگت ہاؤسنگ کے فروغ اور عام شہریوں کو ہاؤسنگ فنانس اور پراپرٹی ملکیت کے حوالے سے سہولت فراہم کرنے کے لیے مؤثر قانونی فریم ورک ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں شفاف، مؤثر اور عوام دوست نظام سے شہریوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
اجلاس میں لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کو بھی RERA سے متعلق جائزے کا اہم حصہ قرار دیا گیا، جبکہ ریگولیٹری فریم ورک کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں عوامی اعتماد کی بحالی اور شفافیت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بینکوں اور عوام کے اعتماد کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے CDA میں ہونے والی اصلاحات کو سراہتے ہوئے RERA سے متعلق معاملے پر مزید مشاورت اور مختلف متبادل آپشنز کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ وفاقی حکومت، CDA اور نجی شعبہ ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری نظام کی تشکیل میں اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں اور مستقبل کے قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل میں متعلقہ تمام فریقین کی ضروری مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر قانون نے ہدایت کی کہ RERA کے معاملے پر تمام متعلقہ پہلوؤں کا جامع جائزہ لیتے ہوئے ایسا نظام وضع کیا جائے جو شفاف، مؤثر، قابلِ عمل اور شہریوں کے مفادات کے تحفظ کا ضامن ہو۔
















