اسلام آباد (ٹی این ایس) جرائم میں نمایاں کمی، رواں سال پراپرٹی کرائمز میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی

 
0
13

اسلام آباد (ٹی این ایس) جرائم میں نمایاں کمی، رواں سال پراپرٹی کرائمز میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اہم مقدمات سمیت قتل کے مقدمات میں کامیابی حاصل ہوئی، تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے 22 اپریل 2024 کو عہدہ سنبھالنے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کے تحفظ، پولیس کی عملی استعداد میں اضافے اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اہم اصلاحات اور جدید پولیسنگ اقدامات متعارف کرائے۔Numbeo کے تازہ ترین ورلڈ سیفٹی انڈیکس کے مطابق اسلام آباد دنیا کے 401 شہروں میں 83ویں نمبر پر رہا، جبکہ لندن، ماسکو، ٹورنٹو، گلاسگو اور استنبول جیسے بڑے شہروں سے آگے رہا۔آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کے اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت اسلام آباد پولیس نے سال 2026 میں 2025 کے مقابلے میں پراپرٹی جرائم میں 27 فیصد کمی حاصل کی، جبکہ پراپرٹی جرائم کے 1,499 کم واقعات رپورٹ ہوئے۔ ڈکیتی، راہزنی، قتل اور گاڑی چوری سمیت اہم جرائم میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔رواں سال اسلام آباد میں رپورٹ ہونے والے قتل کے مقدمات میں 100 فیصد کامیابی حاصل کرتے ہوئے تمام ملوث ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ کامیابی سے حل کیے جانے والے اہم مقدمات میں گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس، ایچ نائن ٹرپل مرڈر کیس، تاجر عامر اعوان قتل کیس، سردار فہیم قتل کیس، الفلاح بینک ڈکیتی کیس اور غیر ملکی بچے کی بحفاظت بازیابی شامل ہیں۔ یہ کامیابیاں پیشہ ورانہ تفتیش، مؤثر پولیسنگ اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے آپریشنز ڈویژن کو جدید وسائل اور آپریشنل صلاحیتیں فراہم کی گئیں۔کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور اینٹی رائٹ یونٹ کی استعداد کار میں اضافہ کیا گیا، جبکہ سیف سٹی اور سی ٹی ڈی میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز قائم کیے گئے۔ اسپیشل برانچ کو ازسرنو منظم کیا گیا، کیپیٹل پٹرول یونٹ کو مزید مؤثر بنایا گیا، مؤثر چیک پوسٹ سسٹم متعارف کرایا گیا اور ریڈ زون میں خصوصی کمانڈوز تعینات کیے گئے۔اسلام آباد پولیس نے انسدادِ دہشت گردی اور ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے SWAT اور DELTAفورس پر مشتمل خصوصی یونٹس بھی قائم کیے۔ ان تربیت یافتہ یونٹس کو ہائی رسک حالات، دہشت گردی کے خطرات، اہم واقعات اور بڑے سکیورٹی آپریشنز کے دوران فوری اور خصوصی ردعمل کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ان فورسز کے قیام سے پولیس کی آپریشنل تیاری اور بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔سیاحوں اور شہریوں کی حفاظت کے لیے مارگلہ ٹریل پٹرول یونٹ قائم کیا گیا، جس میں گھڑ سوار، پیدل اور موٹر سائیکل اسکواڈز شامل ہیں۔ جرائم کی روک تھام اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کمرشل علاقوں میں سٹی واچرز اور نائٹ پٹرولنگ افسران تعینات کیے گئے۔ دھماکہ خیز مواد اور دیگر خطرناک اشیاء کی نشاندہی کے لیے K-9یونٹ قائم کیا گیا، جبکہ وفاقی دارالحکومت میں مقیم چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ تشکیل دیا گیا۔اسپیشل انیشیٹو پولیس اسٹیشنSIPSمنصوبے کے تحت اسلام آباد کے پولیس اسٹیشنز کی تزئین و آرائش اور اپ گریڈیشن کا عمل جاری ہے تاکہ جدید اور شہری دوست پولیسنگ کو فروغ دیا جا سکے۔ پولیس خدمات تک فوری رسائی اور موقع پر ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پولیس اسٹیشن آن ویلز کا بھی آغاز کیا گیا۔سفارت خانوں، سفارت کاروں اور ان کے عملے کو ترجیحی پولیس خدمات فراہم کرنے کے لیے CASCADE پولیس سروس سینٹر ڈپلومیٹک انکلیو میں قائم کیا گیا۔ اسلام آباد پولیس کے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے اور پولیس کے مثبت تشخص کو بہتر بنانے کے لیے فارِن میڈیا سیل بھی قائم کیا گیا۔سیف سٹی اسلام آباد منصوبے کو جدید ٹیکنالوجی سے اپ گریڈ کیا گیا تاکہ نگرانی، جرائم کی روک تھام اور امن و امان کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ پولیس اور عوام کے درمیان روابط بہتر بنانے اور پولیس اقدامات سے آگاہی کے لیے یونیورسٹی طلبہ کو شامل کرتے ہوئے فرینڈ آف پولیس انٹرن شپ پروگرام بھی شروع کیا گیا۔اے آئی بیسڈ Hunch Lab،سائبر سکیورٹی ڈیجیٹل سوفیسٹیکیشن پروجیکٹ اور ورچوئل پٹرولنگ آفیسرجیسے جدید اقدامات کے ذریعے اسلام آباد پولیس کی مانیٹرنگ، انٹیلی جنس اور جرائم کی روک تھام کی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کیا گیا۔انسدادِ منشیات مہم “نشہ!اب نہیں ” کے تحت 1,144 ملزمان گرفتار کیے گئے اور بڑی مقدار میں منشیات برآمد کی گئیں۔ جرائم کے خلاف آپریشنز کے دوران 14,645 سے زائد مقدمات درج کیے گئے، جبکہ 887 سے زائد عدالتی مفرور، 1,595 عادی مجرمان اور 944 اشتہاری ملزمان گرفتار کیے گئے۔اسلام آباد پولیس نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے، نمائش اور استعمال کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے Weapon Free Islamabadبھی شروع کی۔ مہم کے تحت غیر قانونی اسلحہ رکھنے میں ملوث 1,592 ملزمان گرفتارکیے گئے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ شہریوں میں آگاہی بھی پیدا کی گئی اور انہیں قانون پر عملدرآمد کے ساتھ اپنے لائسنس یافتہ اسلحہ کا متعلقہ تھانوں میں اندراج یقینی بنانے کی ترغیب دی گئی۔خواتین کو بااختیار بنانے اور عوام دوست پولیسنگ کے تحت اسلام آباد پولیس نے آئی ٹی پی اڑان سکوٹی اینڈ موٹر رائیڈنگ اسکول شروع کیا، جہاں خواتین کو کار، موٹر سائیکل اور سکوٹی چلانے کی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ جدید ڈرائیونگ ٹریک اور خواتین انسٹرکٹرز کے ذریعے عملی تربیت دی جا رہی ہے، جبکہ کامیابی سے تربیت مکمل کرنے والی خواتین کو سرٹیفکیٹس بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔ٹریفک نظام کو بہتر بنانے اور شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ITP Facilitation on Wheels،بالخصوص بزرگ شہریوں اور طلبہ کے لیے،ٹریفک ایجوکیشن کمپلیکس اور ہنگامی سفری معاونت کی خدمات متعارف کرائی گئیں۔خواتین کے تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے آن لائن ویمن پولیس اسٹیشن کا آغاز کیا گیا، جبکہ شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے آئی جی پی کمپلینٹ سیل اور ہیلپ لائن 1715-کو مکمل طور پر فعال کیا گیا۔پولیس اور عوام کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے لیے سمر اسکول، سیلف ڈیفنس کورسز اور کمیونٹی ہارس رائیڈنگ کلب سمیت مختلف کمیونٹی پر مبنی اقدامات جاری رکھے گئے۔پولیس افسران اور اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف جامع اقدامات کیے گئے، جن میں ہیلتھ اینڈ اسپورٹس گالااور مختلف اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) کے ذریعے معیاری طبی، تعلیمی اور دیگر فلاحی سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے کے لیے کیپیٹل پولیس کالج میں جدید پولیسنگ، پیشہ ورانہ ترقی اور استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے خصوصی کورسز اور تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔سال بھر اسلام آباد پولیس نے اپنی آپریشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار بین الاقوامی کانفرنسز، 636 ملکی و غیر ملکی وفود، 191 وی وی آئی پی موومنٹس، 682 احتجاجی مظاہروں و ریلیوں، 636 دیگر اہم پروگرامز اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے 16 مشترکہ اجلاسوں کے لیے فول پروف سکیورٹی فراہم کی۔وزیراعظم پاکستان کے “گو گرین”اقدام کے تحت اسلام آباد پولیس کے پٹرولنگ اور پولیس ٹرانسپورٹ فلیٹ میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیاں شامل کی گئیں، جن کی چابیاں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خود اسلام آباد پولیس کے حوالے کیں۔ اس اقدام کا مقصد پٹرولنگ نظام کو جدید اور مؤثر بنانا، شہریوں کو بہتر پولیس سروسز فراہم کرنا، ایندھن کے استعمال اور آپریشنل اخراجات میں کمی لانا اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنا ہے۔یہ تمام کامیابیاں اسلام آباد پولیس کے پیشہ ورانہ پولیسنگ، جدت، عوامی خدمت، جرائم کی روک تھام اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس عرصے کے دوران کیے گئے اصلاحاتی اقدامات اور جدید منصوبوں نے نہ صرف وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا بلکہ ملک کے دیگر پولیس اداروں کے لیے جدید اور عوام دوست پولیسنگ کی ایک مؤثر مثال بھی قائم کی ہے