زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے نے ملکی صدر کے حیثیت سے استعفیٰ دے دیا

 
0
393

ہرارے نومبر 21(ٹی این ایس)زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے نے منگل کے روز ملکی صدر کے حیثیت سے استعفیٰ دے دیا جس کے ساتھ ہی ان کی 37 سالہ حکمرانی کا اختتام ہوگیا۔ان کے استعفے کی تصدیق زمبابوے کی پارلیمنٹ کے اسپیکر جیکب مڈنڈا نے کردی ٗاس سے قبل رابرٹ موگابے نے قوم سے خطاب کیا تاہم اس میں استعفے کا ذکر تک نہ کیا۔ خیال کیا جارہا تھا کہ وہ اس خطاب میں استعفیٰ پیش کردیں گے۔صدر رابرٹ موگابے نے مخالفین کی جانب سے کی جانے والی تنقید کو تسلیم کیا اور کہا کہ ملکی صورتحال کو دوبارہ معمول پر لانے کی ضرورت ہے۔

صدر موگابے نے کہا کہ بحیثیت فوج کا کمانڈر ان چیف وہ فوج کے تحفظات کو سمجھ سکتے ہیں اور انہیں جلد دور کیا جائیگا۔حکمراں جماعت زمبابوے افریقن نیشنل یونین پیٹریاٹک فرنٹ ( زانو پی ایف ) نے اعلان کیا تھا کہ اگر صدر موگابے نے استعفیٰ نہیں دیتے تو پارلیمنٹ سے ان کا مواخذہ کیا جائے گا جبکہ ان کے مخالفین نے بھی سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا تھااس سے قبل حکمران جماعت نے صدر موگابے کو پارٹی کی صدارت سے ہٹا دیا تھا تاہم بعدازاں اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا گیا۔یاد رہے کہ صدر موگابے کی جانب سے نائب صدر ایمرسن مننگاوا کی برطرفی کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوا تھا جس کے بعد فوج نے 15 نومبر کو اہم سرکاری اداروں کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے صدر موگابے کو ان کی رہائش گاہ تک محدود کر دیا تھاایمرسن مننگاوا کو 93 سالہ صدر موگابے کے بعد صدارت کا ممکنہ امیدوار سمجھا جاتا تھا تاہم موگابے اپنی اہلیہ کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔93 سالہ صدر موگابے نے 1970 میں برطانوی تسلط سے ا?زادی کے لئے جدوجہد شروع کی اور 1980 میں زمبابوے کو ا?زادی ملنے کے بعد انہوں نے اقتدار سنبھالا تھا۔