اپوزیشن ارکان کے حکومت سے رابطے ، نئی حکمت عملی پر غور شروع کر دیا گیا

 
0
687

اپوزیشن کی جانب سے حکومت مخالف تحریک کی بجائے اپنی جماعتوں کو سنبھالنے اور اپنے ارکان اسمبلی اور سینیٹرز کو اکٹھا رکھنے پر کام شرو ع کر دیا گیا
اسلام آباد جولائی 01 (ٹی این ایس): ارکان اسمبلی اور سینیٹرز کے حکومتی بینچوں میں شامل ہونے کے خوف نے اپوزیشن کو حکومت مخالف تحریک سے توجہ ہٹا کر اپنی جماعتوں کے ارکان کو متحد رکھنے کے لیے غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس ضمن میں قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اندر اہم سینئر رہنماؤں نے اپنی قیادت پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ چیئر مین سینٹ کی تبدیلی پر فی الوقت کام روک کر اپنے ارکان کو پہلے پورا کریں اور ان کو اپنے ساتھ رکھیں۔
ذرائع کے مطابق دوسری طرف ن لیگ کے اندر جاری گروپنگ اور آپس کے اختلافات کو ختم کرانے کیلئے شریف خاندان کی سب سے بڑی اور بزرگ شخصیت نے شہباز شریف اور مریم کوعلیحدہ علیحدہ بلا کر ہدایات جار ی کر دی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی کی وزیر اعظم عمران خان اور اہم شخصیات سے ملاقاتوں کی اطلاعات کے بعد دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے بھی حکومت سے رابطوں کے حوالے سے اطلاعات سامنے آنے پر دیگر سیاسی جماعتیں نہ صرف پریشان ہو چکی ہیں بلکہ ان کے اندر ان کی سینئر قیادت اب اس بات پر زور دے رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کی بجائے ان کے اندر دراڑیں پڑنے سے ان کی بنی بنائی عزت ختم ہو جائے گی جبکہ اس سے اب کی بچی کُھچی سیاست کو بھی سخت نقصان پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے کئی سینئر افراد نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ بجٹ میں جس طرح ہمارے کئی ارکان اسمبلی غائب ہوگئے اور ہدایات کے باوجود ووٹنگ میں گنتی کے وقت نہ آئے ، اگر چئیرمین سینٹ کے خلاف بھی ووٹنگ کے وقت ایسا ہو تو نہ صرف پھر ہماری سیاست تو متاثر ہوگی بلکہ حکومت بھی مزید مضبوط ہوگی ۔ ذرائع کنے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ چیئر مین سینٹ کے انتخاب سے پہلے جو دیگر سیاسی جماعتوں کے ارکان نے اپنی وفاداری تبدیل کی تھی، وہ اب بھی تبدیل کر سکتے ہیں ،اس کی کیا گارنٹی ہے کہ اگر اب ہم چئیرمین سینٹ کے خلاف تحریک لاتے ہیں تو جنہوں نے پہلے وفاداریاں تبدیل کی تھیں، اب وفاداریاں تبدیل نہیں کریں گے ۔
حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کے حکومت سے رابطوں کے بعد اب اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں نئی حکمت عملی بنا رہی ہیں کہ اس جوڑ توڑ کی سیاست اوروفاداری بدلنے والے ارکان کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل بنا کر شور ڈالا جائے ۔