اسلام آباد(ٹی این ایس) عام انتخابات ،ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کیخلاف اپیلوں کا مرحلہ مکمل

 
0
136

عام انتخابات کیلئے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کا مرحلہ مکمل ہوگیا۔ بانی پی ٹی آئی کو این 122 سے الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہ مل سکی، پرویز الٰہی خاندان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔ قائد ن لیگ نواز شریف، مریم نواز اور شہباز شریف کو الیکشن میں حصہ لینے کیلئے اہل قرار دے دیا گیا۔
عام انتخابات 2024 کیلئے کاغذات نامزدگی پر ایپلٹ ٹربیونل میں اپیلوں پر فیصلے کا آج آخری روز تھا۔ کئی بڑے سیاسی رہنما اِن اور کئی سیاستدان الیکشن سے آوٹ ہوگئے۔الیکشن ٹریبونل کے جسٹس احمد ندیم نے مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کے این اے 130، این اے 119 سے، اور این اے 132 سے شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پر عائد اعتراضات مسترد کرتے ہوئے انہیں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔
ایپلٹ ٹربیونل نے لاہور کے حلقہ این اے 122 سے بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی۔ایپلٹ ٹربیونل نے پرویز الہی کے حلقہ این اے 59 تلہ گنگ، این اے 69 منڈی بہاوالدین اور پی پی 3234 اور 42 منڈی بہاوالدین اور پی پی 23 تلہ گنگ سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
مونس الہی اور قیصرہ الہی کے بھی قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں خارج کردی گئیں، جبکہ مونس الہی کی خالہ ریحانہ عباس کے این اے 64 اور تین صوبائی حلقوں سے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے۔
این اے 130 سے ڈاکٹر یاسمین راشد، پی پی 169 سے میاں محمود الرشید، پی پی 156 سے امتیاز وڑائچ اور پی پی 166 سے خالد گجر کے کاغذات نامزدگی منظور کر کے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔این اے 121 اور پی پی 153 لاہور سے جمشید اقبال چیمہ اور مسرت چیمہ کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کرلیے گئے۔
الیکشن ٹربیونل راولپنڈی نے شیخ رشید، راشد شفیق، راجہ بشارت اور میجر صادق کو الیکشن کے لیے گرین سگنل دے دیا۔این اے 56 سیشیخ رشید، این اے 57 اور پی پی 19 سے شیخ راشد شفیق اور پی پی 15 سے عمر تنویر بٹ کو الیکشن لڑنے کے لیے اہل قرار دیا گیا۔فواد چوہدری اور عارف عباسی الیکشن کے لیے نااہل قرار دیے گئے۔ اسلام آباد ایپلٹ ٹربیونل میں دائر تمام 70 اپیلوں پر فیصلہ ہو گیا، صرف 3 اپیلوں میں ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رہا۔وفاقی دارالحکومت کے تین حلقوں کیلئے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف 65 اپیلیں منظور ہوئیں ،خواجہ سرا کے کاغذات نامزدگی منظوری کے خلاف دو اپیلیں مسترد ہوئیں۔
دوہری شہریت پر ایک امیدوار کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ برقراررہا جبکہ دو اپیلیں عدالت نے ہدایات کے ساتھ نمٹا دیں۔ پی ٹی آئی کے شعیب شاہین ، نیاز اللہ نیازی ، ظفر اللہ شاہ سمیت تمام امیدواروں کی اپیلیں منظور ہوئیں۔الیکشن ٹربیونل راولپنڈی نے حلقہ این اے 60 کے امیدوار اشفاق احمد اور این اے 89 سے امیدوار عامر خان نیازی کی اپیلیں خارج کر دیں۔این اے 56 اور پی پی 17 راجہ راشد حفیظ، این اے 55 اور پی پی 15 سے سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کو بھی عام انتخابات کے لیے گرین سگنل مل گیا۔این اے 57 سے سیمابیہ طاہر، این اے 90 سے اعظم خان، این اے 53 سے اجمل صابر اور این اے 49 سے میجر طاہر صادق اور اہلیہ ناز صادق بھی انتخابات کے لیے اہل قرار پائے۔
سندھ ہائی کورٹ الیکشن ٹریبونلز کی کارروائی ختم ہوگئی۔ الیکشن ٹریبونل نے سات روز میں دائر تمام اپیلوں کے فیصلے سنا دیے۔سندھ ہائیکورٹ الیکشن ٹریبونلز میں دوسو تریسٹھہ اپیلیں دائر ہوئی تھیں ۔ الیکشن ٹریبونل نے ریٹرنگ افسران کے فیصلوں کے خلاف ایک سو اکیس اپیلیں منظور ، اٹھانوے مسترد کردیں۔الیکشن ٹریبونل نے امیدواروں کی جانب سے دائر چھتیس اپیلیں نمٹائیں، دو امیدواروں کی اپیلیں آر اوز کو بھیجوادیں۔
خیبرپختونخوا میں الیکشن اپیلٹ ٹربیونلز نے قومی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی مسترد یا منظور کیے جانے کے خلاف اب تک 116 اپیلوں کا فیصلہ کیا ہے۔ترجمان صوبائی الیکشن کمیشن سہیل خان کے مطابق ٹربیونل نے صوبے بھر میں قومی اسمبلی کی 116 اپیلیں نمٹا دیں۔ٹربیونل نے قومی اسمبلی کی 45 جنرل نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف 102 اپیلوں کا فیصلہ کیا۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کی 115 جنرل نشستوں پر کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف 213 اپیلوں کی سماعت ہوئی۔صوبائی اسمبلی کے لیے منظور کیے گئے کاغذات نامزدگی کے خلاف 14 اپیلیں دائر کی گئیں۔ الیکشن کمیشن ترجمان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے کل سات الیکشن اپیلٹ ٹربیونلز نے اپیلوں پر فیصلے سنائے ہیں۔
بلوچستان میں ریٹرننگ افسران کی جانب سے عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوروں کے کاغذات نامزدگی منظور اور مسترد کرنے کیخلاف 405 امیدواروں نے بلوچستان ہائیکورٹ میں قائم الیکشن ٹربیونل سے رجوع کیا۔الیکشن ٹربیونل کے دو الگ الگ بینجز میں جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس محمد عامر نواز رانا شامل تھے۔ انھوں نے دائر اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے 369 اپیلوں پر امیدوروں کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی اور 36اپیلیں خارج کردیں۔الیکشن ٹربیونل نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراختر مینگل، غلام نبی مری، عبدالباسط پاکستان پیپلزپارٹی کینواب ثنااللہ زہری، سابق وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان، پاکستان تحریک انصاف کیسید ظہور آغا، پی ٹی آئی کے محمد شریف جوگیزئی، سردار خادم۔ حیسن وردگ اور پی پی کے سردار عمران بنگلزئی کوالیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دیدی۔
اس کے علاوہ بی این پی عوامی کے نوابزادہ اسرار زہری، جمعیت علما اسلام کے میر ظفر زہری،پیپلز پارٹی کے نصیب اللہ مری ،بلوچستان عوامی پارٹی کے منظور احمد کاکڑ،جمعیت علما اسلام کیمولوی سرورموسی خیل،پشتونخواہ نیشنل پارٹی کے خوشحال خان کاکڑ،جہموری وطن پارٹی کے آصف مسحی سمیت دیگر امیدورں کوالیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دیدی۔جبکہ سابق صوبائی وزیر خزانہ میرخالدلانگو،مسلم لیگ ن کے فائق جمالی ،پاکستان پیپلز پارٹی کے جمال خان رئیسانی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدورں کی اپیلیں خارج کردیں۔
ایپلٹ ٹربیونل کے فیصلوں کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی، حماد اظہر اور صنم جاوید نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے ایپلٹ ٹربیونل کے فیصلوں کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کردی ہیں۔