اسلام آباد (ٹی این ایس): ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد زون نے سال 2025 کے دوران بدعنوانی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور متعدد اہم سنگ میل عبور کیے۔
کارکردگی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے مختلف وفاقی محکموں کے خلاف مجموعی طور پر 485 انکوائریوں کو منطقی انجام تک پہنچایا، جبکہ موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر 389 نئی انکوائریاں بھی رجسٹر کی گئیں۔ اسی دوران وفاقی محکموں سے متعلق ملزمان کے خلاف 122 مقدمات درج کیے گئے، جن میں سے 67 مقدمات کو حتمی شکل دے کر چالان عدالتوں میں جمع کرائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے 132 ملزمان کو گرفتار کیا جبکہ بدعنوانی سے متعلق رقوم کی مد میں 110.25 ملین روپے کی ریکوری بھی کی گئی۔
بڑی سزائیں:
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی جانب سے درج مقدمات میں عدالتوں نے اہم فیصلے سناتے ہوئے سخت سزائیں عائد کیں۔ توشہ خانہ ٹو کیس میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران احمد نیازی اور بشریٰ عمران کو 17، 17 سال قید اور 16,425,650 روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی (20 دسمبر 2025)۔
اسی طرح ایف آئی آر نمبر 46/2020 میں قمر زمان کو 27 سال قید اور 2 ملین روپے جرمانہ (16 اپریل 2025)، ایف آئی آر نمبر 45/2022 میں حامد جلیل کو 29 سال قید اور 20 ملین روپے جرمانہ، جبکہ ایف آئی آر نمبر 30/2024 میں نسیم مسیح کو 17 سال قید اور 100 ملین روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی (10 جولائی 2025)۔
کارکردگی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے ACC اسلام آباد نے 2025 کے دوران مجموعی طور پر 20 مقدمات میں 64 ملزمان کو سزائیں دلوائیں۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی سال 2025 کی مجموعی کارکردگی کو شاندار قرار دیا جا رہا ہے، جس میں بدعنوانی کے خلاف جنگ میں ادارے کی پیشہ ورانہ مہارت، لگن اور مؤثر حکمت عملی نمایاں طور پر سامنے آئی۔













