اسلام آباد (ٹی این ایس) کیپٹن عصمد گلفام شہید عباس بیگ مرزا استور گلگت کے دور افتادہ علاقہ برزل میں ٢/٣ جنوری کو فوجی قافلے کے راستے سے برف ہٹانے کے لیے 85 ایف ایس ایف دستہ تعینات تھا’ جس کی قیادت کپتان عصمد گلفام کر رہے تھے’ فوجی قافلے کی جلد ر گزاری کے لے کپت اسمد اور ان کا عملا مصروف عمل تھا’ بدقسمتی سے برفانی تودہ ان پر آ گرا’ جس نے کپتان اسمد اور ان کے عملے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا’ یہاں موجود سپاہ نے فوری کاروائی کرتے ہوے برف میں دبے جوانو ں کو باہر نکل کر ہسپتال منتقل کیا’ جہاں انہوں نے شہادت کو گلے لگایا کیپٹن عصمد گلفام آج اپنی جان اس وطن کے نام کر گیا عصمد نڈر اور ذہین افسر تھے ‘ وہ ضلع نارووال کے آبائی گاؤں چک حکیم کے ایک معزز خاندان کا بیٹا تھا’ ان کے والد محمد لطیف نے بھی پاک فوج میں خدمات انجام دیں’ شہید کے بہت سے رشتہ دار اور چچا محمد نذیر نے بھی پاک فوج میں رہے’ شہید کو بچپن سے ہی فوج میں بھرتی ہونے کا شوق تھا’ شہید بچوں کے فوجیوں کے مختلف گروپ بناتے اور جنگ جنگ کھیلتے’ شہید کلیدی قائدا نہ صفات کے حامل تھے’ اس نے 137 لانگ کوس میں شمولیت اختیار کی اور اپنی فوجی تربیت کی تکمیل کے بعد اسے 85 ایف سی ایف میں شامل کیا گیا’ شہید اپنے سینئر افسر اور جونیئر سٹاف کے ہمیشہ سے پسندیدہ تھے’ ان کی نماز جنازہ مکمل فوجی پروٹوکول کے ساتھ رحمان گارڈن کے ڈی بلاک میں ادا کی گئی’ جس میں پاک فوج کے سینئر اور جونیئر افسران، پولیس، سیاستدانوں اور ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی’ اس سے پہلے لاہور ٹریفک پولیس کے وارڈنز نے بڑی گرمجوشی سے شہید کااستقبال کیا’ شہید کے قریبی عزیز اصغر چوہدری نے بتایا ہے کہ کیپٹن عصمد گلفام کو بچپن سے ہی شہادت کا جنون تھا انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کےپاکستان نارووال اور خاص طور پر چک حکیم کواعزاز بخشا ہےہم اپنے شہید کو دل کی گہرائیوں سے سلام عقیدت پیش کرتے ہیں ممتاز لکھاری اور جرات کے نشان کے مصنف لیفٹینیٹ کرنل امجد حسین امجد نے کہا ہے کہ شہدائے وطن کی طویل فہرست میں عصمد گلفام گراں قدر اضافہ ہیںاور مجھے یقینا فخر ہے کہ کیپٹن عصمد گلفام میرے علاقے سے ہے نشان حیدر ریسرچ فورم کے محمد بلال (جھاوریاں /سرگودھا) نئے کیپٹن عصمد گلفام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلا شبہ شہدا ہمارا اثاثہ ہیں جن کی بدولت وطن عزیز محفوظ ہاتھوں میں ہے















