اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان , چین کا افغانستان سے ’دہشت گرد تنظیموں‘ کے خاتمے کا مطالبہ

 
0
61

اسلام آباد (ٹی این ایس) افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی پاکستان کی سلامتی کے لیے ”سب سے بڑا اور سنگین خطرہ‘‘ ہے چین نے پاکستان کی جانب سے ’دہشت گردی‘ کے خلاف جامع اقدامات اور ملک میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہاہے.
پاکستان اور چین نے افغانستان پر زور دیا ہے کہ افغانستان اپنے ملک میں موجود ’دہشت گرد تنظیموں‘ کے خاتمے کے لیے مزید واضح اور ٹھوس اقدامات کرے، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر کابل کو معتدل پالیسیاں اپنانے اور بین الاقوامی برادری میں ضم ہونے کی ترغیب دیں گے۔
چین اور پاکستان کا مشترکہ بیان دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے بیجنگ میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کیا گیا اسحاق ڈار اور ان کے چینی ہم منصب نے بیجنگ میں چین پاکستان وزرائے خارجہ سٹریٹیجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور کی مشترکہ صدارت کی جس میں تجارت، سرمایہ کاری، معاشی شعبوں، انسدادِ دہشت گردی، دفاع اور علاقائی امور میں تعاون کا جائزہ لیا گیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بدستور کشیدہ ہیں کیونکہ پاکستان کا الزام ہے کہ عسکریت پسند تنظیمیں، بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرتی ہیں پاکستان افغان طالبان حکومت پر ان حملوں میں سہولت کاری کا الزام عائد کرتا ہے جن کی افغانستان بارہا تردید کرتا رہا ہےمشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں قائم تمام دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے مزید واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں، کیونکہ یہ تنظیمیں علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات بنی ہوئی ہیں، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو اور نہ ہی کسی ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا جائے۔ مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر کابل کو ایک جامع سیاسی ڈھانچہ اپنانے، معتدل پالیسیاں اختیار کرنے اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینے کی ترغیب دیں گے دوطرفہ تعاون کے حوالے سے چین اور پاکستان نے کہا کہ انہوں نے صنعت، زراعت اور معدنیات کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے پر اتفاق کیا ہے اور ساتھ ہی جنوب مغربی پاکستان میں واقع گوادر بندرگاہ کی تعمیر اور اس کے آپریشن کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے اعلامیے میں کہا گیا کہ چین نے پاکستان کی جانب سے ’دہشت گردی‘ کے خلاف جامع اقدامات اور ملک میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہادونوں فریقوں نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کے عزم کا اعادہ کیا اور انسدادِ دہشت گردی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ تزویراتی، سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ اسلام آباد اور بیجنگ دونوں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر قریبی ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہیں۔ دونوں ملک کثیرالجہتی فورمز پر ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کی حمایت کرتے ہیں چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے مطابق پاکستان کے ساتھ اس کی دو طرفہ تجارت 2024 میں 23 ارب ڈالر تک پہنچ گئ، جو کہ سال بہ سال کی بنیاد پر 11 فیصد زیادہ ہے پاکستان چین کو ایک اہم سرمایہ کاری پارٹنر کے طور پر بھی دیکھتا ہے جس نے گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران سی پیک، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔چین اور پاکستان نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور ( سی پیک) سمیت تمام شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ بیان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے سٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہوادونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کا سٹریٹجک ڈائیلاگ پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ ترین مشاورتی طریقہ کار ہے جو دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کے ساتھ باہمی دلچسپی کی علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ساتویں پاک چین وزرائے خارجہ کے سٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کی۔ دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ ’دونوں رہنماؤں نے پاک چین تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور علاقائی اور عالمی سطح کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔‘
بیان کے مطابق ’سی پیک، تجارت، کثیرالجہتی تعاون اور عوامی سطح کے رابطوں پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ تزویراتی، سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ اسلام آباد اور بیجنگ دونوں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر قریبی ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہیں۔ دونوں ملک کثیرالجہتی فورمز پر ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کی حمایت کرتے ہیں۔ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے مطابق پاکستان کے ساتھ اس کی دو طرفہ تجارت 2024 میں 23 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو کہ سال بہ سال کی بنیاد پر 11 فیصد زیادہ ہے پاکستان چین کو ایک اہم سرمایہ کاری پارٹنر کے طور پر بھی دیکھتا ہے جس نے گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران سی پیک، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے
دفتر خارجہ کے مطابق ’آل ویدر سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاک چین دوستی خطے اور دونوں ممالک کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے انہوں نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ,رہنماؤں نے پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کو شایان شان طریقے سے منانے پر بھی اتفاق کیا۔‘
دفتر خارجہ نے کہا کہ ’دونوں فریقوں نے پارٹی ٹو پارٹی تبادلوں، علاقائی صورتحال اور سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے دو طرفہ تعلقات کے استحکام اور مستقبل کی جانب پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین کے سرمایہ کاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کے جائیں گے۔ہمارے دروازے چینی سرمایہ کاروں کے لیے کھلے ہوئے ہیں پاکستان اور چین کی کاروباری برادری کا باہمی تعاون لائقِ تحسین ہے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ خوش آئند ہے۔
قبل ازیں، وزیر اعظم شہباز شریف نے عوامی جمہوریہ چین کے وزیر اعظم لی چیانگ سے ملاقات کی ملاقات کے دوران رہنماؤں نے پاک-چین تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے پاکستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے غیر متزلزل حمایت پر چینی قیادت اور قوم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان اہم اتفاقِ رائے کی بنیاد پر، چینی وزیر اعظم لی چیانگ اور وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط اور ہمہ جہت تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا، اور مشترکہ ایکشن پلان (2024-2029) پر دستخط کو اس سلسلے میں ایک اہم قدم قرار دیا رہنماؤں نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اپ گریڈڈ فیز 2، بشمول پانچ نئے کاریڈورز کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے چینی صدر شی جن پنگ کے عالمی گورننس انیشی ایٹو، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو سمیت کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ان کے تاریخی اقدامات کی پاکستان کی جانب سے حمایت کا اعادہ کیا وزیراعظم نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اگلے مرحلے کے کامیاب نفاذ کے لیے مل کر کام جاری رکھنے کی خواہش کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس سلسلے میں پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات کے دوران پاکستانی وفد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے درمیان آہنی اور ہمہ موسمی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ’چین اقتصادی ترقی کے تمام شعبوں میں پاکستان کی مدد جاری رکھے گا، خاص طور پر جبکہ سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے تحت پاکستان کے اہم ترین اقتصادی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان اقدامات سے دونوں ممالک کو ایک مشترکہ مستقبل کے ساتھ مزید مضبوط پاکستان چین کمیونٹی بنانے میں مدد ملے گی رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کے ممالک کے درمیان تعلقات منفرد اور بے مثال ہیں اور اس کی عکاسی ان کے دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کے ذریعے ہونی چاہیے۔وزیراعظم نے پاکستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت کو سراہا۔وزیراعظم نے کثیرالجہتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے صدر شی جن پنگ کے پختہ عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں صدر شی جن پنگ کے تاریخی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے جس میں گلوبل گورننس انیشیئیٹو، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیئیٹو، گلوبل سکیورٹی انیشیئیٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشیئیٹو شامل ہیں یہ اقدامات اجتماعی عالمی بھلائی کے لیے ضروری ہیں اور علاقائی اور عالمی امن، استحکام اور ترقی میں معاون ثابت ہوں گےپاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا ہے کہ افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی پاکستان کی سلامتی کے لیے ”سب سے بڑا اور سنگین خطرہ‘‘ ہے پاکستان حق پر ہے اور ان شاء اللہ حق ہی غالب آئے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کوئی بھی شخصیت پاکستان سے بڑھ کر نہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے پر ریاست اور سیکیورٹی فورسز کو فخر ہے۔
سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتِ حال پر بحث کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب نے افغان طالبان پر الزام لگا یا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور انہیں سرحد پار آزادانہ کارروائیوں کی اجازت دے رہے ہیں۔ افغانستان ایک بار پھردہشت گرد گروہوں اور پراکسیز کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جس کے تباہ کن نتائج سب سے زیادہ اس کے پڑوسی ممالک، خصوصاً پاکستان، کو بھگتنے پڑ رہے ہیں‘‘۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کو بتایا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی ملک کی قومی سلامتی اور خود مختاری کے لیے ’سب سے بڑا خطرہ‘ ہے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے نے افغانستان کی صورت حال پر بحث سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ہمسایہ افغانستان سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی، انسانی اور سماجی و معاشی چیلنجز پر اسلام آباد کے خدشات اجاگر کیے۔ داعش خراسان، القاعدہ، ٹی ٹی پی، ای ٹی آئی ایم، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ سمیت مختلف گروہ افغان سرزمین پر محفوظ ٹھکانے رکھتے ہیں، جہاں درجنوں کیمپ سرحد پار حملوں میں مدد دے رہے ہیں۔ مختلف گروہ ”مشترکہ تربیت، اسلحے کی غیر قانونی تجارت اور مربوط حملوں‘‘ میں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں ان کے مطابق مختلف گروہ ”مشترکہ تربیت، اسلحے کی غیر قانونی تجارت اور مربوط حملوں‘‘ میں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔
مستقل نمائندے نے ایک علاقائی ملک کا حوالے دیتے ہوئے کہا،”ایک موقع پرست اور بگاڑ پیدا کرنے والا ملک دہشت گرد گروہوں کو مالی، تکنیکی اور مادی مدد فراہم کر کے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کو تیز کر رہا ہے۔‘‘ ان کا واضح اشارہ ہمسایہ ملک بھارت کی جانب تھا، جس کے طالبان سے تعلقات حالیہ برسوں میں بہتر ہوئے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں میں دونوں جانب سے کم ازکم ستر افراد مارے گئے تھے۔ اس کے بعد دوحہ میں مذاکرات کے نتیجے میں دونوں پڑوسیوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جو تاحال جاری ہے۔ تاہم اس دوران جھڑپیں بھی ہوئیں اور دونوں فریق ایک دوسرے پر سیز فائر کی خلاف ورزی کے الزامات بھی لگا تے آئے ہیں۔مندوب کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار برس میں پاکستان نے طالبان حکام سے بارہا بات چیت کی، مگر ”دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدام کے بجائے، افغان سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملوں میں شدید اضافہ ہوا‘‘۔ صرف رواں سال میں افغانستان سے سرحد پار کی جانے والی دہشت گردی کے نتیجے میں ”قریب 1,200 پاکستانی ہلاک ہوئے جبکہ 2022 سے اب تک 214 افغان دہشت گرد پاکستان میں آپریشنز کے دوران مارے جا چکے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ سرحدی کشیدگی براہِ راست دہشت گردی اور سکیورٹی سے جڑی ہوئی ہے اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے افغانستان میں مشن یو این اے ایم اے سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتِ حال کا غیر جانب دارانہ جائزہ پیش کرے۔پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ اگر طالبان نے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ”ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدام‘‘ نہ اٹھائے تو پاکستان اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا، ”افغانستان میں امن و استحکام کی خواہش کسی ملک کو پاکستان سے زیادہ نہیں،‘‘ اور طالبان سے کہا کہ وہ مکالمے کا سازگار ماحول پیدا کریں، پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کریں اور ”انکاری کیفیت‘‘ سے باہر آئیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میں قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز‘ داخلی سکیورٹی‘ دہشت گردی کے خلاف مسلح افواج کا عزم اور سکیورٹی اداروں کی ہم آہنگی سے متعلق سبھی اہم امور زیرِ بحث آئے اور اس حوالے سے درپیش مسائل اور ان کے حل پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا گیا ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 2025ء میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں ملیں‘ 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں 2597 دہشت گرد مارے گئے۔ پانچ سال پہلے کے مقابلے میں اب تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔ افغانستان کی جانب سے بڑھتے سکیورٹی خطرات پر ترجمان پاک افواج کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان میں جو دس بڑے دہشت گرد حملے ہوئے‘ ان سب میں افغان شہری ملوث تھے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے‘ اور امریکہ کا سات ارب ڈالر سے زائد مالیت کا جدید فوجی سازو سامان جو انخلا کے وقت افغانستان میں چھوڑدیا گیا تھا‘ دہشت گردوں کے ہاتھ لگ چکا ہے جس کے سبب پاکستان کے سکیورٹی مسائل میں اضافہ ہوا ہے اس حوالے سے افغان قیادت کو یہ دوٹوک پیغام پہنچایا جا چکا کہ انہیں دہشت گردوں اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ گزشتہ برس اکتوبر میں افغانستان سے جھڑپوں کا سبب بھی یہی تھا‘مسئلہ مگر یہ ہے کہ افغانستان میں منظم مرکزی حکومت نام کی کوئی شے نہیں‘ مختلف عسکری گروہوں کا ایک اتحاد ہے‘ جو عبوری حکومت کے نام سے ریاستی نظام و انصرام چلانے کی کوشش کر رہا۔ ایک گروپ دہشت گردی کی مذمت کرتا جبکہ دوسرا اس کی سہولت کاری کرتا ہے۔ اسی وجہ سے مغربی سرحدی معاملات سنگین ہوئے ہیں اور اس کا اثر ملحقہ اضلاع پر بھی پڑا ہے۔ دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ دہشت گردوں کی سہولت کاری‘ فکری انتشار اور ٹھوس بیانیے کی عدم موجودگی بھی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ کہنا صائب ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ میں بیانیے اور مقصد کی یکسوئی درکار ہے اس حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ کہنا صائب ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ میں بیانیے اور مقصد کی یکسوئی درکار ہے۔ خواہ کوئی یونیفارم میں ہو یابغیر یونیفارم کے‘ ملکی دفاع کی ذمہ داری سب سے یکسو‘ یک زبان اور یکجا ہونے کا تقاضا کرتی ہے اور اسی طرح اس جنگ کو جیتا جا سکتا ہے۔ قوم کے فکری بکھیڑوں کا نتیجہ ہم پالیسیوں کے عدم تسلسل کی صورت میں دیکھ چکے ہیں‘ جس سے داخلی تقسیم بڑھی اور دہشت گردی کو فروغ ملا اس حوالے سے آئین کے آرٹیکل 17کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں ہر قسم کی جماعت‘ تنظیم اور یونین سازی کو ملکی سالمیت‘ مفاد اور امنِ عامہ کے تحت عائد کردہ پابندیوں اور ضوابط کے تابع رکھا گیا ہے, پالیسیوں میں یکسر تبدیلی کے اثرات ہم پچھلی افغان جنگ اور نائن الیون کے بعد بھی بھگت چکے ہیں۔ ان تجربات کا حاصل یہی ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل رکھا جائے اور اس کے لیے اہم دفاعی اور خارجہ امور کو آئینی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ حکومتوں کے بدلنے سے پالیسیاں تبدیل نہیں ہونی چاہئیں۔ یہ محض امن و امان یا استحکام کا نہیں ملکی ساکھ کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ خارجہ پالیسی کا رہنما اصول ہے کہ تمام انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھے جاتے۔ بین الاقوامی تعلقات میں نہ دوست مستقل ہوتے ہیں او رنہ ہی دشمن۔اولیت اور تقدم اگر کسی کو حاصل ہے تو وہ ملکی و ریاستی مفاد اور عوام کی فلاح ہے۔ ملکی مفاد اور عوامی فلاح کی خاطر قومی ‘ سیاسی اور سماجی قیادت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عسکری قیادت کے شانہ بشانہ چلنا چاہیے۔ اگر داخلی صفوں میں اتحاد پیدا ہو جائے تو دشمن ہمارے وطن کے خلاف جو گھنائونی سازشیں کرتے رہتے ہیں‘ وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔
افغانستان کو وار اکانومی کی عادت پڑ چکی ہے اور اس مقصد کے لیے نئے سپانسرز تلاش کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان کی مالی معاونت اور سرپرستی سے افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کی جا رہی ہے، جو پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہےانہوں نے کہا کہ اگر بھارت اور افغانستان مل کر بھی آ جائیں تو دونوں کا شوق پورا کرتے ہیں ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردی کے تمام بڑے واقعات میں افغانی بمبار ملوث نکلے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کی جڑیں سرحد پار موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی پر قائم ہے اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ خوارج نے مسلح آرمڈ کواڈ کاپٹرز کا استعمال شروع کر دیا ہے، جنہیں دہشت گردی اور نگرانی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خوارج مساجد، عوامی مقامات اور گھروں کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ ان کا ایک مخصوص ونگ آرمڈ کواڈ کاپٹرز کے ذریعے کارروائیاں کرتا ہے ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں اور بچوں و خواتین کو ڈھال بنا کر کارروائیاں کی جاتی ہیں، جبکہ پاک فوج صرف دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے,پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ تین سطحوں پر لڑی جا رہی ہے، جن میں سرحدی محاذ، داخلی سیکیورٹی اور جدید ٹیکنیکل جنگ شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک دہشت گردی میں 410 کواڈ کاپٹر ڈرونز استعمال ہو چکے ہیں، جبکہ آئی ای ڈیز اور دیگر جدید ہتھیار بھی استعمال کیے جا رہے ہیں دہشت گرد آبادی، مساجد اور بچوں کو ڈھال بناتے ہیں، جو نہ صرف انسانیت بلکہ مقامی روایات کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آبادی کو ڈھال بنانا پختونوں کی روایت ہو سکتی ہے؟ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن نہیں ہونے دیں گے، حالانکہ سوات میں امن بڑی قربانیوں کے بعد بحال ہوا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی دوبارہ سوات کو دہشت گردوں کے کنٹرول میں دینا چاہتا ہے؟ پاک فوج وفاقی حکومت کا ادارہ ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری سرحدوں اور ملک کی سالمیت کا تحفظ ہے۔