اسلام آباد (ٹی این ایس)— فتح جنگ میں پرائس کنٹرول مہم کے اثرات جانچنے کے لیے کیے گئے ایک عوامی سروے میں شہریوں کی بڑی تعداد نے سپیشل پرائس مجسٹریٹ چوہدری شفقت محمود کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے مہنگائی کے دباؤ میں کمی کا سبب قرار دیا ہے۔
سروے کے دوران مختلف بازاروں، سبزی و فروٹ منڈی اور گلی محلوں میں شہریوں سے رائے لی گئی۔ اکثریت کا کہنا تھا کہ حالیہ ہفتوں میں سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نسبتاً بہتر ہوا ہے اور روزمرہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام دیکھنے میں آیا ہے۔ شہریوں کے مطابق اچانک معائنوں اور موقع پر کارروائی کے باعث دکاندار سرکاری ریٹ لسٹ نمایاں جگہ پر آویزاں کرنے کے پابند ہوئے ہیں۔
مقامی شہری بابر حسین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرائس مجسٹریٹ کی روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹوں میں موجودگی سے نہ صرف نگرانی کا نظام فعال ہوا ہے بلکہ منافع خور عناصر کو بھی واضح پیغام ملا ہے کہ گرانفروشی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کے بقول، “عوام کو حقیقی ریلیف اسی وقت ملتا ہے جب سرکاری نرخوں پر سختی سے عمل ہو، اور موجودہ مہم میں یہ سنجیدگی دکھائی دے رہی ہے۔”
ایک اور شہری حاجی اعظم کا کہنا تھا کہ اشیائے خوردونوش کی معیاری اور مناسب نرخوں پر دستیابی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے، اور حالیہ کارروائیوں سے بازاروں میں نظم و ضبط بہتر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمانوں اور وارننگز کے ساتھ ساتھ مسلسل نگرانی ہی دیرپا بہتری کی ضمانت بن سکتی ہے۔
سروے میں شامل بزرگ شہریوں اور تاجروں کی ایک بڑی تعداد نے بھی اس امر کی تصدیق کی کہ سرکاری ریٹ لسٹ پر عملدرآمد کے حوالے سے ماحول پہلے سے زیادہ منظم نظر آ رہا ہے۔ بعض تاجروں نے یہ بھی کہا کہ واضح ہدایات اور یکساں نفاذ سے کاروباری برادری کو بھی رہنمائی ملتی ہے اور غیر یقینی صورتحال کم ہوتی ہے۔
سپیشل پرائس مجسٹریٹ چوہدری شفقت محمود نے اس حوالے سے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق کسی کو ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دی جائے گی اور عوامی شکایات پر فوری کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ گرانفروشی کی نشاندہی کریں تاکہ فوری ایکشن کے ذریعے عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
عوامی سروے کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فتح جنگ میں پرائس کنٹرول اقدامات نے شہریوں میں اعتماد کی فضا کو تقویت دی ہے۔ تاہم شہریوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ یہ مہم عارضی نہ ہو بلکہ تسلسل کے ساتھ جاری رہے، تاکہ مہنگائی کے دباؤ میں مستقل کمی اور مارکیٹوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔













