اسلام آباد (ٹی این ایس) وزیراعظم پاکستان کا قومی پیغام امن کمیٹی سے دہشت گردوں کو واضح پیغام

 
0
5

اسلام آباد (ٹی این ایس)  وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نےقومی پیغام امن کمیٹی سے واضح پیغام دیاہے کہ دہشت گردوں کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں یاد رکھیں کہ دینی قیادت نے متفقہ طور پر دہشت گردی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے پیغامِ پاکستان کو آئین کے بعد سب سے مضبوط قومی اتفاقِ رائے قرار دیاہے ، قومی پیغامِ امن کمیٹی نے قرار دیا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات سرحد پار سے منسلک قرار دے کر افغانستان سے پاکستان میں امن یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ افواجِ پاکستان کو اسلام اور امن کے محافظ قرار دیا گیا، اسلام کو امن اور محبت کا دین قرار دیا گیا، کسی بھی بے گناہ کے قتل کو حرام قرار دیا گیا، فتنہ کے خلاف جدوجہد کو جہادِ اکبر قرار دیا گیا۔ وزیراعظم کا کہناہےکہ پاکستان تمام مذاہب کے لیے مزید پرامن ہے۔آج سب سے بڑا چیلنج دہشتگردی ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں جن میں عام شہری، مائیں، بہنیں، بچے، ڈاکٹر، انجینئرز، تاجر اور چاروں صوبوں کے باسی شامل ہیں۔ شہیدوں نے اپنے خون سے ملک کی آبیاری کی ہے، افواج پاکستان، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں افسر اور جوان بھی شہید ہوئے ہیں، شہیدوں نے قربانیاں دے کر نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ کیا بلکہ دیگر ممالک کو بھی بچایا ،آج دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے ،خوارج ،ٹی ٹی پی اورٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ ہے ، ہمارے دشمنوں کے ذریعے انہیں ہر طرح کے وسائل پہنچ رہے ہیں ،جس طرح 2018 میں دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا تھا مجھے مکمل یقین ہے کہ اس مرتبہ بھی دہشتگردی کا سر کچلا جائے گا،دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے ۔جبکہ اس موقع پروفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان کی وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی نے قلیل عرصے میں قومی بیانیہ کی تشکیل بالخصوص دہشت گردی کے حوالے سے معاملات میں فعال کردار ادا کیا، امن کا پیغام لے کر پورے ملک میں جائیں گے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم کی اجازت اور منظوری سے قومی پیغام امن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، امن کمیٹی میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، مشائخ عظام اور اقلیتوں کے سرکردہ رہنمائوں کو شامل کیا جانا چاہئےامن کمیٹی نے بہت ہی قلیل عرصے بڑا فعال کردار ادا کیا ہے، قومی بیانیہ کی تشکیل بالخصوص دہشت گردی کے حوالے سے معاملات میں کمیٹی کا کردار لائق تحسین ہے۔ امن کا پیغام لے کر پورے ملک میں جائیں گے، کمیٹی کے مینڈیٹ کے تحت صوبائی کمیٹیاں اور پھر ضلعی کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

 

یاد رہے کہ قومی پیغام امن کمیٹی (این پی اے سی) نے قومی بیانیےکے فروغ کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے قومی پیغام امن کمیٹی نے 13 جنوری ، 2026 کو جنرل ہیڈکوارٹرمیں ملاقات کی تھی۔ملاقات میں آئی ایس پی آر کے مطابق فتنہ الخوارج کالعدم ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اےکےتناظرمیں داخلی سلامتی پرجامع گفتگو ہوئی تھی اور مشترکہ مؤقف مزید مضبوط ہوا تھا انہوں نے کہا تھاکہ قومی سلامتی کے امور میں یکسوئی، بیانیے پراتفاقِ رائے وقت کی ضرورت ہے اور مظلوموں کی حمایت پاکستان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ملاقات میں قومی بیانیے کے فروغ کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور پاک افواج سےغیرمتزلزل یکجہتی اور ریاست دشمن بیانیوں کےخلاف مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیاتھا۔قومی پیغام امن کمیٹی نے فتنہ الخوارج اورافغان طالبان کی مذمت کرتے ہوئے کہاتھاکہ دہشتگردی کا کوئی جوازنہیں۔ امن کمیٹی نے منبر ومحراب سے اتحادِ امت، سماجی ہم آہنگی، آئینی برابری کا پیغام ملک گیرسطح پرپھیلانے کا اعلان کیا جبکہ نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور تکفیری بیانیےکےخلاف زیروٹالرنس پالیسی اپنانے پر بھی اتفاق کیاتھا۔ امن کمیٹی نے ریاستی بیانیےکی ترویج کیلئے مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی نشستیں بڑھانےکی تجویز دی تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے کیلئے عوامی شعور،سچائی پرمبنی بیانیہ فیصلہ کن ہتھیارہے۔ وزیراعظم کا کہناہےکہ آج پاکستان ترقی اور خوشحالی کی منزل کی طرف رواں دواں ہے، قیام پاکستان میں علماء کرام کا بھی بہت اہم کردار تھا، اللہ تعالی نے پاکستان کو وہ تمام وسائل عطا کیے ہیں جو شاید ہی کسی دوسرے ملک کے پاس ہوں، اللہ تعالی نے ہمیں کھربوں ڈالر کے قدرتی وسائل عطا کر رکھے ہیں جن کو ہم استعمال کریں تو ہمارے تمام مسائل ختم ہو جائیں گے، پاکستان کو صحیح معنوں میں رفاحی مملکت بنائیں گے، قرضوں سے نجات حاصل کرنی ہے ،غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کرنا ہے، یہ کام مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں، اس کےلئے وہ طریقے اور اسلوب اختیار کرنے ہوں گے جن کے لیے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جو وسائل عطا کئے ہیں وہ شاید ہی کسی ملک کے پاس ہوں،وسائل کو اگر استعما ل کریں تو ہمارے تمام مسائل ختم ہوجائیں گے، وزیراعظم نے ملک سے غربت، بے روزگاری کے خاتمے ، قرضوں سے نجات حاصل کرنے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد اور یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے نہ تھی،ملک میں دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے، خوارج ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ ہے،ہمارے دشمنوں کے ذریعے انہیں وسائل پہنچ رہے ہیں،دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے ،تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے طریقوں سے عبادت اور تہوار منانے کا پورا حق ہے،۔معرکہ حق میں افواج پاکستان نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو رہتی دنیا تک نہیں بھولے گا اس موقع پروفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ،وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اوردیگر حکام بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں یہ انتہائی خوش آئندبات ہے کہ قومی پیغام امن کمیٹی ایک ایسا کردار ادا کرنے جا رہی ہے جس کی اس وقت بہت ضرورت ہے، مملکت خداداد پاکستان بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی عظیم تحریک کے نتیجے میں لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کے بعد وجود میں آئی،تحریک پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے کروڑوں مسلمانوں اور اقلیتی برادری نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا، تحریک پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے کے کروڑوں مسلمانوں اور اقلیتی برادری نے حصہ ڈالا،سیسل چوہدری ،سپریم کورٹ کے سابق جج رانا بھگوان داس اور اقلیتی برادری کے دیگر ارکان کی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں کے لیے بڑی خدمات ہیں۔ پاکستان بنانے کا مقصد ایسا خطے کا حصول تھا جہاں اسلام کا بول بالا ہو،پاکستان میں تمام مذاہب کو اپنے طریقوں سے عبادت کرنے اور تہوار منانے کا حق ہے،ہر پاکستانی کو اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر اپنا مقام پیدا کرنے کا حق ہے۔ وزیراعظم کہنا ہے کہ مئی 2025 میں معرکہ حق میں افواج پاکستان نے ہندوستان کو شکست فاش دی اور ایک ایسا سبق سکھایا جسے وہ رہتی دنیا تک بھلا نہیں پائے گا،یہ فتح اللہ تعالی کی نصرت اور اس کی کمال مہربانی اور افواج پاکستان کی جرأت، اعلی ترین تربیت ، بہترین ٹیکنالوجی اور 24کروڑ عوام کی دعائوں کا نتیجہ ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں معر کہ حق میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح سے نواز جس پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام شامل ہیں ،اللہ تعالی اس کمیٹی کو کامیابیاں عطا کرے،اسلام کا اعلیٰ و ارفع پیغام صوبوں میں پہنچائیں ،تدبر، فہم و فراست ،بردباری اور حوصلے کے ساتھ معاملات کو آگے لے کر چلنا ہے۔ معاملات کو مل بیٹھ کر طے کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی پیغام امن کمیٹی کے کنوینر مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ جس اعتماد کا اظہار وزیراعظم نے کیا ہے ہم اس پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے، پشاور میں خیبرپختونخوا کے گورنر کے ساتھ تفصیلی ملاقات کے بعد یہ طے ہوا ہے کہ خیبر پختونخواکے تمام علماء کرام کی دو روزہ علماء مشائخ کانفرنس بلائی جائے گی جس میں مشاورت سے فیصلے کئے جائیں گے اوران کے تمام تحفظات کو دور کیا جائے گا،کمیٹی کے اراکین صوبے کے تمام علاقوں کا دورہ کریں گے ،پاک فوج کے جوانوں اور سلامتی کے اداروں کے ساتھ وقت گزاریں گے اور بیانیہ کی جنگ میں صف اول کا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا موقف واضح ہے کہ پاکستان کا امن ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے، اس وقت مدارس کے 15 میں سے 11 بورڈز کے ارکان یہاں موجود ہیں ،جن حالات میں پیغام امن کمیٹی کی تشکیل ہوئی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے پاکستان میں امن کی کوششوں کو استحکام ملے گا، علماء اور مفکرین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے،علماء نظریاتی محاذ کو مستحکم کر رہے ہیں، 2018 میں مسلم لیگ( ن) کی حکومت نے ہی پیغام پاکستان کا اجراکیا تھا، جس کو ہم آگے لے کر چل رہے ہیں، امید کرتے ہیں کہ امن کے قیام کے لیے کوششیں کامیاب رہیں گی،قومی پیغام امن کمیٹی میں اقلیتی برادری کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔اس دوران جامعۃ الرشید کے مہتمم مولانا مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ ریاست پاکستان اور حکومت کی طرف سے مضبوط قومی بیانیہ عوام تک جانا چاہیےجو سہولت کاری بھی ہو رہی ہے چاہے وہ سیاسی، مذہبی سطح پر ہویا تعلیمی اداروں کی طرف سے ہو اس کا خاتمہ ضروری ہے،شکوک و شبہات کا خاتمہ ضروری ہے،امن کمیٹی امن کا پیغام لے کر ہر جگہ پہنچے گی۔اس کے علاوہ علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ امن اور محبت کا پیغام عام کرنے کے لیے کمیٹی کی تشکیل انتہائی اہمیت کی حامل ہے، پاکستان اللہ تعالیٰ کا تحفہ ہے ،کبھی شر پسند اور منفی ذہنیت رکھنے والے اس کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے،خوارج کا دین اسلام سے تعلق ہے نہ ہی وہ پاکستان کے خیرخواہ ہیں، وہ ملک کا امن تباہ کر رہے ہیں اور دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، اتحاد امت کے لیے ہم سب مل کر کوشش کر رہے ہیں، اندرونی و بیرونی تمام سازشوں کے سامنے مل کر کھڑے ہوں گے اور ملک کو امن کا گہوارہ بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں گے۔اس کے علاوہ علامہ محمد حسین اکبر نے کہا کہ فتنہ والخوارج اور فتنہ ا لہندوستان کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے یہ کمیٹی بھرپور سرگرمی سے کام کرے گی، اس کمیٹی میں تمام مذاہب کے نمائندے شامل ہیں اور یہ قومی وحدت کا مظہر ہے،پیغام پاکستان کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔اس موقع پر علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ میں اس وقت بلند ترین مقام پہ کھڑا ہے، سیاسی اور عسکری قیادت کا ملک کی ترقی کے لیے موقف ایک ہے ، ہم نے پیغام دے دیا ہے کہ علماء پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔مزید یہ کہ علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ علمائے کرام پاک فوج کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،ملک میں قیام امن اور یکجہتی کے فروغ کےلئے حکومت کا ساتھ دیں گے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا زبیر فہیم نے کہا کہ سیاسی، دینی اور عسکری قیادت جب مل کر کام کرے گی تو یہ ملک امن کا گہوارہ بنے گا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئےمفتی محمد یوسف خان نے کہا کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو معرکہ حق میں بڑی کامیابیوں سے ہمکنار کیا ہے،قومی پیغام امن کمیٹی اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔اپنے خطاب میں علامہ محمد آصف اکبر نے کہا کہ اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ فکری دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے، پاکستان کے امن کے لیے علماء کرام ،سیاسی وعسکری قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم اپنے مدارس میں پیغام پاکستان کو بطور نصاب پڑھا رہے ہیں۔مولانا محمد عادل عطاری نےاپنے خطاب میں کہا کہ ہم سب مل کر وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہیں ،دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں گے، معرکہ حق کے بعد پاکستان کی دنیا میں عزت میں اضافہ ہوا ہے، امن کمیٹی کے قیام سے انتہا پسند عناصر کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ہندو کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے خطاب میں راجیش کمار نے کہا کہ پاکستان میں ہندو برادری خوشی اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے ،ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اس دھرتی ماں کی حفاظت رواداری، امن وآشتی کے فروغ کے لیے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،ہندو برادری ملک کے دفاع کے لیے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں۔مسیحی برادری کے نمائندگی کرتے ہوئے بشپ آزاد مارشل نے کہا کہ ہم ایسا بیانیہ بنانے میں کامیاب ہوں گےجس سے امن کا پیغام پھیلے گا۔اپنے خطاب میں مولانا طیب پنج پیری نے کہا کہ وزیراعظم نے ملک اقتصادی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، امن کی کوششوں میں ہم وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔مولانا محمد توقیر عباس نےاپنے خطاب میں کہا کہ ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے علماءکرام حکومت کے ساتھ ہیں، سکیورٹی ادارے وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں، نظریاتی سرحدوں کی حفاظت علماء کی ذمہ داری ہے ، یہ کمیٹی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے دہشت گردی پھیلانے والے عناصر کو ناکام بنائے گی۔ڈائریکٹر جنرل مذہبی تعلیمات ڈاکٹر غلام قمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں 36 ہزار مدارس ہیں رجسٹرڈ مدار س میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی بھی تعلیم دی جارہی ہے اور بچوں کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جارہی ہےتاکہ وہ جب مدارس سے فارغ ہوں تو انہیں روزگار کے اچھے مواقع میسر آسکیں۔ انہوں نےکہا کہ اساتذہ کی بھی جدید خطوط پر تربیت کی جارہی ہے، کچھ حلقوں کی طرف سے غلط پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ مدارس میں درس نظامی کی تعلیم کو متاثرکیا جارہا ہے ، نہ ہم ایسا کررہے ہیں نہ ہی کیا جائے گا۔ یاد رکھیں کہ علماء اور مفکرین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے،علماء نظریاتی محاذ کو مستحکم کر رہے ہیں، 2018 میں مسلم لیگ( ن) کی حکومت نے ہی پیغام پاکستان کا اجراکیا تھا، جس کو ہم آگے لے کر چل رہے ہیں، امید کرتے ہیں کہ امن کے قیام کے لیے کوششیں کامیاب رہیں گی،قومی پیغام امن کمیٹی میں اقلیتی برادری کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔اس دوران جامعۃ الرشید کے مہتمم مولانا مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ ریاست پاکستان اور حکومت کی طرف سے مضبوط قومی بیانیہ عوام تک جانا چاہیےجو سہولت کاری بھی ہو رہی ہے چاہے وہ سیاسی، مذہبی سطح پر ہویا تعلیمی اداروں کی طرف سے ہو اس کا خاتمہ ضروری ہے،شکوک و شبہات کا خاتمہ ضروری ہے،امن کمیٹی امن کا پیغام لے کر ہر جگہ پہنچے گی۔اس کے علاوہ علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ امن اور محبت کا پیغام عام کرنے کے لیے کمیٹی کی تشکیل انتہائی اہمیت کی حامل ہے، پاکستان اللہ تعالیٰ کا تحفہ ہے ،کبھی شر پسند اور منفی ذہنیت رکھنے والے اس کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے،خوارج کا دین اسلام سے تعلق ہے نہ ہی وہ پاکستان کے خیرخواہ ہیں، وہ ملک کا امن تباہ کر رہے ہیں اور دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، اتحاد امت کے لیے ہم سب مل کر کوشش کر رہے ہیں، اندرونی و بیرونی تمام سازشوں کے سامنے مل کر کھڑے ہوں گے اور ملک کو امن کا گہوارہ بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں گے۔اس کے علاوہ علامہ محمد حسین اکبر نے کہا کہ فتنہ والخوارج اور فتنہ ا لہندوستان کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے یہ کمیٹی بھرپور سرگرمی سے کام کرے گی، اس کمیٹی میں تمام مذاہب کے نمائندے شامل ہیں اور یہ قومی وحدت کا مظہر ہے،پیغام پاکستان کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔اس موقع پر علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ میں اس وقت بلند ترین مقام پہ کھڑا ہے، سیاسی اور عسکری قیادت کا ملک کی ترقی کے لیے موقف ایک ہے ، ہم نے پیغام دے دیا ہے کہ علماء پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔مزید یہ کہ علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ علمائے کرام پاک فوج کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،ملک میں قیام امن اور یکجہتی کے فروغ کےلئے حکومت کا ساتھ دیں گے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا زبیر فہیم نے کہا کہ سیاسی، دینی اور عسکری قیادت جب مل کر کام کرے گی تو یہ ملک امن کا گہوارہ بنے گا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئےمفتی محمد یوسف خان نے کہا کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو معرکہ حق میں بڑی کامیابیوں سے ہمکنار کیا ہے،قومی پیغام امن کمیٹی اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔اپنے خطاب میں علامہ محمد آصف اکبر نے کہا کہ اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ فکری دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے، پاکستان کے امن کے لیے علماء کرام ،سیاسی وعسکری قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم اپنے مدارس میں پیغام پاکستان کو بطور نصاب پڑھا رہے ہیں۔مولانا محمد عادل عطاری نےاپنے خطاب میں کہا کہ ہم سب مل کر وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہیں ،دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں گے، معرکہ حق کے بعد پاکستان کی دنیا میں عزت میں اضافہ ہوا ہے، امن کمیٹی کے قیام سے انتہا پسند عناصر کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ہندو کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے خطاب میں راجیش کمار نے کہا کہ پاکستان میں ہندو برادری خوشی اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے ،ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اس دھرتی ماں کی حفاظت رواداری، امن وآشتی کے فروغ کے لیے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،ہندو برادری ملک کے دفاع کے لیے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں۔مسیحی برادری کے نمائندگی کرتے ہوئے بشپ آزاد مارشل نے کہا کہ ہم ایسا بیانیہ بنانے میں کامیاب ہوں گےجس سے امن کا پیغام پھیلے گا۔اپنے خطاب میں مولانا طیب پنج پیری نے کہا کہ وزیراعظم نے ملک اقتصادی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، امن کی کوششوں میں ہم وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔مولانا محمد توقیر عباس نےاپنے خطاب میں کہا کہ ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے علماءکرام حکومت کے ساتھ ہیں،

 

سکیورٹی ادارے وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں، نظریاتی سرحدوں کی حفاظت علماء کی ذمہ داری ہے ، یہ کمیٹی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے دہشت گردی پھیلانے والے عناصر کو ناکام بنائے گی۔ڈائریکٹر جنرل مذہبی تعلیمات ڈاکٹر غلام قمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں 36 ہزار مدارس ہیں رجسٹرڈ مدار س میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی بھی تعلیم دی جارہی ہے اور بچوں کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جارہی ہےتاکہ وہ جب مدارس سے فارغ ہوں تو انہیں روزگار کے اچھے مواقع میسر آسکیں۔ انہوں نےکہا کہ اساتذہ کی بھی جدید خطوط پر تربیت کی جارہی ہے، کچھ حلقوں کی طرف سے غلط پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ مدارس میں درس نظامی کی تعلیم کو متاثرکیا جارہا ہے ، نہ ہم ایسا کررہے ہیں نہ ہی کیا جائے گا۔یاد رکھیں کہ قومی پیغام امن کمیٹی نے جمعہ کو ملک بھر میں پیغام امن کے نام سے منانے کا اعلان کیاتھا نماز جمعہ کے خطبے میں بھی اس حوالے سے بیانات جاری کیے گئےتھے۔ اس حوالے سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور قومی پیغام امن کمیٹی کے علماء کرام نے گورنر ہاؤس پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس کی تھی۔ گورنر خیبرپختون خوا فیصل کریم کنڈی نے کمیٹی ممبران کا شکریہ ادا کیاتھا اور کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں نے بہت قربانیاں دی ہیں عوام بھی دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں ہم اس جنگ میں پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر علامہ طاہر اشرفی نے کہاتھا کہ قومی پیغام امن کمیٹی ملک بھر میں جائے گی اور اس کا آغاز امن کمیٹی نے پشاور سے کیا ہے کیونکہ یہ صوبہ دہشت گردی سے بہت متاثر ہوا ہے، پیغام پاکستان کی روشنی میں متفقہ فتویٰ پر امام کعبہ سمیت تمام علامہ کے دستخط شامل ہیں، خود کش دھماکوں کے خلاف سب سے پہلا فتویٰ بھی پاکستان کے علامہ کا آیا تھا، بے گناہوں کو قتل کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے میرا فوجی جوان ہر روز اللہ سے شہادت مانگتا ہے، ان کی مائیں بھی یہی دعائیں کرتے ہیں ہم امن چاہتے ہیں۔علامہ طاہر اشرفی نے کہاتھا کہ ہ پیغام امن کا بھی یہ وژن ہے ملک کے خلاف جو بھی ہوگا ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، کبھی کیڈٹ کالج کے بچے کبھی اے پی ایس کے بچے شہید ہورہے ہیں افغان طالبان کو پاکستان کا امن اپنا امن سمجھنا ہوگا۔ علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ امن کے لیے جو افغان طالبان نے بات کی ہے اُس پر عمل کرنا ہوگا، 100 میں سے 70 فیصد حملے افغانستان سے ہوتے ہیں، افغان مہاجرین کو یہاں گھر دیے کیا یہ وفا کا صلہ ہمیں مل رہا ہے؟ ہمارا پیغام امن کا ہے ہم ہر شہر میں جائیں گے، صوبائی حکومت سے بھی یہی کہتے ہیں سلامتی اداروں کو بھی یہی کہتے ہیں جہاں ضرورت ہوگی وہاں جائیں گے، اس دہشت گردی میں بھی ہماری جیت ہوگی۔ پاکستان کی فوج، پاکستانی قوم بہت مضبوط ہیں، ملا عمر کا کشمیر کے حوالے سے موقف بالکل مختلف تھا، آج کس کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں، پاکستان کے تمام مدارس کے علماء یہاں موجود ہیں، ایک مسجد بھی پاکستان کے خلاف نہ ہے نہ ہوگی، اگر آپ سویت کے خلاف لڑ سکتے ہیں تو اپنے ملک کے لئے بھی لڑ سکتے ہیں پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتاوزیراعظم شہبازشریف نے بنوں میں فیلڈمارشل آرمی چیف عاصم منیر کے ساتھ اہم ترین سیکیورٹی اجلاس میں افغانستان کو دوٹوک پیغام دیا تھاکہ افغانستان، فتنہ الخوارج یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ پاکستان متعدد مرتبہ بڑے عالمی فورمز پراورافغانستان کی قیادت کو یہ بتا چکا ہےکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے جس سے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا جس میں سیکیورٹی فورسز پر حملےاور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی وارداتیں شامل ہیں۔ پاکستان کے ان تمام تحفظات کوافغان قیادت نے یکسرنظرانداز کردیا جس کے بعد اب پاکستان نے انتہائی سخت موقف اپنایا ہے۔ کیونکہ افغانستان دہشت گردی کا مرکز بنا ہواہے اوروہاں سے اٹھنے والے خطرات کو مدنظررکھتے ہوئے پاکستان کا حق دفاع برقرار ہے ، پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل اکاون کے تحت اپنے دفاع کے لیے کارروائی کا حق بھی رکھتا ہے کیونکہ پاکستان نے اب کلئیرکردیا ہے کہ افغانستان فیصلہ کرے فتنہ الخوارج یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلے افغانستان اسے پاکستان کا حتمی فیصلہ سمجھے۔پاکستان کی سلامتی کی ضروریات بھی ہماری اولین ترجیح اور ریڈلائن ہے جس پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔۔افغانستان روز اول سے ہی ڈیورنڈ لائن تنازع کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ اعتماد کا رشتہ برقرار رکھنے میں ناکام رہاہے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد تقریباً 3.5 سے 4 ملین کے قریب ہے۔ افغان مہاجرین میں سے بعض دہشت گرد نیٹ ورکس، منشیات اور اسمگلنگ میں ملوث پائے جاتے ہیں اور اس کے ٹھوس شواہد بھی سامنے آچکے ہیں پاکستان یہ معاملہ کئی مرتبہ اٹھاچکاہےڈیورنڈ لائن سے بارڈر کراسنگ، اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حرکت سے پاکستان کو سلامتی اور معیشت دونوں پہلوؤں پر انتہائی سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ دوہزار سترہ سے پاکستان نے ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانا شروع کی تھی جس میں اہم پیش رفت ہوچکی ہے پاکستان عالمی برادری اور افغانستان کو یہ باور کراچکا ہے کہ افغان سرزمین سے فتنہ الخوارج(ٹی ٹی پی،کالعدم تحریک طالبان پاکستان)اور دیگر دہشتگرد گروہ پاکستان پرحملے کرتے ہیں اور وہاں پر بھارتی آشیرباد سے پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہےاور یہ بات بالکل واضح ہوچکی ہے کہ افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت ان دہشت گرد گروہوں کو نہ صرف روکنے میں ناکام ہے بلکہ اس حوالے سے نرم رویہ بھی اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے اورذہن نشین کرلی جائے کہ طالبان حکومت کے اندر مختلف دھڑے ہیں، کچھ سخت گیر گروہ ہیں جو پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دیتے ہیں۔2021 میں طالبان کی واپسی اور حکومتی سیٹ اپ میں آنے کے بعد پاکستان کو اس بات پر مکمل یقین تھا کہ اب سرحدی مسائل اور دہشت گردی کے واقعات ختم ہوں گےمگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ فتنہ الخوارج اور کالعدم ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا۔بارڈ کراسنگ پر جھڑپیں ہوئیں اور سرحدبند کرنے کے کئی واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ پاکستان نے سفارتی سطح اور سیاسی پلیٹ فارم اور حکومتی لیول پر افغانستان سے یہ معاملات اٹھائے مذاکرات کیے مگر نتیجہ صفر۔ افغانستان میں پراکسیزاور بھارتی اثرورسوخ ہمیشہ پاکستان کے لیے تشویش کا باعث رہا ہے۔ اسلام آباد کے پاس ٹھوس شواہد ہیں اور یہ کئی مرتبہ عالمی سطح پربتایا گیا ہے اورکابل کو شواہد بھی دکھائے گئےکہ بھارت افغان سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں دہشت گردی کرارہاہےاور پاکستان میں امن کے درپے ہے۔ پاکستان یہ معاملہ بارہا اقوام متحدہ، او آئی سی اور شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او جیسے فورمز پر یہ مسئلہ اٹھا چکا ہے، اور عالمی برادری سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔