اسلام آباد (ٹی این ایس) وزیر خزانہ سنیٹر محمد اورنگ زیب نے پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب میں پائیدار اور دیرپا ترقی کا جو فارمولا دیا ہے اس سے اختلافات نہیں کیا جاسکتا وزیر خزانہ نے ایک جملے میں بڑی معاشی مشکلات کا احاطہ کردیا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ارباب اقتدار واختیار کو مسائل کا ادراک ہے تو ان کا تدارک کیوں ہوتا؟ اصلاح احوال کی سنجیدہ کوششیں دکھائی کیوں نہیں دیتیں؟ گزشتہ کئی سالوں سے ارباب اختیار غیر مساویانہ ٹیکس نظام اور توانائی کی قیمتوں کو اقتصادی پہیے کے چلنے میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے رہے ہیں اور اصلاحات کا عزم بھی تسلسل سے ظاہر کرتے چلے آرہے ہیں مگر ابھی تک اصلاحات کی سنجیدہ کوششیں کم از کم ظاہری سطح پر نظر نہیں آرہیں وزیر خزانہ کے اس اعتراف کہ ملک میں صنعتیں بند ہورہی ہیں اور کمپنیاں بیرون ملک منتقل ہورہی ہیں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ان حالات میں ہم آئی ایم ایف کے شکنجے سے باہرنکل کر معاشی اڑان کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں؟ کیا برآمدات کو چار سال میں دوگنا کر کے 60 ارب تک پہنچایا جاسکتا ہے؟ نہیں ہر گز نہیں یقینا برآمدات پر مبنی ترقی کا ماڈل ہی پائیدار اور مضبوط ترقی کا ضامن ہے مگر اس کے لئے محض اہداف مقرر کردینا ہی کافی نہیں بلکہ پالیسی سپورٹ سستی توانائی اور عالمی معیار کے مطابق پیدوار جیسے بنیادی عوامل پر سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے جو تاحال مفقود ہیں یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ معاشی نمو اور استحکام کے حکومتی دعوے عملی طور پر نظر نہیں آتے برآمدات میں اضافہ تو کجا یہ گزشتہ برس کی سطح سے بھی نیچے ہے اور یہ کمی ظاہر کرتی ہے کہ دعوؤں کے برعکس معاشی حالات دگرگوں ہیں برآمدات میںکمی کا یہی رحجان بر قرار رہا تو مالی سال کے آخر تک برآمدی شعبہ 32 ارب ڈالر کی گزشتہ برس کی سطح تک بھی نہیں پہنچ پائے گا معیشت کی مضبوطی جوئے شیر لانے کا کام ہے جس کے لئے مسلسل جدوجہد کرنا پڑتی ہے ہمارے حکمرانوں نے معاشی استحکام کے لئے جو پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں ان کی حیثیت معاشی بلبلہ سے زیادہ اہمیت کی حامل نہیں مالی حسابات اور جاریہ کھاتوں کے توازن کے لئے قرضوں پر انحصارکا راستہ ہماری معیشت کی کل حقیقت ہے قرض کے لئے ہاتھ پھیلانا عیش و آرام کے سامان باہر سے منگوا کر اپنے آپ کو عیش و آرام کی زندگی کا عادی بنانا ہماری مملکت کی تعمیر و ترقی کے لئے ہی زہر قاتل کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ ہماری شخصیت اور کردار پر بھی ایک دھبے کی حیثیت ر کھتا ہے پسماندہ طبقات یا علاقوں کے تعلیمی ومعاشی مفادات کا فروغ’ عام آدمی کے معیار زندگی کو بلند کرکے دولت اور وسائل پیدوار وتقسیم کو چند اشحاص کے ہاتھوں جمع ہونے سے روکنا اور آجر وماجور کے درمیان حقوق کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے عوام کی فلاح و بہبود کے حصول کی کوششیں آئین پاکستان کا بنیادی تقاضا اور حکومت وقت کی ذمہ داری ہے مگر بد قسمتی سے 1973 کے آئین کی تخلیق سے لے کر آج تک ملک میں بر سر اقتدار آنے والی کسی بھی حکومت نے آئین کے تقاضوں کو پورا کرنے اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کرنے کے لئے کبھی کوئی سنجیدہ کاوشیں نہیں کیں جس کے نتیجے میں امیر وغریب میں حائل فرق ایک خلیج کا روپ دھار چکا ہے اور اس خلیج سے معاشرے میں بے امنی اور بے چینی کی شرح میں جو اضافہ ہورہا ہے وہ بھی سب پر عیاں ہے وزیر اعظم’ وزیر خزانہ ودیگر وزراء ہمیشہ معاشی اشاریوں کی جو بات کرتے ہیں وہ درست مگر عام آدمی کی معیشت کی بات کی جائے تو یہ بدستور بحران سے دوچار ہے اور شرح غربت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ملک کی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے حکومتی اقدامات اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں مگر جب تک بیروزگاری اور غربت کی شرح میں کمی نہیں آئے گی مائیکرو معاشی اشاریے تسلی بخش تک نمو نہیں پاسکتے اس کے لئے حکومت صنعتی فروغ اور ٹیکسوں کی شرح بڑھانے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشی مسائل پہلے سے محصولات کے بوجھ تلے دبے چند لاکھ ملازمت پیشہ اور رضا کارانہ ٹیکس ادا کرنے والے افراد پر دباؤ بڑھانے یا غریب اور متوسط طبقے کو بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے نچوڑنے سے حل نہیں ہوں گے اس کے لئے ان بڑے لوگوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانا ہوگا جنہوں نے خود کو ہر قسم کے ٹیکسوں اور یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی سے مبرا قرار دے رکھا ہے حکومت اگر پر عزم ہوکر معیشت کو دستاویزی بنانے اور تمام شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے اقدامات کرے تو بھاری ٹیکسز کی شرح کو کم کرنا بھی ممکن ہے اور مجموعی قرمی پیدوار میں ٹیکس آمدنی کا حصہ بڑھانا بھی لیکن اگر سارا زور فائلر اور نان فائلر کی بحث ہی پر رکھا گیا اور سی طبقے پر ٹیکس کا بوجھ لادا جاتا رہا جو پہلے سے ٹیکس ادا کر رہا ہے تو اس سے معاشی جمود اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا حکومت کے لئے چیلنج یہ ہے کہ ٹیکس نیٹ سے باہر شعبوں کے نشاندہی کرے اور ان سے محصولات اکٹھے کرے یہ اسی صورت ممکن ہوگا کہ جب حکومت خود بھی ساختی نوعیت کی ٹیکس اصلاحات اور اس شعبے کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ ہو اگر مالیاتی اداروں کی شرائط کو پورا کرنے کے لئے عارضی اقدامات کئے جاتے رہے تو نتیجہ اب بھی ماضی سے مختلف نہیں ہوگا ملک میں ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن کا بڑھنا خوش آئند اقدام ہے مگر ابھی اس ضمن میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے پاکستان کو اپنے منفرد سماجی اقتصادی اور سیاسی تناظر کے پیش نظر محتاط اور شفاف ٹیکس اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ محصولات میں اضافہ اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے اور ٹیکس کے بوجھ کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے پاکستان اور دیگر متعدد ترقی پذیر ممالک کے لئے ٹیکس سے جی ڈی پی کا کم تناسب ایک مشترکہ چیلنج ہے یہ مسئلہ مختلف باہم جڑے ہوئے عوامل سے پیدا ہوتا ہے جو قوموں کی مالی صحت اور معاشی ترقی کو متاثر کرتے ہیں پاکستان کو مالیاتی خسارے کا سامنا ہے اور ٹیکس محصولات میں اضافہ حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج بنتا جارہا ہے ملک کا ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب دنیا میں سب سے کم ہے حکومت کو محصولات کی وصولی میں بہتر نتائج حاصل کرنے کے لئے ٹیکس کی شرح کو موثر بنانے کی ضرورت ہے سیلز ٹیکس کی شرح بڑھانے سے مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے فروخت میں کمی کے ساتھ ساتھ ٹیکس وصولی میں بھی نمایاں کمی واقع ہوتی ہے ایک موثر ٹیکس کی شرح طلب اور کھپت کو نقصان نہیں پہنچاتی جب کہ غیر موثر ٹیکس کی شرح لوگوں کی خالص آمدنی اور قوت خرید کو بری طرح متاثر کرتی ہے حکومت کو انکم ٹیکس کی شرح کا فیصلہ کرتے وقت عوام کی قوت خرید کو مدنظر رکھنا چاہیے ملک کے معاشی بحران کی جڑیں دائمی مالیاتی خسارے میں پیوست ہیں اور اس پر قابو پانے کیلئے کسی بھی اقدام کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے بڑھتے ہوئے قرضوں اور غیر ملکی زرمبادلہ کے بحران کو ختم کرنے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے حکومت امیر اور غریب کے فرق کو کم کرنے کے لئے بانی پاکستان کے معاشی وژن کو مشعل راہ بنائے ایسا اقتصادی نظام وضع کرے جو اسلام کے تصور مساوات اور معاشرتی انصاف پر مبنی ہو ارباب اختیار واقتدار کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ملک قرضوں پر نہیں چل سکتے ملکوں کو چلانے کے لئے معاشی استحکام ضروری ہوتا ہے اور یہ مضبوط پیدواری اور صنعتی شعبے اور ریونیو کے فعال نظام سے ممکن ہے**













