اسلام آباد (ٹی این ایس) قائداعظم کا فلسطین پر اصولی موقف پاکستان کی خارجہ پالیسی کے رہنما اصول کے طور پر کام کرتا ہے، جس میں فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی پر زور دیا جاتا ہے اور القدس (یروشلم) کو اس کا دارالحکومت بنانے کے ساتھ ایک خودمختار فلسطینی ریاست کی حمایت کی جاتی ہے، یہ پالیسی قائداعظم کے وژن سے مطابقت رکھتی ہے۔قائداعظم محمد علی جناح کا فلسطین پر اصولی موقف یہ تھا کہ وہ فلسطین میں صیہونی ریاست کے قیام کے خلاف تھے اور اسے مسلمانوں کے خلاف ایک سازش سمجھتے تھے۔ انہوں نے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کی اور اسے امت مسلمہ کے لیے ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔ قائداعظم کا موقف تھا کہ اسرائیل کا قیام نہ صرف فلسطینی عوام کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ یہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک خطرہ ہے انہوں نے کہا تھا کہ “اسرائیل ایک خنجر کی مانند ہے جسے امت مسلمہ کے قلب میں گھوپا گیا ہے”۔ 1937 میں انہوں نے کہا تھا کہ “فلسطین مسلمانوں کا ہے اور انہیں اس پر مکمل حق حاصل ہے”۔
قائداعظم نے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کی اور اسے امت مسلمہ کے لیے ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے برطانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین میں صیہونی ریاست کے قیام کے اپنے وعدے سے رجوع کرے اور فلسطینیوں کے حقوق کا احترام کرے۔
قائداعظم کے اس موقف کی وجہ سے پاکستان نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھی ہےقائداعظم نے پیش گوئی کی تھی کہ اسرائیل جیسی ریاست مستقبل میں تصادم کا ذریعہ بنے گی، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہ کرکے اس موقف کو برقرار رکھا ہے۔قائداعظم نے فلسطین کاز کو مسلم تشخص اور انصاف کے لیے مرکزی حیثیت کے طور پر دیکھا تھااور برطانیہ سے عربوں کے خود ارادیت کے وعدوں کی پاسداری کا مطالبہ کیا تھاقائداعظم محمد علی جناح نے فلسطین کی بھرپور حمایت کی تھی اور اسے انصاف اور اسلامی یکجہتی کے طور پر دیکھاتھا، تقسیم اور اعلان بالفور کی مخالفت کی تھی ، عربوں کے حقوق کی وکالت اور فلسطین فنڈ قائم کیاتھا، پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اصول میں مظلوموں کی حمایت اور ناانصافی کی مخالفت کرنے پر زور دیا گیا ہےقائداعظم نے اقوام متحدہ کے تقسیم کے منصوبے اور 1917 کے بالفور اعلامیہ کی مذمت کی تھی اوراسے غیر منصفانہ اور امن کے لیے خطرہ قرار دیاتھا، اگر اس پر عمل درآمد کیا گیا تو تصادم کا انتباہ دیاتھا۔ قائداعظم کا خیال تھا کہ فلسطین کی حمایت ایک اخلاقی فرض ہے پاکستان کے تشخص کا سنگ بنیاد اور مظلوموں کی حمایت کا عزم ہے،فلسطین دُنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے- یہ اس علاقہ کا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان تھا جس کے بیشتر حصے پر اب اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی ہے- در بدر خوار پھرنے والے یہودیوں کی فلسطین کی جانب نقل مکانی 17 ویں صدی کے اواخر میں شروع ہو گئی تھی- بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں برطانوی یہودیوں نے پہلا صہیونی بنک قائم کیا تھا جس نے اپنے لوگوں کو روپے فراہم کیے جس سے انہوں نے فلسطین میں زرعی زمینیں خریدنا شروع کردیں- یہ وہ وقت تھا جب برطانیہ نے فوجی قوت کے بل بوتے پر فلسطین کے اندر ایک ایسی ریاست کی بنیاد ڈالنی شروع کردی جس کا آغاز ہی ظلم تھا-
1948ء سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کہلاتا تھا جو خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں فتح ہوا تھا پھر صلاح الدین ایوبی کی فتح کے بعد خلافت عثمانیہ میں رہاتھا مگر بعد میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے اس پر قبضہ کرلیا تھا- چار صدیوں تک عثمانیوں کی حکمرانی میں رہنے والے اس خطے کو 1947ء میں برطانیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا تھااور اعلان بالفور کے ذریعہ یہودیوں کے لئے ایک قومی ریاست کے قیام کا وعدہ کیا تھا – 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعہ فلسطین کو تقسیم کرکے ایک عرب اور ایک اسرائیلی ریاست قائم کرنے کا اعلان کیا تھا- برطانیہ نے اس علاقے سے تھاء میں اپنی افواج واپس بلالیں اور 14 مئی 1948ء کو اسرائیل کی آزاد حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا گیا تھا- ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کے ساتھ ہی فلسطینی ریاست بھی قائم کر دی جاتی لیکن ایسا نہ ہوا تھا- اسرائیل کے قیام کے پیچھے برطانیہ کا سب سے زیادہ ہاتھ تھا کیونکہ جنگ عظیم اوّل میں جب یہودیوں نے دیکھا کہ اتحادی جنگ جیت رہے ہیں تو انھوں نے اتحادیوں کو خصوصاً برطانیہ کو مختلف حیلوں بہانوں سے فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام پر آمادہ کیا تھا- برطانیہ کی پہلے ہی نظر مشرق وسطیٰ کے تیل کے ذخائر پر تھی سو اس نے جاتے جاتے ایک ایسی ریاست مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر قائم کر گیا تھاجو آج تک فلسطینی عوام پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے- فلسطین تو کیا پورے عرب کو بھی آج تک حقیقی آزادی نصیب نہ ہوسکی- وہ اقتصادی طور پر اسرائیل و امریکا کے ہی غلام ہیں کیونکہ دنیا کی معیشت پر ان صہیونیوں کا قبضہ ہے-
قائدِ اعظم اور آل انڈیا مسلم لیگ ہمیشہ فلسطین کی آزادی کے لیے آواز اٹھاتے رہے- فلسطین کی حمایت میں 1933ء سے 1946ء تک اٹھارہ قرار دادیں منظور کی گئیں- پورے برصغیر میں آل انڈیا مسلم لیگ باقاعدگی کے ساتھ یومِ فلسطین پر سیاسی سرگرمیوں کا انعقاد کرکے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی رہی- 23 مارچ، 1940ء کو قرار دادِ لاہور منظور کی گئی جو قرار دادِ پاکستان کہلاتی ہے، اس تاریخی موقع پر بھی فلسطین کے ساتھ یکجہتی کی قرار داد منظور کی گئی- عہدِ قائد اعظم میں صیہونیت کی پشت پناہی کے لیے چونکہ برطانیہ صفِ اوّل میں کھڑا تھا اس لیے قائدِ اعظم محمد علی جناح جہاں برّصغیر پاک و ہند کے مسلمانان کی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے وہیں جدوجہدِ آزادیٔ فلسطین کے لیے بھی مسلسل تگ و دو کر رہے تھے کیونکہ ملّت کا پاسبان ہونے کے ناطے پوری امّتِ مسلمہ کا غم آپ کی رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے تھا- آپ نے عالَمِ عرب کی حریت کی خاطر جو جدوجہد کی اس کا اعتراف خود عرب لیڈروں نے بھی کیاتھا فلسطین کے موجودہ حالات کے تناظر میں یہاں قائد اعظم کی آزادیٔ امتِ مسلمہ کے لیے کی جانے والی جدجہد کے آخری دس سالہ بیانات کے اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جس سے اندازہ ہوگا کہ فلسطین کے جو حالات آج ہیں وہ قائد اعظم کے عہد میں بھی موجود تھے لیکن قائد اعظم نے اس درد کو محسوس کیا تھا
مسئلہ فلسطین پر قائد اعظم فرماتے ہیں :- فلسطین رپورٹ عربوں کے ساتھ سخت نا انصافی ہے:-
بمبئی، 11جولائی، 1937ء کو قائدِ اعظم محمد علی جناح ، صدر آل انڈیا مسلم لیگ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’فلسطین رپورٹ عربوں کے ساتھ بے حد شدید نا انصافی کرتی ہے اور اگر برطانوی پارلیمان نے اس پر اپنی مہرِ تصدیق ثبت کردی تو برطانوی قوم عہد شکنی کی مرتکب ہوگی‘‘ –
قائدِ اعظم نے مزید تھا کہ ’’ایسا کام کرنا جو سراسر نا انصافی پر مبنی ہوغلط ہوتا ہے اور صرف اس لیے کہ اس سے زحمت کم سے کم ہوجائے گی، یا یہ خصوصی مفاد کے حسبِ حال ہے- برطانیہ کو اپنے عہد بے خوفی کے ساتھ پورے کرنے چاہیں- ‘‘(دی ٹائمز، 12جولائی1937ء)
نئی دہلی، 7 ستمبر، 1937ء آپ کو پارلیمانی کمیٹی برائے دفاع ِ فلسطین، قاہرہ کے دفاتر سے ایک مکتوب موصول ہوا ہے جس میں ہند کی مجالس قانون ساز کے مسلم اراکین کو مسلم کانگرس کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی – مسلم کانگرس ماہِ اکتوبر کے دوران قاہرہ میں منعقد ہوئی تھی جس میں مسئلہ فلسطین پر غور کیا گیا تھا – آپ نے ایک بیان میں ہندوستان کی مختلف مجالس قانون کے مختلف اراکین سے کہا تھا کہ جو لوگ اس کانگرس میں شرکت کے متمنی ہوں وہ مجھے اطلاع دیں تاکہ انہیں باضابطہ دعوت نامے جاری کیے جاسکیں- اپنے بیان میں فرماتے ہیں: مجھے پارلیمانی کمیٹی برائے دفاعِ فلسطین کے دفتر قاہرہ سے حسب ذیل مکتوب مورخہ 24 اگست موصول ہوا ہے: ’’مسئلہ فلسطین کے بارے میں آپ کی مساعی جمیلہ اور جوش و خروش کا بہت بہت شکریہ- ہم امید کرتے ہیں کہ اس کے حل کے ضمن میں بہت جلد اچھے نتائج برآمد ہوں گے- ہمیں مسٹر صدیقی کی جانب سے ایک خط موصول ہونے پر بڑی مسرت ہوئی کہ وہ کانگرس کی جانب سے مقرر کردہ کمیٹی کے لیے آپ کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں-
ہمیں امید ہے کہ آپ ہند کی مختلف مجالس قانون ساز کے مسلم اراکین سے اس کانگرس میں شرکت کے لیے کہیں گے تو آپ کو یقینا کامیابی ہوگی- ہم آج کل دعوت نامے تیار کررہے ہیں جو ہفتہ بھر میں تقسیم کے لیے تیار ہوجائیں گے- ہم تقریبا دو سو دعوت نامے ہند میں اپنے بھائیوں میں تقسیم کے لیے آپ کی خدمت میں ارسال کریں گے- عزت مآب علوبہ پاشا ستمبر کے پہے ہفتے میں قاہرہ واپس تشریف لا رہے ہیں تاکہ وہ یہاں سے اپنی مساعی جاری رکھ سکیں- ہم آپ کے جوش و جذبہ اور ہمت پر انحصار کررہے ہیں کہ آپ مختلف مجالس قانون ساز کے مسلم اراکین کی بڑی سے بڑی تعداد کو اس کانگرس میں شرکت کے لیے آمادہ کر لیں گے- بسُرعت بہت سرگرم کام کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے- کانگرس چالیس دن کے اندر اندر منعقد ہوجائے گی- آپ کا بہت بہت شکریہ-
امید ہے کہ ہم آپ کی عظیم مساعی کے ثمر آور نتائج دیکھ سکیں گے-‘‘
اس خط کے تذکرے کے بعد قائد اعظم نے فرمایا:-
’’مختلف مجالسِ قانون ساز کے مسلم لیگ پارٹیوں کے اراکین جو قاہرہ میں منعقد ہونے والی کانگرس میں شرکت کے خواہش مند ہیں وہ اعزازی سیکرٹری آل انڈیا مسلم لیگ کے مرکزی دفتر دہلی سے رابطہ قائم کریں گے تاکہ باضابطہ دعوت نامے جیسے ہی موصول ہوں ان کی خدمت میں ارسال کئے جاسکیں- امکان ہے کہ کانگرس اکتوبر کے اوائل میں منعقد ہوگی- ‘‘ (دی ٹری بیون، 8 ستمبر،1938ء)
قائد اعظم نے سندھ مسلم لیگ کانفرنس میں خطبہ صدارت دیتے ہوئے کَہَا:- کراچی، 8، اکتوبر، 1938ء ’’جہاں تک فلسطین کے المیے کا تعلق ہے جو فی الوقت جاری ہے اور انتہائی بے رحمانہ طریقے سے عربوں پر ظلم کیا جارہا ہے کیونکہ وہ اپنے ملک کی آزادی کی خاطر جدوجہد میں مصروف ہیں- مجھے آپ کو یہ بتانے کی بمشکل ہی ضرورت ہوگی کہ ہمارے پاس ایسے قائل کرنے والے ثبوت موجود ہیں اور جن کا ہند کے طول و عرض میں مظاہرہ کیا گیا کہ عربوں کی دلیرانہ اور قابلِ تعریف جدوجہد میں جو وہ جملہ مخالفت کے باوجود اور بغیر کسی دفاع کے کر رہے ہیں، ہر مسلمان کا دل ان کے ساتھ ہے- آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کی قرار داد کے مطابق سارے ہندوستان میں 26، اگست کو ’’یومِ فلسطین‘‘ منایا گیا اور اطلاعات کے مطابق بلا مبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ سارے ملک میں ہزار ہا جلسے منعقد ہوئے جن میں ان لوگوں کے ساتھ پوری پوری مخلصانہ ہمدردی کا اظہار کیا گیا جو اپنے ملک کی آزادی کی خاطر لڑ رہے ہیں- مسلمانوں کے دل زخمی اور مجروح ہوجاتے ہیں جب وہ بہادر عربوں پر ظلم و تعدی اور بے رحمی کی خبر اور اس کی تفصیلات سنتے ہیں اور مجھے علم ہے کہ کُل عالَمِ اسلام وہاں برطانیہ کے افعال دیکھ رہا ہے-
میں آپ کو یہ اطلاع دے سکتا ہوں کہ مسلم لیگ کونسل نے 30 جولائی 1938ء کے اجلاس میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی کہ وہ اس سوال پر غور کرے کہ ایک باضابطہ وفد بیرونی ممالک بھیجا جائے بالخصوص فلسطین اور انگلستان – کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ وہ غور کرے کہ کن طریقوں اور ذریعوں سے حکومت برطانیہ پر موثر دبائو ڈالا جائے- اس کمیٹی کا حال ہی میں بدایوں میں اجلاس ہوا جس میں مصری پارلیمانی کمیٹی برائے دفاعِ فلسطین کی دعوت کے جواب میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پانچ نمائندے منتخب کئے گئے تاکہ وہ عرب اور مسلم ممالک کی پارلیمانی کانگرس میں شرکت کر سکیں- کانگرس کا اجلاس 7، اکتوبر 1938ء سے قاہر ہ میں شروع ہورہا ہے جس میں فلسطین کی موجودہ صورت حال پر غور کیا جائے گا- پانچ میں سے ہمارے تین نمائندے مسٹر خلیق الزمان، مسٹر عبد الرحمن اور مولانا مظہر الدین پہلے ہی ہند سے قاہرہ کے لیے روانہ ہو چکے ہیں- مزید، مصری پارلیمانی کمیٹی کی ہدایات کے مطابق ہم نے یہ اعلان کردیا تھا کہ اگر کسی مجلس قانون ساز کا کوئی مسلم لیگی رکن اس کانگرس میں شرکت کرنا چاہے تو اس امر کی اطلاع کر دے تاکہ سیکرٹری آل انڈیا مسلم لیگ اُن کے نام دعوت نامہ جاری کردیں- اب ہم اس کانگرس کے زیرِ غور آنے والے امور اور فیصلوں کا انتظار کریں گے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اختیار میں جو کچھ بھی ہوا وہ فلسطین میں عربوں کے مقصدِ عظیم کے ضمن میں مدد کرے گی-‘‘ (کراچی، 8، اکتوبر،1938ء ،سندھ مسلم لیگ کانفرنس میں خطبہ صدارت دیتے ہوئے ) اس خطاب سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ برصغیر میں مسلمانوں کی حکومت بھی نہیں تھی بلکہ مسلمان اپنی آزادی کی جد و جہد میں مصروف تھے لیکن پھر بھی قائد اعظم نے فلسطین کے لیے آواز بلند کی تھی اور برطانیہ کے دورِ حکومت میں ہی ہزار ہا جلسے منعقد کرکے فلسطین سے مخلصانہ اظہارِ ہمدردی کیا گیا –
قائد اعظم نے مسئلہ فلسطین کے بارے ایک بیان میں عرب قائدین اور ہمسایہ ریاستوں کو اتنباہ کیاتھا :-
بمبئی،10۰ نومبر، 1938ء کو قائد اعظم نے اس خیال کا اظہار کیاتھا کہ مسلمانانِ ہند پختہ طور سے اس جدوجہد کے ساتھ ہیں جو عرب فلسطین میں اپنی آزادی کے لئے کر رہے ہیں-
حکومت کی جانب سے مسئلہ فلسطین پر حکمتِ عملی کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایاتھا: ’’میں محسوس کرتا ہوں کہ فلسطین کے عرب قائدین اور ان کی ہمسایہ ریاستیں معاملے سے نمٹنے کے لیے ایک ہندی کے مقابلے میں ’جو اتنے فاصلے پر بیٹھا ہے‘ کہیں زیادہ اہل ہوں گی چونکہ وہ (عرب قائدین) نہ صرف پورے طور سے اہل ہیں بلکہ موقع پر ہونے کی وجہ سے صورتِ حال کو بہتر سمجھ سکتے ہیں- لہٰذا میں اس مرحلے پر کوئی ٹھوس نوعیت کی تجویز پیش کرنے کی جسارت نہیں کروں گا بلکہ اس امر کو واضح کروں گا کہ مسلمانانِ ہند پختہ طور سے اس جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں جو عرب اپنی آزادی کے لیے چلا رہے ہیں- ان (مسلمانانِ ہند) کے محسوسات اور جذبات بار بار حکومتِ برطانیہ کو پیش کیے جاچکے ہیں-
میری رائے میں برطانیہ کو عربوں سے عہد شکنی نہیں کرنی چاہیے تھی اور بہت پہلے عربوں کو موعود (وعدہ کی گئی) آزادی دے دینی چاہیے تھی- مزید یہ بہت ظالمانہ بات تھی کہ یہودیوں کو، ان کے زیرِ اثر، بیرونی اقوام کے اشارے پر، کوڑے کرکٹ کی طرح فلسطین میں پھینک دینے کی کوشش کی جائے اور اس طرح خود یہودیوں کے لیے بھی از حد قابلِ رحم صورت حال پیدا کردی جائے جو عربوں کی سرزمین پر جائیں اور اپنے نام نہاد قومی وطن کی دلیل کے تحت وہاں قیام پذیر ہو جائیں-
میں عرب قائدین کو ایک انتباہ کرسکتا ہوں کہ اگر وہ مجوزہ گول میز کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کر لیں تو وہ اپنی پسند کے نمائندے بھیجیں جو عربوں کے اعتماد اور احترام کے حامل ہوں اور یہ دیکھیں کہ کانفرنس اس کہانی کا روپ نہ دھار لے جس میں ایک بندر لڑاکا بلیوں کے درمیان انصاف کرتا ہے-‘‘ (قائد اعظم دستاویزات، ایف 10 صفحہ 66 اور سٹار آف انڈیا،12، نومبر 1938ء)
فلسطین کانفرنس کے بارے آپ نے مسٹر چمبر لین (وزیر اعظم برطانیہ) کو ٹیلی گرام بھیجاتھا:-
بمبئی 30، جنوری،1939ء کو آپ نے فرمایا تھا کہ فلسطین کانفرنس کے پیشِ نظر جو7، فروری 1939ء کے لگ بھگ لندن میں منعقد ہوگی، میں نے مسٹر چمبر لین وزیر اعظم برطانیہ وزیرِ ہنداور مسٹر مالسکم میکڈانلڈ وزیر نو آبادیات کو حسبِ ذیل برقیہ (ٹیلی گرام) ارسال کیا ہے:
’’آل انڈیا مسلم لیگ برطانوی حکومت پر زور دیتی ہے کہ وہ مسلم لیگ کو فلسطین کانفرنس میں نمائندگی دے اور ’’فلسطین قومی عرب مطالبات‘‘ کو تسلیم کرے- مسلم ہند نہایت بے قراری کے ساتھ نتائج کا منتظر ہے- میں برقیہ کے ذریعہ سے سارے ہند میں پھیلے ہوئے جذبات کی شدت اور تاثرات کا کماحقہٗ اظہار نہیں کرسکتا- کانفرنس کی ناکامی کا سارے عالَمِ اسلام میں تباہ کن اثر ہوگا اور سنگین نتائج برآمد ہونگے- میں بھروسہ کرتا ہوں کہ آپ اس مخلصانہ اپیل پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں گے-‘‘ (دی سول اینڈ ملٹری گزٹ، یکم فروری، 1939ء) فلسطین کی صورتِ حال کے متعلق چرچل وزیرِ اعظم برطانیہ کے نام ٹیلی گرام میں 17 فروری1944ء کو آپ نے فرمایا تھا کہ :-
’’بااثر حلقوں کی حمایت سے امریکی اور صہیونی پروپیگنڈا زبردست خوف اور خطرے کو جنم دیتا ہے- قرطاسِ ابیض (وائٹ پیپر) اور ان یقین دہانیوں سے کوئی انحراف جو وائسرائے لارڈ لنلتھگو نے ہِز میجسٹی کی حکومت کی جانب سے مسلم ہند کو کرائی تھیں عربوں کے ساتھ صریحی نا انصافی اور عہد شکنی کی جانب ایک اور قدم ہوگا- نہ صرف مسلم ہند بلکہ پورا عالَمِ اسلام اس کے خلاف اظہارِ ناراضی کرے گا-‘‘ (دی ڈان، 18، فروری،1944ء ) ماتھیران میں 25 مئی 1945ءایک اخباری بیان میں آپ نے فرمایا تھا کہ :- ’’اگر برطانیہ اپنے عہد و پیمان سے منحرف ہوا، جو عربوں کے ساتھ صرف انصاف کے ذیل میں آتا ہے تو یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے گہرے محسوسات اور نظریات کے خلاف ہوگا اور یہ مسلمانانِ ہند کے ساتھ کیے جانے والے ان وعدوں کے بھی خلاف ہوگا جن کے تحت جنگ جاری رکھنے کے لیے مسلمانوں کی ہمدردی اور اعانت حاصل کی گئی-
ڈاکٹر ڈالٹن ، اگر ان کے پاس ضمیر نام کی کوئی چیز ہے، کس طرح ایسی مہیب اور دہشت ناک حکمتِ عملی کا اعلان کرسکتے ہیں جسے وہ اخلاقیات کے کسی اصول، سیاست کے، انصاف اور عدل سے ہم آہنگ کسی نظریے یا برطانیہ کے وقار کے مطابق کہہ سکیں، انتخاب میں یہودیوں کے ووٹ حاصل کرنے کی ضمن میں یہ بہت خطرناک کھیل ہے- یقینی طورپر یہ دنیائے اسلام کو مضطرب اور ان کے دلوں میں منافرت پیدا کردے گا اور تباہ کن نتائج پر مبنی ہوگا-
مجھے یہ بھی امید ہے کہ مسٹر چرچل کی حکومت اور برطانیہ کے عوام فلسطین کے عربوں سے بے وفائی نہیں کریں گے یا مسلمانان ہند کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کو توڑنے میں فریق نہیں بنیں گے-‘‘ (ڈان،27، مئی،1945)
فلسطین میں عرب کاز کی ہندی مسلمانوں کی حمایت کا برسرِ عام تذکرہ فرمایا:- نئی دہلی، 23 جنوری، 1946ء ’’اگر برطانیہ کی جانب سے فلسطین کے متعلق وائیٹ پیپر میں اعلان کردہ حکمت عملی سے انحراف ہوا تو مسلمانانِ ہند خاموش تماشائی بنے نہیں رہ سکتے- وہ (اِسلامیانِ ہِند) ہر ممکن طریقے سے عربوں کی حمایت کریں گے-‘‘ (دی ڈان، 24، جنوری،1946ء)آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے خِطاب : –
10، اپریل، 1946ء میں دِہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل نے ایک اجلاس منعقد کیا – اپنے تین گھنٹے کے اِجلاس میں دیگر قرار دادوں کے ساتھ ساتھ فلسطین اور انڈونیشیا کی جد و جہدِ آزادی کے حق میں بھی قرار داد منظور کیں- آپ نے فلسطین کے مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایاتھا کہ : ’’ جِس دِن سے برطانیہ کو فلسطین کا ا مینڈیٹ یا گیا ہے یہ ایک ایسی تاریخ بن گئی ہے جو تاریک تر ہوتی جا رہی ہے- ‘‘ پھر آپ نے اِس بات کی مُذمَّت کی تھی کہ ’’ برطانیہ جیسی عظیم طاقت بھی امریکی یہُود کے دباؤ میں آگئی ہے ‘‘- ( ڈان – 11، اپریل، 1946) جب فلسطین پر 1946میں اینگلو-امریکی کمیٹی کی رپورٹ آئی تو آپ نے فرمایاتھا کہ :- نئی دہلی، یکم مئی، 1946
’’فلسطین کے بارے میں اینگلو-امریکی کمیٹی کی رپورٹ کی جو تلخیص آج کے اخبارات میں شائع ہوئی اس کے ضمن میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ عربوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں اور معاہدوں سے بد ترین قسم کی بے وفائی کی گئی ہے اور میرے لیے ایک دھچکا خیز صدمہ ہے- اگر ان خوفناک سفارشات کو جامۂ عمل پہنایا گیا تو عرب اور عالمِ اسلام اسے سرنگوں ہو کر قبول نہیں کرے گا-‘‘ (دستاویزات قائد اعظم فائل810، صفحہ 2) یونائٹیڈ پریس سے ملاقات میں مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے چند اقدامات کا تذکرہ آپ نے فرمایاتھا :- بمبئی ، 30، جولائی، 1946ء ’’مسٹر محمد علی جناح صدر آل انڈیا مسلم لیگ نے مطالبہ کیاتھا کہ مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے سلسلے میں پہلا قدم یہ ہوگا کہ فلسطین سے اینگلو-امریکی اثر و رسوخ واپس ہوجائے اور اس امر پر زور دیا کہ نہ صرف یہودیوں کی فلسطین میں آمد کو ختم کردیا جائے بلکہ جو یہودی پہلے سے فلسطین میں موجود ہیں ان کی آباد کاری کا بھی آسٹریلیا، کینیڈا یا کسی ایسے ملک میں اہتمام کیا جائے جہاں ان کی گنجائش ہو یا پھر ایک دن ایسا آئے گا کہ ان کی قسمت اس سے بھی زیادہ خراب ہوگی جیسی کہ ہٹلر کے تحت تھی- یہ بالکل واضح ہے کہ یہودی، امریکہ اور انگلستان کی امداد سے فلسطین کو دوبارہ فتح کرنا چاہتے ہیں-
یہودیوں کے ساتھ یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ انہیں فلسطین میں دھکیلا جا رہا ہے-‘‘ یہ باتیں قائد اعظم نے مسٹر ارنسٹ سی – مارٹی، نامہ نگار یونائٹیڈ پریس امریکہ کے ساتھ خصوصی ملاقات کے دوران کہیں تھی – ’’دیانت کا تقاضا تو یہ ہے کہ تبدیلی ٔ وطن کی خاطر یہودیوں کی فلسطین آمد ختم کردی جائے- تبدیلی وطن کے اصول اور اس دلیل کی بنیاد پر پانچ لاکھ یہودیوں کو پہلے ہی فلسطین میں داخلے کی اجازت دی جاچکی ہے- یہ تعداد عربوں کی آبادی کے ایک تہائی کے برابر ہے جسے کوئی ملک نہ گوارا کرے گا اور نہ کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی نظیر موجود ہے-‘‘ آپ نے امریکہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’نہ ان کا کوئی ضمیر ہے نہ انہیں عدل یا انصاف کا کوئی لحاظ- امر واقعہ یہ ہے کہ امریکی صیہونی ، امریکہ کو ناک سے پکڑ کر جدھر چاہتے ہیں لے جاتے ہیں-یہ حیرت انگیز بات ہے کہ قرنوں کی کشمکش کے بعد خود امریکیوں نے ہندیوں کے لئے حال ہی میں ۱۰۰ افراد سالانہ کا کوٹہ منظور کیا ہے-‘‘ پھر آپ نے تجویز پیش کی تھی کہ ’’انگلستان اور امریکہ فلسطین سے نکل جائیں اور عربوں اور یہودیوں کو لڑ بھڑ کر اس مسئلے کو حل کرنے دیں-‘‘ (دی ڈان، 31، جولائی،1946) یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر یہودیوں کی پشت پناہی میں امریکہ اور برطانیہ کا ہاتھ نہ ہوتا تو وہ کبھی اس حد تک نہ پہنچ سکتے تھے لیکن کیا کیا جائے کہ یہ دونوں بھی تو صیہونیت کے شکنجوں میں جکڑے جاچکے تھے- علامہ اقبال نے پہلے ہی آگاہ فرما دیا تھا کہ ’’فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے!‘‘ قیامِ پاکستان کے ایک ماہ بعد قائد اعظم نے فلسطین کے مفتی اعظم امیر الحسینی کے نام خط میں تحریر کیاتھا:- ’’پاکستان اور ہندوستان کے مسلمان عربوں کے قومی مقاصد کے حصول کے لیے دلی طور پر آپ کے ساتھ ہیں- ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور ہر ممکن مدد کریں گے-‘‘ (پاکستان ٹائمز، 13 ستمبر، 1947) قیامِ پاکستان کے بعد بھی قائدِ اعظم نے مسئلہ فلسطین کو فراموش نہیں کیا تھا بلکہ پُرجوش حمایت جاری رکھی اور دل کی گہرائیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا تھااور اس مسئلہ کو ایک عالَمی امن کا مسئلہ قرار دیا تھااسی لیے آپ نے 8، دسمبر، 1947 کو امریکی صدر ہیری ایس ٹرومین کو خط ارسال کر کے یہ مطالبہ کیاتھا کہ ’’فلسطینی ریاست کو تقسیم نہ کیا جائے ورنہ تاریخ اقوامِ عالَم کو فلسطینیوں کے ساتھ کئے گئے کھلے جرائم پہ کبھی معاف نہیں کرے گی‘‘ – (قائد اعظم ایک تاریخ، از ریاض احمد، قائد اعظم اکیڈمی کراچی، ص 135) قائد اعظم محمد علی جناح کی عالمگیر جدوجہد اور قائدانہ فکر کا نتیجہ تھا کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے متفقہ قرار داد منظور کرکے اسرائیل کی ریاست کو تسلیم نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھااور عالمی بد امنی کے خطرے کے پیشِ نظر اسرائیل کے اقوامِ متحدہ کا رُکن بننے کی مخالفت کی تھی پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے خلاف ووٹ دے کر اس صیہونی ریاست کو تسلیم نہ کیاتھا قائدِ اعظم کی اِس غیر مبہم ، واضح اور بایقین بصیرت کے پیشِ نظر فلسطینی قربانیوں سے عوامِ پاکستان کا تعلق پختہ تر و مضبوط تر ہے اور قائدِ اعظم کی دی ہوئی رہنمائی کی بدولت کسی حکمران کو آج تک یہ جرأت نہیں ہو سکی کہ اسرائیل کی ناجائز ریاست کو کو تسلیم کرنے کا جرم کر سکے کیونکہ اسرائیل ایک غاصب اور ناجائز طریقہ سے قابض طاقت ہے اسرائیل کو تسلیم کرنا ظلم کو حق تسلیم کرنے کے مترادف ہے ، اسرائیل کو تسلیم کرنا ناجائز طریقہ سے غاصب و قابض طاقت کو قانونی و اخلاقی جواز فراہم کرنا ہے ، اسرائیل کو تسلیم کرنا معصوم اور بے گناہ فلسطینیوں کی موت کے پروانے پہ دستخط کرنے کے مترادف ہے – اِس طرح کے بین الاقوامی مسائل کے پیشِ نظر قائدِ اعظم عالَمِ اسلام کی مسلم ریاستوں کا ایک بلاک قائم کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے عزائم کا مقابلہ اتحاد کے ساتھ کرسکیں-آپ نے عالَمِ اسلام سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ ’’میں تمام مسلمان ملکوں کو دوستی اور خوشگوار تعلقات کا پیغام دیتا ہوں- ہم سب مشکل حالات سے گذر رہے ہیں- فلسطین، انڈونیشیا اور کشمیر میں طاقت کا جو ڈرامہ رچایا جارہا ہے اس سے سب کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں- ہم آپس میں متحد ہوکر ہی دنیا میں اپنی آواز کو بااثر بنا سکتے ہیں-‘‘ (دی پاکستان ٹائمز، 8 اگست ،1948) وہ وقت قریب ہے کہ ہم قائدِ اعظم کی خواہشات کو پورا کریں گے اور اس پاکستان کو حقیقی طور پر قائدِ اعظم کا پاکستان بنائیں گے جو امتِ مسلمہ کی قیادت و راہنمائی کرے گا-قائد اعظم ملتِ مسلمہ کے مکمل اتحاد کے بھی علمبر دار تھے، 1920 ء کے بعد کے عشرے میں جب ترک قوم اپنی جہدِ بقا میں مصروف تھی قائد اعظم نے اس سے پوری پوری ہمدردی کا اظہار کیا، قرطاسِ ابیض (1939ء) اور 1930ء اور 1940ء کے بعد کے عشروں میں یہودیوں کی نقل ِمکانی اور مسئلہ فلسطین کے بارے میں انہوں نے برطانیہ سے یقین دہانیاں حاصل کر لی تھیں، 1940ء اور 1947ء کے دوران جب انڈونیشیا پر ولندیزیوں نے دوبارہ قبضہ جمانے کی کوشش کی تو قائد اعظم نے اس پر سخت نکتہ چینی کی، 1949 ء سے 1951ء کے دوران پاکستان کے زیر اہتمام جو چند بین الاقوامی کانفرنسیں ہوئیں ان کا تصور قائداعظم کی فکر کا نتیجہ تھا۔ قائد اعظم نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بیرونِ ملک بھی امن وامان کے خواہاں تھے، وہ’’ زندہ رہو اور زندہ رہنے دو‘‘ کے اصول پر ایمان رکھتے تھے، حقیقت یہ ہے کہ 1930 ء کے بعد کے عشرے میں جب ہندوؤں اور کانگریس نے اس اصول کو تج دیا اور اس کے برعکس اور متضاد راہ اختیار کی تو اسی رویے اور بعض دیگر عوامل نے قائد اعظم کو بالآخر مطالبۂ پاکستان پر مجبور کر دیا۔اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ خود مطالبۂ پاکستان بھی، جیسا کہ خود قائد اعظم نے وضاحت کی ’’ زندہ رہو اور زندہ رہنے دو‘‘ کے اسی اصول کی بنیاد پر کیا گیا تھا، یعنی مطالبۂ پاکستان کا مقصد دراصل یہ تھا کہ ہندوستان کی دو بڑی قومیں، ہندو اور مسلمان، اپنے اپنے علاقوں میں ایک دوسرے کی مداخلت کے بغیر اپنے نظریات، خیالات اور روایات کے مطابق اپنے اپنے امور کی نگرانی کریں تاکہ برصغیر میں دونوں قوموں کیلئے امن اور خوش ہمسائیگی کے ساتھ زندہ رہنے کی راہ ہموار ہو سکے، اس تشریح اور توضیح سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ پاکستان کا مطالبہ دراصل پورے براعظم ہندوستان کی آزادی کا مطالبہ تھا۔













