اسلام آباد (ٹی این ایس) اڑان پاکستان میں خواتین کی شرکت ترقی کے لیے بنیادی شرط قرارادی گئی ہے.اُڑان پاکستان منصوبہ کے تحت آئندہ پانچ سال اور طویل مدت میں 2035 تک کے معاشی اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ پالیسی ‘پانچ ایز‘ برآمدات، ای-پاکستان، مساوات اور بااختیاری، ماحولیاتی، خوراک اور پانی کا تحفظ، اور توانائی اور بنیادی ڈھانچہ کے تحت اہم اقتصادی مسائل حل کرنے کے لیے ایک ہدف شدہ فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ معاشی بحالی کے کئی چیلنجز سے دوچار پاکستان کی وفاقی حکومت نے ’اُڑان پاکستان‘ کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب مہنگائی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری ہوئی ہے۔پاکستان مسلم دنیا کی دفاعی‘ فوجی اور ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے سلامتی کے تناظر میں ایک نہایت اہم اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت مسلم دنیا کے لیے مثبت‘ خیرخواہانہ اور تعمیری جذبات رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں کا پاکستان کے ساتھ عمومی طور پر متوازن اور مثبت رویہ رہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی‘ حکومتی اور عسکری قیادتوں نے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ موثر دفاعی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے‘ اور ریاستی دفاع‘ معاشی استحکام‘ اور قومی سلامتی کے معاملات کو ذمہ داری کے ساتھ سنبھالا ہے۔ واضح رہے کہ اس پس منظر میں کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے قومی اقتصادی تبدیلی کے منصوبے ’اڑان پاکستان‘ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ پروگرام کی کامیابی کا انحصار ’برآمدات کی بنیاد پر ترقی‘ پر ہو گا، جس کے لیے صنعتوں کو سستی بجلی اور گیس مہیا کر کے مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہو گا وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم نے اڑان پاکستان کے تحت ملک کے لیے سرمایہ کاری کا ہدف سالانہ 10 ارب ڈالر رکھا ہوا ہے اور ہر صورت حاصل کیا جائے گا۔اڑان پاکستان کابنیادی مقصد پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اور 2035 تک ملک کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے۔یہ منصوبہ پانچ کلیدی ستونوں (5Es) پر مبنی ہےبرآمدات میں اضافہ کر کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانا, ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سیکٹر میں ترقی,سستی اور پائیدار توانائی کی فراہمی,موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا اور سبز توانائی کا فروغ,پسماندہ طبقات کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنا,یہ بنیادی طور پر ایک 5 سالہ تبدیلی کا منصوبہ 2029 ہے، جسے طویل مدتی اہداف کے لیے 10 سالہ وژن کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے پائیدار ترقی کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے، مضبوط معیشت ہی مضبوط پاکستان بنا سکتی ہے جس کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔مضبوط معیشت عوام کے گھروں کی خوشحالی سے جڑی ہے، جب ہر ایک کا چولہا جلے گا اور ہر گھر میں خوشحالی ہوگی تو معیشت مضبوط ہوگی، اس کے لیے ہمیں سیاسی استحکام اور دہشت گردی کا خاتمہ چاہیے۔موجودہ حکومت نے کچھ مسائل پر تو قابو پالیا ہے، اب ڈیفالٹ کی بات نہیں ہوتی، اسٹاک ایکسچینج مضبوط ہوا ہے مگر اب بھی ملک میں بہت سارے مسائل ہیں۔
پاکستان ان شااللہ ٹیک آف کر جائے گا، 5 سالہ منصوبے میں شاندار مستقبل پوشیدہ ہے، پاکستان ان خوابوں کی تعبیر ہوگا جو خواب قائداعظمؒ نے دیکھے تھے۔دوسری طرف اڑان پاکستان ۔ ہوم گرون نیشنل اکنامک پلان 29-2024 کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہےکہ ’اڑان پاکستان‘ میڈ ان پاکستان معاشی اصلاحات کا ایجنڈا ہے، ملک ڈیفالٹ سے استحکام کی طرف آیا ہے اور اب استحکام سے ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ معاشی اصلاحات کے ایجنڈے میں پاکستان کے عوام کے لیے خوشخبریاں ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ الحمد اللہ پاکستان کے تمام معاشی اشاریے بہتر ہوئے ہیں، ہوم گرون معاشی اصلاحات کا ایجنڈا اہم اقدام ہے جو پاکستان اور پاکستان کے عوام کی ترقی کے لیے ہے۔وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ’ہم نے اس معاشی کامیابی کے لیے خون پسینہ بہایا, ’نوازشریف اور اتحادیوں نے فیصلہ کیاتھا کہ ہم اپنی سیاست کو قومی مفاد پرقربان کردیں گے، ہم نے فیصلہ کیا تھا ریاست کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔‘’اگر بجلی چار کھرب کی بنے اور آپ دو کھرب میں بیچیں تو یہ کس کے کھاتے میں ڈالیں گے؟ اگر 77 سال میں کھربوں کی کرپشن ہوئی اور محصولات کا ایک بہت چھوٹا حصہ بھی ریاست کو نہیں مل سکا اور وجوہات سے ہم واقف ہیں تو قرض نہیں لیں گے تو کیا ہو گا؟ یہی وجوہات ہیں کہ پاکستان قرضوں تلے دبا ہوا ہے۔‘شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہمیں راستہ بدلنا ہو گا اور ایک نئی طرح اختیار کرنا ہو گی۔ ’یہ حقیقت ہے کہ نواز شریف کے پہلے دور میں جو ترقی کا جو ماڈل اختیار کیا گیا تھا اسے بعد میں آنے والے انڈین وزیر اعظم انجہانی من موہن سنگھ نے استعمال کیا۔ اصلاحات یہاں ہوئی تھیں جنہیں انہوں نے استعمال کیا اور کامیاب ہوئے۔‘ وزیر اعظم شہباز شریف نے مل کی معیشت کو استحکام بخشنے کے لیے پاکستان فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی جانب سے حاصل ہونے والے تعاون کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اپنے سیاسی کیریئر میں کسی آرمی چیف کی جانب سے کسی سیاسی حکومت کو ایسا تعاون حاصل ہوتے نہیں دیکھا تھا۔ یاد رہے کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک ویڈیو بیان میں کہاتھا کہ یہ منصوبہ پاکستان کو اگلے تین سالوں میں دنیا کے بڑے ممالک کی صف میں لاکھڑا کرے گا۔ کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے اور اب نجی شعبے کو معاملات چلانے ہوں گے۔یہ پانچ سالہ منصوبہ ’پانچ ایز‘ (برآمدات، ای-پاکستان، مساوات اور بااختیاری، ماحولیاتی، خوراک اور پانی کا تحفظ، اور توانائی اور بنیادی ڈھانچہ) کے تحت اہم اقتصادی مسائل حل کرنے کے لیے ایک ہدف شدہ فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے اعلان کیاتھا کہ پاکستان کی ترقی اور پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے اہم عوامل کو فوری طور پر حل کرنا ہو گا۔ ایک تقریب میں کہا تھا کہ یہ منصوبہ کئی نکات پر مبنی ہے جنہیں ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے بروئے کار لانا ضروری ہے۔ انہوں نے ملکی وسائل کو برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینے کی جانب موڑنے کی اہمیت پر زور دیاتھا۔ احسن اقبال نے جدید شعبوں جیسے آٹومیشن، نینو ٹیکنالوجی، اور مصنوعی ذہانت کو اپنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی تھی، جو ان کے مطابق ’مستقبل کی معیشت کو تبدیل کر دیں گے۔‘وضاحت کی تھی کہ اس فریم ورک میں برآمدات کو بڑھانا اور متنوع بنانا شامل ہے تاکہ برآمدات پر مبنی ترقی معیشت کا مرکزی جزو بن سکے، ڈیجیٹل تبدیلی کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو ایک تکنیکی معیشت میں تبدیل کیا جا سکے، ماحولیاتی، خوراک اور پانی کے تحفظ کو یقینی بنا کر پائیداری حاصل کی جا سکے، توانائی کے وسائل کا مؤثر استعمال اور کم لاگت پر توجہ دی جا سکے، اور ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کاریڈورز تعمیر کیے جا سکیں۔فریم ورک مساوات، اخلاقیات اور بااختیاری کو بھی فروغ دیتا ہے، جس میں نوجوانوں اور خواتین کو مستقبل کی ترقی کے عمل میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے اہمیت دی گئی ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کا کوئی بھی قومی ہدف خواتین کی فعال شرکت کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ آج کے دن میں پاکستان کی تمام بیٹیوں، ماؤں اور بہنوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو اپنی محنت، صلاحیت اور عزم کے ساتھ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ قائدِاعظم محمد علی جناح کے یہ الفاظ آج بھی میرے دل کی آواز ہیں کہ کوئی قوم اس وقت تک عظمت کی بلندیوں تک نہیں پہنچ سکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ نہ ہوں۔علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایاوجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ، اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔احسن اقبال نے کہا کہ میرا یہ پختہ یقین ہے کہ پاکستان کا مستقبل اسی وقت مکمل روشن ہو گا جب ہماری خواتین کو تعلیم، صحت، معاشی مواقع اور قیادت میں برابر کا مقام حاصل ہو۔انہوں نے کہاکہ اڑان پاکستان میں خواتین کی شمولیت میرے نزدیک محض ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ قومی ترقی کی بنیادی شرط ہے، برآمدات ہوں، ای پاکستان ہو، ماحولیات ہو، خوراک و پانی کا تحفظ ہو کوئی بھی قومی ہدف خواتین کی فعال شرکت کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔احسن اقبال نے کہا میرا اڑان پاکستان کا پیغام واضح ہے کہ جب خواتین آگے بڑھتی ہیں تو پاکستان آگے بڑھتا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال کے مطابق، اس منصوبے کے ذریعے تعلیم، صحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اصلاحات لائی جائیں گی تاکہ پاکستان کو دنیا کی بڑی معیشتوں کی صف میں شامل کیا جا سکے۔اُڑان پاکستان ایک انقلابی پروگرام ہے جو 5Es فریم ورک کے تحت پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور خوشحال بنانے کی حکمت عملی فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد 2035تک پاکستان کی معیشت کو 1 کھرب ڈالر اور 2047 تک 3 کھرب ڈالر تک پہنچانا ہے۔یہ پروگرام پانچ اہم ستونوں پر مبنی ہے جن میں برآمدات ،. ای-پاکستان ، ماحولیاتی تحفظ ، توانائی و انفراسٹرکچر ، مساوات، اخلاقیات و اختیارشامل ہیں, 5Es فریم ورک کے تحت اہم اہداف میں برآمدات کی ترقی ہے پاکستان کو برآمدات پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنا، سالانہ برآمدات کو 60 بلین ڈالر تک لے جانا۔ ، آئی ٹی، زراعت، تخلیقی صنعت، معدنیات، اور بلیو اکانومی کو فروغ دینا، “Made in Pakistan” کو اعتماد کا نشان بنانا، روپے کو مستحکم کرنا، درآمدات پر انحصار کم کر نا، مستقل ترقی کی راہ ہموار کرنا، ای-پاکستان: ٹیکنالوجی کی طاقت کا استعمال منصوبہ: ڈیجیٹل انقلاب کے ذریعے معیشت میں تبدیلی لانا۔ شامل ہیں۔ آئی سی ٹی فری لانسنگ انڈسٹری کو 5 ارب ڈالر تک لے جانا، سالانہ 200,000 آئی ٹی گریجویٹس تیار کرنا، پہلا پاکستانی اسٹارٹ اپ یونیکورن تخلیق کرنا، 100 ملین موبائل سبسکرائبرز تک رسائی حاصل کرنا ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکیورٹی کی صلاحیت کو بہتر بنانا، نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع، پاکستان کو عالمی ٹیکنالوجی کے مرکز کے طور پر تیار کرنا بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت چین پاکستان میں 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جس کے تحت سڑکیں، زراعت، بجلی اور پانی کے منصوبوں پر کام ہو گا۔’گذشتہ ایک دھائی میں ریاستی اداروں نے چھ ارب روپے کا نقصان کیا۔ آئی ایم ایف سے سات ارب ڈالر قرض لیا جا رہا ہے ذہن میں رہنا چاہیے کہ غریب قوم نے چھ ارب روپے کے نقصان برداشت کیے ہیں۔ سرکاری دستاویز کے مطابق ’اڑان پاکستان‘ منصوبہ، پاکستان کو 2035 تک 10 کھرب ڈالر اور 2047 تک 30 کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ کے طور پر کام کرے گا۔ منصوبے میں آئی ٹی، مینوفیکچرنگ، زراعت، معدنیات، افرادی قوت اور بلیو اکانومی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سالانہ 60 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف رکھا کیا گیا ہے۔یہ پروگرام چھوٹے کاروباروں، انٹرپرینیورشپ کے فروغ، مارکیٹ کو متنوع رکھنے، پاکستان میں بننے والی اشیا کو بہتری کے لحاظ سے عالمی معیار کے مطابق لانے سے متعلق ہے جس سے پائیدار ترقی کے لیے روپیہ مستحکم رکھنے، درآمدات پر انحصار کم کرنے اور معاشی امکانات کے دروازے کھلیں۔ای-پاکستان فری لانسنگ انڈسٹری بالخصوص انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کو 5 ارب ڈالر تک لے جائے گا اور اس سے سالانہ 2 لاکھ آئی ٹی گریجویٹس تیار ہوں گے۔یہ اقدام اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کو فروغ دے کر پہلا پاکستانی یونیکورن پلیٹ فارم فراہم کرے گا جو 10 کروڑ سے زیادہ صارفین تک موبائل کنیکٹیویٹی بڑھانے، ایک اے آئی (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) فریم ورک تیار کرنے اور سائبر سیکیورٹی کی صلاحیتوں کو بڑھائے گا۔ماحولیاتی تبدیلی کے منصوبے کے تحت حکومت موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور وسائل کے پائیدار انتظام کو یقینی بنائے گی۔اس اقدام سے گرین ہاؤس گیس(جی ایچ جی) کے اخراج میں 50 فیصد کمی آئے گی، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 10 ملین ایکڑ فٹ بڑھے گی، قابل کاشت اراضی 2 کروڑ 30 ایکڑ بڑھے گی، جنگلات کی افزائش کو فروغ ملے گا، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ہو گا اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔دستاویز میں کہا گیا کہ توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں حکومت جدید انفراسٹرکچر تعمیر کرے گی اور سستی، قابل اعتماد توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے قابل تجدید توانائی کو 10 فیصد تک بڑھائے گی۔اس منصوبے میں مسافروں کی نقل و حرکت میں ریلوے کے حصے کو 5 سے 15 فیصد اور مال بردار نقل و حمل کو 8 فیصد سے 25 فیصد تک بڑھانے، علاقائی رابطے کو فروغ دینے اور کان کنی کی صلاحیت کو بڑھانے کا بھی سوچا گیا ہے۔منصوبے میں شفافیت کے ساتھ برابری، اخلاقیات اور بااختیار بنانے کے تحت ’منصفانہ معاشرہ سب کے لیے‘ کا خاکہ پیش کیا۔اس پروگرام کے کچھ اہم اہداف میں یونیورسل ہیلتھ کوریج انڈیکس کو 12 فیصد تک بڑھانا، شرح خواندگی میں 10 فیصد اضافہ، خواتین لیبر فورس میں 17 فیصد اضافہ کرکے انہیں بااختیار بنانا، نوجوانوں کی بے روزگاری کو 6 فیصد تک کم کرنا اور اقدار پر مبنی طرز حکمرانی کو فروغ دینا شامل ہیں۔پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی حکومت نے اپنے گزشتہ ادوار میں وژن 2010 اور وژن 2025 کا آغاز کیا تھا لیکن سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکالیکن اب حکومت نے ایک بار پھر پانچ سالہ منصوبہ تیار کیا ہے جو پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد ثابت ہو گا,قومی اقتصادی منصوبے کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائے جائیں گے اور بہتر تعلیم، صحت، روزگار اور کاروبار کے مواقع میں اضافہ ہو گا۔اس منصوبے ’اڑان پاکستان- ہوم گرون نیشنل اکنامک پلان 29-2024‘ سے ملک میں معاشی ترقی کے حصول میں مدد ملے گی۔













