کراچی (ٹی این ایس) کراچی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) میں گریڈ 17 تا 19 کے افسران و عملے کی غیر قانونی اور خلافِ ضابطہ تقرریوں پر شدید تحفظات سامنے آ گئے ہیں۔ڈی جی آڈٹ رپورٹ میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ تقرریاں کھلے عام قواعد و ضوابط، سرکاری قوانین اور میرٹ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئیں۔تشویشناک امر یہ ہے کہ اس سنگین معاملے کے باوجود پروفیسر طاہر صغیر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ED) این آئی سی وی ڈی کی جانب سے تاحال نہ تو کوئی انکوائری شروع کی گئی اور نہ ہی کسی قسم کی تحقیقات کا حکم دیا گیا۔مزید برآں، الزامات ہیں کہ اصلاحی اقدامات کرنے کے بجائے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ان غیر قانونی تقرریوں کی سرپرستی اور سہولت کاری کر رہے ہیں، جس سے ادارے میں شفافیت، گورننس اور احتساب پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف میرٹ کے نظام کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اہل اور مستحق امیدواروں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور ایک اہم سرکاری طبی ادارے پر عوامی اعتماد کو بھی مجروح کرتے ہیں۔این آئی سی وی ڈی انتظامیہ کی خاموشی اور عدم کارروائی نے اسٹیک ہولڈرز اور عوامی حلقوں میں بے چینی اور تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔سول سوسائٹی اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ:فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی اور آزاد انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے۔گریڈ 17 تا 19 میں کی گئی تمام غیر قانونی اور خلافِ ضابطہ تقرریوں کا مکمل جائزہ لیا جائے۔ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر، این آئی سی وی ڈی کے کردار کا شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو سرکاری صحت کے اداروں میں ادارہ جاتی ساکھ، شفافیت اور گورننس کے نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
















