اسلام آباد (ٹی این ایس) وطن عزیز کی اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہوگی کہ ہم سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود آج تک ٹھوس معاشی پالیسی تک تشکیل نہیں دے سکے ہر آنے والی والی حکومت وقت گزاری کے لئے مالیاتی پالیسیوں کا کمزور ترین سہارا لیتی چلی آرہی ہے بجلی گیس اور پٹرول وڈیزل کے نرخ اتنے زیادہ بڑھ چکے ہیں کہ پیداواری لاگت میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا ہے اور ہماری مصنوعات عالمی منڈیوں میں مقابلے کی سکت کھوتی جارہی ہیں بین الاقوامی سرمایہ کار ہماری جانب اس لئے رخ نہیں کرتے کہ ہمارا سرکاری نظام شفاف نہیں اور قدم قدم پر کرپشن اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے دوسرا سیاسی بے یقینی کی فضا ہے ہر وقت خطرے کی گھنٹی لٹکتی رہتی ہے اور ہماری نظام غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تحفظ کا احساس نہیں دے پاتا پیداواری لاگت میں اضافہ بھی پاؤں کی زنجیر بن جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری برآمدات درآمدات سے بڑھ نہیں پا رہیں یا یہ کہیے کہ ادائیگیوں کا توازن ہمارے حق میں نہیں مڈل کلاس طبقے کو کسی بھی ملک میں ترقی کا انجن سمجھا جاتا ہے حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے سب سے زیادہ ٹیکسز’ سوشل دباؤ اور مسائل مڈل کلاس کو دیکھنا پڑتے ہیںیہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ درمیانے طبقے کو پاکستان میں کبھی مستحکم ہونے کا موقع نہیں دیا گیا قیام پاکستان سے لے کر آج تک مڈل کلاس طبقہ حکمرانوں کے استحصال کا شکار چلا آرہا ہے بھوک اور افلاس کے سائے میں رہنے والے کروڑوں پاکستانی اشرافیہ کی مفاد پرستی اور بے حسی کی منہ بولتی تصویر ہیں عوام کو درپیش روٹی روز گار’ غربت اور مہنگائی سے متعلق مسائل کے حل کے لئے کوئی امید کی کرن نظر نہیں آتی عملی طور پر ان کے ساتھ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا سے بھی بد تر سلوک ہو رہا ہے شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی حکومت اپنی اقتصادی ومعاشی پالیسیوں کے ذریعے مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق عوام کی کھال ادھیڑنے کے بعد ان کے انجر بنجر کو گھسیٹ کر قبرستان تک پہنچانے کا مسلسل اہتمام کر رہی ہے حکومت کی درخواست پر نیپرا کی جانب سے پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ صارفین پرفکسڈ چارجز عائد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مسائل زدہ عوام کے لئے کہیں سے خیر کی کوئی خبر نہیں اور ہر آنے والے وقت کے ساتھ ساتھ آمدن محدود اور اخراجات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جو خود حکومت اور حکومتی لیڈر شپ کے لئے لمحہ فکریہ ہے نیپرا کے فیصلے سے مہنگی بجلی کے ستائے ہوئے صارفین کو اب ماہانہ فکسڈ چارجز کا بوجھ بھی برداشت کرنا پڑے گا اور اس نئے محصول سے وہ بھی مستثنی نہیں جو ماہانہ 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں اور اس سلیب میں آنے والے زیادہ تر صارفین خط غربت سے نیچے ہوتے ہیں حکومت فکسڈ چارجز کی وجہ صنعتی اور کمرشل صارفین کو سبسڈی فراہم کرنا بتا رہی ہے مگر یہ اقدام عام گھریلو صارفین خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے پر ناروا بوجھ کے سوا کچھ نہیں حکومت کے لئے بجلی گھروں کو کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں کی جانے والی بھاری ادائیگیاں پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہیں فکسڈ چارجز عائد کرکے یہ مالی بوجھ براہ راست صارفین کو منتقل کیا جارہا ہے یعنی اب صارف صرف استعمال شدہ بجلی کی ادائیگی ہی نہیں کرے گا بلکہ سسٹم کی موجودگی کی لاگت کا بوجھ بھی اٹھائے گا حکومت کے اس اقدام سے حکومت کو اضافی ریونیو تو حاصل ہوجائے گا لیکن اس کے نتیجے میں غریبوں کی جیبوں پر جو اضافی بوجھ پڑے گا اس کا کیا؟ یہ کیسی جمہوریت ہے جس کے نام پر عوام الناس سے انتخابات کی صورت میں آئندہ چند سال کی غلامی کا پٹہ لکھوا لیا جاتا ہے لیکن حکومتی امور یا ملکی معاملات میں عملا ان کا کچھ بھی عمل دخل نہیں رہتا اور نہ ہی ان کی غالب اکثریت تعلیم کی کمی خاص طور پر انگریزی زبان کی عدم واقفیت کی بنا پر زیادہ معلومات یا سوجھ بوجھ رکھ سکتی ہے اور آزادی کے 78سال بعد بھی ہماری مثال کچھ اس طرح ہے اللہ دے اور بندہ لے جمہوریت محض انتخابات کا نام نہیں اس سے آگے بڑھ کر بہت کچھ ہے عوام کے جان ومال کا تحفظ کرنا’ ان کے وقار اور عزت نفس کی حرمت کو قائم رکھنا ہر پیدا ہونے والے بچے کو غذا’ تعلیم اور علاج ومعالجہ کی ضمانت دینا’ ہر نوجوان کو روز گار اور ترقی کے بہتر سے بہتر مواقع فراہم کرنا’ ہر بوڑھے کے لئے آسودگی وآرام کو یقینی بنانا ہر ماں بہن اور بیٹی کو مہد سے لحد تک مساوات اور حفاظت کا احساس دلانا جمہوری نظام کا لازمی تقاضا ہے ان سے روگردانی کرکے جمہوریت کا نام لینا عام لوگوں کو فریب دینے اور ان کے حقوق غضب کرنے کے مترداف ہے دنیا بھر میں جمہوریت کا مفہوم یہی ہے کہ اس کے ذریعے عام لوگوں کو آسانیاں فراہم ہوتی ہیں ان کی خوشیوں کا سامان کیا جاتا ہے ریاست عوام کے جان ومال’ عزت وآبرو کی حفاطت کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں سماجی انصاف مہیا کرتی ہے مگر وطن عزیز میں جمہوریت کے نام پر عوام کے ساتھ جو کھیل کھیلا جارہا ہے اس کا تو بد ترین آمریتوں میں بھی تصور محال ہے یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ہم تھوڑی سی سیاہی کو دیکھ کر تو سیاہی کہیں اور بہت سی سیاہی دیکھ کر اسے سفیدی کا نام دے دیںکیا اس طرح سچائی کو تبدیل کیا جاسکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں جہاں حکمران عادل’ متقی اور عوام کے خیر خواہ ہوں وہاں اللہ تعالی کا فضل وکرم بھی کھل کر برستا ہے مگر جب حکمران خود عوام کے حقوق سلب کرنے اور ان کی کمائی کو لوٹنے والے بن جائیں تو یہ اس ملک اور معاشرہ پر اللہ کی ناراضگی اور عدم التفات کی علامت ہے ایسے میں حالات میں جب عوام غربت’ بھوک’ مہنگائی اور بے روز گاری کے ہاتھوں پریشان حال ہیں اس بے فیض جمہوریت کو عوام کب تک برداشت کئے رکھیں گے؟ بادی النظر میں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے ماضی کی غلطیوں سے ابھی تک کوئی سبق نہیں سیکھا اب بھی وقت ہے حکومت اکثریت کے ریلیف کا بندو بست کرے جس کے سامنے وہ جوابدہ ہے**













