لاہور (ٹی این ایس) : ملک میں بچیوں کے مڈل اسکول سے ڈراپ آؤٹ کے بڑھتے رجحان اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کی تعلیمی شمولیت کے چیلنجز کے پیشِ نظر لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں ایک اہم پالیسی مکالمہ منعقد ہوا، جس میں واضح کیا گیا کہ اب محض بیانات نہیں بلکہ قابلِ عمل، شواہد پر مبنی اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں۔
یہ تیسرا پالیسی ڈائیلاگ ڈیٹا اینڈ ریسرچ اِن ایجوکیشن – ریسرچ کنسورشیم (DARE-RC) نے سید احسن علی اور سید مراتِب علی اسکول آف ایجوکیشن، لمز کے اشتراک سے منعقد کیا۔ اجلاس میں محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب کے اعلیٰ حکام، تعلیمی ماہرین، محققین اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔
سیکریٹری اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب مدثر ریاض ملک نے دوٹوک انداز میں کہا:
“یہ پالیسی ڈائیلاگ ہمارے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمیں پالیسی پر مبنی شواہد سازی کے بجائے حقیقی معنوں میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اکثر مسئلہ پالیسی نہیں بلکہ اس کا ڈھانچہ اور عملدرآمد ہوتا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ تحقیقی سفارشات کو ٹھوس، قابلِ نفاذ ایکشن پلان میں تبدیل کریں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ ڈراپ آؤٹ کی وجوہات کا سائنسی تجزیہ، نظامِ احتساب کی مضبوطی اور جامع اصلاحات کے لیے حکومت اور جامعات کے درمیان مسلسل اشتراک ناگزیر ہے۔
برطانوی ہائی کمیشن (ایف سی ڈی او) کے سربراہ بین وارنگٹن نے تعلیم کو ایک مکمل نظام قرار دیتے ہوئے کہا:
“تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پورا ایکو سسٹم درکار ہوتا ہے۔ معیاری تحقیق کو عملی پالیسی فیصلوں سے جوڑنا ناگزیر ہے۔”
مکالمے کے دوران ٹیبڈ لیب کی سینئر فیلو ڈاکٹر زینب لطیف نے بچیوں کے مڈل اسکول سے ڈراپ آؤٹ کی بنیادی رکاوٹوں پر تحقیق پیش کی، جبکہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی سربراہ شعبہ اسپیشل ایجوکیشن ڈاکٹر ابتسام ٹھاکر نے مذہبی اقلیتوں کے بچوں کو درپیش تعلیمی مسائل اور تجربات پر روشنی ڈالی۔
پینل گفتگو میں لمز کے ماہرین تعلیم ڈاکٹر فیصل باری اور ڈاکٹر طیبہ تمیم سمیت دیگر پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ مباحثے میں بچیوں کی تعلیمی برقراری بڑھانے کی حکمت عملی، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت میں اصلاحات، اور جامع تعلیمی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے عملی اقدامات زیر بحث آئے۔
اجلاس کے اختتام پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان میں معیاری، مساوی اور جامع تعلیم کے فروغ کے لیے مربوط حکمت عملی، بین الادارہ جاتی تعاون اور مستقل شواہد پر مبنی اصلاحات ناگزیر ہیں، تاکہ ہر بچہ بلاامتیاز تعلیم کے حق سے مستفید ہو سکے۔













