اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے جو عزت کے ساتھ امن کا خواہاں ہےآپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی فتح کے جشن کے موقع پر پاکستان کا افغان طالبان رجیم کیخلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز قومی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ ہے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ پہلے بھارت کو شوق ہوا تھا ان کا شوق پورا کیا اب افغانستان کو شوق چڑھا ہے تو پورا کردیا ہے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو جیسا رسپانس ملنا چاہیے تھا بالکل ویسا ہی دیا ہے، جیسے معرکہ حق میں پوری قوم بنیان مرصوص بن کر کھڑی تھی یہی مناظر کل بھی دیکھے گئے ہیں۔ پاک افواج کے آگے پیچھے، دائیں بائیں اقوام پاکستان کھڑی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ افغان طالبان سوشل میڈیا پر انتہائی بے شرمی سے دھمکیاں دیتے ہیں، افغان طالبان نے کوشش کرکے بھی دیکھ لیا اور پھر منہ توڑ جواب بھی ملا ہے پاکستان میں دہشت گردی کے ہر واقعے میں بھارتی اسپانسر شپ ہے، اگر کسی نے اپنا شوق پورا کرنا ہے تو پھر کرکے دیکھ لے، پاک افواج سرحدوں کی حفاظت کرنا بھرپور طریقے سے جانتی ہے افغانستان میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں، افغانستان میں دہشت گردوں سے صرف پاکستان یا خطے کو نہیں دنیا کو خطرہ ہے، پاکستان میں دہشت گردی ہوگی تو دہشت گردوں، ان کے سرپرستوں کی کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کو پاکستان اور دہشت گرد تنظیم میں کسی ایک کو چننا ہوگا، افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش کو چنے یا پھر پاکستان کو فیصلہ کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ اب اگر کوئی دہشت گردی پاکستان میں ہوتی ہے تو اس کے ذمہ داروں کو جواب دیا جائے گا، وہ جو کہتے تھے کہ ہم نے دہشت گردی کی ہے اب ان کے سہولت کاروں کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ واضح رہے پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف پاکستان کا آپریشن غضب للحق جاری ہے، پاک افواج کے حملوں میں افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ 27 افغان چوکیاں بھی مکمل تباہ کر دی گئیں۔
پاک فضائیہ نے27 فروری 2019 ءآپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی فتح کے جشن کا دن خوب منایاہے پاکستان کی جانب سے کابل، قندھار پر فضائی حملے کیے گئے ہیں، مسلح افواج بلا اشتعال جارحیت کیخلاف بھرپورجوابی کارروائی کیلئے پرعزم ہیں.دوسری طرف پاک فوج کی جانب سے افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا بھرپور اور مؤثرانداز میں منہ توڑ جواب جاری ہے پکتیا کے علاقے میں 5 افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کاپرچم لہرا دیاہے،قبضہ کی جانے والی پوسٹس میں دوشوال کے مقابل، دوانگوراڈہ کے مقابل اور زرملان کے مقابل ہیں کارروائی کے دوران پاک فوج نے انگور اڈہ کا افغانی ٹرمینل بھی تباہ کر دیا، افغان طالبان فورسز کو آرٹلری اور کوارڈ کاپٹرسے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں انہیں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا کارروائی کے بعد افغان طالبان نے متعدد بار پوسٹوں پر سفید جھنڈا بھی لہرا کر ہتھیار ڈالنے کا اشارہ دیاوفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ افغان طالبان رجیم کے 133 کارندے ہلاک ہوئے، افغان طالبان رجیم کے 200 سے زائد کارندے زخمی ہوئے، کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا گیاہے پاکستان کے جوابی حملوں میں افغان طالبان کی مزید ہلاکتوں کا امکان ہے، افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ، 9 پوسٹوں پر قبضہ کرلیا گیا ہے, افغان طالبان رجیم کے 2 کور ہیڈکوارٹرز، 3 بریگیڈ ہیڈکوارٹرز تباہ ہوگئے، افغان طالبان رجیم کے 2 ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس تباہ کیا گیا جوابی کارروائی میں افغان طالبان رجیم کے 3 بٹالین ہیڈکوارٹرز کو تباہ کردیا گیا، پاکستان کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان رجیم کے 2 سیکٹر ہیڈکوارٹرز بھی تباہ ہوئے۔عطا تارڑ نے کہا کہ افغان طالبان کے 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ ہوئے، افغان طالبان رجیم کی جارحیت کےخلاف پاکستان کی مؤثر جوابی کارروائی جاری ہےسیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاک فضائیہ کی قندھار میں کارروائی جاری ہے، پاکستانی جیٹ طیارے فضائی حملے کے بعد قندھار کی فضا میں گشت کررہے ہیں، پاک فضائیہ نے پکتیا 205 کور ہیڈکوارٹر تباہ کردیا ہے۔ دریں اثنا خیبر پختونخوا کے اضلاع ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں افغان طالبان کے زیرِ سرپرستی کام کرنے والے ‘فتنہ الخوارج’ کی جانب سے ڈرون حملوں کی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے, دہشت گردوں نے ان علاقوں میں چھوٹے ڈرونز کے ذریعے حملوں کی کوشش کی، تاہم پاکستان کے جدید اینٹی ڈرون ڈیفنس سسٹم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے تمام ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر کے گرا دیا ان واقعات میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا, ان ناکام حملوں نے ایک بار پھر افغان طالبان کی موجودہ حکومت اور پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی ان بزدلانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا, دوسری جانب ,وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے، اب دما دم مست قلندر ہو گا۔وزیردفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی، ہم تمہارے ہمسائے ہیں، تمہاری اوقات جانتے ہیں، نیٹو افواج کے انخلا کے بعد یہ توقع کی جاتی تھی کہ افغانستان میں امن ہو گا۔طالبان حکومت کے ترجمان نے کابل، پکتیا اور قندھارپربمباری کی تصدیق کی، افغان میڈیا کے مطابق رات تقریباً ایک بج کر 50 منٹ پر کابل میں طالبان کے ایک فوجی مرکز کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا, ٹوئٹ میں مزید کہا کہ توقع تھی طالبان افغان عوام کے مفادات اور علاقے میں امن پر توجہ مرکوز کریں گے، مگر طالبان نے افغانستان کو ہندوستان کی کالونی بنا دیاطالبان نے ساری دنیا کے دہشت گردوں کو افغانستان میں اکٹھا کرلیا، طالبان نے دہشت گردی کو ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا۔ طالبان نے اپنےعوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کردیا، طالبان نے خواتین کو جوحقوق اسلام دیتا ہے وہ چھین لیے، پاکستان نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعے حالات نارمل رکھنے کی کوششیں کیں۔ پاکستان نے بھرپور سفارت کاری کی مگر طالبان ہندوستان کی پراکسی بن گئے، طالبان نے جارحیت کی تو الحمدللہ ہماری افواج اس وقت فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں ماضی میں پاکستان کا کردارمثبت رہا ہے، 50 لاکھ افغانیوں کی 50 سال سے مہمان نوازی کی، آج بھی ہماری سرزمین پر لاکھوں کی تعداد میں افغان روزی کما رہے ہیں۔دوسری طرف وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ سات گنا بڑے ملک نے بھی منہ کی کھائی تھی وہ آج تک سر نہیں اٹھا سکا، افغان طالبان کی اتنی جرات نہیں کہ وہ کسی پوسٹ پربھی قبضہ کر سکے۔ وزیرمملکت داخلہ کا کہنا تھا کہ افطاری سے پہلے بارڈر کے ایک طرف حملے کی کوشش کی گئی، پاک فوج کی جانب سے بھرپورجوابی کارروائی کی گئی، ہمسائے ملک کیلئے پاکستان نے وہ کچھ کیا جو انہوں نےخود بھی نہیں کیا ہو گا۔ افغان طالبان رجیم کےخلاف بڑے رسپانس کا آغاز کر دیا گیا ہے دوسری جانب پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا ہےکہ پاکستان امن کا حامی ہے لیکن خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں ہوگا, پاک فضائیہ کے سربراہ نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن خواہ ملک ہے، تاہم ہماری خودمختاری کو چیلنج کرنے والوں نے ہمیشہ غلط اندازہ لگایا جس کا پاک فضائیہ نے ہر بار منہ توڑ جواب دیا ہے دشمن نے سات سال قبل تاریکی میں پاکستان کی سلامتی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، جس کا پاک فضائیہ نے دن کی روشنی میں بھرپور جواب دے کر دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیئے۔پاک فضائیہ کے سربراہ نے “معرکہ حق” کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاک فضائیہ نے پہلی بار مکمل ملٹی ڈومین آپریشنز کامیابی سے انجام دیئے، جس کے دوران دشمن کے رافیل، سخوئی 30، میراج 2000 اور مگ 29 جیسے جدید طیاروں کو گرایا گیا اور دشمن کی حدود میں دور تک موجود بیسز اور زمینی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایئر چیف نے انکشاف کیا کہ اس آپریشن میں دشمن کے جدید ترین ایس-400 (S-400) فضائی دفاعی نظام اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو بھی مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا تھا مزید کہا کہ مالی دباؤ کے باوجود پاک فضائیہ جدت کی جانب گامزن ہے، جس میں بغیر پائلٹ سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر، اسپیس اور سائبر اثاثوں کا حصول شامل ہے۔ مقامی سطح پر تیار کردہ ‘ملٹی ڈومین کِل چین’ کا قیام فضائیہ کی دفاعی صلاحیتوں میں ایک اہم سنگ میل ہے, دوسری طرف دشمن کی بلااشتعال جارحیت کے خلاف سکیورٹی فورسز مؤثر جواب دے رہی ہیں . پاکستان کی جانب سے افغانستان کے شہروں کابل اور قندھار پر فضائی حملے کیے گئے ہیں، فضائی حملوں کے خوف سے طالبان قیادت غاروں میں منتقل ہونا شروع ہوگئی، کرم سیکٹر کے قریب بھی افغان طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں
سکیورٹی فورسز پوری طاقت سے منہ توڑ جواب دے رہی ہیں جس سے افغان طالبان کے ٹھکانے تباہ ہوگئے جبکہ خوارج بھاگ کھڑے ہوئے، چترال سیکٹر پر ان کی چیک پوسٹ کو نہایت درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی جس کے جواب میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر، ضلع مہمند اور ارندو سیکٹر چترال میں بھرپور جواب دیا، باجوڑ میں دشمن کی 2 چوکیاں تباہ کی گئیں۔افغان طالبان رجیم کے 22 اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں، دشمن کی کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا,پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ذریعے گولہ باری جاری ہے جبکہ ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن دشمن کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور فیک ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں,قبل ازیں، وزارت اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ افغان طالبان رجیم کی بلا اشتعال کارروائی کا فوری اور موثر جواب دیا گیا ہے، انہوں نے غلط اندازہ لگایا اور متعدد مقامات پر بلا اشتعال پر فائرنگ کی ہے بیان کے مطابق افغان طالبان نے کے پی میں سرحد پار متعدد مقامات پر فائرنگ کی، فورسز نے بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹر میں بھرپور جواب دیا گیا ہےوزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغان طالبان رجیم کو بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے، فورسز کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں تباہ ہوگئیں، پاکستان اپنی علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، پاکستان شہریوں کی حفاظت کیلیے تمام اقدامات کرے گا اس آپریشن کی سب سے نمایاں خصوصیت رفتار اور درستگی تھی, مشن پلاننگ، انٹیلی جنس کوآرڈی نیشن، ایئر ڈیفنس الرٹس اور فضا میں فیصلہ کن کارروائی نے یہ ثابت کیا کہ پاک فضائیہ صرف دفاعی نہیں بلکہ مؤثر جوابی حکمت عملی رکھنے والی ایک جدید فضائی قوت ہے. عالمی عسکری مبصرین نے بھی اس امر کا اعتراف کیا کہ پاک فضائیہ کا ردعمل محدود، متناسب اور اسٹریٹجک ڈیٹرنس کے اصولوں کے عین مطابق تھا, اس آپریشن میں پاک فضائیہ نے ایک جانب پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا تو دوسری جانب طے شدہ جنگی اصول و ضوابط کی مکمل پاسداری بھی کی۔ فضائی کارروائی کے دوران اہداف کا انتخاب اس انداز سے کیا گیا کہ پیغام بھی پہنچے اور غیر ضروری تصادم سے بھی اجتناب رہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ پاک فضائیہ نہ صرف عسکری طاقت رکھتی ہے بلکہ اس کے استعمال میں ذمہ داری اور دانش بھی شامل ہے۔ پاک فضائیہ کے پائلٹس کی تربیت، اعصاب کی مضبوطی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت اس موقع پر نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ ایک محدود وقت میں فضائی برتری قائم کرنا، دشمن کے طیاروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا اور اپنی فضائی حدود کا مکمل تحفظ یقینی بنانا، یہ سب اس امر کا ثبوت تھا کہ پاکستان کی فضائی دفاعی لائن ہر لمحہ مستعد ہے۔ اس آپریشن نے علاقائی سکیورٹی ڈائنامکس تبدیل کیے اور ایک مضبوط اسٹریٹجک پیغام بھی دیا۔ جنوبی ایشیا ایک حساس خطہ ہے جہاں معمولی عسکری کشیدگی بھی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ ایسے ماحول میں آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ نے یہ واضح کیا کہ پاکستان کا دفاعی نظریہ جارحیت پر نہیں بلکہ ڈیٹرنس پر مبنی ہے۔ یعنی ایسا مضبوط اور قابلِ اعتماد دفاعی نظام جو دشمن کو مہم جوئی سے باز رکھے۔ اس کارروائی نے خطے میں طاقت کے توازن کو ازسرِنو واضح کیا۔ یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان نہ صرف اپنی فضائی سرحدوں کا دفاع کر سکتا ہے بلکہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا فوری اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے اسٹریٹجک استحکام کو تقویت ملی اور یہ ثابت ہوا کہ امن کی ضمانت کمزوری نہیں بلکہ مضبوط دفاع ہے۔آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کا ارتقائی تسلسل ہمیں آپریشن بنیان مرصوص 2025 میں بھی دکھائی دیا۔27 فروری 2019 ء کا آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ ایک سنگ میل تھا تو مئی 2025 ء کے آپریشن بنیان مرصوص کو اسی تسلسل کی اگلی کڑی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔سال 2019 ء سے سال 2025 ء تک کا عرصہ پاک فضائیہ کے لیے تکنیکی اور نظریاتی ارتقاء کا دور رہا۔ جدید لڑاکا طیاروں کی شمولیت، بغیر پائلٹ طیاروں کی بڑھتی ہوئی اہمیت، ایئر ڈیفنس سسٹمز کی اپ گریڈیشن اور پریسیڑن گائیڈڈ امیونیشنز کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے بدلتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی کو ہم آہنگ کیا۔
فضائی دفاع اب صرف طیاروں تک محدود نہیں رہا۔ اس میں سائبر سکیورٹی، اسپیس بیسڈ سرویلنس، الیکٹرانک وارفیئر اور ڈیٹا انٹیگریشن بھی شامل ہو چکے ہیں۔ آپریشن بنیان مرصوص میں ان تمام عناصر کا مربوط استعمال اس بات کی علامت تھا کہ پاک فضائیہ ایک ملٹی ڈومین آپریٹنگ فورس بن چکی ہے۔
پاک فضائیہ نے کسی بھی لمحے تیاری، تربیت اور ریڈی نیس کے اہم ترین عناصر کو نظر انداز نہیں کیا۔ کسی بھی فضائی آپریشن کی کامیابی صرف ہتھیاروں پر نہیں بلکہ انسانوں پر منحصر ہوتی ہے۔ پاک فضائیہ نے گزشتہ برسوں میں تربیتی نظام، فلائنگ آورز، سمیولیٹر بیسڈ ٹریننگ اور مشترکہ مشقوں کے ذریعے اپنی افرادی قوت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر چیلنج کے وقت فورس ریڈی نیس ایک عملی حقیقت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ سالگرہ کی یہ تقریب دراصل اس پیغام کی تجدید ہے کہ پاکستان کی فضاؤں کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔یہی عزم، یہی تیاری اور یہی ارتقائی سوچ پاک فضائیہ کو ایک جدید، ذمہ دار اور باوقار فضائی قوت کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔ آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ اور آپریشن بنیان مرصوص دونوں اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ پاک فضائیہ کی تیاری محض کاغذی منصوبہ بندی نہیں بلکہ عملی مشقوں اور مربوط کمانڈ اسٹرکچر کا نتیجہ ہےوفاقی وزیراطلاعات نے افغان طالبان رجیم کے 133 کارندے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی ہے جبکہ 200 سے زائد کارندے بھی زخمی ہوئے ہیں یہ یاد رکھیں کہ 27 فروری 2019 ء کی وہ روشن صبح جنوبی ایشیا کی عسکری تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، جب پاکستان کی فضائی سرحدوں کو چیلنج کرنے کی ناپاک جسارت کی گئی تو جواب میں جو حکمت، توازن اور پیشہ ورانہ مہارت سامنے آئی، اس نے نہ صرف طاقت کا توازن واضح کیا بلکہ جارح کو ایک مضبوط اسٹریٹجک پیغام بھی دیا۔ یہ تھا آپریشن “سویفٹ ریٹارٹ” جس نے پاکستان ایئر فورس کی عملی تیاری، رفتار، درستگی اور ڈیٹرنس صلاحیت کو دنیا کے سامنے فخر سے آشکار کیا۔آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کسی جذباتی ردِعمل کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا، نپا تلا اور قواعدِ جنگ کے عین مطابق کیا گیا اقدام تھا۔ پاک فضائیہ نے نہ صرف اپنی فضائی حدود کا مؤثر دفاع کیا بلکہ دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی خودمختاری اور فضائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا دونوں آپریشنز کے درمیان ایک واضح نظریاتی اور عملی ربط موجود ہے۔ پہلا آپریشن فوری ردِعمل اور ڈیٹرنس کا مظہر تھا جبکہ دوسرا آپریشن جدید ٹیکنالوجی، بہتر انضمام اور ارتقائی حکمت عملی کی مثال بنا۔ 02 آپریشن بنیان مرصوص میں ٹیکنالوجی کا استعمال زیادہ منظم اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کے تحت کیا گیا۔ انٹیگریٹڈ ایئر ڈیفنس، نیٹ ورک سنٹرک وارفیئر، جدید سرویلنس پلیٹ فارمز اور درست نشانے والے ہتھیاروں نے یہ ظاہر کیا کہ پاک فضائیہ نے صرف ماضی کی کامیابی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسے بنیاد بنا کر اپنی صلاحیتوں کو مزید وسعت دی ہے۔ ان دونوں آپریشنز میں ہمیں ڈاکٹرائن اور ٹیکنالوجی کا ارتقاء بھی نظر آتا ہے۔













