اسلام آباد (ٹی این ایس) وزیر اعظم شہباز شریف نے چینی سفیر سے ملاقات کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان چینی شہریوں، سرمایہ کاری اور اداروں کو محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہا ہےسی پیک منصوبے دوطرفہ روابط کو فروغ دینے والے اقتصادی راہداری کی تعمیر، دوطرفہ سرمایہ کاری، اقتصادی اور تجارتی، لاجسٹکس اور علاقائی رابطوں کے لیے عوام سے عوام سے رابطے کے ذریعے پاکستان اور چین کے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے ہیں ,سی پیک منصوبوں کی حفاظت کے لیے پہلے سے ایک “اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن” کام کر رہا ہے جس میں تقریباً 15,000 اہلکار شامل ہیں: اس ڈویژن کا مقصد سی پیک کے روٹس اور کام کرنے والے چینی عملے کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ہےحکومت سی پیک کے تحت تمام منصوبوں اور معاہدوں کی تکیمل کے لیے پر عزم ہے ، سی پیک پاکستان کی معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ،چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک اہم منصوبہ ہے جسے چینی صدر شی جن پنگ نے تجویز کیا ہے۔ سی پیک چین اور پاکستان کے مابین جامع اور موثر تعاون کا فریم ورک اور پلیٹ فارم ہے۔ سی پیک ایک اہم سنگ میل ہے جس پر دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے اوراس میگا پراجیکٹ کے ذریعے سے تعمیر و ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کوخاص طور پراہمیت دی ہے۔ سی پیک کو دونوں ممالک کی سیاسی جماعتوں اور عوام کی بھر پور حمایت حاصل ہےمئی 2013 میں چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران سی پیک کی تجویز پیش کی جس کو فوری طور پر پاکستانی حکومت کی جانب سے مثبت ردعمل اور اہمیت دی گئی۔ جولائی 2013 میں وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ چین کے دوران سی پیک پر کام شروع کرنے کے لئے ایک مفاہمت نامے پر دستخط ہوئے۔ اب تک بڑے اوراہم منصوبوں پر عمل در آمد کا سلسلہ موثر طریقے اورتسلسل سےجاری ہے مزید بر آں یہ خوش اسلوبی سے تعمیرو ترقی کے سفر پر گامزن ہے۔سی پیک پر وقت کے ساتھ ساتھ مکمل منصوبہ بندی سے عمل در آمد کیا جا رہا ہے نیز یہ چین اور پاکستان کے مابین دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ سی پیک کوچین اورپاکستان کی سدا بہار سٹریٹیجک شراکت داری کو مستحکم کرنے اور مشترکہ تعمیر وترقی کی منازل طے کرنے کے سفر میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سی پیک ایک نئی جہت اور نئے وژن کے ساتھ پاک چین تعلقات کو جلا بخشنے کا موجب بن رہا ہے۔ سی پیک سے مجموعی طور پر پورا پاکستان استفادہ حاصل کرے گااور اس سے پاکستانی عوام کو بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔سی پیک سے پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی کو موثر انداز میں فروغ ملے گا۔ سی پیک کی تعمیر سے چین اور پاکستان کی ترقیاتی حکمت عملی میں روابط فروغ پانے کے ساتھ ساتھ انضمام میں بھی اضافہ ہوگا جس میں دونوں ملکوں کے عوام کا مفاد پوشیدہ ہے۔ اسی طرح سی پیک کے تحت دونوں فریق ممالک معیاری اور جامع حکمت عملی کے ساتھ تعمیر و ترقی اور متعدد بڑے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے پرعزم ہیں جس کے مثبت نتائج حاصل ہورہے ہیں اور چین اور پاکستان کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک کے لوگوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔
ایک بڑے اور منظم منصوبے کے طور پر سی پیک کی تعمیر کا سفر 2030-2017پر محیط ہے۔ سی پیک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے چین اور پاکستان کی حکومتوں ، کمپنیوں اور تمام سماجی شعبوں کی مشترکہ اور ان تھک کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس کی تعمیر کے عمل میں دونوں فریقوں نے سائنسی منصوبہ بندی کے اصولوں، تسلسل سے عمل درآمد ، مشاورت کے ذریعے اتفاق رائے ، باہمی فائدے اور وِن-وِن ریزلٹس کے ساتھ ساتھ معیار اور حفاظت کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دونوں فریقوں نے ترجیحی یا ارلی ہارویسٹ منصوبوں کی فہرست مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ سی پیک کے لئے طویل المدتی منصوبہ بنانے پر اتفاق کیا ہے سی پیک ایک طویل المدتی منصوبہ بندی پر محیط منصوبہ ہے جس کی مکمل طور پر تکمیل 2030کو ہو جائے گی۔ سی پیک کی منصوبہ بندی اور تعمیر کے عمل میں دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتوں کو رہنمائی فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور کمپنیوں کو مارکیٹ کے قوانین کے مطابق سرمایہ کاری کرنی چاہئے۔مزید بر آں دونوں حکومتیں اور کمپنیاں کام کی واضح تقسیم کے ساتھ ساتھ باہمی تعاون کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ مستقل میں سی پیک کی ترقی کو فروغ دیا جاسکے پاکستان اور چین نے دو فریقین کے طور پر خصوصی اقتصادی تعاون کو خاکہ کے طور پر فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے جس میں سی پیک کے مرکزی کردار کے ساتھ ساتھ گوادر بندرگاہ ، توانائی ، نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے اور صنعتی تعاون سمیت چار اہم شعبوں کو ملحوِظ نظر رکھا گیا ہے تاکہ وِن-وِن نتائج اور مشترکہ ترقی کو فروغ دیاجاسکے۔ درمیانی مدت سے طویل المدتی منصوبہ بندی میں دونوں فریقین فنانشل سروسز، سائنس و ٹیکنالوجی ، سیاحت ، تعلیم ، غربت کے خاتمے اور سٹی پلاننگ جیسے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے مواقع تلاش کریں گےاوروقت کے ساتھ ساتھ اس میں توسیع کریں گے تاکہ چائینہ-پاکستان آل راؤنڈکوآپریشن کے دائرہ کار میں مزید توسیع کی جاسکے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ سے ملاقات کی ہے۔ وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال اور وسیع تر پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے مکالمے، سفارت کاری اور مسلسل مشاورت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ، موجودہ حکومت چین کی تکنیکی مدد سے پاکستانی معیشت کی اعلیٰ معیار کی جدید کاری کا ہدف رکھتی ہے سی پیک کا نیا مرحلہ اب لوگوں سے لوگوں اور کاروبار سے کاروبار کے درمیان اس بنیاد پر زیادہ تعاون قائم کرے گا جو پہلے مرحلے میں رکھی گئی تھی دوسرے مرحلے میں پانچ راہداری، ترقی کی راہداری، روزی روٹی کی راہداری، اختراع کی راہداری، سبز معیشت کی راہداری اور خطے میں کھلی اور جامع ترقی کی راہداری ہوگی جو مختلف ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لائے گی پاکستان کے پاس اپنی اقتصادی ترقی کے لیے ایک 5Es فریم ورک ہے – ایکسپورٹ، ای پاکستان، ماحولیات، توانائی، ایکویٹی اور بااختیار بنانا۔ اسے ایک بہت ہی جامع فریم ورک قرار دیتے ہوئے، پاکستان دوسرے مرحلے کے لیے صدر شی جن پنگ کے وژن کے تحت بیان کردہ پانچ راہداریوں سے ہم آہنگ ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ چین اور پاکستان کس طرح ایک جیسے سوچتے ہیں، اور پانچ راہداریوں اور 5Es کے درمیان یہ مثبت ہم آہنگی پاکستان کو اپنے ترقیاتی اہداف حاصل کرنے میں مدد دے گی اور اس ترقی کے ساتھ، ہم خطے میں مزید استحکام لانے کے قابل ہو جائیں گے پاکستان کو بہت قیمتی چینی امداد اور سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبے سے بہت فائدہ ہوا ہے جس سے ہمیں 8000 میگا واٹ اضافی توانائی پیدا کرنے میں مدد ملی ہے تاکہ توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے۔
پاکستان نے جدید شاہراہیں اور موٹر ویز بنائے ہیں جنہوں نے مزید اقتصادی سرگرمیوں کے لیے مختلف خطوں کو جوڑا ہے۔ اب خطے میں ایک نئی سمارٹ بندرگاہ کے طور پر ابھر رہی ہے اور یہ بحیرہ عرب اور بحر ہند کو چین کے مغرب سے ملا کر اور مغربی چین کو مختصر ترین زمینی راستہ فراہم کر کے خطے میں تجارت کا نیا ذریعہ بننے کی بے پناہ صلاحیت رکھتی ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری علاقائی رابطے کا فریم ورک ہے۔سی پیک سے نہ صرف چین اور پاکستان کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ایران، افغانستان، وسطی ایشیائی جمہوریہ اور خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ سڑک، ریل اور ہوائی نقل و حمل کے نظام میں بہتری کے ساتھ جغرافیائی روابط کو بڑھانا جس میں ترقی اور لوگوں سے لوگوں کے رابطے کے متواتر اور آزادانہ تبادلے ہوتے ہیں، علمی، ثقافتی اور علاقائی علم و ثقافت کے ذریعے افہام و تفہیم کو بڑھانا، تجارت اور کاروبار کے زیادہ حجم کی سرگرمی، زیادہ سے زیادہ بہترین کاروبار کرنے کے لیے توانائی کی پیداوار اور منتقلی اور مشترکہ ماڈل کے نتیجے میں مشترکہ خطہ میں جڑے ہوئے ماڈلز کو بہتر بنانے کے نتیجے میں باہمی تعاون کو فروغ ملے گا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری گلوبلائزڈ دنیا میں اقتصادی علاقائی کاری کی طرف سفر ہے۔ اس نے ان سب کے لیے امن، ترقی اور جیت کے ماڈل کی بنیاد رکھی۔چین پاکستان اقتصادی راہداری امن، ترقی اور معیشت کی ترقی کے ساتھ مستقبل کے بہتر خطے کی امید ہے۔پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے باعث ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے اور سی پیک سمیت تمام حساس تنصیبات کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہےگوادر بندرگاہ اور سمندری حدود کی حفاظت کے لیے پاکستان نیوی نے “ٹاسک فورس-88” قائم کی ہے۔ یہ فورس روایتی اور غیر روایتی بحری خطرات سے نمٹنے اور تجارتی جہازوں کی بحفاظت آمد و رفت یقینی بنانے کی ذمہ دار ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے باعث ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے اور سی پیک سمیت تمام حساس تنصیبات کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے
سرحدی کشیدگی کے باعث حساس تنصیبات، سی پیک منصوبوں اور غیر ملکی مشنز کی سکیورٹی بڑھانے کا حکم جاری کر دیا گیا وفاقی حکومت نے پاک افغان سرحد پر کشیدہ صورتحال اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کو سکیورٹی انتظامات فوری طور پر مزید سخت کرنے کی
ہدایت کر دی ہے۔ وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کی جانب سے جاری مراسلے میں موجودہ حالات کو “بڑھا ہوا خطرے کا تاثر” قرار دیتے ہوئے فوری اور جامع اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریز اور اسلام آباد کے چیف کمشنر کو مراسلہ ارسال کیا گیا، جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ موجودہ سیکیورٹی ماحول کے تناظر میں حفاظتی انتظامات کو مؤثر اور مربوط بنایا جائے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ تمام حساس تنصیبات، اہم سرکاری عمارتوں، عوامی مقامات، عبادت گاہوں، غیر ملکی سفارتی مشنز، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے منسلک منصوبوں اور دیگر کمزور اہداف کی سیکیورٹی کو فوری طور پر بڑھایا جائے۔صوبائی حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کے احکامات جاری کریں اور داخلی و خارجی راستوں، بین الصوبائی سرحدوں اور قائم شدہ چیک پوسٹوں پر سخت چیکنگ اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔وزارتِ داخلہ نے فوری اور جامع اقدامات پر زور دیتے ہوئے ملک بھر میں کواڈ کاپٹرز اور بغیر پائلٹ طیاروں کی آؤٹ ڈور پروازوں پر فوری پابندی عائد کر دی جو اگلے احکامات تک نافذ العمل رہے گی۔
چین اور پاکستان کی دوستی اعتماد اور باہمی تعاون پر مبنی ہے اور ہم اچھے اور مشکل دونوں وقتوں میں دوست رہے ہیں۔ چین کے صدرہماری دوستی ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کے لیے ایک تیز رفتار ہے۔ سب سے پہلے، ہمیں باہمی تعاون کو مضبوط کرنا چاہیے اور اسٹریٹجک تعاون کو گہرا کرنا چاہیے۔ ہمیں متواتر اعلیٰ سطحی دوروں اور ملاقاتوں کی اچھی روایت کو برقرار رکھنا چاہیے، اہم اسٹریٹجک امور پر مل کر کام کرنا چاہیے، اور اپنے متعلقہ بنیادی مفادات اور اہم خدشات سے جڑے مسائل پر ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔ ہمیں اپنے مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانا چاہیے اور مشترکہ ترقی حاصل کرنی چاہیے۔ ہمیں چین پاکستان اقتصادی راہداری کو گوادر پورٹ، توانائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور صنعتی تعاون پر فوکس کرتے ہوئے اپنے عملی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے تاکہ اس کی ترقی کے ثمرات پاکستان کے تمام لوگوں اور ہمارے خطے کے دیگر ممالک کے لوگوں تک پہنچیں ، ہمیں دیرپا دوستی قائم کرنے کے لیے قریبی تبادلوں کو بڑھانا چاہیے یہ سال چین پاکستان دوستانہ تبادلوں کا سال ہے۔ ہمیں جشن کی مختلف اور رنگا رنگ تقریبات کا انعقاد کرنا چاہیے اور نوجوان چینی اور پاکستانیوں کے درمیان مزید رابطوں اور تبادلوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اگلے پانچ سالوں میں چین پاکستان کے لیے 2,000 تربیتی مواقع فراہم کرے گا اور پاکستان کے لیے 1,000 چینی زبان کے اساتذہ کو تربیت دے گا۔ ہمیں مشکل کا سامنا کرتے ہوئے ساتھ رہنا چاہیے اور مشترکہ طور پر سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ چین غیر روایتی سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ دوطرفہ اقتصادی تعاون اور مشترکہ ترقی کے لیے قابل اعتماد سکیورٹی کی ضمانت فراہم کی جا سکے۔ چینی قوم امن کو پسند کرتی ہے۔ یہ تعلق، خلوص، باہمی فائدے اور جامعیت کی پالیسی پر کاربند رہے گا۔ یہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ جیت کے تعاون کو مزید گہرا کرے گا تاکہ ان کو اپنی ترقی کے ذریعے مزید فوائد پہنچائے جا سکیں۔ چین کھلی معیشت کی تعمیر کے لیے اوپن اپ کے لیے جیت کی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔ یہ ایشیا اور دنیا دونوں کے لیے ترقی کے نئے مواقع اور جگہ پیدا کرے گا۔ ہم زمینی اور سمندری شاہراہ ریشم کے ساتھ ساتھ ممالک کے ساتھ تعاون کو مضبوط کریں گے، تاکہ مشترکہ طور پر تعاون کے لیے ایک کھلا پلیٹ فارم بنایا جا سکے اور متعلقہ خطوں میں پائیدار ترقی کے حصول کے لیے نئی تحریک پیدا کی جا سکے۔چین پاکستان مشترکہ تقدیر کی کمیونٹی کی تعمیر ہماری دونوں حکومتوں اور عوام کی طرف سے کیا گیا ایک سٹریٹجک فیصلہ ہے۔ آئیے مل کر چین اور پاکستان کے لیے ایک روشن مستقبل بنانے کے لیے کام کریں۔چین پاکستان اقتصادی راہداری کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سے گہرا تعلق ہے اور اس لیے قریبی تعاون اور وسیع تر پیشرفت کی ضرورت ہے۔ اقدام مشترکہ طور پر ہموار، محفوظ اور موثر نقل و حمل کے راستوں کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرے گا جو بیلٹ اور روڈ کے ساتھ ساتھ بڑی سمندری بندرگاہوں کو ملاتے ہیں۔بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو جیت کے تعاون کا ایک طریقہ ہے جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کو فروغ دیتا ہے اور باہمی افہام و تفہیم اور اعتماد کو بڑھا کر اور ہمہ جہتی تبادلوں کو مضبوط بنا کر امن اور دوستی کی طرف ایک راستہ ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ ایشیا، یورپ اور افریقہ کے براعظموں میں سے گزرتا ہے، جو ایک سرے پر متحرک مشرقی ایشیا کے اقتصادی دائرے کو جوڑتا ہے اور دوسرے سرے پر ترقی یافتہ یورپی اقتصادی حلقہ، اور اقتصادی ترقی کے وسیع امکانات کے حامل ممالک کو گھیرے ہوئے ہے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے بڑے سلسلے میں اہم ہے، اور یہ 21ویں صدی کے سمندری سلک روٹ کے امکانات کو فعال کرے گی۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان کھلے پن اور تعاون کا وژن رکھتا ہے۔ ہمیں مل کر کام کرنا چاہیے اور باہمی فائدے اور مشترکہ سلامتی کے مقاصد کی طرف بڑھنا چاہیے۔ مخصوص ہونے کے لیے، ہمیں خطے کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اور زمینی، سمندری اور فضائی راستوں کا ایک محفوظ اور موثر نیٹ ورک قائم کرنا ہوگا، جس سے ان کے رابطوں کو اونچی سطح تک لے جایا جائے؛ تجارت اور سرمایہ کاری کی سہولت کو مزید بڑھانا، آزاد تجارتی علاقوں کا ایک نیٹ ورک قائم کرنا جو اعلیٰ معیارات پر پورا اترتا ہے، قریبی اقتصادی تعلقات کو برقرار رکھتا ہے اور سیاسی اعتماد کو گہرا کرتا ہے۔ ثقافتی تبادلوں کو بڑھانا؛ مختلف تہذیبوں کو ایک دوسرے سے سیکھنے اور ایک ساتھ پنپنے کی ترغیب دینا؛ اور دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان باہمی افہام و تفہیم، امن اور دوستی کو فروغ دیناہے۔افغانستان اور پاکستان کے درمیان فوجی حملوں کا تبادلہ ہواہے، جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے اور پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد بند کردی ہے یہ برسوں میں دشمنی کی بدترین وباء نے ایک مکمل جنگ کے خدشات کو جنم دیا۔ نومبر2025 کے آخر میں، طالبان نے پاکستان پر افغانستان کے اندر فضائی حملے کرنے کا الزام لگایا تھا۔ پاکستان کے اندر ملکی سلامتی کے مسائل بھی برقرار ہیں بلوچستان، جو گوادر پورٹ سمیت سی پیک کے بہت سے منصوبوں کا گھر ہے، پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ علاقہ ہے اور عسکریت پسند گروپ، بلوچستان لبریشن آرمی نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کئی سالوں سے چینی شہریوں کو نشانہ بنایا ہے، جس میں کئی ہائی پروفائل حملے کیے گئے، جن میں 2019 میں گوادر میں پرل کانٹی نینٹل ہوٹل پر حملہ اور کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ شامل ہے۔چینی شہریوں کے خلاف پاکستان میں ہونے والے دیگر حملوں 2021 میں چینی کارکنوں کی بس پر داسو ڈیم پراجیکٹ جاتے ہوئے بم حملہ جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے 9 چینی تھے، کو پاکستانی حکام نے تحریک طالبان پاکستان سے منسوب کیا۔سی پیک منصوبہ کے سفر کو خوش اسلوبی اور موثر طریقے سے آگے بڑھانے کے لئے چین اور پاکستان نے جوائینٹ کوآپریشن کمیٹیتشکیل دی ہے۔ جوائینٹ کوآپریشن کمیٹی کے تحت پانچ جوائینٹ ورکنگ گروپس ہیں جن میں طویل المدتی منصوبہ بندی ، توانائی ، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر ، صنعتی تعاون اور گوادر بندرگاہ شامل ہیں توانائی کا شعبہ اقتصادی ترقی کے لئے طاقت کاسر چشمہ ہوتا ہے اور پاکستان کی معیشت کی پائیدار ترقی بھی توانائی کے شعبے پر ہی منحصر ہے۔ پاکستان میں چائینہ-پاکستان اقتصادی راہداری کے آغاز سےتوانائی منصوبوں کی تعمیر میں تیزی آئی اور آج اس میگا پراجیکٹ کے ثمرات کے سبب پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے ذریعے سے پائیدار ترقی کے حصول میں مدد ملی ہے۔سی پیک فریم ورک کے تحت دونوں فریقوں نے 16 منصوبوں کو اہم ترجیحات کا حصہ بنایا ہے جبکہ 5 پر منصوبہ بندی جاری ہے ا ن تمام کی مجموعی طور پر توانائی کی پیداوار 17045 میگاواٹ ہوگی۔ سی پیک کے تحت اہم ترجیحات میں شامل 16 منصوبوں میں سے 9 منصوبوں کو فعال کرکے نیشنل گرڈ میں شامل کیا گیا ہے جبکہ بقیہ پر کام کی پیش رفت جاری ہے۔ 2019 کے اختتام تک تکمیل شدہ توانائی کے منصوبوں میں بہاولپور پنجاب کا 400 میگاواٹ قائداعظم سولر پارک، 50 میگاواٹ داؤد ونڈ فارم، سچل 50 میگاواٹ ونڈ فارم ، پورٹ قاسم 2 × 660 میگاواٹ کول فائرڈ پاور پلانٹ ، ساہیوال 2 × 660 میگاواٹ کول فائرڈ پاور پلانٹ ، 660 میگاواٹ حبکو کول پاور پلانٹ ، 100 میگاواٹ جھمپیر یو ای پی ونڈ فارم ، چائنا تھری گورجیز سیکنڈ اینڈ تھرڈونڈ پاور پراجیکٹ اور 2 × 330 میگاواٹ اینگرو تھر کول پاوراینڈ مائن پراجیکٹ شامل ہے۔جبکہ 870 میگاواٹ کے سکی کناری ہائیڈرو پاور اسٹیشن ،1320میگاواٹ تھر بلاک ون،330حبکو تھر کول پاور پراجیکٹ،330تھل نووا تھر کول پاور پراجیکٹ بلاک ٹو ،720میگاواٹ کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ، 600 میگاواٹ قائداعظم سولر پارک اور مٹیاری (پورٹ قاسم) سے لاہور ٹرانسمیشن لائن جیسے منصوبوںکی پیش رفت جاری ہے۔علاوہ ازیں1124 کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، 300 میگاواٹ گوادر کول پراجیکٹ ، 1320میگاواٹ تھر کول پراجیکٹ بلاک-سکس ،50میگاواٹ کاچو ونڈ پاور پراجیکٹ اور50میگاواٹ ویسٹرن انرجی پرائیوٹ لمیٹڈ وِنڈ پاور پراجیکٹ بھی منصوبہ بندی میں شامل ہیں۔اقتصادی ترقی کے لئے موثر اور تیز تر نقل و حمل کا نیٹ ورک انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سی پیک یقینی طور پر پاکستان میں شمال-جنوبی راہداری کی راہ ہموار کرے گا۔ پہلےسے موجود روڈ نیٹ ورک کو استعمال میں لاکر اورمنقطع روابط کی بحالی کو یقینی بنا کر ترجیحی بنیادوں پر سائنسی اصولوں کی حامل منصوبہ بندی کی گئی ہے چین اور پاکستان “ون کوریڈور ، ملٹیپل پیسیجز” کی بنیاد پر اتفاق رائے کر چکے ہیں جس کا مقصد پاکستان کے تمام صوبوں کی معاشی اور معاشرتی ترقی کو ٖفروغ دینا اور گوادر بندرگاہ تک موثر رابطہ سازی کی فراہمی ہے۔ مغربی روٹ یقینی طور پر سی پیک کا ایک اہم حصہ ہے۔ ابھی پاکستان کے مغربی علاقوں میں سڑک کے رابطے کوآگے بڑھانے کے لئے بے حد کوششیں کی جارہی ہیں اور چین پاکستان کے مغربی اور شمالی علاقوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے سازگار حالات پیدا کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ مختلف منصوبوں کے نفاذ کے ساتھ سی پیک پاکستان کے مختلف حصوں میں معاشی ترقی کو فروغ دینے اور معیار زندگی کو بلند کرنے میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہا ہےچینی نئے سال کی آمد کے موقع پر سی پیک منصوبوں سے وابستہ چینی ملازمین کے لیے پاکستان میں شاندار تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ پاکستانی حکام نے اپنے آہنی دوستوں کے اعزاز میں خصوصی تقریبات، عشائیے اور تفریحی سرگرمیوں کا اہتمام کیا تاکہ چینی شہری اس اہم تہوار کی خوشیاں وطن سے دور ہونے کے باوجود محسوس کر سکیں۔ پاکستانی سینئر حکام نے بھی تقریب میں شرکت کر کے چینی شہریوں کے ساتھ یکجہتی اور خیر سگالی کا اظہار کیا۔اسپورٹس گالا، ثقافتی پروگرامز اور خصوصی عشائیوں کے ذریعے چینی نئے سال کی خوشیوں کو دوبالا کیا گیا پاکستان میں چینی نئے سال کی تقریبات کا انعقاد سی پیک منصوبوں سے وابستہ چینی افراد کے ساتھ یکجہتی اور تعاون کا عملی مظہر ہے۔ سی پیک دونوں ممالک کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے اور چینی نئے سال کی تقریبات پاکستان اور چین کے درمیان دوستی اور باہمی اعتماد کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔













