اسلام آباد (ٹی این ایس) طاقت کا زعم دنیا کے لئے حقیقی خطرہ

 
0
8

اسلام آباد (ٹی این ایس) امن سے مراد یہ ہے کہ پوری دنیا میں تمام انسانوں کو برابر انسانی حقوق حاصل ہوں ذات برادری رنگ و نسل کے نام پر کالے کو گورے پر بڑے کو چھوٹے پر طاقتور کو کمزور پر عبور نہ حاصل ہو ذات برادری، قوم پرستی علاقائیت کی بنیاد پر کوئی ڈر اور خوف نہ ہو سماج حیوانی اور وحشیانہ خصائل سے پاک ہو خونریزی اور سفاکی کا دور دور تک گزر نہ ہو۔ جنگ براے جنگ نہ ہو بلکہ جنگ براے امن و سکون ہو قاتلوں اور سفاکوں کو انسانیت کا دشمن سمجھا جائے بد قسمتی سے دنیا بھر میں مضبوط عدالتی نظام اور اقوام متحدہ کی موجودگی کے باوجود انسانیت انصاف اور امن کے لئے ترس رہی ہے استعماریت کا تسلط عالمی امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے پوری دنیا میں اپنے اثرات کو مضبوط ور من مانی کرنے کی خاطر کچھ طاقتور ممالک قوت کے بل بوتے پر قابض ہو چکے ہیں ،اور غریب و کمزور ممالک کا بیڑہ غرق کرنے کے درپے ہیں انہوں نے ان ممالک کے تمام ذرائع وسائل اور ان کے معاشی اور اقتصادی وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے مادہ پرستی اور دولت کی ہوس لوگوں پر اپنی حکمرانی مسلط کرنے کے جنون نے انہیں خود غرض و بے حس بنادیا ہے اور انسان انسان سے قومیں قوموں سے ملک ملک سے بر سر پیکار ہیں انہوں نے لوگوں کے شہری حقوق اور ان کے انسانی حقوق غصب کر لئے ہیں ہر طرف لاقانونیت اور نا انصافی کا ایسا بازار گرم ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا ایک بار پھر عالمی جنگ کی طرف دھکیلی جاچکی ہے استعماری طاقتیں دنیا بھر کا امن وسکون ختم کرتی جارہی ہیں امریکہ واسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ نہ صرف دوسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے بلکہ اس کا دائرہ وسیع ہونے کے خدشات بھی بڑھتے جارہے ہیں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کا خواب جلد ہی ڈرانے خواب میں تبدیل ہو جائے گا کسی ہمسایہ ملک کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوئی تو مجبورا جواب دینا پڑے گا ہمسایہ ممالک پر جوابی کارروائیوں کا مطلب دشمنی نہیں بلکہ دفاعی ردعمل ہوگا برطانوی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے تہران کو پیغام دیا ہے کہ ریاض اب بھی ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کا سفارتی حل چاہتا ہے، تاہم مملکت کی سلامتی یا آئل تنصیبات پر حملے برداشت نہیں کئے جائیں گے خلیجی ممالک نے اب تک ایران کے خلاف کارروائیوں کیلئے امریکا کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی لیکن اگر خطے میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو سعودی عرب امریکی افواج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غور کر سکتا ہے مشرق وسطی کی یہ موجودہ صورت حال پوری عالمی برادری کے لئے باالعموم اور پاکستان کے لئے بالخصوص انتہائی الارمنگ ہے کیونکہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو پاکستان کے لئے کوئی واضح پوزیشن لینا ضروری ہو جائے گا اور یہ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کے لئے آسان چیلنج نہیں ہوگا سعودی وزیر دفاع کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات میں دفاعی معاہدے کے تحت ایرانی حملے روکنے اور خطے کی صورت حال پر بات چیت کی گئی آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں رہنمائوں نے سعودی عرب پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے پیدا ہونے والی سیکورٹی صورت حال کی سنگینی اور اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے اندر انہیں روکنے کے لئے مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال اور اس بات پر زور دیا گیا کہ بلا اشتعال جارحیت علاقائی سلامتی اور استحکام کے لئے کوششوں کو نقصان پہنچاتی اور تنازعات کے پر حل میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے دونوں فریقوں نے امید اور خواہش کا اظہار کیا کہ برادر ملک ایران کسی غلط فہمی سے بچنے کے لئے ہوشیاری اور سمجھ داری کا مظاہرہ اور بحران کے پر امن حل کے خواہاں دوست ممالک کے ہاتھ مضبوط کرے گا نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سنیٹر اسحاق ڈار نے خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کے حوالے سے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلی فونک بات چیت کی ہے دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورت حال کے حوالے سے مسلسل رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ہے اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید النہیان ملائیشیا کے وزیر خارجہ حاجی حسن اور خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت میں خطے کی موجود صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے ایران اور خلیجی ملکوں کی سلامتی اور خود مختاری کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے منصوبے کو مقبولیت نہیں ملی، جنگ کو پھیلنے سے رو کنے کے لئے بڑے ممالک تعمیری کردار ادا کریں قدرت کا مسلمہ اصول ہے کہ تاریخ انسانیت میں کسی بالا دست قوت کو ابدی اور دائمی بالادستی حاصل نہیں ہوئی ایک وقت آیا کہ بالادست قوت کو زوال سے دوچار ہونا پڑا اور وہ نیست ونابود ہوگئی اور اب دنیا ان کے آثار اور کھنڈرات کو نشان عبرت کے طور پر دیکھتی ہے امریکہ پر یہ وقت کب آتا ہے اس کاعلم اللہ تبارک تعالی کے سوا کسی کو نہیں لیکن سر دست وہ عالمی منظرپر دندنا رہا ہے یوں لگتا ہے کہ طاقت فیصلہ کر رہی ہے اور اقوام متحدہ کی کوئی حیثیت اور کردار باقی نہیں رہا جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا یہ رحجان زور پکڑتا ہے تو پھر دنیا میں امن کی کوئی گارنٹی نہیں دی جاسکتی مشرق وسطی میں جاری جنگ اور علاقائی ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج نے اس وقت دنیا کو ایک ایسے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ایک چھوٹی سی چنگاری پورے خطے کو خاکستر اور عالمی امن کو تہہ وبالا کرسکتی ہے ان سنگین حالات میں پاکستانی قیادت گزشتہ ایک ہفتے سے کئی ممالک کے ساتھ رابطہ کرکے مذاکرات کے ذریعے افہام و تفہیم کے ذریعے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہی ہے پاکستان مسلسل عالمی برادری کو یہ باور کرانے میں مصروف ہے کہ طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کا پیش خیمہ ہوتا ہے اور اگر خطے کے ممالک ایک پیچ پر نہ آئے تو بیرونی مداخلت کے باعث ہونے والی تباہی کا نقصان سب کو یکساں طور پر اٹھانا پڑے گا ماضی قریب میں گزشتہ سال جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک پل کا کردار اداکرتے ہوئے پاکستان نے جنگ بندی میں موثر کردار ادا کیا اور دونوں ممالک نے پاکستان کے اس کردار کی تحسین بھی کی تھی آج ایک بار پھر ایران جنگ کی صورت میں پاکستان کو ایک نیا سفارتی امتحان درپیش ہے لہذا کامیاب سفارتی پالیسیوں کو موثر انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اس وقت پوری مسلم دنیا کی نظریں پاکستان اور ترکیہ جیسے بڑے مسلم ممالک پر ٹکی ہوئی ہیں جن کے تمام ممالک کے ساتھ گہرے سفارتی روابطہ ہیں دنیا کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اگر جنگ کا پھیلائو اسی طرح جاری وساری رہتا ہے تو پوری دنیا کا امن وامان اور معیشت بد ترین بحران کا شکار ہوسکتی ہے ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے تمام بین الاقوامی قوانین کو جوتے کی ناک پر رکھتے ہوئے ایران پر ننگی جارحیت مسلط کرکے درحقیقت عالمی امن کو تہہ وبالا اور تیسری عالمگیر جنگ کا جونقارہ بجایا وہ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ان کے بھی گلے کی ہڈی بن چکا ہے تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں شروع کرنا آسان ہوتا ہے لیکن ان کے خاتمے کا اختیار کسی ایک فریق کے پاس نہیں رہتا طاقتور ممالک اور متحارب حریفوں سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ افہام وتفہیم ہی ہر مسئلے کا حل ہے طاقت اور بارود سے دیرپا امن قائم نہیں کیا جاسکتا مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کئے جانے والے فیصلے میدان جنگ میں کئے گئے فیصلوں سے کہیں زیادہ پائیدار ثابت ہوتے ہیں انسانیت کی بقاء اسی میں ہے کہ جنگ کے شعلوں کو مزید پھیلنے سے روکا جائے اور مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر باہمی مسائل حل کئے جائیں اس نازک موڑ پر ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اپنی خاموشی توڑیں اگر مشرق وسطی کی آگ کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو انسانیت ایک ایسے تاریک دور میں داخل ہوجائے گی جہاں واپسی شاید ممکن نہ ہو امریکہ کی مثال اس وقت بندر کے ہاتھ میں ماچس کی تیلی جیسی ہے جس سے وہ پوری دنیا کو بھسم کرنا چاہتا ہے موجودہ حالات میں عالمی سطح پر حکمت اور تدبر ہی دنیا کو ممکنہ تباہی سے بچا سکتا ہے اس سلسلے میں علاقائی اور عالمی رہنماؤں کو اپنا بھرپور کردار بروئے کار لانے کی فوری اور اشد ضرورت ہے**