اسلام آباد (ٹی این ایس) وزیراعظم کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان

 
0
7

اسلام آباد (ٹی این ایس) وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قوم سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ رواں ہفتے میں بھی پیٹرول پر 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 203 روپے اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی تھی، حکومت عوام کو پیٹرول صرف 322 اور ڈیزل 335 روپے فی لیٹر پر فراہم کررہی ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ اس ہفتے حکومت مزید 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرے گی، مسلسل 3 ہفتے میں 125 ارب روپے کا تاریخی بوجھ حکومت نے اپنے کاندھوں پر اٹھایا ہے۔ یہ خطیر رقم عوام کی فلاح کے کئی منصوبوں کے لیے استعمال ہوسکتی تھی لیکن عوام کے معاشی تحفظ سے زیادہ کچھ عزیز نہیں ہے, کفایت شعاری ہماری مشترکہ ذمہ داری بن گئی ہے، دنیا بھر کے ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دگنا بڑھ چکی ہیں، پمپس پر عوام کی لائنیں لگی ہیں، حکومت نے محدود وسائل کے باوجود بروقت اقدامات سے مہنگائی کے طوفان کو روک رکھا ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام حکومت سے کفایت شعاری مہم میں تعاون کریں، قوم کے باہمی اتحاد اور تعاون سے مشکل حالات سے سرخرو ہوکر نکلیں گے۔یہ یاد رکھیں خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور ایران پر حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 158 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ اس عالمی بحران کے تناظر میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے درج ذیل اہم فیصلے کیے ہیں:
قیمتوں میں اضافے کا بوجھ اٹھانے سے انکار: وزیراعظم نے 21 مارچ 2026 کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 76 روپے سے 177 روپے فی لیٹر تک کے مجوزہ اضافے کی سفارشات کو مسترد کر دیا ہے۔
حکومتی سبسڈی: پیٹرول اور ڈیزیل کی قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے وفاقی حکومت ایک ہفتے کے لیے 45 ارب روپے کا اضافی بوجھ خود برداشت کرے گی۔
موجودہ قیمتیں (برقرار): پیٹرول کی قیمت 321.17 روپے اور ڈیزل کی قیمت 335.86 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہے۔
عید الفطر کا تحفہ: وزیراعظم نے واضح کیا کہ عید کے موقع پر عوام کو مزید معاشی دباؤ سے بچانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
سخت کفایت شعاری مہم: تیل کی درآمدی بل میں اضافے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے سرکاری سطح پر پیٹرول کے استعمال میں 50 فیصد کٹوتی اور غیر ضروری اخراجات پر پابندی عائد کر دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملک بھر میں تیل کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائیں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ عالمی بحران کا اثر براہِ راست عام آدمی پر نہ پڑے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ دنیا اس وقت ایک غیرمعمولی آزمائش سے گزر رہی ہے اور خطے میں جاری جنگ نے عالمی معیشت اور امن و استحکام کو متاثر کیا ہے۔ برادر ممالک کی توانائی تنصیبات پر حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور خدشہ ہے کہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں خلیجی تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، اور جو تیل چند ہفتے قبل 72 ڈالر فی بیرل تھا، وہ اب 158 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مارچ کے آغاز میں پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا تھا جس نے عوام پر بوجھ ڈالا، تاہم حکومت نے مزید اضافے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ شہباز شریف نے بتایا کہ انہیں پیٹرول میں 50 روپے اور ڈیزل میں 74 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی، مگر انہوں نے اسے منظور نہیں کیا، کیونکہ ایسے حالات میں قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کرتا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ موجودہ معاشی اور عالمی صورتحال کے باوجود عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے اور ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا جائے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگی صورت حال کے باعث جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد پی آئی اے نے بھی کرایوں میں فیول سرچارج وصول کرنا شروع کردیا ہے۔ انٹرنیشنل پروازوں پر فی ٹکٹ 100 ڈالر فیول سرچارج کی مد میں وصول کیا جارہا ہے۔ اندرون ملک پروازوں کے کرایوں میں 10 ڈالر اضافی فیول سرچارج وصول کیا جارہا ہے، پی آئی اے نے انٹرنیشنل ایئر کارگو سرچارجز بھی فی کلو 80 روپے بڑھادیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک پروازوں پر بھی کارگو کی مد میں اضافی رقم وصول کی جارہی ہے۔ علاوہ ازیں پی آئی اے کی دمام سے اسلام آباد آنے والی پرواز 24 گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکار ہوگئی، پی کے 246 کو آج صبح 7 بجکر 20 منٹ پر اسلام آباد پہنچنا تھا، ایئر اسپیس کلیئر نہ ہونے کے باعث 342 مسافروں کو جہاز میں انتظار کروایا گیا اور دو گھنٹے کے بعد ٹرمینل بلڈنگ منتقل کردیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایئر اسپیس کلیئرنس پر فضائی عملے کے ڈیوٹی اوقات ختم ہونے کے باعث پرواز روانہ نہ ہوسکی، قوانین کے مطابق عملے کو اضافی ڈیوٹی نہ کرائے جانے کے باعث پرواز منسوخ کردی گئی۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 110 ڈالر سے تجاوز کرگئیں، جس سے کئی ترقی پذیر ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ بین الاقوامی تجارتی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان جاری ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے تحت لندن برینٹ اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ دونوں کی قیمتوں میں ڈیڑھ فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 3 فیصد اضافے کے ساتھ 110.16 فی بیرل ہوگئی ہے۔ امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی 2.14 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد اس کے نرخ 96 ڈالر 57 سینٹ فی بیرل پر پہنچ گئے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے یقینی نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اس اضافے سے پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ایران جنگ کے باعث امریکی اسٹاک مارکیٹ ‘وال اسٹریٹ’ بدترین مندی کا شکار ہوگئی ،ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں1.7 فیصد کی بڑی کمی سے سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالرز ڈوب گئے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آخری دن انڈیکس میں 1200 پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے، مارکیٹ نے ایک لاکھ 52 ہزار کی نفسیاتی حد کھودی۔ ہنڈریڈ انڈیکس ایک لاکھ 51 ہزار 707 پوائنٹس پر بند ہوا۔کاروبار کے دوران انڈیکس ایک لاکھ 53 ہزار 660 پوائنٹس کی بلند سطح پر ٹریڈ ہوا، آج مارکیٹ میں 23 ارب روپے مالیت کے 43 کروڑ 24 لاکھ حصص کے سودے ہوئے۔ مجموعی طور پر 567 کمپنیوں میں شیئرز کا کاروبار ہوا، 126 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 287 میں کمی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز انڈیکس ایک لاکھ 52 ہزار 907 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز مسترد ہونے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں امریکی اسٹاک مارکیٹ ‘وال اسٹریٹ’ بدترین مندی کا شکار ہوگئی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے نے بتایا کہ جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے باعث نیسڈیک ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل اس انڈیکس میں 2.4 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ ایس اینڈ پی 500 کی انڈیکس میں 1.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے اب مسلسل پانچویں ہفتے بڑے خسارے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ ڈاؤ جونز نڈسٹریل ایوریج میں بھی 1 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہنے کی وجہ سے سرمایہ کار اب پرخطر اثاثوں سے پیسہ نکال کر سونے اور محفوظ سرمایہ کاری کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اگر جنگ بندی کے حوالے سے کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو عالمی معیشت کو مزید سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کیلئے مذاکرات میں مثبت پیش رفت اور ایرانی توانائی تنصیبات پر حملوں میں 10 روزہ وقفے کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں گزشتہ چھ ماہ کی سب سے بڑی ہفتہ وار کمی کی جانب گامزن ہیں۔ جمعہ کو عالمی وقت کے مطابق صبح تین بجکر 53 منٹ پر برینٹ فیوچرز 84 سینٹس (0.8 فیصد) کمی کے ساتھ 107.17 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.02 ڈالر (1.1 فیصد) کی گراوٹ کے بعد 93.46 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ گزشتہ سیشن میں قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا، تاہم ہفتہ وار بنیادوں پر دونوں بینچ مارکس میں 4.6 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
فلپ نووا کی تجزیہ کار پریانکا سچدیوا کا کہنا ہے کہ تناؤ میں کمی کی باتوں کے باوجود مارکیٹ محض شہ سرخیوں پر نہیں بلکہ جنگ کے طویل ہونے کے خدشات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ آئل انفرااسٹرکچر کو کسی بھی براہِ راست نقصان کی صورت میں مارکیٹ دوبارہ تیزی سے اوپر جا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جہاں ایک طرف ٹرمپ نے حملوں میں وقفے کا اعلان کیا ہے، وہیں امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں مزید فوجی بھیجے ہیں اور ایران کے اہم آئل حب خارگ آئی لینڈ پر قبضے کے لیے زمینی فوج کے استعمال پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایک ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان کے ذریعے تہران کو بھیجی گئی 15 نکاتی امریکی تجویز یکطرفہ اور غیر منصفانہ ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق اس جنگ نے عالمی سپلائی سے یومیہ 11 ملین بیرل تیل نکال دیا ہے، جو 1970 کے دہائی کے بحرانوں سے بھی زیادہ سنگین صورتحال ہے۔ ماہرین کا انتباہ ہے کہ اگر یہ جنگ جون تک طویل ہوئی تو قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ اسی طرح چین نے ملک کی بڑی ریفائنریز کو ڈیزل اور پیٹرول کی برآمدات روکنے کا حکم دے دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق چین نے ریفائنریز کو ملکی ضروریات مقدم رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق فیصلہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث خام تیل کی ترسیل میں رُکنےکی وجہ سے کیا گیا۔ چین خطے میں ایندھن کی ترسیل کرنے والے بڑے برآمد کنندگان میں شامل نہیں ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق جاپان، انڈونیشیا، بھارت سمیت کئی ممالک ریفائنریز کی پیداوار میں کمی اور برآمدات عارضی معطل کرچکے ہیں۔ بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں آئندہ دنوں میں مزید اضافے کے خدشے کی وارننگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ایندھن کی بچت کے لیے قومی سطح پر مشترکہ کوشش کی ضرورت پر زور دیا ہے اطلاعات کے وزیر نے کہا کہ امریکی-اسرائیل-ایران جنگ کے آغاز سے اب تک پیٹرول کی قیمت میں 150 روپے اور ڈیزل میں 250 روپے اضافے کا امکان ٹال دیا گیا ہے، تاہم یہ صورتحال زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتی۔ عطاء اللہ تارڑ نے حکومت کی جانب سے عوام سے اپیل کی کہ موجودہ عالمی حالات کے پیشِ نظر ایندھن کی بچت میں فعال کردار ادا کریں۔ اس کے علاوہ وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے شہریوں سے کہا کہ وہ کفایت شعاری کے اقدامات پر مکمل عمل کریں، جیسے غیر ضروری سفر سے گریز، کار پولنگ کو فروغ دینا، گھر سے کام کرنا، اور تعلیمی اداروں میں ای لرننگ کو اپنانا۔ان وسائل کی بچت سے ایندھن کی درآمدات کا انتظام آسان ہوگا اور حکومت کو غریب عوام کی حمایت کے لیے فنڈز مختص کرنے میں مدد ملے گی۔ تیل ریفائنریز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تیل کی خریداری جاری رکھیں، چاہے قیمت کچھ بھی ہو، تاکہ پاکستان میں سپلائی میں رکاوٹ نہ آئے۔ علی پرویز ملک نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل سید آصف منیر کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا، جنہوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل کی سپلائی کو یقینی بنایا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت کی پیشگی اقدامات کی بدولت ملک میں فی الحال مناسب تیل کے ذخائر موجود ہیں، تاہم عوام کو اب بھی غیر ضروری ایندھن کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی ایندھن کی قیمتیں 158 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں اور حکومت عوام کو بڑھتی قیمتوں کے مالی بوجھ سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ کہا ”جہاں عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا پاکستان پر اثر پڑا ہے، حکومت نے عوام کو مسلسل دوسری بار قیمتوں میں اضافے سے بچایا ہے انرجی بحران کے انتظام اور زرمبادلہ کی حفاظت کے لیے، وزیر نے کہا کہ حکومت نے خود بھی کچھ کفایت شعاری کے اقدامات کیے ہیں، جن میں سرکاری گاڑیوں کا 60 فیصد زمین پر روکنا شامل ہے تاکہ ایندھن کی کھپت کم ہو سکے۔ ”تمام سرکاری محکموں میں پیٹرول کے استعمال میں 50 فیصد کمی لازمی قرار دی گئی ہے“، تاکہ موجودہ پیٹرول کے ذخائر کو محفوظ رکھا جا سکے اور قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے۔ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کفایت شعاری اپنائیں، اور واضح کیا کہ حکومت سخت داخلی کٹوتیوں کے ذریعے خود مثال قائم کر رہی ہے۔
ادھرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایران کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اہم گزرگاہ کو فوری طور پر نہ کھولا گیا تو امریکا سخت کارروائی کرے گا۔ ،دریں اثنا ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والی جارحیت کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔ یہ بات ایران کے بھارت میں سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتائی۔انہوں نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے گروپ برکس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف جارحیت کو روکنے کے لیے آزاد اور مؤثر کردار ادا کرے۔ادھر جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موٹیگی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ میں مکمل جنگ بندی ہو جاتی ہے تو جاپان آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے اپنی فوج تعینات کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایک ٹیلی وژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ موٹیگی کے مطابق اگر جنگ بندی کے بعد سمندری راستوں میں بارودی سرنگیں جہاز رانی کے لیے رکاوٹ بنیں تو ایسی صورت میں مائن سویپنگ جیسے اقدامات زیر غور آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فی الحال ایک فرضی صورتحال ہے، جاپان کی فوجی سرگرمیاں اس کے جنگ کے بعد بنائے گئے امن پسند آئین کے تحت محدود ہیں۔ تاہم 2015 میں منظور ہونے والی سکیورٹی قانون سازی کے تحت جاپان کو بیرون ملک اپنی سیلف ڈیفنس فورسز استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اگر کسی حملے سے ملک کی بقا کو خطرہ لاحق ہو اور اس کا کوئی دوسرا حل موجود نہ ہو۔ آبنائے ہرمز، جسے عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ سمجھا جاتا ہے، دنیا کے تقریباً 20 فیصد حصے کے تیل کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔ جاپان اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد اسی راستے سے حاصل کرتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جاپان کے خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ انہوں نے جاپانی وزیر خارجہ توشیمیتسو موٹیگی سے اس امکان پر بات کی ہے کہ جاپان سے وابستہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان کی وزیراعظم سنیے تاکائیچی سے ملاقات میں اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے مزید کردار ادا کریں۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران جاپانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے، عباس عراقچی نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ راستہ صرف ان ممالک کے جہازوں کے لیے محدود کیا گیا ہے جو ایران کے خلاف حملوں میں شامل ہیں۔ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان، جس میں ایران، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اور کویت میں توانائی کی تنصیبات پر حملوں کی ایک سلسلہ وار کارروائی شامل ہے، جس نے عالمی ایندھن کی رسد کی سلامتی اور تسلسل پر خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ خطے میں غیر مستحکم حالات کے باوجود، پاکستان کے بندرگاہ حکام نے تمام چار جہازوں کی محفوظ آمد کی تصدیق کر دی ہے، جو ملک کی توانائی کی درآمدات کو موجودہ کشیدگی کے باوجود یقینی بنانے کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس دوران عالمی سفارتی محاذ پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں جی 7 ممالک نے ایران سے فوری اور غیرمشروط طور پر تمام حملے روکنے کا مطالبہ کر دیاہےدوسری جانب ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک، توانائی کے انفراسٹرکچر اور آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والی شپنگ کو نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہو کر معطل ہو چکی ہے، اور عالمی منڈی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔واضح رہے کہ ایران نے میزائل حملوں سے اسرائیل کے جنوبی شہر دیمونا کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں 51 افراد زخمی ہوگئے۔ایران نے آپریشن وعدہ صادق میں وسطی اسرائیل کے 10 مقامات کو میزائلوں کا نشانہ بنایا ہے۔اسرائیل کے جنوبی شہر دیمونا میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے نتیجے میں ایک عمارت تباہ ہو گئی جب کہ 20 اسرائیلی زخمی ہوگئے۔ حملہ ایران کی جانب سے جاری نئے میزائل آپریشن کا حصہ ہے حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے کلسٹر وار ہیڈ والے میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔ جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے نتیجے میں تقریباً 20 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ دیمونا میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کی ویڈیو بھی منظرِ عام پر آ گئی ہے، جس میں میزائل کو شہر پر گرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے اطلاعات کے مطابق میزائل کے ٹکرانے سے ایک عمارت منہدم ہو گئی، جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ دوسری جانب اسی دوران شہر اور قریبی علاقوں میں ایک بار پھر خطرے کے سائرن بج اٹھے اور لوگ خوفزدہ ہوکر شیلٹز میں بھاگتے ہوئے نظر آئے۔رپورٹ کے مطابق کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکا پر مشتمل جی 7 ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا کہ یہ حملے بلاجواز ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ جی 7 ممالک اپنے علاقائی شراکت داروں کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔ کہا کہ شہری آبادی اور توانائی کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔مزید کہا گیا کہ جی 7 ممالک عالمی توانائی کی فراہمی کو برقرار رکھنے اور اسے سہارا دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔دوسری جانب روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے ایرانی قیادت کو بلامشروط حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ روس مشکل وقت میں تہران کا قابلِ اعتماد دوست اور شراکت دار ہے اور ہر مشکل گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا رہے گا۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو ایرانی نئے سال نوروز کے موقع پر تہنیتی پیغام بھیجا اور کہا کہ روس ایران کے ساتھ ہے۔ روسی صدر پیوٹن نے ایرانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مشکل حالات میں روس، ایران کا ایک وفادار دوست اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔ خیال رہے کہ روسی صدر کی جانب سے ایران کی حمایت کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری ہیں جب کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں اب تک 1400 سے زائد ایرانی شہری شہید ہوچکے ہیں جن میں 204 بچے شامل ہیں۔ دوسری جانب ایران کو درپیش موجودہ بحران کے تناظر میں بعض ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماسکو کی جانب سے عملی تعاون محدود رہا ہے، جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ روس کا مؤقف ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے مشرق وسطیٰ کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے اور اس کے نتیجے میں عالمی توانائی بحران بھی پیدا ہوا ہے۔ روسی صدر نے ایرانی قیادت کے قتل کو ”سنگدلانہ اقدام“ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت بھی کی۔ ادھر ایک امریکی جریدے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ماسکو نے واشنگٹن کو تجویز دی تھی کہ اگر امریکا یوکرین کو انٹیلی جنس فراہم کرنا بند کرے تو روس ایران کے ساتھ معلومات کا تبادلہ روک سکتا ہے تاہم امریکا نے اس تجویز کو مسترد کر دیا جب کہ کریملن نے اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔