اسلام آباد (ٹی این ایس) وزیرِ اعظم پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں امن کیلیے کوششیں

 
0
5

اسلام آباد (ٹی این ایس) وزیرِ اعظم پاکستان سے خطے میں امن اور تعاون کے فروغ کے سلسلے میں پاکستان,سعودی عرب،ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی ملاقاتیں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں پاکستان کے فعال کردار کو مضبوط بناتا ہے
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے پیش نظر قیام امن کی کوششوں کیلیے پاکستان آنے والےسعودی عرب،ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی,
وزیر اعطم شہباز شریف نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کو ملاقات کے دوران یقین دہانی کروائی کہ پاکستان ہمیشہ ان کے ملک کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔وزیر اعظم شہباز شریف سے سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ملاقات کی۔ اس موقع پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک اور معاون خصوصی موجود تھے۔ملاقات کے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم اور سعودی وزیر خارجہ کی ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی، شہباز شریف نے فیصل بن فرحان کا پرتپاک استقبال کیا اور شاہ سلمان کیلیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جبکہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کیلیے بھی خیر سگالی کا پیغام دیا۔اعلامیے کے مطابق پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا گیا، وزیر اعظم نے موجودہ بحران میں سعودی عرب کی جانب سے غیر معمولی تحمل کو سراہا اور یقین دہانی کروائی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔وزیر اعظم نے حالیہ دنوں میں ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ اپنی گفتگوؤں کا حوالہ دیا، 12 مارچ کو جدہ میں ہونے والی ملاقات کا بھی حوالہ دیا گیا، شہباز شریف نے موجودہ بحران کے دوران پاکستان کی وسیع سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا اور امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ وزیر اعظم نے نازک وقت میں اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت کو اجاگر کیا، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ان کا شکریہ ادا کیا، خطے کی صورتحال پر سعودی عرب کے مؤقف سے آگاہ کیا۔وزیراعظم شہبازشریف سے ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور مشیر قومی سلامتی بھی موجود تھے۔ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاقان فدان اور مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر بن عبدالعاطی کا وزیراعظم ہاؤس آمد پر معاون خصوصی طارق فاطمی نے پرتپاک استقبال کیادریں اثنا،
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی کے لیے اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا مشاورتی اجلاس شروع ہو گیا ہے پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سعوی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، ترکیے کے وزیر خارجہ حاقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اجلاس میں شریک ہیں۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ خطے کی موجودہ صورتحال، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی کے امکانات پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔یہ اجلاس نائب وزیر اعظم پاکستان و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر منعقد ہو رہا ہے۔ مشاورتی اجلاس کے دوران خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، بشمول امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی، کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔اس کے علاوہ شرکاء باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کریں گے تاکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے پورے خطے کو متاثر کر رکھا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نیک نیتی کے ساتھ خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سمیت تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے برادر ممالک سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور یہ دورہ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا ایک موقع فراہم کرے گا وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قطری اور ایرانی ہم منصب سے رابطہ کیا ہے، جس میں خطے کی صورت حال اور پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا، اسحاق ڈار نے عباس عراقچی سے گفتگو میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ سے بھی بات چیت ہوئی، قطری قیادت کی جانب سے پاکستان کی امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو سراہا گیا۔ قبل ازیں، ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، اسحاق ڈار نے ایکس پوسٹ میں لکھا روزانہ دو پاکستانی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی، ایران کا یہ اقدام خوش آئند، تعمیری اور خطے میں امن کا پیش خیمہ ہے۔ اسحاق ڈار نے ٹوئٹ میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بھی ٹیگ کیا۔ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ہفتے کو وزیراعظم شہباز شریف کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے کیلئے مذاکرات اور ثالثی کیلئے باہمی اعتماد سازی کی اشد ضرورت ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ٹیلیفونک گفتگو کے دوران صدر پزشکیان نے خطے میں امن کیلئے پاکستان کے معاون کردار پر وزیراعظم شہبازشریف کی تعریف کی۔ صدر نے ایران کے خلاف اسرائیل کی جانب سے جاری حالیہ جارحانہ عزائم اور حملوں کے حوالے سے اپنا موقف بھی بیان کیا۔ رہنماؤں نے خطے میں جاری جارحیت اور امن کی کوششوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ایک گھنٹہ سے زائد جاری رہنے والی تفصیلی گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں، بشمول جمعہ کو سویلین انفرااسٹرکچر پر کیے گئے حالیہ حملوں کی پاکستان کی جانب سے دوبارہ مذمت کی۔ انہوں نے ان مشکل حالات میں ایران کے بہادر عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے 1900 سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی اور بے گھر ہونے والے افراد کے لیے دعا بھی کی۔ وزیراعظم نے ایرانی صدر کو اپنی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے امریکہ، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں سے آگاہ کیا جن کا مقصد امن مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے امن اقدام کی بھرپور حمایت کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مشترکہ کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کی مؤثر راہ نکلے گی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے ایرانی صدر کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام لانے کیلئے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے خطے میں امن کو آگے بڑھانے اور مذاکرات کی سہولت کاری کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہنے پر ایرانی صدر کا شکریہ ادا کیا۔ مزید کہا کہ میں نے انہیں امریکہ، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری پاکستان کی سفارتی رسائی سے آگاہ کیا, یاد رہےکہ مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔
یاایران پر امریکا اور اسرائیل کے مسلسل حملوں کے بعد علاقائی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس دوران پاکستان ایک غیر متوقع ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، جو واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان ثالث کا یہ کردار کئی وجوہات کی بنا پر ادا کرنے کو تیار ہوا ہے, ان وجوہات میں سے ایک تو یہ ہے کہ پاکستان کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ نسبتاً اچھے تعلقات ہیں، اور دوسرا یہ کہ اس جنگ کے خاتمے میں پاکستان کا اپنا بہت بڑا مفاد وابستہ ہے۔, پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ امن کی یہ کوششیں ہفتوں کی خاموش سفارت کاری کا نتیجہ ہیں۔,ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کے کردار کا انکشاف چند روز قبل ہوا تھا۔ بعد ازاں اسلام آباد میں حکام نے اعتراف کیا کہ ایک 15 نکاتی امریکی تجویز ایران کو پہنچائی گئی ہے۔ان بالواسطہ مذاکرات میں ایران کی طرف سے رابطہ کار کون ہے، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ ایران نے باضابطہ طور پر ایسے کسی مذاکرات کی تردید کی ہے اور امریکی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، تاہم تہران نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے امریکی تجاویز کا اپنی تجاویز کے ساتھ جواب دیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی پیغامات ایران کو اور ایرانی جوابات واشنگٹن کو پہنچائے جا رہے ہیں۔ پاکستان وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اس ہفتے بتایا تھا کہ ترکیہ اور مصر بھی فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پسِ پردہ کام کر رہے ہیں۔ماضی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں عمان اور قطر جیسے ممالک نے ثالثی کی ہے، لیکن موجودہ جنگ میں ان ممالک کے خود ایرانی حملوں کی زد میں آنے کے بعد پاکستان نے یہ ذمہ داری سنبھالی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کا ہمسایہ ہونے اور امریکا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی وجہ سے پاکستان ایک منفرد پوزیشن میں ہے۔ اسلام آباد کے جنگ میں شامل اہم فریقین کے ساتھ ورکنگ ریلیشنز ہیں۔ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے قریبی اسٹرٹیجک تعلقات ہیں، جن کے ساتھ گزشتہ سال دفاعی تعاون کا معاہدہ بھی کیا گیا تھا۔ تاہم، مسئلہ فلسطین کی وجہ سے پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔گزشتہ ایک سال کے دوران امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ پاکستان نے ٹرمپ کے ”بورڈ آف پیس“ میں بھی شمولیت اختیار کی ہے جس کا مقصد غزہ میں امن کو یقینی بنانا ہے۔ حال ہی میں صدر ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی بات کی ہے، جنہیں امریکی صدر نے عوامی طور پر اپنا ”پسندیدہ فیلڈ مارشل“ قرار دیا ہے۔ یہ تنازع پاکستان کی تاریخ کے ”سب سے بڑے معاشی اور توانائی چیلنجز“ میں سے ایک ہے پاکستان اپنی تیل اور گیس کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے، اور عرب ممالک میں کام کرنے والے 50 لاکھ پاکستانی جو زرمبادلہ بھیجتے ہیں، وہ پاکستان کی کل برآمدی آمدنی کے برابر ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی سے تیل کی عالمی قیمتیں بڑھی ہیں، جس کی وجہ سے حکومت کو ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ کرنا پڑا ہے۔ یہ جنگ پاکستان کے اندرونی حالات پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ ایران پر امریکی حملوں کے بعد ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کراچی اور شمالی علاقوں میں ہونے والے تصادم میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 120 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر مشتعل ہجوم کے حملے میں 12 افراد جان سے گئے تھے۔اگرچہ پاکستان شاذ و نادر ہی ثالث بنتا ہے، لیکن اس کے ریکارڈ میں اہم مذاکرات شامل ہیں۔ 1972 میں صدر یحییٰ خان نے امریکی صدر رچرڈ نکسن کے تاریخی دورہ چین کے لیے پسِ پردہ رابطوں میں سہولت کاری کی تھی۔
پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی 1971 میں اس وقت سامنے آئی جب اس نے دنیا کے دو بڑے حریفوں، امریکا اور چین کو قریب لانے میں مدد کی۔ جولائی 1971 میں پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان دہائیوں سے منقطع سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے ایک ایسا خفیہ اور سنسنی خیز مشن سرانجام دیا جو کسی فلمی کہانی سے کم نہ تھا۔ اس مشن کے مرکزی کردار امریکی صدر رچرڈ نکسن کے مشیر برائے قومی سلامتی ہنری کسنجر تھے، جن کے بیجنگ کے سفر کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لیے صدر یحییٰ خان نے ایک نہایت محتاط منصوبہ ترتیب دیا۔اس وقت چین اور امریکا دونوں ہی اپنی سیاسی اور تزویراتی مجبوریوں (جیسے سوویت یونین سے کشیدگی اور ویتنام جنگ) کے باعث ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے تھے، مگر بیس سالہ دشمنی کی وجہ سے براہِ راست رابطہ مشکل تھا۔ منصوبے کے مطابق ہنری کسنجر نے جولائی 1971 میں اسلام آباد کا سرکاری دورہ کیا، جہاں سے انہیں خفیہ طور پر بیجنگ روانہ ہونا تھا۔ ان کی اسلام آباد میں عدم موجودگی کو چھپانے کے لیے یہ خبر پھیلائی گئی کہ وہ سخت تھکن اور ”آم“ کھانے کی وجہ سے طبیعت ناساز ہونے پر نتھیا گلی کے ریسٹ ہاؤس میں آرام کر رہے ہیں۔تاہم، حقیقت میں نتھیا گلی میں ان کا ایک ہم شکل اسسٹنٹ پروٹوکول کے ساتھ ٹھہرایا گیا تھا، یہاں تک کہ ایک ایسے ڈاکٹر سے ان کا معائنہ بھی کرایا گیا جو کسنجر کو پہچانتا نہ تھا۔ اس دوران کسنجر پی آئی اے کے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے، جس کا عملہ بھی اس مشن سے بڑی حد تک بے خبر تھا، شاہراہِ قراقرم کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے بیجنگ پہنچے اور چینی وزیرِ اعظم چو این لائی سے تاریخی ملاقات کی۔ اس کامیاب خفیہ دورے کے بعد صدر نکسن نے 15 جولائی 1971 کو دنیا کو اس مشن سے آگاہ کیا اور اگلے سال خود چین کا دورہ کیا، جس سے ”شنگھائی اعلامیہ“ اور بالاآخر 1979 میں باقاعدہ سفارتی تعلقات کی راہ ہموار ہوئی۔اس اہم پیش رفت نے سرد جنگ کے عالمی تناظر کو بدل کر رکھ دیا اور امریکا و سوویت یونین کی کشیدگی میں بھی کمی آئی۔ اگرچہ پاکستان نے اس عظیم سفارتی خدمت کے ذریعے عالمی تاریخ کا دھارا بدل دیا، مگر سابق سیکرٹری خارجہ سلطان محمد خان کے مطابق، پاکستان اس وقت کے اپنے مشکل حالات (1971 کی جنگ) میں ان دونوں بڑی طاقتوں سے وہ توقعات پوری نہ کر سکا جن کی اسے امید تھی۔اسی طرح 1967 اور 1974 کی عرب اسرائیل جنگوں کے دوران بھی پاکستان کا کردار محض بیان بازی تک محدود نہیں تھا۔ پاکستان نے نہ صرف عرب ممالک کی بھرپور سفارتی حمایت کی بلکہ اس کے ماہر پائلٹس نے اردن اور شام کی فضائی حدود کا دفاع کرتے ہوئے اسرائیل کے طیارے بھی مار گرائے۔ جس کی کہانی انتہائی دلچسپ ہےاس آپریشن میں حصہ لینے والے پاکستانی پائلٹ ستار علوی نے مختلف انٹرویوز میں بتایا کہ انہوں نے 26 اپریل 1974 کو شامی فضائیہ کے ’مگ 21‘ طیارے کے ذریعے اسرائیلی ’میراج‘ طیارے کو مار گرایا۔یہ واقعہ اس لحاظ سے منفرد تھا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، مگر پاکستانی پائلٹس نے ایک دوسرے ملک (شام) کی طرف سے رضاکارانہ طور پر اس جنگ میں حصہ لیا۔ ستار علوی کے مطابق، اکتوبر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران انہوں نے اپنے ساتھیوں سمیت اپنی خدمات پیش کیں، جس پر اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ایئر چیف نے شامی صدر حافظ الاسد کی رضامندی سے 16 پائلٹس کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ ستار علوی نے کہا کہ روانگی سے قبل ان پائلٹس سے ایک قانونی دستاویز پر دستخط لیے گئے جس کے مطابق حکومتِ پاکستان ان کی کسی بھی ناگہانی صورتحال کی ذمہ دار نہ ہوتی۔ ان کے مطابق، شام پہنچنے والے 8 پائلٹس کو ’67 اے یونٹ‘ کا نام دیا گیا اور انہیں دمشق کے قریب دفاعی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔روسی ساختہ طیاروں اور عربی زبان کے باوجود پاکستانی پائلٹس نے جلد ہی خود کو حالات کے مطابق ڈھال لیا۔ 26 اپریل کو ایک دفاعی مشن سے واپسی پر ستار علوی کا سامنا اسرائیلی طیاروں سے ہوا۔ ایندھن کی کمی اور ریڈار کے منقطع رابطے کے باوجود، انہوں نے ’سزرز‘ نامی فضائی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ایک اسرائیلی میراج کو اپنے نشانے پر لیا۔ ستار علوی بتاتے ہیں کہ میزائل فائر کرنے کا وہ ایک سیکنڈ ان کی زندگی کا طویل ترین لمحہ تھا، جس کے بعد میزائل اسرائیلی طیارے سے جا ٹکرایا اور وہ تباہ ہو گیا۔ اس معرکے کے بعد ستار علوی نے انتہائی کم ایندھن کے ساتھ اپنا طیارہ بحفاظت لینڈ کیا۔ ۔

شامی فوج نے اس مقام سے زخمی اسرائیلی پائلٹ کیپٹن لٹز کو گرفتار کیا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ شام کی حکومت نے ستار علوی کو ملک کے سب سے بڑے اعزاز سے نوازا اور اسرائیلی پائلٹ کا فلائنگ سوٹ بطور ٹرافی انہیں دیا گیا۔حکومتِ پاکستان نے طویل عرصے تک اس واقعے کو خفیہ رکھا، تاہم بعد میں ستار علوی کو ان کی بہادری پر ’ستارہ جرات‘ سے نوازا گیا۔ اس واقعے کے علاوہ بھی عرب اسرائیل جنگ کے دوران پاکستان نے ان نازک حالات میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر بھی جنگ بندی کے لیے مؤثر آواز اٹھائی اور تنازع کے حل کے لیے کئی قرار دادیں پیش کیں۔1950 سے 1953 تک چلنے والی جزیرہ نما کوریا کی جنگ دراصل سرد جنگ کی ایک بڑی پراکسی وار تھی جس نے کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اس جنگ میں شمالی کوریا کو سوویت یونین اور چین کی حمایت حاصل تھی جبکہ جنوبی کوریا کو امریکا اور اقوام متحدہ کی پشت پناہی میسر تھی۔ پاکستان نے جنوبی کوریا پر سے شمالی کوریا کا قبضہ چھڑانے، امن فوج کی تعیناتی اور جنگی قیدیوں کی بحفاظت واپسی میں جو کردار ادا کیا، اسے آج بھی کوریا کی تاریخ میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔اگرچہ 1953 میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، لیکن یہ جنگ باضابطہ طور پر کبھی ختم نہیں ہوئی اور تناؤ آج بھی برقرار ہے۔ 1947 میں قائم ہونے والے پاکستان نے ابتدا ہی سے مغربی بلاک کے ساتھ اتحاد کیا اور سرد جنگ کے دباؤ کے باوجود کوریا میں اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کی۔ 1950 میں اس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے جنوبی کوریا کے حق میں اقوام متحدہ کی کارروائی کا ساتھ دے کر کمیونسٹ پھیلاؤ کے خلاف امریکی موقف کی تائید کی۔ کوریائی جنگ نے پاکستان کے امریکا کے ساتھ دفاعی تعاون میں مزید اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان 1954 میں ’سیٹو‘ (SEATO) اور 1955 میں سینٹو (CENTO) جیسے معاہدوں کا حصہ بنا۔تاہم، ایک تضاد یہ بھی سامنے آیا کہ 1970 کی دہائی سے پاکستان نے شمالی کوریا کے ساتھ ایک علیحدہ سیکیورٹی شراکت داری قائم کی۔ 1976 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورہ شمالی کوریا سے اس تعلق کا آغاز ہوا، جو بعد ازاں 1990 کی دہائی میں میزائل ٹیکنالوجی کے تبادلے کے الزامات کی صورت میں زیرِ بحث رہا۔ان پیچیدہ دفاعی تعلقات کے ساتھ ساتھ پاکستان نے جنوبی کوریا کے ساتھ بھی مضبوط تجارتی اور سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ ان تعلقات کی اہمیت کا اندازہ اعلیٰ سطح کے دوروں سے لگایا جا سکتا ہے، جیسے کہ 2003 میں جنرل پرویز مشرف کا دورہ سیول، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی شراکت داری کو مستحکم کرنے کی ایک کڑی تھا۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے افغان طالبان اور واشنگٹن کے درمیان رابطے کروائے، جس کے نتیجے میں 2020 کا دوحہ معاہدہ ہوا اور افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ممکن ہوا۔ یوں پاکستان کی خارجہ پالیسی کوریائی تنازع کے حوالے سے تزویراتی مفادات، دفاعی ضروریات اور تجارتی تعلقات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ایک مسلسل کوشش رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں بھی پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر منوایا ہے۔