اسلام آباد (ٹی این ایس) یہ ایک تاریخی لمحہ ہے کہ اسلام آباد اب باقاعدہ طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے انتہائی اہم تاریخی امن مذاکرات کا مرکز بن کر میزبانی کے لیےتیارہے۔ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، دونوں رہنماؤں نے کشیدگی میں اب تک کمی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ملاقات میں خطے میں پائیدار امن کیلئے پاکستان کی ثالثی کوششوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ تمام فریق امن اور جنگ بندی کو برقرار رکھیں، اس موقع پر پُرامن مذاکراتی حل کیلئے سہولت اور ہر ممکن تعاون کی فراہمی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ملاقات میں فریقین کی جانب سے دکھائے گئے تحمل اور بردباری کو سراہا گیا، وزیراعظم نے اس عمل میں شامل فریقوں کے عزم کی تعریف اور امن کے حصول کی کوششوں میں کامیابی کی دعا کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان آنے والے وفود کو دعوت کی تجدید کی اور کہا کہ پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون اور اعلیٰ ترین میزبانی فراہم کی جائے گی۔
یہ یاد رکھیں کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان ان تاریخی مذاکرات کی میزبانی محض ایک سفارتی واقعہ نہیں بلکہ ایک سٹریٹیجک موڑ ہے۔ اس کے پاکستان کے داخلی حالات اور پاک-امریکہ تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں,
اسلام آباد کے لیے یہ واقعی ایک تاریخی سنگ میل ہے کہ وہ دنیا کے دو اہم ترین حریفوں، امریکہ اور ایران، کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوا ہے۔ تازہ ترین عالمی صورتحال (9 اپریل 2026) کے تناظر میں، اسلام آباد اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز ہے:
یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ اسلام آباد اپنے نام کی مناسبت سے “امن کا شہر” بن کر ابھرا ہے, اسلام کا بنیادی پیغام ہی سلامتی اور بھائی چارہ ہے، اور جب کوئی شہر یا معاشرہ ان اصولوں کو اپناتا ہے، تو وہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن جاتا ہے۔
سینئر پاکستانی سفارتی نامہ نگار اصغر علی مبارک کے مطابق پاکستان نے اپنی متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی تنازعات کے حل میں ایک غیر جانبدار اور موثر ثالث (Mediator) کا کردار ادا کر سکتا ہے۔امریکہ اور ایران کا اسلام آباد کے انتخاب پر اتفاق کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری کو پاکستان کی سیکیورٹی اور سفارتی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات اور عام تعطیلات کا اعلان اس مشن کی حساسیت اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ان مذاکرات کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنا اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سمیت عالمی تجارتی راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
“اسلام آباد – امن کا شہر” کا بیانیہ عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو مزید بہتر بنائے گا۔اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ پاکستان کے لیے بھی معاشی راہداریاں مزید محفوظ اور فعال ہو جائیں گی۔
اس میزبانی سے پاک-امریکہ تعلقات میں ایک نئی روح پھونکنے کا موقع ملے گا, اب تک امریکہ پاکستان کو زیادہ تر دہشت گردی کے خلاف جنگ یا افغانستان کے تناظر میں دیکھتا رہا ہے۔ اس میزبانی سے پاکستان کا نقش ایک “سیاسی سہولت کار” (Political Facilitator) کے طور پر ابھرے گا، جس سے واشنگٹن میں پاکستان کی اہمیت بڑھے گی, نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) کی آمد اور مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اب پاکستان کو ایک قابلِ بھروسہ ملک سمجھتا ہے۔ اس سے مستقبل میں دفاعی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کی راہیں کھل سکتی ہیں, کامیاب ثالثی کے عوض پاکستان امریکہ سے آئی ایم ایف (IMF) پروگراموں میں نرمی، تجارتی مراعات اور براہِ راست سرمایہ کاری (FDI) کی توقع کر سکتا ہے,داخلی طور پر یہ میزبانی پاکستان کے لیے “گیم چینجر” ثابت ہو سکتی ہ,اتنے بڑے عالمی ایونٹ کی میزبانی سے ملک میں سیاسی تناؤ میں کمی آ سکتی ہے اور عوام میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ پاکستان دوبارہ عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی بن رہا ہے۔ یہ “امن کا شہر” (City of Peace) کے بیانیے کو تقویت دے گا۔ ان مذاکرات کے لیے کیے گئے سخت سیکیورٹی انتظامات اور ان کی کامیابی سے یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان کے ادارے کسی بھی بڑے عالمی ایونٹ کو محفوظ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔
ایران ایک اہم برادر اسلامی ملک اور امریکہ کے درمیان ثالثی سے پاکستان کے اندر موجود مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان بھی مثبت پیغام جائے گا، جو داخلی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ایران-پاکستان گیس پائپ لائن جیسے رکے ہوئے منصوبوں پر امریکی پابندیوں کا خطرہ کم ہو سکتا ہے، جس سے پاکستان کا توانائی کا بحران حل ہونے میں مدد ملے گی , خطے میں کشیدگی کم ہونے سے پاکستان کو وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ تک آسان رسائی ملے گی۔ پاکستان نے خود کو ایک ایسے “پل” کے طور پر پیش کیا ہے جو مشرق اور مغرب کو ملا سکتا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچتے ہیں، تو پاکستان کا شمار دنیا کے بااثر ترین سفارتی مراکز میں ہونے لگے گا , اسلام آباد نے حالیہ برسوں میں نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک پرامن اور محفوظ دارالحکومت کے طور پر اپنی پہچان مستحکم کی ہے۔ چاہے وہ عالمی رہنماؤں کی میزبانی ہو، بڑے بین الاقوامی پروگرام ہوں یا مقامی تہوار، یہاں کے پُرسکون ماحول نے ہمیشہ ایک مثبت تاثر چھوڑا ہے۔ مزید یہ کہ جنگ بندی اعلان کے بعد ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق آج کئی بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز کو پار کر لیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق 24 گھنٹے کے دوران 5 خالی کارگو شپ سمندری گزرگاہ سے گزرے، ایک آئل ٹینکر نے بھی آبنائے ہرمز کو عبور کر لیا۔ 2 ایرانی آئل ٹینکرز نے بھی آبنائے ہرمز کو پار کیا، 28 مارچ سے اہم سمندری گزرگاہ میں بحری ٹریفک جمود کا شکار رہی ہے۔اس دوران
سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے کہاہے کہ میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک بڑے عالمی بحران کو روکنے اور ایران امریکاکے درمیان سیز فائر یقینی بنانے میں غیر معمولی سفارتی کوششیں کیں۔ ایکس پر اپنے پیغام میں نواز شریف نے کہا کہ میں ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کی قیادت کی بھی تعریف کرتا ہوں کہ انہوں نے امن کا راستہ اختیار کیا۔ نواز شریف نے کہا امید ہے کہ یہ اقدام عالمی سطح پر دیرپا استحکام کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوگا,۔ دوسری طرف سینئر پاکستانی سفارتی نامہ نگار اصغر علی مبارک کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایران سے متعلق جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کرنے کے بعد’’اسلام آباد ٹاکس‘‘ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا جبکہ عالمی میڈیا کی جانب سے امن و استحکام کیلئے پاکستان کے بطور نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر کردار کی بھر پور ستائش کی گئی اورکہاگیاکہ پاکستان نے شاندار ملٹری ڈپلومیسی اور موثر سفارتکاری سے اقوام عالم کو متاثر کن جنگ سے بچا لیا ہے ۔
سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے پاکستان کو عالمی امن کا سفیر قرار دیا اورکہا کہ پاکستان نے امریکا اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے بروقت اور موثر اقدامات کئے ۔ مبصرین کے مطابق اسلام آباد ٹاکس کا عالمی سطح پر ٹاپ ٹرینڈ بننا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں کو دنیا بھر میں نہ صرف تسلیم کیا جا رہا ہے بلکہ اسے بھرپور پذیرائی بھی حاصل ہو رہی ہے ۔ماہرین نے کہا کہ جنگ بندی میں پاکستان کاکلیدی کردارنہ صرف ملک کاوقاربلندکرتاہے بلکہ خطے کے معاشی اوردفاعی مفادمیں ہے ، یہ بات انتہائی قابل ستائش ہے کہ دنیامیں امن کے فیصلے اب پاکستان میں ہوں گے ۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق پاکستان نے حالیہ جنگ کے خاتمہ کیلئے بہترین کردار ادا کیا اورڈونلڈ ٹرمپ نے حملے روک دئیے ہیں۔عالمی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ایک طاقتور ثالث کے طورپر ابھر کر سامنے آیا ہے ۔فاکس نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد لڑائی کو روک رہے ہیں ۔بی بی سی نے کہا ہے کہ پاکستان کئی ہفتوں سے خطے میں امن و استحکام کیلئے دن رات کاوشوں میں مصروف رہنے کے بعد کامیاب ہو گیا ۔ گلف نیوز کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے باعث خود کو امن کے ایک بااعتماد ضامن کے طور پر منوا یا ہے ۔ٹی آر ٹی ورلڈ نے کہا ہے کہ پاکستان نے خطے کو تباہ کن خطرات سے بچانے کیلئے ایک تاریخی مصالحتی اور نتیجہ خیز کردار ادا کیا ہے ۔بھارتی جریدہ دی ہندو نے بھی جنگ کے خاتمے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک اور مخلصانہ کوششوں کو اجاگر کیا۔
اس بات کو یاد رکھیں کہ امریکا ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی سے وہ عام خطرات اور خدشات تو ختم ہوئے ہیں جو دنیا کو درپیش تھے اور اس کا بڑا کریڈٹ پاکستان کے حصہ میں آیاہے لیکن یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا ، فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل سے اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے ۔ اسلام آباد مذاکرات میں امر یکا کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اور اسٹیووٹکوف، ایران کی جانب سے سپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی شریک ہوں گے ، فریقین اپنے اپنے نکات کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے ، مذاکراتی عمل کے پیچھے چین، سعودی عرب سمیت اور کئی قوتیں ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اصل کام اب شروع ہو گا اور مذاکرات کی کامیابی اصل چیلنج ہے تو یہ بے جا نہیں ہوگا۔ بلاشبہ امریکا ایران کے درمیان جنگی صورتحال نہایت پیچیدہ اور حساس مسئلہ تھا ، بظاہر نظر نہیں آ رہا تھا کہ جنگ بندی ممکن ہو سکے گی لیکن یہ کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کو جاتاہے جنہوں نے دن رات ایک کرکے فریقین کو جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں تھا ، نوبت یہاں تک آ چکی تھی کہ فریقین یہ چاہتے تھے کہ وہ اپنے اپنے عوام کے سامنے سرخرو ہوسکیں،پاکستان نے حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے امر یکا اور ایران کی مجبوریوں کا خیال کیا اور یہ گنجائش دی کہ دونوں ہی جیتے نظر آ سکیں ،بلاشبہ اس عمل کے پیچھے چین کی مددومعاونت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔پاکستان کی یہ بڑی کامیابی اس امر کا ثبوت ہے کہ جب نیت نیک، مشن جنگ بندی کا خاتمہ اور امن کا قیام ہو اور ٹیم ورک پر یقین ہو تو کامیابی ملتی ہے ، یہ سلسلہ 10مئی 2025 سے شروع ہوا، جس وقت پاکستان کا مقابلہ بھارت سے تھا ،دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان ناقابل تسخیر بن کر ابھرا اور یہی وہ نکتہ تھا جس نے پاکستان کی عالمی حیثیت قائم کی۔ غزہ کے ایشو پر امر یکا میں پاکستان قیادت کی موجودگی پر صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خطے میں اہم فیصلے اب پاکستان کی مرضی سے ہوں گے اور اب یہ منظر اس کی تائید کرتا نظر آ رہا ہے ۔ وزیراعظم نے جنگ بندی کیلئے ٹویٹ کا سہارا لیا تو اس کا اثر گلوبل مارکنگ میں گرین کی صورت میں سامنے آیا۔ صرف معیشت پر ہی اچھے اثرات ظاہر ہوتے نظر نہیں آئے بلکہ تیل کی عالمی قیمتیں نوے ڈالرز فی بیرل تک آ پہنچیں ، عالمی میڈیا پاکستان کی لیڈرشپ کی ستائش کر تا نظر آ رہا ہے ،صرف ایک بھارت ہے جو پاکستان کا تاریخی کردار ہضم نہیں کر پا رہاہے، جنگ بندی کا عظیم عمل اور اسلام آباد میں فریقین کے درمیان مذاکرات کا اعلان نئی دہلی پر بم بن کر گراہے، آج دنیا کو پاکستان کی شکل میں ایک قابل اعتبار اور معاملہ فہم ثالث ملا ہے جس پر دنیا کی طاقتیں اعتماد کرسکتی ہیں ,
دوسری طرف اب مذاکرات کا چیلنج درپیش ہے ، اسرائیل نہیں چاہے گا کہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنا ر ہوں ، پاکستانی معاملات جنگ بندی تک ہیں، اب امن کیلئے سب کا اپنا اپنا کردار ہے ،
مزید یہ کہ جہاں تک امن کے نوبیل انعام بارے ہونے والی چہ میگوئیوں کا سوال ہے تو اگر میرٹ پر فیصلہ ہوا تو آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر , وزیراعظم شہباز شریف سے زیادہ کوئی حقدار نہیں ہوسکتا جنہوں نے جنگ روک کر دکھائی جس نے سب کچھ روک دیا تھا۔
دوسری جانب دفتر خارجہ پاکستان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔ پاکستان لبنان میں اسرائیلی جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں معصوم جانوں کا ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی اقدامات خطے امن اور بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ عالمی برادری اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، پاکستان لبنان کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے، پاکستان لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس سے ٹیلفونک گفتگو ہوئی جس میں فریقین نے لبنان میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں عارضی جنگ بندی کے مکمل نفاذ کی اہمیت پر زور دیا گیا، یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نے پاکستان کی امن و استحکام کے فروغ کے لیے کوششوں میں مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، دونوں رہنمائوں نے لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر تشویش ظاہر کی۔ دونوں رہنمائوں نے جنگ بندی کے مکمل احترام اور عملدرآمد پر زور دیا، دونوں رہنمائوں نے خطہ میں امن اور استحکام برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم نے پائیدار امن کے لیے سعودی عرب کی حمایت کو سراہا، دونوں رہنمائوں نے قریبی رابطہ رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیل کی جانب سے لبنان بھر میں بڑے پیمانے پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ’تمام فریقین سے فوری طور پر کارروائیاں بند کرنے کی اپیل کی ہے۔ جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں شہری بشمول بچے جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں، اور ساتھ ہی شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں فوجی سرگرمیاں جنگ بندی اور خطے میں پائیدار اور جامع امن کی کوششوں کیلئے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی لبنان پر تاریخ کے شدید ترین حملے کیے گئے جس میں 254 افراد شہید اور 1100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان شامل نہیں جبکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ ایران سے ہونے والی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے اعلان میں واضح طور پر لبنان کا ذکر بھی کیا تھا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی لبنان میں جنگ بندی کی شدید خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کے اعلان کو سراہا ہے جب کہ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا خاتمہ خوش آئند ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کا شروع ہونا انتہائی ضروری اور اہم اقدام ہے۔ اس بات کو یاد رکھیں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدے کے حوالے سے نمایاں پیشرفت ہو چکی ہے‘ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10نکاتی منصوبے کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قابلِ عمل سمجھا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے تو صدر ٹرمپ کا دو ہفتے کی جنگ بندی پر راضی ہو جانا غیر متوقع ہے کیونکہ دو تین روز پہلے ہی وہ منگل کے روز ایران پر بڑے حملے کی دھمکیاں دے رہے تھے‘ لیکن منگل کے روز معمول کے حملوں اور جوابی حملوں کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ اللہ کرے کہ ایران اور امریکہ کے مابین اسی طرح حتمی معاہدہ بھی طے پا جائے اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔ حتمی معاہدے کے حوالے سے ایک بات طے ہے کہ کچھ لو کچھ دو کے اصول پر عمل کرتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ اختیار کرنا پڑے گا‘ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایران امریکہ کی تمام تر شرائط تسلیم کرے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ایران کے سبھی نکات مان لیے جائیں۔ بہرحال اس دو ہفتے کی جنگ بندی کو خوش آئند مانتے ہوئے توقع کی جاتی ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہو جائے گی اور مستقل جنگ بندی ایران امریکہ حتمی معاہدے پر منتج ہو گی۔













