اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد اس وقت عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مستقل امن کے لیے تاریخی مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ 10 اپریل 2026 کو ہونے والے ان مذاکرات کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے، جس نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کیا.کامیاب اور متحرک سفارت کاری کے باعث آج دنیا بھر کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں ،پاکستان نے عالمی برادری میں اپنا مقام مزید مستحکم کیا ،پاکستان نے عالمی امور میں ذمہ دار اور مثبت کردار ادا کیا ہے ، جس کی نمایاں مثال خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لئے مؤثر سفارتی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔
پاکستان کا کردار: وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحق ڈار ان مذاکرات میں سہولت کار کے طور پر شریک ہیں۔
امریکی وفد: امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جس میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہیں۔
ایرانی وفد: ایرانی وفد کی سربراہی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔
مقام اور سیکیورٹی: مذاکرات اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع سرینا ہوٹل میں ہو رہے ہیں، جہاں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور وفاقی دارالحکومت میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
ان مذاکرات کا بنیادی مقصد ایک عارضی دو ہفتہ وار جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنا ہے۔ اہم زیرِ بحث نکات درج ذیل ہیں:
بحرِ ہرمز کا کنٹرول: ایران اس اہم تجارتی گزرگاہ پر کنٹرول برقرار رکھنے اور بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس لگانے کا خواہاں ہے، جبکہ امریکہ اس کی فوری اور مکمل بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
جنگ بندی کا دائرہ کار: ایران کا اصرار ہے کہ لبنان (حزب اللہ) کے خلاف اسرائیلی حملے بھی اس معاہدے کا حصہ ہونے چاہئیں، جبکہ اسرائیل نے لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایٹمی پروگرام اور پابندیاں: مذاکرات میں ایران کے یورینیم افزودگی کے حق اور اس پر عائد عالمی پابندیوں کے خاتمے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
اگرچہ عالمی سطح پر ان مذاکرات سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے اختلافات کی وجہ سے فوری طور پر کسی بڑے بریک تھرو کی توقع کم ہے، لیکن بات چیت کا تسلسل ہی خطے میں امن کی جانب پہلا قدم سمجھا جا رہا ہے
مزید یہ کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس ہوا ہے جس میں سیاسی و عسکری قیادت نے جنگ بندی مذاکرات کامیاب بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس میں اعلیٰ عسکری اور سول قیادت نے شرکت کی، اجلاس میں اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی، مذاکرات کامیاب بنانے کے لیے اہم فیصلے بھی کیے گئے۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر دفاع خواجہ آصف اور سیکرٹری خارجہ بھی موجود تھے۔ اجلاس کے شرکاء نے اسلام آباد مذاکرات کو کامیاب بنانے کا عزم کیا، اجلاس میں بتایا گیا کہ جنگ بندی پر پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے، امن کا یہ موقع ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق شرکاء نے جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کرنے پر فیلڈ مارشل کو خراج تحسین پیش کیا۔ قبل ازیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وزیراعظم ہاؤس پہنچے تو وزیراعظم شہباز شریف نے استقبال کیا اور انہیں دو ہفتوں کی جنگ بندی پر مبارک باد دی۔ وزیراعظم نے فیلڈ مارشل کے کردار کو سراہا اور کابینہ فیصلے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا ، اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ہمراہ تھے۔
پاکستان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ ڈیڈ لائن سے 90 منٹ سے بھی کم وقت پہلے جنگ بندی کروا لی ہے,جبکہ اس اقدام نے امن کو ایک موقع دیا اور ایران پر ایک ایسے سفاکانہ حملے کو ٹال دیا جس سے 9.3 کروڑ عام ایرانی متاثر ہوتے، سب جانتے ہیں کہ جنگ شروع کرنا آسان ہے لیکن اسے روکنا مشکل۔ درحقیقت، جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی ایران نے اپنے خلیجی پڑوسیوں کی طرف مزید ڈرون اور میزائل داغے، اور اسرائیل نے حزب اللہ کے اہداف کو ختم کرنے کے بہانے لبنان کے سویلین علاقوں کو اندھا دھند نشانہ بنایا۔
تقریباً 40 دن کی جنگ کے بعد بالآخر امریکی اور ایرانی وفود مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچے ہیں اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی بات چیت کے ذریعے کسی دیرپا امن معاہدے تک پہنچ جائے گی۔ جب وزیرِاعظم شہباز شریف کی کابینہ میں شامل وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے مذاکرات کی کامیابی کی امیدوں کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ: ’ہم دعا گو ہیں، کوشش کر رہے ہیں، اچھے کی امید رکھیں۔‘ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کر دی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر امریکہ کی نمائندگی کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وفد میں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف شامل ہیں۔
سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مذاکراتی وفود کی نقل و حرکت پوشیدہ ہے، لیکن فی الحال توقع یہی ہے کہ مذاکرات کا یہ مرحلہ دو دنوں پر محیط ہوگا۔ اسرائیل کے ساتھ جلد از جلد براہِ راست مذاکرات، جس پر اب دونوں فریق متفق ہو چکے ہیں، اور یہ اعلان کہ فوج اور سکیورٹی فورسز ریاستی اتھارٹی کی مکمل بحالی شروع کر دیں گی، جیسا کہ وزیرِ اعظم نواف سلام نے جمعرات کو کیا، شاید ’کم آید، بدیر آید‘ کے مترادف ہو۔ تاہم تمام امیدیں یہی ہیں کہ مذاکرات کامیاب ہوں، پاکستان میں ہونے والی بات چیت میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے، اور ایران عسکریت پسند تنظیموں سے تعلقات منقطع کرنے پر راضی ہو جائے تاکہ اسرائیل کے پاس اپنے وحشیانہ حملے جاری رکھنے کا کوئی جواز نہ رہے۔ گفت و شنید کے ابتدائی راؤنڈ میں پاکستانی قیادت دونوں وفود کے ساتھ ساتھ علیحدہ ملاقاتیں کرے گی اور پھر بالواسطہ یا بلاواسطہ مذاکرات ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے کی توقع ہے۔ تاہم سرکاری طور پر پاکستانی حکومت نے اس بارے میں تاحال کچھ نہیں کہا ہے۔ پاکستان، ترکی، مصر اور چند دیگر ممالک کی کوششوں کے سبب ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ضروری ہوئی ہے لیکن اسلام آباد کے لیے اس عارضی جنگ بندی کو کسی دیرپا معاہدے تک پہنچانا آسان کام نہیں ہوگا۔بدھ کی رات سے ایران کی قیادت کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے جنھیں پڑھ کر لگا کہ شاید یہ جنگ بندی زیادہ دیر قائم نہیں رہ پائے گی۔ اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے اور ایران نے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی تھا، جہاں اس کا حامی عسکری گروہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف لڑ رہا ہے۔تاہم امریکہ اور اسرائیل دونوں نے اس کی تردید کی، لیکن پھر جمعرات کو اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ بنیامین تین یاہو نے اپنی حکومت کو لبنان کے ساتھ مذاکرات کی ہدایات دے دی ہیں۔ اس بیان کی آمد سے قبل لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے اپنے پاکستانی ہم منصب شہباز شریف سے گفتگو کی تھی اور پاکستان کے وزیرِ اعظم ہاؤس کے مطابق لبنانی وزیر اعظم نے ملک پر حملوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ’حمایت‘ مانگی تھی۔ اس پیشرفت کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کم از کم ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور تو ضرور ہوگا، لیکن مبصرین کہتے ہیں کہ ان کی کامیابی کا دارومدار تہران اور واشنگٹن پر ہی ہوگا۔پاکستان نے اب تک بطور ثالث ایک اہم کردار ضرور ادا کیا ہے لیکن یہ مذاکرات امریکہ اور ایران کے درمیان ہی ہوں گے۔ سارے عمل کا دارومدار اسی بات پر ہوگا کہ ایران اور امریکہ اپنے بیان کردہ مؤقف سے کتنا پیچھے ہٹیں گے۔کسی معاہدے کی راہ میں اب بھی کئی رکاوٹیں حائل ہیں، تاہم فریقین دوبارہ میدانِ جنگ کی طرف لوٹنے کے معاملے میں محتاط نظر آتے ہیں، لگتا یہی ہے کہ جنگ بندی کا کوئی (دیرپا) معاہدہ ممکن ہےایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کو ممکن بنانے میں پاکستان کی سویلین حکومت اور چیف آف ڈیفینس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل عاصم منیر دونوں نے گذشتہ ایک مہینے سے زیادہ کے عرصے میں عوامی اور نجی سطح پر دنیا کے بیشتر ممالک کے سربراہوں سے بات چیت کی ہے جہاں ایک طرف وزیرِاعظم شہباز شریف اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار ایران، خلیجی ممالک، چین اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں تھے، وہیں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متعدد غیرملکی رہنماؤں سے پسِ پردہ رابطے کرتے رہے ہیں۔ تاہم مذاکرات میں آگے کا سفر شاید تھوڑا مشکل ہو۔بہت سے لوگ یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ اسلام آباد مذاکرات کا ممکنہ نتیجہ کیا ہو گا: ایماندارانہ جواب یہ ہے کہ اس کے لیے آپ کو کسی جادوئی گیند یا کسی نجومی کی ضرورت ہو گی۔ اس طرح کے مذاکرات کبھی آسان نہیں ہوتے۔ امریکی سینیٹر جارج مچل نے ایک بار 1998 کے ’گڈ فرائیڈے معاہدے‘ کو، جس نے شمالی آئرلینڈ میں امن قائم کیا تھا، ’ناکامی کے 700 دن اور کامیابی کا ایک دن‘ قرار دیا تھا۔ پاکستان کے ٹرمپ انتظامیہ اور ایرانی حکومت دونوں سے ہی ’شانداز‘ تعلقات ہیں اور ’وہ کوشش کرے گا کہ دنیا میں اپنی ساکھ بطور بین الاقوامی کھلاڑی اور امن کار تسلیم کروائے۔ اس نے اس صورتحال میں چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بہتر کیا ہے اور اس کے سبب انڈیا میں کچھ لوگوں کو غصہ بھی ہے کہ اس سب کے نتیجے میں پاکستان کا قد بڑا ہو رہا ہے۔ تاہم یہ بات بھی یقینی ہے کہ اس جنگ کے اختتام سے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بھی اپنے مفادات جُڑے ہیں۔اس دوران گیلپ کے تازہ ترین سروے میں سامنے آیا ہے کہ پاکستانی عوام ایران امریکا جنگ بندی کے لیے متحدہ ہیں، جنگ بندی کی کوششوں میں حکومت کو عوام کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے، 93 فیصد پاکستانیوں نے جنگ بندی کی حمایت کی جب کہ 80 فیصد پاکستانیوں کو امریکا ایران مذاکرات سے مستقل امن کی امید ہے۔ گیلپ پاکستان کی جانب سے 8 اور 9 اپریل 2026 کو کیے گئے ایک فوری عوامی سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستانی عوام کی بڑی تعداد نے بین الاقوامی تنازع میں جنگ بندی کے لیے پاکستان کے کردار کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ اس کے مثبت نتائج کے حوالے سے بھی امید کا اظہار کیا ہے، سروے کے نتائج اہم سفارتی مذاکرات سے قبل سامنے آئے ہیں۔ سروے کے مطابق 82 فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے لیے پاکستانی حکومت کی کوششوں سے آگاہ ہیں، جن میں سے 46 فیصد نے بتایا کہ وہ اس حوالے سے کافی معلومات رکھتے ہیں جب کہ صرف 14 فیصد افراد نے لاعلمی ظاہر کی۔ سروے کے مطابق 93 فیصد پاکستانیوں نے تنازع میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت کی، جن میں 72 فیصد نے بھرپور حمایت کا اظہار کیا جب کہ مخالفت کرنے والوں کی تعداد نہایت کم رہی۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 88 فیصد شہریوں کا ماننا ہے کہ پاکستان کو عالمی تنازعات میں فعال ثالثی کردار ادا کرنا چاہیے جب کہ 5 فیصد نے غیرجانبدار رہنے اور 3 فیصد نے کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کی رائے دی۔ مزید برآں، 80 فیصد پاکستانیوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جنگ بندی مستقل امن کی راہ ہموار کر سکتی ہے اور ان میں سے بھی 44 فیصد ایسے ہیں جو امن کے لیے بہت زیادہ پرامید ہيں۔پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو ابھی ایک دن ہی ہوا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید بمباری اور اس کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ لیکن دنیا کی نظریں اب اس مشروط اور عارضی جنگ بندی کو ایک معاہدے کی شکل دینے کے لیے مذاکراتی عمل پر جمی ہیں اسلام آباد میں ان مذاکرات کا اعلان سب سے پہلے ایرانی سپریم کونسل کے بیان میں سامنے آیا جس کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے تصدیق کی کہ انھوں نے جنگ بندی معاہدے کے بعد دونوں ممالک کی مذاکراتی ٹیموں کو 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔ پاکستانی وزیرِ اعظم نے ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں لکھا کہ فریقین نے غیر معمولی بصیرت اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے اور امن و استحکام کے مقصد کو آگے بڑھانے میں تعمیری طور پر مصروف رہے ہیں اور اس دعوت کا مقصد تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید بات چیت کرنا ہے۔ شہباز شریف نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ پائیدار امن کے قیام میں کامیاب ہوں گے اور وہ آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں بانٹنے کے منتظر ہیں۔ شہباز شریف نے صدر مسعود پزشکیان سے بھی بات کی جس میں ایرانی صدر نے تصدیق کی کہ ان کا ملک اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرے گا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سینیٹ میں خطاب کے دوران واضح کیا کہ حکومت اور عسکری قیادت کا محور علاقائی استحکام اور ذمہ دارانہ سفارتکاری ہے۔ نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جب ایران پر حملہ ہوا تو میں مدینہ منورہ میں تھا، میں نے وہاں سے کہا کہ فوراً پاکستان ایران پر حملے کی مذمت کرے۔پاکستان پہلا اسلامی ملک تھا نے جس نے ایران پر حملے کی مذمت کی، حملے کے کچھ دیر بعد ایران کے وزیرِ خارجہ عراقچی سے رابطہ کیا، ایران پر حملے کے 3 یا 4 گھنٹے میں قریبی ممالک پر سٹرائیک شروع ہو گئی۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ اس معاملے پر سعودیہ، مصر، ترکی اور پاکستان کی میٹنگ ہوئی، دونوں پارٹیوں نے اسلام آباد میں میٹنگ پر گرین سگنل دیا، چاروں ممالک کی میٹنگ پہلے استنبول میں ہونی تھی جو میں نے اسلام آباد میں رکھوائی۔اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے کی صورتحال پر چینی وزیر اعظم نے 31 مارچ کو مجھے چائنہ بُلایا، ہم دونوں ممالک نے پانچ پوائنٹس طے کیے، درجنوں ممالک نے ہمارے ساتھ اپنی سپورٹ کا اظہار کیا۔یو این کے سیکرٹری جنرل نے مجھے فون کیا اور ہماری کوششوں کو سراہا۔ امریکہ نے 15 پوائنٹس کی لسٹ دی جو ہم نے ایران کو دی، ایران نے پانچ پوائنٹس کی لسٹ دی، کل بہت خطرناک پیش رفت ہوئی اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، جواب میں ایران نے سعودیہ کے علاقے جبیل پر حملہ کر دیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ کل رات سے پہلے میں بہت پُر امید تھا، اس معاملے پر میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، وزیر اعظم ، فیلڈ مارشل اور دفترِ خارجہ خطے میں امن کے لیے کوشاں ہیں۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگ کے شعلے روکنے کیلئے فیلڈمارشل کا کردار کلیدی ہے ، ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھیں گے ، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب اور دیگر ممالک کے وزرا خارجہ سے کئی مرتبہ گفتگو کی، وہ بہت محنت کر رہے ہیں، انہوں نے چین کا دورہ کیا، انہیں بازو پر چوٹ بھی آئی لیکن انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی، پاکستان جنگ بندی کیلئے حتی المقدور کوشش کر رہا ہے، اللہ کی مہربانی سے خطے میں امن قائم ہو گا۔خطے میں جنگی صورتحال کے باعث معاشی مشکلات کا ذکرکرتے ہوئے قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق، سیاسی استحکام اور مل کر چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہو گی، وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے،ہمیں شہادتوں پر بہت افسوس ہے، ہم نے اپنے تعزیتی پیغامات مختلف اوقات میں جاری کئے، خطے میں جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کیلئے پاکستان نے مخلص دوست اور برادر ملک کے طور پر بھرپور کوششیں کی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسی طرح چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستان نے جنگ بندی کرانے کیلئے حتی المقدور کوششیں کی ہیں اور یہ کوششیں اب بھی جاری ہیں، اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اس میں کامیابی حاصل ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کی طرح اس جنگ سے بہت متاثر ہو رہا ہے، معاشی ترقی کیلئے ہم سب نے پچھلے دو سال کے دوران مل کر بہت کاوشیں کی ہیں اور پاکستان کی معیشت کو میکرو سطح پر مستحکم بنا دیا ہے، اس وقت ترقی و خوشحالی کا وقت آ چکا ہے لیکن بدقسمتی سے اس جنگ کی وجہ سے ہمیں معاشی طور پر بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں سے ہمارے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو بھی آبنائے ہرمز سے گزارنے کا انتظام کیا گیا ہے، آئندہ چند دنوں میں اس حوالے سے بھی پیشرفت ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب جنگ کا خطرہ منڈلا رہا تھا تو پہلے ہفتے میں ہمیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے کا اضافہ کرنا پڑا، پاکستان کے محنتی کسانوں، مزدوروں اور دکانداروں کیلئے یہ بے پناہ معاشی بوجھ تھا لیکن انہوں نے اس کو برداشت کیا، اجتماعی اور بھرپور کاوشوں سے ہم نے بروقت صورتحال کا ادراک کیا اور اقدامات اٹھائے، کابینہ کے ارکان نے اپنی دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا، تیل کی کھپت میں 50 فیصد کی کٹوتی کی گئی، پارلیمنٹ کے ارکان نے بھی اس میں حصہ ڈالا، تیل کی بچت کیلئے 60 فیصد گاڑیوں کا استعمال بند کر دیا گیا۔دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نےنئےبجٹ سے قبل منی بجٹ لانے کی خبروں کو مسترد کردیا,مئی کے آخری ہفتے میں بجٹ پیش کرنےکی تجویزمسترد،نئےمالی سال کا بجٹ جون کےپہلےیا دوسرے ہفتے میں لائے جانےکا امکان ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نےمنی بجٹ کےذریعے مختلف ٹیکس کی تجاویز مسترد کردیں،وزیراعظم کومشرق وسطی کی کشیدگی کے باعث ٹیکس آمدن بڑھانے کےلیےتجاویز پیش کی گئیں، جس پر انہوں نے کسی بھی نئے ٹیکس لگانے یا ٹیکس ریٹ بڑھانےکی تجویز مسترد کر دی ہیں۔ وزیراعظم کاکہنا ہےکہ تیل کی قیمتوں سےعوام پریشان،مزیدٹیکس لگانے یامنی بجٹ لانےکا مت سوچیں، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کے باعث بجٹ تجاویز میں مفصل مشاورت کا حکم دیا ہے،آئی ایم ایف کومشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کےپیش نظراہداف پرنظرثانی کیلئےمنانےکی تجویز سامنے آئی ہے۔ ذرائع کےمطابق آئندہ بجٹ کی ترجیحات حالات کےمطابق تبدیل کیےجانےکاامکان ہے،آئندہ بجٹ میں افراط زر،مالیاتی خسارے سمیت اہم اہداف متاثرہونےکا خدشہ ہے،کرنٹ اکاؤنٹ خسارےکی 3 سالہ بجٹ حکمت عملی سے اہداف بری طرح متاثرہوسکتے ہیں۔
قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ۔پی ایم ہاؤس اعلامیے کے مطابق محمد شہباز شریف نے مملکتِ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفون پر گفتگو کی جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔وزیرِ اعظم نے جاری حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی اور مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور سعودی عرب میں الجبیل آئل فسیلیٹی پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی۔اعلامیہ میں بتایا گیا کہ انہوں نے ولی عہد کو یقین دلایا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ہمیشہ اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، جس طرح سعودی قیادت اور عوام نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔شہبا زشریف نے موجودہ کشیدگی کے دوران سعودی قیادت کی جانب سے تحمل اور دانشمندی کے مظاہرے کو سراہا اور کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ مل کر امن کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے بھی ولی عہد کو آگاہ اور خادم الحرمین الشریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک تمناؤں اور پرتپاک سلام کا اظہار بھی کیا۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہاہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کی خور فکان بندرگاہ کی جانب فائر کیے گئے میزائل، پروجیکٹائل دوران پاکستانی شہریوں سمیت دیگر کے زخمی ہونے پر تشویش کا اظہار کیا شہباز شریف نےایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ ہم اپنے شہریوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کے لیے اماراتی حکام سے قریبی رابطے میں ہیں۔ ایک مرتبہ پھر کہا کہ کہ پاکستان، متحدہ عرب امارات کے برادر عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور خطے میں تحمل اور کشیدگی کم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیتا ہے۔ اماراتی میڈیا آفس نے بندرگاہ پر حملے کے بارے میں بتایا تھا کہ کامیاب فضائی دفاعی انٹرسپشن سے گرنے والا ملبہ بندرگاہ پر آگ کا باعث بنا جس سے ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے کنٹرول کر لیا اور اس دوران ایک نیپالی شہری شدید زخمی ہوا جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ تین پاکستانی پاکستانی شہری زخمی ہوئے۔ متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون روکے ہیں، فضائی دفاعی نظام فعال طور پر میزائل اور ڈرون خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے۔دوسری طرفچینی دفتر خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا ہے کہ چین جنگ بندی کے لیے پاکستانی کردار کی حمایت کرتا ہے، امید ہے فریقین امن کا موقع ضائع نہیں کریں گے۔ ماؤ ننگ نے کہا کہ بیجنگ امن کے حصول میں مددگار تمام کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے،مذاکراتی عمل کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے فعال کردار کو سراہتے ہیں۔ چینی دفتر خارجہ نے زور دیا کہ فریقین اختلافات کو بات چیت کے ذریعے ختم کریں۔ادھر پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ نگ کو روکنے کے لیے نیک نیتی اور ثالثی کے تحت پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں ایک اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہو چُکی ہیں۔قبل ازیں ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کی جانب سے یہ خبر آئی کہ ایران نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنے کے مقصد سے پاکستان کو امن تجاویز پیش کی ہیں۔ارنا کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں، جنہیں جمع کرانے سے قبل ایرانی قیادت نے تقریباً دو ہفتوں تک تفصیلی جائزے کے بعد حتمی شکل دی۔اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی، جسے دوبارہ کبھی واپس نہیں لایا جا سکے گا۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا۔ تاہم، اب جبکہ ہم نے مکمل رجیم تبدیل کردی ہے ، جہاں مختلف، زیادہ ذہین اور کم انتہا پسند سوچ رکھنے والے لوگ غالب ہوں گے، تو شاید کوئی انقلابی اور شاندار چیز وقوع پذیر ہو جائے۔ ٹرمپ نے لکھا کہ یہ دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے سب سے اہم لمحات میں سے ایک ہو سکتا ہے، خونریزی، بدعنوانی اور اموات کی 47 سالہ تاریخ بالآخرختم ہونے جارہی ہے، ایران کے عظیم عوام پر خدا کی رحمت ہو!
دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر لکھا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف اور اعلیٰ عسکری حکام نے مذاکرات کے مقام کا دورہ کیا، وزیر داخلہ محسن نقوی اور سکورٹی حکام بھی ہمراہ تھے، مذاکرات کے انتظامات کا جائزہ لیا۔













