اسلام آباد (ٹی این ایس) امریکا ، ایران اسلام آبادامن مذاکرات کے بعد بھی عالمی میڈیا جنگ بندی کیلئے پر امید ہے , اسلام آباد میں ایران اور امریکہ رات بھر جاری رہنے والے مذاکرات کے باوجود معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کےلیے پاکستانی قیادت کی تعریف کی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ مذاکرات فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی مؤثر قیادت کے ذریعے ممکن ہوئے۔ امریکی صدر پاکستانی قیادت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا۔ کہا کہ پاکستانی قیادت ان کا شکریہ ادا کرتی رہی ہے کہ انہوں نے بھارت کے ساتھ ایک ممکنہ بڑی جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا جس میں کروڑوں جانیں ضائع ہو سکتی تھیں۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات صبح سویرے شروع ہوئے اور تقریباً 20 گھنٹے تک جاری رہے جس دوران کئی نکات پر پیش رفت ہوئی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سب سے اہم مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے جس پر کوئی حتمی اتفاق نہ ہو سکا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے کے لیے تیار نہیں اور یہی بنیادی رکاوٹ ہے کیونکہ ایسے غیر متوقع ملک کے پاس جوہری طاقت ہونا قابل قبول نہیں۔ پاکستانی سینئر سفارتی نامہ نگار اور صدر ڈپلومیٹک کرسپانڈنٹس فورم پاکستان,اصغر علی مبارک کے مطابق اسلام آباد میں موجود ذرائع نےبتایا کہ کچھ بات چیت اُس کے بعد بھی جاری رہی، جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس علی الصبح اپنا جہاز لے کر روانہ ہوئے اور اعلان کیا کہ امریکی وفد نے اپنی ’آخری اور بہترین پیشکش‘ بھی کر دی ہے۔ تاہم اس کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت پاکستان کے ذریعے جاری رہی۔ اس کی نہ تو امریکی حکام نے باضابطہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی ایرانیوں نے اور ماضی کی طرح اس بار بھی ثالثوں کے ذریعے ہونے والی گفتگو کی نوعیت کو سمجھنا مشکل ہے۔ اس کے باوجود یہ اشارہ ملتا ہے کہ مصالحت اور پسِ پردہ رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے امریکا نے ایران کی منطق اور اصولوں کو سمجھ لیا ہے۔ امریکا سے مذاکرات کے خاتمے کے بعد سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکراتی عمل کو آسان بنانے پر پاکستان کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات سے پہلے میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ہمارے پاس نیک نیتی اورارادہ ہے، گزشتہ دو جنگوں کےتجربات سےہمیں مخالف فریق پرکوئی بھروسانہیں۔ اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے کہا کہ مذاکرات میں ایرانی وفد نے مستقبل سے متعلق اقدامات کیے، لیکن مخالف فریق اس مرحلے میں ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں بالآخرناکام رہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کی منطق اور اصولوں کو سمجھ لیا ہے، اب وقت آگیا ہے وہ فیصلہ کریں کہ آیا وہ ہمارا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ باقر قالیباف نے لکھا کہ ایرانی قوم کے حقوق کی پاسداری کے لیے فوجی جدوجہد کے ساتھ ڈپلومیسی کو دوسرا طریقہ سمجھتے ہیں، ایران 90 ملین افراد کا ملک ہے، سپریم لیڈرکے حکم پر سڑکوں پر نکلنے والے بہادر ایرانیوں کا شکر گزار ہوں، ایران کے40 روزہ قومی دفاع کی کامیابیاں مستحکم کرنے کے لیےکوششیں جاری رکھیں گے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ایران نے کبھی یہ توقع نہیں کی تھی کہ ’ایک ہی نشست میں‘ معاہدہ طے پا جائے گا۔ یہ صورتحال اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے عوام کے سامنے جو بیانیہ پیش کر رہے ہیں، اس میں حقیقت اور سیاسی تاثر کو الگ کرنا کتنا مشکل ہے۔ امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں کی اسلام آباد سے واپسی کے بعد سے یہ سوال زیر بحث ہے کہ مذاکرات کامیاب رہے یا ناکام کیونکہ فریقین نے انہیں بے نتیجہ بتایا اور ایران کے مذاکرات کار باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران نے امریکہ پر اعتماد نہیں کیا۔ اس ضمن میں اسلام آباد میں موجود سفارتی حلقہ میں عمومی رائے یہ ہے کہ مذاکرات اہم پیش رفت ہیں اور یہ کامیابی نہیں تو کامیابی کا پیش خیمہ بہرحال ہیں۔ سفارتی حلقے اسلام آباد مذاکرات کو جنگ بندی کے ضمن میں پہلا بریک تھرو مان رہے ہیں اور یہ بھی مان رہے ہیں کہ چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ سرسری جائزہ سے یہ سامنے آ رہا ہے کہ اب کئی دوسرے ملک بھی بیک ڈور ڈپلومیسی میں شریک ہونے جا رہے ہیں۔ مذاکرات کے لئے امریکہ اور ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے دیگر ممالک کی شرکت کا امکان الگ سے ایک امید افزا ڈیویلپمنٹ ہے جس کا کریڈٹ مذاکرات کا آغاز کروانے والے پاکستان کے پرائم منسٹر کو ہی جائے گا۔ سفارتی ذرائع نے الساسلام آباد میں 21 گھنٹے کے میراتھن مذاکرات کو امید کی کرن بتاتے ہوئے کہا، اگر یہی رفتار برقرار رہی تو یہ مذاکرات خطے میں بڑی اور مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ آج اتوار کی صبح اسلام آباد سے متحارب مذاکرات کاروں کی واپسی کے بعد سے یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ آیا یہ مذاکرات کامیاب رہے یا نہیں۔ مروج طریقہ کار کے مطابق ان میراتھن مذاکرات کے رسمی اختتام کے اعلان کے ساتھ کم از کم اتفاق راے یا اختلافات کے متعلق کوئی مشترکہ سٹیٹمنٹ سامنے نہیں لائی گئی۔ حتیٰ کہ فریقین کی طرف سے اب تک رسماً یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ مذاکرات کن نکات پر ہوئے اور کس نکتہ پر فریقین کی کیا پوزیشن رہی۔ اس کے باوجود سفارتی حلقہ میں انہیں مکمل ناکامی کے بجائے کونفلکٹ کے خاتمہ کے لئے اہم پیش رفت اور امید افزا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ان مذاکرات کی سب سے بڑی کامیابی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہے، جو کسی بھی جنگ میں تنازعہ کے حل کے لئے بڑی چھلانگ سمجھا جاتا ہے، دونوں دیرینہ حریفوں کا توپوں کے دہانے بند کر کے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا خود ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہے، جسے عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ سفارتی حلقوں میں پاکستان کی ثالثی کو جنگ بندی اور مذاکرات میں اب تک سامنے آئی پیش رفت کو یقینی بنانے والا کلیدی فیکٹر مانا جا رہا ہے اور اسے سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان کی کئی سطحوں اور کئی دائروں میں ہونے والی امن کی کوششیں محض 24 سے 31 گھنٹوں میں مکمل ہوئیں، جو اس بات کی نشان دہی ہے کہ پیچیدہ تنازعات کے باوجود پیش رفت ممکن ہے، یہ پیش رفت ابتدائی نوعیت کی ہے اور پیچیدہ چیلنج ہنوز برقرارہیں، اس تنازعہ کی نوعیت نہایت پیچیدہ اور گہری ہے، جس میں باہمی اختلافات کے ساتھ بیرونی عوامل بھی شامل ہیں۔اسلام آباد میں امریکا سے مذاکرات، ایرانی وفد کا پہلا بیان سامنے آگیا
سفارتی ذرائع نے بتایا کہ جنگ بندی پر مکمل اور مستقل عمل درآمد پاکستان کی ڈپلومیسی کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ دیرپا امن کے لیے مزید بات چیت ناگزیر ہو گی اور آمنے سامنے بیٹھنے کے دوسرے مرحلہ سے پیشتر بیک چینل ڈپلومیسی اور اعتماد سازی کے اقدامات اہم کردار ادا کریں گے۔ سفارتی ذرائع نے کہا کہ قلیل مدت میں کشیدگی میں کمی، درمیانی مدت میں جزوی معاہدے اور طویل مدت میں سفارتی بریک تھرو کے امکانات موجود ہیں۔اسلام آباد مذاکرات کو ایک “پہلا بریک تھرو” ہیں، نہ کہ مکمل حل۔ یہ آغاز ہے اختتام نہیں اور اگر یہی رفتار برقرار رہی تو یہ مذاکرات خطے میں بڑی اور مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت رہے ، بہت سے نکات پر اتفاق ہوا ہے، نیوکلیئر پروگرام پر اتفاق نہ ہوسکا، آبنائے ہرمز کی فوری ناکہ بندی کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور بین الاقوامی پانیوں میں اُن تمام جہازوں کو بھی روکے گی جنہوں نے ایران کو ٹول ادا کیا ہو، صدر ٹرمپ نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اُس وقت دیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے لکھا ’ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق ہوا، تاہم دونوں فریق ایران کے جوہری پروگرام پر متفق نہ ہو سکے، خیال رہے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 21 گھنٹے مسلسل جاری رہنے کے بعد کسی معاہدے کے بغیر ختم ہونے والے مذاکرات کے بعد یہ صدر ٹرمپ کا پہلا بیان ہے، اتوار کی صبح اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے تھے جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکراتی وفد کے ساتھ واپس امریکہ روانہ ہوگئے تھے۔ اتوار کی صبح اسلام آباد کے ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے ’ایک اچھی اور ایک بری خبر‘ کا تذکرہ کیا۔ان کے مطابق ہم نے ایرانیوں کے ساتھ کافی ٹھوس بات چیت کی ہے، یہ اچھی ہے اور بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچے۔ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ خبر امریکہ کے لیے جتنی بری ہے، اس سے کہیں زیادہ ایران کے لیے ہے۔‘ امریکہ کے نائب صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی اور اپنی شرائط واضح طور پر پیش کی ہیں جو کہ ایران نے تسلیم نہیں کیں۔ ان کے مطابق ایرانی وفد کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی واضح عزم سامنے نہیں آیا، دوسری جانب ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ مذاکرات سے قبل میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ہمارے پاس ضروری حسنِ نیت اور ارادہ موجود ہے لیکن پچھلی دو جنگوں کے تجربات کی بنیاد پر ہمیں دوسرے فریق پر قطعاً بھروسہ نہیں۔ اُن کے مطابق ایرانی وفد نے مستقبل کے حوالے سے کئی اقدامات اور تجاویز پیش کیں لیکن دوسرا فریق بالآخر مذاکرات کے اس دور میں ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا، اُن کے مطابق امریکہ نے ہماری منطق اور اصولوں کو سمجھ لیا ہے اور اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ آیا وہ ہمارا اعتماد جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ اسی دوران نازک جنگ بندی کا مستقبل، عالمی سطح پر پیدا ہونے والی بے چینی اور جنگ میں پھنسے بے شمار لوگوں کی زندگیاں غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا، امید ہے دونوں فریق جنگ بندی جاری رکھیں گے، اسحاق ڈارامید ہے امریکا، ایران امن کیلئے بات چیت اور جنگ بندی جاری رکھیں گے, ایران اور امریکا کے درمیان جامع اور تعمیری مذاکرات ہوئے، امید ہے دونوں فریق بات چیت کا عمل اور جنگ بندی جاری رکھیں گے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بتایا کہ امید کرتے ہیں دونوں ملک خطے اور دنیا میں پائیدار امن اور خوشحالی کےلیے مثبت سوچ سے آگے بڑھیں گے، دونوں ملکوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر مثبت ردعمل دیا۔ یہ ضروری ہے دونوں ملک جنگ بندی جاری رکھنے کے عزم پر قائم رہیں، مذاکراتی عمل میں شریک ایران اور امریکا کے وفود کا شکر گزار ہوں، پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا۔ مزید بتایا کہ امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں پاکستان آیا، سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد نے مذاکرات میں شرکت کی، دونوں فریقوں کے درمیان جامع اور تعمیری مذاکرات کے متعدد دور ہوئے، میں نے بطور نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے مذاکراتی عمل میں معاونت کی دونوں ممالک کی جانب سے پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کیے جانے پر ان کے مشکور ہیں، امید ہے کہ امریکہ اور ایران امن کے لیے بات چیت کا عمل جاری رکھیں گے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ امن مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے مستقل جنگ بندی کی امیدوں کو دھچکا لگا ہے۔ 11 اور 12 اپریل 2026 کو ہونے والے یہ مذاکرات 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اب تک کی سب سے اعلیٰ سطح کی براہِ راست بات چیت تھی,
اختلافات گہرے ہیں، لیکن دونوں ممالک کا میز پر بیٹھنا ہی خطے میں بڑی جنگ کے خطرے کو ٹالنے کی علامت ہے۔
اسلام آباد مذاکرات سے مزید پیش رفت “بریک تھرو” جنگ بندی , مکمل اتفاقِ رائے ابھی باقی ہے، تاہم دونوں فریقین نے فی الحال کسی بھی قسم کی براہِ راست عسکری کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ سفارتی عمل کو مکمل موقع دیا جا سکے۔
تازہ ترین صورتحال کے مطابق، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان دوسرے دور کی بات چیت مکمل ہو چکی ہے اور اب توجہ “مستقل امن معاہدے” کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
مذاکرات اور جنگ بندی کے حوالے سے اب تک کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. عارضی جنگ بندی میں توسیع اور استحکام
ابتدائی طور پر طے پانے والی دو ہفتہ وار جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں بدلنے کے لیے کام جاری ہے۔ اگرچہ مکمل اتفاقِ رائے ابھی باقی ہے، تاہم دونوں فریقین نے فی الحال کسی بھی قسم کی براہِ راست عسکری کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ سفارتی عمل کو مکمل موقع دیا جا سکے۔
2. پاکستان کا ثالثی کردار
میزبان ملک کے طور پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحق ڈار نے دونوں وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ “شٹل ڈپلومیسی” کے ذریعے ایران کے 15 نکاتی اور امریکہ کے 10 نکاتی ایجنڈے کے درمیان کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکے۔
3. اہم زیرِ بحث معاملات اور رکاوٹیں
بحرِ ہرمز کا انتظام: ایران نے اس اہم تجارتی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹرانزٹ فیس (ٹول ٹیکس) کے مطالبے پر اصرار کیا ہے، جس پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ امریکہ اسے بین الاقوامی پانیوں کی آزادی کے خلاف سمجھتا ہے۔
لبنان اور غزہ کا محاذ: ایرانی وفد کے سربراہ عباس عراقچی نے ایران کے منجمد فنڈز کی واگزاری اور لبنان (حزب اللہ) کے خلاف اسرائیلی حملوں کے فوری خاتمے کو مستقل امن کی بڑی شرط قرار دیا ہے۔
سیکیورٹی گارنٹی: امریکہ ایران سے اپنے ایٹمی پروگرام پر مزید سخت پابندیوں اور علاقائی گروپوں کی حمایت ختم کرنے کی تحریری ضمانت مانگ رہا ہے۔عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اختلافات گہرے ہیں، لیکن دونوں ممالک کا میز پر بیٹھنا ہی خطے میں بڑی جنگ کے خطرے کو ٹالنے کی علامت ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور مصر کے وزیر خارجہ کے درمیان اسلام آباد مذاکرات اور اس کی پیش رفت کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مصر کے وزیر خاجہ ایچ ای بدر عبداللطیٰ سے ٹیلیفونک گفتگو میں اسحاق ڈار نے اپنے مصری ہم منصب کو ‘اسلام آباد مذاکرات’ اور فریقین کے درمیان روابط کو آسان بنانے میں پاکستان کی مسلسل کوششوں سے آگاہ کیا۔دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے اس بات پربھی زور دیا کہ تمام فریقین کے لیے جنگ بندی کے اپنے عزم کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے خطے اور اس سے باہر امن اور استحکام کے حصول کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارت کاری کی ضرورت کا اعادہ کیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ جلد ہی ان تمام جہازوں کی ’ناکہ بندی‘ شروع کرے گا جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک طویل بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’ملاقات اچھی رہی، زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا، لیکن وہ واحد نکتہ جو سب سے اہم تھا یعنی ’جوہری معاملہ‘ اس پر اتفاق نہیں ہو سکا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’آزادانہ آمدورفت کے معاہدے تک ’کسی بھی وقت‘ پہنچا جا سکتا ہے، لیکن ایران نے اس کی اجازت نہیں دی اور صرف یہ کہہ کر رکاوٹ ڈالی کہ ’شاید کہیں کوئی بارودی سرنگ ہو، جس کے بارے میں صرف ایران کو علم ہے۔ اسی بیان میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ’بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو تلاش کرے اور روکے جس نے ایران کو ٹول ادا کیا ہو۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی بحریہ جلد ہی ’ایرانیوں کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگوں کو تباہ کرنا شروع کرے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’جو بھی غیر قانونی ٹول ادا کرے گا، اسے کھلے سمندر میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’کوئی بھی ایرانی جو ہم پر یا پرامن جہازوں پر حملہ کرے گا، اسے تباہ کر دیا جائے گا۔‘ ان کے مطابق ’ناکہ بندی جلد شروع ہونے والی ہے۔‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک اور بیان میں یہ بھی کہا کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن جان بوجھ کر انھوں نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔‘ اس صورتحال نے ’دنیا بھر میں کئی ممالک اور لوگوں کے لیے بے چینی، خلل اور تکلیف پیدا کی۔ ایران کو چاہیے کہ ’جتنی جلدی ممکن ہو اس بین الاقوامی آبی راستے کو کھولنے کا عمل شروع کرے۔ انھوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ انھیں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور مذاکرات کار جیرڈ کشنر نے مکمل طور پر بریف کیا ہے۔ انھوں نے پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔ ٹرمپ کے مطابق ’تقریباً 20 گھنٹے‘ جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ ’اصل مسئلہ صرف ایک ہے ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ کئی نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، جو فوجی کارروائی جاری رکھنے سے بہتر تھے لیکن ان کے مطابق ’یہ سب نکات اس حقیقت کے مقابلے میں بے معنی ہیں کہ جوہری طاقت ایسے غیر مستحکم، مشکل اور غیر متوقع لوگوں کے ہاتھ میں نہیں دی جا سکتی۔
اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیٹو نے آبنائے ہرمز کو ’کھلوانے‘ میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ انھوں نے یہ بات فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جو اس اعلان کے فوراً بعد سامنے آیا کہ امریکہ اس اہم بحری گزرگاہ کی ناکہ بندی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ نیٹو سے ’بہت مایوس‘ تھا، لیکن اب ’وہ آنا چاہتے ہیں اور آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’اس اہم آبی گزر گاہ کو کھلوانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، اس لیے ہم آبنائے ہرمز کو ہر قیمت پر کھولیں گے، اور ان کے بقول یہ راستہ ’زیادہ دیر میں نہیں‘ دوبارہ استعمال کے قابل ہو جائے گا۔‘ ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ’امریکہ وہاں مائن سویپرز بھیج رہا ہے اور ان کے مطابق برطانیہ جو نیٹو کا رکن ہے بھی ایسا کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’میری سمجھ کے مطابق برطانیہ اور چند دیگر ممالک بھی مائن سویپرز بھیج رہے ہیں۔‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تیز رفتار معاہدوں کے خواہش مند سمجھے جاتے ہیں۔ اسلام آباد میں کسی اتفاقِ رائے تک نہ پہنچنے کے بعد ان کا ردِعمل کیسا ہوگا، اس پر بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے سوال تھے اور اب ان کا پہلا ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔ ٹروتھ سوشل پر دو طویل بیانات میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ان چند جہازوں کی راہ روک دیں گے جو اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ ’میں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو تلاش کرے اور روکے جس نے ایران کو ٹول ادا کیا ہو۔ جو بھی غیر قانونی ٹول ادا کرے گا، اسے کھلے سمندر میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا۔‘ اگرچہ ان بیانات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ’محفوظ راستہ‘ کس طرح روکا جائے گا، لیکن یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ امریکہ نے گزشتہ چند ماہ میں وینیزویلا آنے جانے والے جہازوں پر چڑھائی کی ہے اور اُن کا راستہ بھی روکا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے کہا کہ ’دیگر ممالک بھی اس ناکہ بندی میں شامل ہوں گے،‘ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کون سے ممالک۔ ایران کی جانب سے دنیا کے اہم ترین آبی راستوں میں سے ایک پر جزوی مگر مؤثر پابندی کے باعث صرف وہی جہاز گزر پا رہے ہیں جو یا تو ایران کے اتحادی ہیں یا وہ ممالک جنھیں تہران دوست سمجھتا ہے یا وہ جن کے بارے میں خیال ہے کہ انھوں نے تقریباً 20 لاکھ ڈالر کے قریب ٹول ادا کیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا حالانکہ ایرانی حکام اپنے عوامی بیانات میں اس کے برعکس مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں اور اس آبی راستے کو اپنی اہم سٹریٹجک طاقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اگر ٹرمپ کی دھمکی پر عمل کیا گیا تو عالمی منڈیوں تک پہنچنے والے تیل کی مقدار مزید کم ہو سکتی ہے جس کے سنگین معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ بیانات مکمل جنگ کے دوبارہ آغاز کے مترادف تو نہیں لیکن یہ صورتحال میں ایک اور اضافہ ضرور ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی دھمکی کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ڈرون کے ذریعے آبنائے ہرمز کی نگرانی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ ’تمام آمدورفت اور مسلح افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ان کے مطابق اس عمل میں ’کچھ وقت لگے گا۔ مزید یہ کہ عُمان کے وزیرِ خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے اور جنگ بندی میں توسیع کی اپیل کی ہے۔ یہ بیان ایک اسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب اسلام آباد میں ہونے والی ایک اہم نشست کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئی۔ بدربوسعیدی نے ایکس پر لکھا ’کامیابی کے لیے ممکن ہے کہ تمام فریقین کو مشکل اور سخت سمجھوتوں پر آمادہ ہونا پڑے لیکن یہ قربانی جنگ اور ناکامی کے درد کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔‘ واضع رہے کہ جنگ کے آغاز سے قبل عُمان ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار کی میزبانی اور ثالثی کر چکا ہے۔ اس دوران متحدہ عرب امارات نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ ڈالنے کے معاملے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’تیل اور گیس کی ترسیل کے اس اہم آبی گُزرگاہ کو بند کرنے یا محدود کرنے کا اختیار ایران کے پاس کبھی نہیں رہا۔ امارات کے وزیرِ صنعت اور ابوظبی کی سرکاری تیل کمپنی کے سربراہ سلطان احمد الجابر نے سوشل میڈیا پر لکھا ’ایسی کوئی بھی کوشش علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی اقتصادی شہ رگ میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے اور ہر ملک کی توانائی، خوراک اور صحت کے تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔‘ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد سے تہران نے خبردار کیا ہے کہ جو جہاز آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی کوشش کریں گے انھیں ’آگ لگا دی جائے گی۔‘ اس دھمکی کے بعد اس اہم آبی گُزر گاہ سے تجارت تقریباً رک گئی ہے اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ الجابر نے کہا کہ ’ایسی مثال قائم کرنا غیر قانونی، خطرناک اور ناقابلِ قبول ہے۔ دنیا اس کی متحمل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اسے ایسا ہونے دینا چاہیے۔ دوسری طرف جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے میں روس کے نمائندے میخائیل اولیانوف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔‘ ان کے مطابق ’کیا واقعی نائب صدر یہ توقع رکھتے تھے کہ اتنے پیچیدہ اور مختلف معاملات پر بس چند گھنٹوں میں اتفاق ہو جائے؟‘ انھوں نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’معاہدہ صرف اسی صورت ممکن تھا جب فریقین میں سے کوئی ایک مکمل طور پر پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہوتا اور اس معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ اولیانوف نے مزید کہا کہ ’اگر امریکی فریق واقعی معاہدہ چاہتے ہیں تو انھیں کئی مذاکرات کے کئی ادوار اور ماہرین کی سطح پر متعدد نشستوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘ ان کے مطابق ’یہ سفارت کاری کی بنیاد ہے۔‘ واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، جو کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔ یہ یاد رکھیں ایران نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز سے اب تک 3300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایرانی عدلیہ کے ماتحت لیگل میڈیسن آرگنائزیشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق 3375 لاشوں کی شناخت کی جا چکی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 2875 مرد اور 496 خواتین شامل ہیں، جبکہ تہران، ہرمزگان اور اصفہان صوبوں میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سینکڑوں بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں سات شیر خوار بچے (ایک سال سے کم عمر)، 255 بچے جن کی عمریں ایک سے 12 سال کے درمیان تھیں اور 121 نوجوان جن کی عمریں 13 سے 18 سال کے درمیان تھیں۔ ہلاک شدگان میں افغان، شامی، ترک، پاکستانی، چینی، عراقی اور لبنانی شہری بھی شامل ہیں۔اس دوران امریکی اخبار کے مطابق امریکا نے ایرانی بحریہ کو بڑی حد تک تباہ کر دیا ہے تاہم وہ فورس اب بھی محفوظ ہے جو آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کی روایتی بحریہ بڑے جنگی جہازوں پر مشتمل تھی جو زیادہ تر علامتی حیثیت اور طویل فاصلے کی تعیناتیوں کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاسدارانِ انقلاب کے پاس تیز رفتار کشتیوں اور چھوٹے جہازوں پر مشتمل ایک علیحدہ بحری بیڑا موجود ہے جو میزائل حملے کرنے، بارودی سرنگیں بچھانے اور تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے ایک امریکی تھنک ٹینک کا حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاسداران انقلاب کی تیز رفتار کشتیوں کا 60 فیصد سے زائد حصہ اب بھی محفوظ ہے اور بدستور خطرہ بنا ہوا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 6 اپریل تک امریکا 155 سے زائد ایرانی بحری جہازوں کو تباہ کر چکا ہے جبکہ سیٹلائٹ تصاویر اور ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی بحریہ کو بھاری نقصان پہنچا اور خاص طور پر اس کے جدید جہاز تباہ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر نقصان ایران کی روایتی بحریہ کو ہوا جس میں بڑے جنگی جہاز شامل تھے۔ ایک نمایاں کارروائی میں امریکی آبدوز نے بحرِ ہند میں ایران کے جنگی جہاز آئی آر آئی ایس دینا کو نشانہ بنایا جس میں تقریباً 180 افراد سوار تھے اور کم از کم 87 جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں اور فریگیٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ پاسدارانِ انقلاب کے جدید جنگی جہاز ’شہید صیاد شیرازی‘ اور ڈرون کیریئر ’شہید باقری‘ بھی حملوں کی زد میں آئے۔ دفاعی تجزیاتی ادارے جَینز کے مطابق ایران اپنے 7 میں سے 6 فریگیٹس، دونوں کورویٹس اور 3 میں سے ایک آبدوز کھو چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں چھوٹی اور تیز رفتار کشتیاں موجود ہیں جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے محدود سمندری راستوں میں مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ چھوٹے جہاز زیادہ تعداد میں ہیں اور سیٹلائٹ سے آسانی سے نظر نہیں آتے، اس کے علاوہ ایران نے ساحلی علاقوں میں زیر زمین اڈے بھی قائم کر رکھے ہیں جہاں سیکڑوں حملہ آور کشتیاں محفوظ رکھی جاتی ہیں۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد مذاکرات کے دوران شاندار انتظامات پر پاک فوج، پنجاب رینجرز ، فیڈرل کانسٹیبلری، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، اسلام آباد انتظامیہ، سی ڈی اے اور موٹر وے پولیس کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کے دوران غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر تمام متعلقہ اداروں کو سراہا، انہوں نے کہا کہ پوری ٹیم نے یکجان ہو کر مثالی انداز میں فرائض سرانجام دیئے جو قابل ستائش ہیں۔معزز مہمانوں کے لیے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات پر افسران سے لے کر ہر جوان کو مبارکباد دیتا ہوں۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اللہ تعالٰی کے فضل و کرم اور حکومتی اداروں کے مابین کوآرڈینیشن کے باعث بہترین انتظامات کو یقینی بنایا گیا اور تمام متعلقہ اداروں کے سربراہان نے دن رات محنت کر کے ایک چیلنجنگ ورک کو بطریق احسن سرانجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری ٹیم کی کامیابی سب کے لئے قابل فخر لمحہ ہے۔آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کی مکمل بحالی ایران امریکہ جنگ بندی کا اہم نکتہ تھی، اب اتوار کی شام سی این این رپورٹ کر رہا ہے کہ بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز اب بھی “ایرانیوں کے ہاتھ میں ہے”
جہازوں کی نقل و حرکت سے باخبر رہنے والی فرم Vortexa کے مطابق آبنائے ہرمز کی طرف جانے والے دو خالی ٹینکر اس وقت واپس مڑ گئے جب اتوار کو اس خبر کے بریک ہونے کے بعد کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل مدتی امن معاہدے کے بغیر بات چیت ختم ہو گئی، تجارتی اور جہاز رانی کی انٹیلی جنس فرم وورٹیکسا میں یورپ مارکیٹ تجزیہ کی سربراہ پامیلا منگر نے امریکہ کی نیوز آؤٹ لیٹ سی این این کو بتایا کہ پاکستان سے منسلک دو ٹینکروں میں سے ایک، آبنائے کے بالکل باہر انتظار کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بحری جہازوں کی نقل و حرکت ظاہر کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول “ابھی تک ایرانیوں کے ہاتھ میں ہے۔” اتوار کے روز، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ آبنائے میں داخل ہونے یا جانے کی کوشش کرنے والے “کسی بھی اور تمام بحری جہاز” کی ناکہ بندی کرنا شروع کر دے گی، ٹرمپ نے یہ حکم بظاہر آبی گزرگاہ پر ایران کے اثر و رسوخ کو ناکام بنانے کی کوشش میں دیا، جسے ایران نے اپنا تیل برآمد کرنے کے لیے استعمال کیا ہے لیکن زیادہ تر دیگر جہازوں کو بند کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں صرف مٹھی بھر جہازوں نے آبنائے ہرمز کو عبور کیا ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بہت سی شپنگ کمپنیاں موجودہ جنگ بندی کے باوجود آبی گزرگاہ کو اب بھی غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔ وورٹیکسا کے مونگیر کے مطابق، ایک غیر ایرانی نام نہاد بہت بڑا خام تیل بردار جہاز، جو خالی تھا، ہفتے کے روز آبنائے سے گزرا تھا۔ یہ بھی پڑھیں: نئی صورتحال؛ ہرمز سے جن جہازوں کو ایران گزرنے دے گا، ان کو امریکہ روکے گا انہوں نے مزید کہا کہ خام تیل سے لدے تین غیر ایرانی ٹینکرز اور مائع پیٹرولیم گیس لے جانے والا ایک جہاز جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب آبنائے سے گزرا۔ یہ ایک سمندری انٹیلی جنس فرم، TankerTrackers کی معلومات سے متعلق ہے، جس کا کہنا ہے کہ 2 ملین بیرل عراقی کروڈ اور 4 ملین بیرل سعودی کروڈ ہفتے کے روز تین سپر ٹینکروں پر سوار ہو کر آبنائے سے باہر نکلے۔













