خانیوال (ٹی این ایس) خانیوال کی مٹی میں ایک عجیب سی خاصیت ہے—یہ جلد کسی کو قبول نہیں کرتی، مگر جسے مان لے، اسے دل میں بسا لیتی ہے۔ یہاں کے لوگ لفظوں سے زیادہ رویّوں کو یاد رکھتے ہیں، وعدوں سے زیادہ عمل کو تولتے ہیں۔ اسی زمین پر ایک ایسا افسر آیا جس نے نہ صرف اپنے عہدے کو نبھایا بلکہ اس شہر کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش بھی کی۔ ڈی ایس پی خالد جاوید جوئیہ صاحب کا تبادلہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک ایسی موجودگی کا اختتام ہے جو خاموشی سے اثر چھوڑ گئی۔
یہ کہانی کسی ہیرو کی تخلیق نہیں، بلکہ ایک ایسے افسر کی ہے جس نے پولیسنگ کو طاقت کے مظاہرے کے بجائے ذمہ داری کی ادائیگی سمجھا۔ ہمارے ہاں عموماً وردی ایک فاصلہ پیدا کرتی ہے—افسر اور عوام کے درمیان ایک دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔ لیکن خالد جاوید جوئیہ صاحب نے اس دیوار کو کم از کم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اگر تھانے کا دروازہ کھلا نہ ہو تو انصاف کا راستہ خود بخود بند ہو جاتا ہے۔
خانیوال جیسے شہر میں پولیسنگ محض جرائم کی روک تھام کا نام نہیں، بلکہ ایک سماجی توازن برقرار رکھنے کا عمل ہے۔ یہاں ہر جھگڑا صرف دو افراد کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے خاندان، برادری اور بعض اوقات پورا محلہ کھڑا ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں فیصلہ کرنا صرف قانونی نہیں بلکہ سماجی بصیرت بھی مانگتا ہے۔ جوئیہ صاحب کی خاص بات یہی تھی کہ وہ معاملات کو صرف دفعات اور فائلوں میں نہیں دیکھتے تھے، بلکہ ان کے پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔
یہ کہنا آسان ہے کہ ایک افسر نے اپنا کام کیا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس نے اپنا کام کیسے کیا؟ کیا وہ صرف احکامات جاری کرنے والا افسر تھا یا خود میدان میں اترنے والا؟ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے قیادت کو کرسی تک محدود نہیں رکھا۔ وہ موقع پر پہنچنے والے افسر تھے، وہ سننے والے افسر تھے، اور سب سے بڑھ کر وہ سمجھنے والے افسر تھے۔
ہمارے نظام کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں مستقل مزاجی کم ہے۔ ہر آنے والا افسر اپنی ترجیحات کے ساتھ آتا ہے اور جاتے وقت ایک ادھورا نقش چھوڑ جاتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس ادھورے پن کے باوجود ایک واضح لکیر کھینچ دیتے ہیں۔ خالد جاوید جوئیہ صاحب بھی انہی میں سے تھے۔ انہوں نے یہ باور کرایا کہ اگر نیت میں کھرا پن ہو تو محدود وقت میں بھی دیرپا اثر چھوڑا جا سکتا ہے۔
ان کے دور میں سب سے نمایاں چیز شاید کوئی بڑی کارروائی یا بڑی کامیابی نہیں تھی، بلکہ ایک فضا تھی—اعتماد کی، رسائی کی، اور جوابدہی کی۔ لوگ یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ اگر ان کے ساتھ ناانصافی ہو تو کہیں نہ کہیں ایک دروازہ ایسا ہے جہاں ان کی بات سنی جا سکتی ہے۔ یہ احساس پیدا کرنا کسی بھی سرکاری افسر کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہوتا ہے۔
پولیس فورس کے اندر نظم و ضبط قائم رکھنا بھی ایک الگ امتحان ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں ہر دن ایک نیا دباؤ، ایک نیا چیلنج سامنے آتا ہے۔ ایسے میں قیادت کا کردار محض احکامات دینے تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک مثال قائم کرنے کا ہوتا ہے۔ جوئیہ صاحب نے اپنے رویّے سے یہ مثال قائم کی کہ اختیار کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے—بغیر شور کے، بغیر نمائش کے، مگر پوری ذمہ داری کے ساتھ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر افسر کے جانے کے بعد کچھ نہ کچھ بدلتا ہے۔ کبھی پالیسی بدلتی ہے، کبھی رویّے بدلتے ہیں، اور کبھی ترجیحات۔ لیکن اصل فرق وہاں محسوس ہوتا ہے جہاں ایک شخص اپنی موجودگی سے ایک معیار قائم کر جائے۔ اب سوال یہ نہیں کہ ان کے بعد کون آئے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ معیار برقرار رہ پائے گا جو وہ چھوڑ کر جا رہے ہیں؟
خانیوال کے لوگوں کے لیے یہ ایک لمحۂ توقف ہے—ایک موقع کہ وہ سوچیں کہ انہوں نے ایک ایسے افسر کے ساتھ کیا سیکھا، اور کیا کھویا۔ کیونکہ بعض اوقات ہمیں کسی کی قدر اس کے جانے کے بعد ہی محسوس ہوتی ہے۔
اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ معاملہ صرف ایک تبادلے کا نہیں، بلکہ اس نظام کا آئینہ ہے جس میں تسلسل کم اور تبدیلی زیادہ ہے۔ ایسے میں وہ لوگ جو اپنی شناخت خود بناتے ہیں، وہی یاد رکھے جاتے ہیں۔ خالد جاوید جوئیہ صاحب نے بھی اپنی پہچان کسی عہدے سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے بنائی۔
آج جب وہ خانیوال سے رخصت ہو رہے ہیں تو یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ انہوں نے اس شہر کو کچھ دیا ہے—شاید وہ چیز نظر نہ آئے، شاید اس کا کوئی ریکارڈ نہ ہو، لیکن وہ لوگوں کے رویّوں اور یادوں میں محفوظ رہے گی۔
آخر میں پھر وہی مصرع خود بخود زبان پر آتا ہے:
ایسا کہاں سے لائیں تجھ سا کہیں جسے
کیونکہ کچھ لوگ صرف اپنے عہدے کی مدت پوری نہیں کرتے، بلکہ ایک اثر چھوڑ جاتے ہیں—ایسا اثر جو وقت کے ساتھ مدھم تو ہو سکتا ہے، مگر ختم نہیں ہوتا۔













