اسلام آباد (ٹی این ایس) آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی زیر کمان اسلام آباد پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری۔ پولیس کی سال 2026 کے پہلے 04 ماہ میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موثر کاروائیاں جرائم میں تاریخی کمی۔رواں سال 2026 میں سال 2025 کے مقابلے میں جرائم میں 36 فیصد جبکہ ماہ اپریل میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی۔تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی زیرِ قیادت اسلام آباد پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور موثر کارروائیاں جاری ہیں، جن کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت میں جرائم کی شرح میں نمایاں اور تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسلام آباد پولیس کے سال 2026 کے پہلے چار ماہ کے دوران کیے گئے مو¿ثر اقدامات کے باعث مجموعی جرائم میں سال 2025 کے مقابلے میں 36 فیصد جبکہ صرف ماہ اپریل میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی۔ڈکیتی، راہزنی، کار اور موٹر سائیکل چوری میں ملوث 192 جرائم پیشہ گروہوں کے 447 ارکان کو گرفتار کیا گیا، جبکہ ان سے 12 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا لوٹا گیا مالِ مسروقہ بھی برآمد کیا گیا۔اسی طرح سال 2026 کے پہلے چار ماہ میں رابری کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور سال 2025 کے مقابلے میں 98 کم کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ شاپ رابری کے واقعات میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 33 کم کیسز درج ہوئے۔موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات میں بھی واضح کمی دیکھنے میں آئی۔ سال 2025 کے پہلے چار ماہ میں 129 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ سال 2026 میں اسی عرصے کے دوران یہ تعداد کم ہو کر 92 رہ گئی۔اسی طرح راہزنی اور موبائل فون چھیننے کے واقعات میں 185 کیسز کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سال 2025 میں ایسے 377 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ سال 2026 میں یہ تعداد کم ہو کر 192 رہ گئی۔کار چوری کی وارداتوں میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔ سال 2025 کے پہلے چار ماہ میں کار چوری کے 151 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ رواں سال یہ تعداد کم ہو کر صرف 34 رہ گئی، یعنی 117 واقعات کی کمی ریکارڈ کی گئی۔موٹر سائیکل چوری کے واقعات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ سال 2025 میں 1001 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ سال 2026 میں یہ تعداد کم ہو کر 642 رہ گئی، جو 359 کیسز کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔اسلام آباد پولیس نے سال 2026 کے پہلے چار ماہ کے دوران 08 سے زائد ہائی پروفائل مقدمات کو 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ٹریس کیا، جن میں معروف تاجر میاں عامر قتل کیس، تھانہ کورال کے علاقے میں دورانِ رابری اندھے قتل کا مقدمہ، اور تھانہ کوہسار کی حدود میں اغواء کے بعد قتل کیے جانے کا کیس شامل ہیں۔رواں سال کے دوران 400 سے زائد اشتہاری اور سابقہ ریکارڈ یافتہ خطرناک مجرمان کو بھی گرفتار کیا گیا، جبکہ جرائم کے انسداد اور امن و امان کے قیام کے لیے 685 سے زائد سرچ اور کومبنگ آپریشنز کیے گئے۔شہریوں کے مسائل کے فوری حل اور پولیس و عوام کے درمیان مو¿ثر رابطے کے فروغ کے لیے اسلام آباد پولیس نے سال 2026 میں 400 سے زائد کھلی کچہریوں کا انعقاد بھی کیا، جہاں شہریوں کی شکایات سن کر ان کے فوری ازالے کے اقدامات کیے گئے۔مزید برآں اسلام آباد پولیس نے “ریسکیو 15” پر موصول ہونے والی کالز پر بروقت ریسپانس اور فوری کیس رجسٹریشن کو یقینی بنایا۔ سال 2026 میں “ریسکیو 15” کالز پر ایف آئی آر کے اندراج کی شرح سال 2025 کے مقابلے میں مزید بہتر رہی، جو شہریوں کے اعتماد میں اضافے اور پولیس کے مو¿ثر رسپانس سسٹم کی عکاسی کرتی ہے۔اسلام آباد پولیس شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، جرائم کے خاتمے اور محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ عوام کی حفاظت اور قانون کی بالادستی کا قیام اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے














