گوجرانوالہ/رسول نگر (ٹی این ایس) محرم الحرام کا چاند نظر آتے ہی ضلع گوجرانوالہ کے تاریخی قصبے رسول نگر میں نواسۂ رسول، سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانیوں کی یاد میں عزاداری کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
یکم محرم الحرام کے سلسلے میں شہر کا سب سے بڑا اور روایتی ماتمی جلوس ڈیرہ سائیں حیات، محلہ پٹھانوالہ سے برآمد ہوا، جس کی قیادت لائسنس دار بانی ڈاکٹر مبارک علی کے جانشین لائسنس دار ڈاکٹر محفوظ علی اور ڈاکٹر اظہر علی نے کی۔ یہ روایتی جلوس مقررہ راستوں پر گامزن رہا، جس کا احاطہ تقریباً پورے شہر پر مشتمل ہے۔جلوس کے دوران مسجد قاضیاں کے سامنے مجلسِ عزا کا انعقاد کیا گیا، جس میں علماء کرام اور ذاکرینِ عظام نے معرکۂ کربلا اور فلسفۂ شہادت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ “کربلا کا درس حق پر اڑے رہنا ہے؛ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی عملی زندگی میں حسینی کردار کو اپنائے، حق کی خاطر جئے اور حق کی خاطر مرنے کا حوصلہ پیدا کرے۔ جلوس اور مجلس میں معززینِ علاقہ، بشمول ا صدر انجمن جعفریہ رسول نگر سید ظفر عباس رضوی نے دیگر عزاداروں کے ہمراہ شرکت کی۔امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس چوکی رسول نگر اور تھانہ علی پور چٹھہ کی جانب سے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ جلوس کے راستوں پر پولیس اہلکار تعینات رہے، جبکہ عزاداروں اور ماتمی شرکاء کی سہولت کے لیے جگہ جگہ پانی اور شربت کی سبیلوں کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔













