واشنگٹن جنوری 31(ٹی این ایس)امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم سب مل کر امریکا کو مضبوط، محفوظ اور قابل فخر بنارہے ہیں،پچھلے ایک سال میں توقع سے بڑھ کر کامیابی ملی۔ہمارے سامنے غیر معمولی چیلنجز تھے جو شاید کوئی تصور بھی نہ کرسکے،ہمارا عزم ہے کہ امریکا کو عظیم تر بنایا جائے۔جوہری اثاثوں کی ایسے حفاظت کریں گے جیسے کبھی کسی نے نہیں کی ہوگی،امریکی جوہری ہتھیارو ں کو مزید جدید بنائیں گے۔انہوں نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام اور عراق میں داعش کے زیرقبضہ 100 فی صد علاقہ آزاد کرالیا ہے اور وہ داعش کو مکمل شکست دینے تک اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔
کیپٹل ہل میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے اپنا سالانہ ”اسٹیٹ آف دی یونین“ خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ سال وعدہ کیا تھا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر داعش کا نام صفحہ ہستی سے مٹادے گا۔انہوں نے کہا کہ آج ایک سال بعد وہ فخر سے یہ بتا رہے ہیں کہ شام اور عراق میں داعش کے قاتلوں کے زیر قبضہ 100 فی صد علاقہ آزاد کرالیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ماضی کے تجربے سے امریکہ نے یہ سبق سیکھا ہے کہ رعایت اور قناعت کا رویہ اپنانے کے نتیجے میں سامنے سے جارحیت اور اشتعال انگیزی ہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ماضی کی امریکی حکومتوں کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے جنہوں نے امریکہ کو اس خطرناک مقام پر لاکھڑا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی اور قوم ایسی نہیں ہے کہ بھاری چیلنجز کو قبول کرے اور ان کا سامنا کرے، ہمیں آپس کے اختلافات کو بھی ختم کرنا ہے تاکہ ہم ترقی کے لیے مزید آگے بڑھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری کامیابیوں سے امریکا کے خواب شرمندہ تعبیر ہوئے،امریکا میں پچھلے 45 سال میں بے روزگاری کا تناسب سب سے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک تارک وطن لامتناہی تعدادمیں فیملی امریکالاسکتاہے،صرف شوہربیوی اور کم عمر بچے آنے چاہئیں،میرٹ کی بنیاد پر امیگریشن سسٹم لاناوقت کی ضرورت ہے۔صدرٹرمپ نے کہا کہ امیگریشن نظام میں خامیوں کی وجہ سےکرمنل گینگ ملک میں آتے ہیں، گینگز نے ملکی قوانین کے کمزور پہلوﺅں کافائدہ اٹھایا۔اراکین کانگریس سیاست ایک طرف رکھیں اور کام مکمل کریں، کانگریس سے کہتاہوں کہ امیگریشن نظام میں خامیاں دورکریں،نئی قانون سازی کے ذریعے امیگریشن قوانین کودرست کریں گے۔صدرڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ کھلی سرحدوں کامطلب ملک میں منشیات اورگینگزکی آمدہے،جنوبی سرحد پر دیوار ملک کو محفوظ بنائےگی،اولین ترجیحات میں سے ایک دواﺅں کی قیمتوں میں کمی ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعوی کیا کہ امریکہ میں مقیم تارکینِ وطن کو بھی امیگریشن سے متعلق ان کی حکومت کی پالیسیوں کا فائدہ پہنچے گا جن کا ہدف ان کے بقول امریکی محنت کشوں اور امریکی خاندانوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔صدر نے کہا کہ وہ ایوان کی دونوں جماعتوں –ڈیمو کریٹس اور ری پبلکنز – کو ہر پس منظر، رنگ اور نسل سے تعلق رکھنے والے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنے کی پیش کش کر رہے ہیں۔اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم مل کر ایک ایسا محفوظ، مضبوط اور باوقار امریکہ تعمیر کر رہے ہیں جہاں ہر بچہ رات کو اپنے گھر میں محفوظ ہو اور ہر شہری کو اپنی ریاست پر فخر ہو۔انہوں نے اپنی حکومت کی جانب سے متعارف کردہ ٹیکس اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں چھوٹے کاروباری اداروں اور متوسط طبقے کو ان کے بقول بہت زیادہ فائدہ ہوا ہے۔
صدر نے دعوی کیا کہ ان ٹیکس اصلاحات کے نتیجے میں صرف گزشتہ دو ماہ میں 30 لاکھ افراد کے ٹیکسوں میں کٹوتی ہوچکی ہے جبکہ ان کے دورِ صدارت کے پہلے ایک سال کے دوران 24 لاکھ افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی عوام اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں اور ان کا حق ہے کہ انہیں ایک ایسی حکومت ملے جو ان سے بھی ویسی ہی محبت کرے اور ان کے ساتھ وفادار رہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے اقتدار کے پہلے ایک برس حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا ٹوٹا ہوا تعلق بحال کرنے اور حکومت کو عوام کے سامنے جواب دہ بنانے کی کوشش کی ہے۔اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت کئی دہائیوں سے جاری ان جانب دارانہ تجارتی معاہدوں سے الگ ہوگئی ہے جو امریکہ کی ترقی میں مزاحم تھیں اور جن کے نتیجے میں ہماری کمپنیاں، ہمارا روزگار اور ہماری قوم کی دولت دوسروں کے ہاتھوں میں جا رہی تھی۔
اپنے خطاب میں صدر نے امریکہ کی داخلی صورتِ حال، خارجہ پالیسی، امریکی معیشت اور اپنے دورِ صدارت کے باقی ماندہ تین برسوں میں اپنی حکومت کی ترجیحات اور اہداف سمیت کئی معاملات، مسائل اور گزشتہ ایک سال میں اپنی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ خطاب کو سننے کے لیے کیپٹل ہل میں امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے ارکان کے علاوہ نائب صدر مائیک پینس، خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ، امریکی سپریم کورٹ کے جج، فوجی قیادت، کئی اہم شخصیات اور ملک کی مختلف آبادیوں، نسلوں اور طبقوں کے نمائندہ عام امریکی شہری بھی موجود ہیں۔45ویں امریکی صدر کی حیثیت سے ٹرمپ کے امریکی ایوان نمائندگان کے چیمبر سے پہلی تقریر کے اہم نکات پہلے ہی سامنے آ گئے تھے جس کی وجہ سے دنیا بھر کی مارکیٹوں میں مندی اور ڈالرکی قدرمیں بھی کمی دیکھی گئی۔قبل ازیں اسٹیٹ آف یونین خطاب کے موقع پرڈیموکریٹک پارٹی کی کچھ خواتین اراکین نے ٹرمپ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر سیاہ لباس پہننے کا اعلان کیا ۔امریکی آئین کے آرٹیکل ٹو ، سیکشن تھری، شق ون کے مطابق صدر کو کانگریس کو اسٹیٹ آف دی یونین یعنی وفاق کی صورت حال سے متعلق معلومات دینا ہوتی ہیں اور انہیں کانگریس کو ایسے اقدامات تجویز کرنا ہوتے ہیں جو ان کے خیال میں ضروری اور مناسب ہوں۔پہلا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب 8 جنوری 1790 میں جارج واشنگٹن نے کیا جو صرف 833 الفاظ پر مشتمل تھا اور امریکی تاریخ کا سب سے مختصر اسٹیٹ آف دی یونین خطاب تھا۔