تحریر: ریحان خان
انقرہ، جمعہ، 4 اپریل 2025 (ٹی این ایس): ترکی کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی وزراء کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں اشتعال انگیز اور اسرائیل کی جارحانہ و توسیع پسندانہ پالیسیوں کا عکاس قرار دیا ہے۔
وزارت نے اسرائیل کی شام اور لبنان میں کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں ہونے والی ترقیاتی پیش رفت، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے امید افزا ہے، اسرائیل کے لیے باعث تشویش کیوں ہے؟ یہ سوال ایک سرکاری بیان میں جمعہ کے روز اٹھایا گیا۔
وزارت نے 2 اپریل کو شام میں اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شامی سرزمین سے کسی قسم کی اشتعال انگیزی یا حملہ نہیں ہوا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی تنازعات پر مبنی ہے اور وہ اپنے جارحانہ عزائم کے تحت ایسی کارروائیاں کرتا ہے۔
“اسرائیلی وزراء غزہ میں نسل کشی، فلسطینی عوام کے خلاف مکمل جنگ، آبادکار دہشت گردی، مغربی کنارے کے الحاق کے منصوبے اور اسرائیل کی توسیع پسندانہ خواہشات کو چھپانے کے لیے شام اور لبنان پر حملے کرکے ترکی کو نشانہ نہیں بنا سکتے،” سرکاری بیان میں کہا گیا۔
ترکی کی وزارت خارجہ نے اسرائیل کو خطے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کارروائیاں علاقائی ممالک کی علاقائی سالمیت اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ وزارت نے اسرائیل کو ایک عدم استحکام پیدا کرنے والی طاقت قرار دیا جو خطے میں بدامنی اور دہشت گردی کو فروغ دیتی ہے۔
ترکی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو ترک کرے، مقبوضہ علاقوں سے دستبردار ہو، اور شام میں استحکام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا بند کرے۔ ساتھ ہی، وزارت نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو روکنے میں اپنی ذمہ داری ادا کرے