شاپنگ مال نے اہلِ موریشس کی طرزِ زیست میں تغیر پیدا کیا

0
307

تحریر:آبیناز جان علی

میرے اسکول کے زمانے میں شاپنگ مال کا تذکرہ صرف درسی کتابوں اور کہانیوں کی کتابوں تک ہی محدود تھا۔شاپنگ مال کسی ملک کے ترقی یافتہ ہونے کابین ثبوت فراہم کرتا ہے۔ بیس سال بعدزمانے نے کروٹ بدلی اور جزیرۂ موریشس میں مختلف علاقوں میں شاپنگ مال کی تعمیر ہوئی جس سے ہماری زندگی بھی اثر پذیر ہوئی۔ باگاتیل، لا خوازیت اور کاسکاویل کے نام چھوٹے چھوٹے بچوں کی زبان پر رہتے ہیں۔


شاپنگ مال کا قیام جدید معاشرے کا شاہد ہوتا ہے۔ ۲۰۴۰ مربع کلومیٹر پر محیط موریشس کے مختلف علاقوں میں تقریباً ۱۲ شاپنگ مال ہیں جہاں ایک ہی چھت کے نیچے انواع و اقسام کی دکانیں موجود ہیں۔ ان دکانوں میں مقامی اور بین الاقوامی برانڈکے کپڑوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ جوتے، بستے،گھریلو سامان اور پالر بھی ہیں۔ نیز طعام خانوں کی کثیر تعداد میں موجودگی سے مختلف ڈش سے شکم سیر ہونے کا موقع ملتا ہے۔ کپڑوں کی دکانیں اور طعام خانے موریشس میں رائجِ عام کثیر مذاہب اور تہذیبوں کی دلیل فراہم کرتے ہیں۔ جزیرۂ موریشس مشرق اور مغرب کی ایک دلکش آمیزش ہے۔ ہندوستانی، چینی، افریقی اور یوروپی تہذیبوں کے نچوڑسے کریول کی تہذیب وجود میں آئی۔ گویا موریشس کے شاپنگ مال میں ایک چھوٹی دنیا مقید ہے۔


شاپنگ مال گھر والوں اور احباب کے ساتھ وقت گزارنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔ یہاں تفریح کی تمام سہولتیں دستیاب ہیں۔ کافی کی دکانوں میں گھنٹے دو گھنٹے آرام سے پر لطف گفتگو میں گزر جاتے ہیں۔ مٹھائی کی شیرینیت اور گرم کافی زبان پر پڑتے ہی دل ودماغ کو تروتازہ اور ہشاش بشاش کرتی ہیں۔ سنیما ہال اور بچوں کے لئے کھیل کا میدان اور مشینیں بھی شامل ہیں۔ غبارے، کھلونے اور آئیس کریم بچوں کے دلوں کو خوش کرتے ہیں۔ مال کی تعمیر سے قبل اہلِ موریشس ساحل کے کنارے وقت گزارتے ، قدرت کی سیر کرتے یا رشتہ داروں کے ہاں جاتے لیکن اب مادہ پرستی کے اس دور نے انسان کو قدرت اور قدرتی چیزوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر اکسایا ہے۔ اگرچہ شاپنگ مال میں چیزوں کی قیمت زیادہ ہیں پھر بھی لوگ اس کی عمدہ قسم سے متاثر ہو کر ان کو خرید ہی لیتے ہیں۔
شاپنگ مال کی جدید عمارت میں جدید سہولتیں موجود ہیں۔ پارکنگ کی کوئی پریشانی نہیں۔ مال کے اندر کی زندگی نئے رجحانات کو گلے لگانے کی ترغیب دیتی ہے ۔ آج کے نوجوانوں اور بچوں کے لئے مال جانا معمول بن گیا ہے۔ انہیں یہ بات کافی حد تک معقول لگتی ہے کہ خوشیاں پیسے خرچ کرنے سے ملتی ہیں۔ چنانچہ عمدہ کپڑے، کاسمیٹک اور باہر کے کھانے کے اخراجات برداشت کرناان کے لئے باعثِ عار نہیں۔


موریشس کے شاپنگ مال کی خاصیت اس پر بھی محیط ہے کہ یہاں چند ایسی چیزیں فروخت کی جاتی ہیں جو خصوصاً یہیں کی ہیں جیسے پھل کا سلاد، فالودہ اور یادگار کی دکانیں جہاں موریشس سے منسلک چیزیں ملتی ہیں جو سیاح اپنے ساتھ واپس اپنے ملک لے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ موریشس کی ملکیت میں شامل جزیرۂ روڈیگس کے مشہور اچار ، لیمو اور چھوٹی ہری مرچ اور دھوپ میں سکھایا گیا ہشت پابھی نہایت مقبول ہیں۔ طرح طرح کی کمپنیاں اپنے سامان کی تشہیر کرتے ہوئے کم داموں میں بیچتے ہیں۔ اس کے علاوہ مال میں مختلف موقعوں کو بھی منایا جاتا ہے جس سے ایک فضا پیداہو جاتی ہے۔ حال ہی میں آزادی کی پچاسویں سالگرہ کے موقعے پرپرانی تصوروں کی نمائش ہوئی۔ یومِ عشاق پر دل کی شکل کے لال غباروں، پھولوں اور قمقموں سے عمارت کو آراستہ کیا گیا۔ کرسمس پر بھی بڑھ چڑھ کر سجاوت کی جاتی ہے۔عید اور دیوالی جیسے بڑے تہواروں پر دلفریب سجاوتوں کے ساتھ سیلیس بھی لگتی ہیں اورموقعے کے مطالبات کو پر کرنے کی کوشش کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سامان فراہم ہوتے ہیں۔ اس سے وقت کے ساتھ چلنے کی تہذیب غالب ہو جاتی ہے۔ دوست احباب سے بات کرتے وقت بھی مال کا تذکرہ آہی جاتا ہے۔ ہفتے کی مصروفیات سے پیدا ہونے والی تھکان کو دور کرنے کے لئے ویک اینڈمیں مال جانا ایک محبوب مشعلہ بن گیا ہے۔ یہ مہذب ہونے کی نشانی قرار دی جاتی ہے۔ موریشس میں ایسی جگہوں پر فرانسسی زبان استعمال ہوتی ہے تاکہ اپنے مہذب اور تعلیم یافتہ ہونے کا زعم غالب ہو سکے۔
اس کے علاوہ ادبی ذوق کی تسکین و تربیت کتب خانوں کی موجودگی سے پر ہوتی ہے۔ مختلف زبانوں کی کتابوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اس جنت نما جزیرے میں رائج مختلف زبانوں کی تحریریں ملتی ہیں۔ حالانکہ پچھلے زمانے میں مقامی قلمکاروں کی نگارشات کم نظر آتی تھیں لیکن جیسے جیسے سماج ترقی کرتا ہے وہ اپنی تہذیب و ثقافت کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔ اس ضمن میں رقص و سرود کی محفلوں کا بھی انعقاد ہوتا ہے۔ چینی نئے سال پر ڈراگن کا رقص سب کو متحیر کرتا ہے۔ یہاں کے مقامی رقص سیگا کے بھی شو منعقد ہوتے ہیں۔
گزرتے وقت کے ساتھ مفت تعلیم کی کرم فرمائی نے باشندگانِ موریشس کے لئے گنے کے کھیتوں سے نکال کر سماج میں معتبر رتبہ بنانے کے لئے راہ ہموار کی اور ان کی قوتِ خریداری میں استقامت نمودار ہوئی۔ اس طرح معاشرتی ترقی نے ایک نئی تہذیب کو ابھاڑا جس سے یہاں کی طرزِ زیست میں تبدیلی پیدا ہوئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here