ایشیا کا سب سے بڑا ویزہ سینٹر ستمبر2019 سے کراچی میں کام شروع کردے گا، امارتی سفیر

 
0
354

کراچی جولائی 19 (ٹی این ایس): متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید الزابی نے کہا ہے کہ کراچی میں ایشیا کا سب سے بڑا ویزا سینٹر ستمبر 2019کے پہلے ہفتے میں کام شروع کردے گا جبکہ دوسرا ویزہ سینٹر اسلام آباد میں اکتوبر2019 کے پہلے ہفتے میں کام شروع کرے گا جو پاکستان میں ہی تمام سہولیات فراہم کرے گا۔کراچی کے ویزہ سینٹر میں میڈیکل انشورنس،چیک اپس اور کنٹریکٹ وغیرہ کی تمام سہولیات سمیت ہر چیز ہوگی جو ایشیا کا سب سے بڑا ویزہ سینڑ ہو گا جبکہ یواے ای سے پوری ٹیم خیابان شمشیر کراچی میں واقع اس ویزہ سینٹر کے لیے یہاں آئے گی۔
یہ بات انہوں نے جمعہ کو کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے دورے کے موقع پر اجلاس میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پرڈپٹی قونصل جنرل یواے ای بخیت عتیق الریمیتھی،چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی،صدر کے سی سی آئی جنید اسماعیل ماکڈا،سینئر نائب صدر خرم شہزاد، نائب صدر آصف شیخ جاوید اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی اجلاس میں شریک تھے۔
امارتی سفیر نے شاندار مہمان نوازی پر کے سی سی آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے فیصل آباد،لاہور،پشاور، ساؤتھ وزیرستان اور کوئٹہ سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں کادورہ کیا لیکن کراچی پاکستان کا انتہائی اہم شہر ہے جہاں سماجی زندگی،ماحول،ثقافت اور لوگ اسلام آباد سمیت دیگر علاقوں کی نسبت بہت مختلف ہیں۔انہوں نے کہاکہ یواے ای اور پاکستان کے درمیان تعلقات ہمیشہ مضبوظ اور تاریخی رہے ہیں لیکن انہیں تجارت وسرمایہ کاری کے مواقعوں کو تلاش کرکے مزید مستحکم کیاجاسکتا ہے۔
امارتی اور پاکستانی حکومت تجارت و سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔ہم تعاون کے نئے شعبوں کو تلاش کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں جہاں ہم مشترکہ طور پر کام کرسکیں اور چیلنجنگ ایریاز کا جائزہ بھی لے رہیں تاکہ امارتی حکام ان پر توجہ دے سکیں۔انشاء اللہ ہم مستقبل میں بھی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھیں گے۔انہوںنے بتایاکہ یو اے ای5سال کیلئے سلور انویسٹمنٹ ویزہ اور 10سال کے لیے گولڈن انویسٹمنٹ ویزہ کی پیشکش کرتا ہے جو ایک مخصوص طریقہ کار کے تحت جاری کیے جاتے ہیں جن کا انحصار کمپنی کے سائز اور سرمایہ کاری کی مالیت پر ہو تا ہے ۔
انہوں نے یواے ای اور پاکستان کے درمیان سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور محفوظ بنانے کے لیے قانونی طریقہ کار وضع کرنے پر بھی زور دیا چاہے وہ سرمایہ کاری پاکستان یا پھر یواے ای میں کی جائے ۔انہوں نے کے سی سی آئی کے صدر کی جانب سے یواے ای چیمبراور کے سی سی آئی کے درمیان باہمی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ یہ واقعی بہت اہم ہے تاکہ ایک فریم ورک وضع کیا جا سکے کیونکہ جب دوری ہو گی اور کوئی سرکاری دورہ نہیں ہوگا تو تاجربرادری اورچیمبرز آف کامرس کو پاکستان اور یو اے ای میں دستیاب مواقعوں کے بارے میں کوئی آگاہی نہیں حاصل ہوگی۔
امارتی سفیر نے کہاکہ کراچی چیمبر کی جانب سے ایم او یوز پر دستخط کرنے،ورک شاپس،کانفرنسز اور سیمینارز سے متعلق کسی بھی تجویز کو زیرغور لایاجائے گا۔آپ کی جو بھی ضروریات ہیں ہم حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ہم سفارتخانے اور کراچی کے قونصلیٹ میں ہمیشہ آپ کی مدد کے لیے موجود ہیں۔چیئرمین بی ایم جی و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی نے امارتی سفارتخانے اور قونصلیٹ کے تعاون اورمعاونت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ وہ کے سی سی آئی کی ویزہ سفارشات کو وقتاً فوقتاً مکمل اہمیت دیتے ہیں اور اس حوالے سے انہیںکبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی تاہم انہوں نے ڈپٹی قونصل جنرل سے درخواست کی کہ کے سی سی آئی کے تعاون سے کوئی ایسا نظام وضع کیا جائے جس کے ذریعے حقیقی تاجروں وصنعتکاروں کو کے سی سی آئی کی ذاتی ضمانت پر ویزہ جاری ہوسکے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی چیمبر اپنے ممبران کو ویزہ سفارشات جاری کرنے سے قبل تمام دستاویزات کو مکمل طور پر جائزہ لیتا ہے اور تصدیق کرتا ہے تاکہ صرف حقیقی تاجر اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔انہوں نے امارتی سفیر سے درخواست کی کہ صرف ایسے چیمبرز آف کامرس اور تجارتی ایسوسی ایشنز کی ویزہ سفارشات کو اہمیت دی جائے جو وزارت تجارت میں قانونی طور پر رجسٹرڈ ہیں۔
پاکستان خصوصاًکراچی میں بہت ساری کاغذی اور جعلی فورمز اورکونسلز وغیرہ موجود ہیں جو قانونی طور پر رجسٹرڈ نہیں۔انہوں نے کہاکہ یواے ای سفارتخانہ تمام قانونی چیمبرز آف کامرس اور ٹریڈ باڈیز کی فہرست اور ان کے دائرہ کار باآسانی وزارت تجارت سے حاصل کرسکتا ہے جس سے انہیں پاکستان کے 42چیمبرز اور120تجارتی ایسوسی ایشنز کے قانونی حقوق اور دائرہ کار کو بہتر طور پر جاننے میں مدد ملے گی۔
کے سی سی آئی کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے امارتی سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کے سی سی آئی اور یواے ای چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان ایم او یو سائن کرنے کی جانب توجہ مبذول کروائی تاکہ پاکستان اور یواے ای کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کی تاجربرادری کو ایک دوسرے کے قریب لایاجاسکے۔ ہمیں دوطرفہ تجارتی تعلقات کے فروغ اور رکاوٹیں خصوصاً نان ٹیرف بیریئرز کو دور کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ اگرچہ یو اے ای کی جانب سیاحتی ویزہ بغیرکسی دشواری کے جاری کیا جاتا ہے لیکن امارتی حکومت کو پاکستانی تاجر برادری کے لئے بزنس ویزہ کے اجراء پر بھی ضرور غور کرنا چاہیے۔جنید ماکڈا نے بتایا کہ تقریباً16لاکھ پاکستانی یواے ای کے مختلف شہروں میں رہائش پذیر ہیں۔پاکستان کو مالی سال 2019میں یو اے ای سے 4.62ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا جو پاکستانی ورکرز کے لیے ایک انتہائی پرکشش مقام ہے۔انہوں نے کہاکہ اقتصادی لحاظ سے پاکستان ایک مشکل وقت سے گزر رہاہے لیکن یواے ای کی معاونت قابل ذکر ہے اور ہم پاکستان کی 3ارب ڈالر کی ادائیگیوں کے توازن میں مدد پر یواے ای کے بے انتہا مشکور ہیں۔