قندیل بلوچ قتل کیس کافیصلہ تین سال بعد سنا دیا گیا، بھائی کو عمرقید، مفتی عبدالقوی بے گناہ ثابت

 
0
847

ملتان ستمبر 27 (ٹی این ایس): نامور عالم دین اور رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن مفتی عبدالقوی نے کہا ہے کہ میری بے گناہی ثابت ہوگئی جس کے بعد مجھے ثبوتوں کی عدم موجودگی پر بری کردیاگیا۔قندیل بلوچ قتل کیس فیصلے کے بعد انہوںنے کہاکہ پولیس کو ایسی کوئی شہادت نہیں ملی جس سے یہ ثابت ہوتا کہ میں جرم میں شریک تھا۔ انہوں نے کہا کہ قندیل کے بھائی وسیم نے اقرار جرم کیا جس پر اسے سزا سنائی گئی۔انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے آج میری بے گناہی ثابت ہوگئی ہے۔ایک سوال کے جواب میں مفتی عبدالقوی نے کہاکہ اب پولیس کا سیاسی اثرورسوخ ختم ہورہاہے۔وزیراعظم عمران خان نے بڑی جرات کے ساتھ کہا ہے کہ کسی رکن اسمبلی یا مولانا اور مفتی کو پولیس پر دبائو ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
قندیل بلوچ قتل کیس کافیصلہ تین سال بعد سنا دیا گیا، بھائی کو عمرقید
ماڈل کورٹ کے جج عمران شفیع نے معروف ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قندیل بلوچ کے بھائی وسیم کو عمر قید کی سزا سنادی جبکہ معروف عالم دین مفتی عبدالقوی سمیت پانچ ملزمان کو بری کردیاگیا ۔قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ 38ماہ بعد سنایا گیا ہے۔ جمعرات کے روز سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیاگیاتھا۔جن ملزمان کو شک کافائدہ دے کر بری کیاگیا ہے ان میں مفتی عبدالقوی، اسلم شاہین، حق نواز ،عبدالباسط اورظفر حسین شامل ہیں۔مقدمے کا فیصلہ تین سال دوماہ اور 11دن کے بعد سنایاگیا۔ اس موقع پر کمرہ عدالت کھچا کھچ بھرا ہواتھا۔ ملزمان اور وکلاء کے علاوہ میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد کمرہ عدالت اندر اورباہر موجودتھی۔