گلگت میں اج جتنی بجلی دستیاب ہے یہ ہماری سابق حکومت کی کوششوں کا نتیجہ ہے،حفیظ الرحمن

 
0
70

گلگت(آئی پی ایس)سابق وزیراعلی و صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے میڈیا کو جاری بیان میں کہاہےکہ سلیکٹڈ صوبائی حکومت کی نااہلی،عدم توجہی سے محکمہ پاور لاوارث ہوچکا ہے۔

سابق وفاقی اور صوبائی حکومت کے بجلی کے درمیانی مدت اور لانگ ٹرم کے منصوبے سلیکٹڈ صوبائی حکومت اور عدم توجہی کے باعث تاخیر کا شکار ہورہے ہیں۔دو سالوں سے سابق مسلم لیگ (ن) کی وفاقی اور صوبائی حکومت کے منصوبوں کو جان بوجھ کے توجہ نہیں دے رہی۔ 09 ماہ سلیکٹڈ صوبائی حکومت سوئی رہی اور نومبر کے مہینے میں ہوش میں آتی ہے اور فرمائشی کرائے کی پالیسی سامنے لاتی ہے۔اور قوم کے اربوں روپے ہوا میں جھونک دیے جاتے ہیں اور نتیجہ صفر ہی نکلتا ہے۔2015 سے 2020 کے درمیان وفاقی اور صوبائی حکومت نے بجلی کے منصوبوں پر بھرپور توجہ دی گئی۔

منصوبوں میں شارٹ،میڈیم اور لانگ ٹرم پالیسی مرتب کی گئی۔سمارٹ میٹر سمارٹ کیبل کا منصوبہ شروع کیاگیا۔بجلی کے بلات کا شفاف نظام وضع کرکے عوام کے بہتر مفاد میں سابقہ بلات کی ادائیگی میں چھوٹ دی گئی۔تاکہ عوام بلنگ کے نئے نظام پر اعتماد کرکے بلات کی بروقت اور مکمل ادائیگی یقینی بنا سکیں۔ بدقسمتی سے سلیکٹڈ صوبائی حکومت نے سابق وفاقی اور صوبائی ہماری حکومتوں کے میڈیم اور لانگ ٹرم منصوبوں کو کوئی اہمیت نہیں دی اور نہ ہی سمارٹ کیبل اور سمارٹ میٹر کے منصوبے کو آگے بڑھایا اور نہ عوام کو سابقہ بلات کی چھوٹ کی پالیسی کو اپنایا اور نہ ہی کوئی نئی پالیسی دی۔سلیکٹڈ صوبائی حکومت کی نااہلی اور عدم توجہی کے بدولت آج گلگت بلتستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ بدترین صورتحال اختیار کرچکی ہے۔ اور سلیکٹڈ صوبائی حکومت منصوبوں پر بھرپور توجہ دینے کی بجائے کرائے کی پالیسی سے آگے نہیں نکل سکی۔سابق وزیراعلی حفیظ الرحمن نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سابق وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے تمام ڈویژنز میں بجلی کے بڑے منصوبے دئے۔14 میگاواٹ نلتر پاور پراجیکٹ کا سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے افتتاح کیا اور مسلم لیگ (ن) کی سابق صوبائی حکومت نے اس منصوبے کو 36 ماہ کے بجائے 28 ماہ میں مکمل کیا۔

نلتر 16 میگاواٹ پر سابق صوبائی حکومت نے کام تیز کیا اس منصوبے نے 2021 میں مکمل ہونا تھا۔لیکن یہ اہم عوامی منصوبہ بھی صوبائی حکومت کی عدم توجہی اور نااہلی کا شکار ہوچکا ہے۔شغر تھنگ، غواڑی عطا آباد اور دیگر بڑے بجلی کے منصوبے سابق وفاقی حکومت کے دور میں کاغذوں میں رلتے رہے,اب ان منصوبوں کے آغاز کیلئے تیزی سے کام ہورہا ہے۔ریجنل گریڈ کا منصوبے کو وفاقی حکومت بھرپور توجہ دے رہی ہے۔سابق صوبائی حکومت نے 06 میگاواٹ ڈور مشکوں کارگاہِ،بگروٹ،چکرکوٹ اور جگلوٹ میں بجلی کے منصوبے مکمل کئے۔ اور گلگت کے عوام کیلئے 7 میگاواٹ کارگاہ,03 میگاواٹ نومل اور بگروٹ دو میگاواٹ کے منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں چھوڑے جو دو سال سے مکمل نہیں ہورہے اور 08 میگاواٹ تھرمل جرنیٹر منصوبہ فرمائشی کرائے کی پالیسی کیلئے ترک کیاگیا۔اسی طرح تمام اضلاع میں بجلی کے منصوبے مکمل کئے۔ اور بہت سے منصوبے زیر تکمیل چھوڑے۔آج گلگت میں جتنی بجلی دستیاب ہے یہ مسلم لیگ (ن) کی سابق صوبائی حکومت کی محنتوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔مسلم لیگ (ن) کے سابق وفاقی صوبائی حکومت کے منصوبوں پر توجہ دی جاتی تو آج گلگت بلتستان میں بدترین لوڈ شیڈنگ کی صورتحال نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے سخت موسمی اور ڈیزاسٹر کی صورتحال کو سامنے رکھ کر تھرمل جرنیٹر کی پالیسی بنائی تھی گلگت ہنزہ اور دیگر علاقوں کیلئے تھرمل جرنیٹر خریدے اور گلگت کیلئے 08 میگاواٹ کے تھرمل جرنیٹر 60 کروڈ کی لاگت کا منصوبہ رکھا۔تاکہ 16 میگاواٹ کا تھرمل ایک فیڈر کو ایک ساتھ چلاسکے۔کرونا وائرس کی صورتحال کی وجہ سے بروقت ٹینڈر نہیں کرسکے۔کچھ لوگوں کو مالی فائدے دینے کیلئے کرایے کی جرنیٹر کی پالیسی بنائی گئی اور قوم کے اربوں روپے ہوا میں جھونک دیے گئے۔انہوں نے کہا کہ سابق صوبائی حکومت نے پاکستان کی تاریخ کا پہلا سمارٹ کیبل سمارٹ میٹر کا منصوبے پر کامیابی سے عملدرآمد کیا۔ اور اس منصوبے کو آگے بڑھاتے ہوئے۔جوٹیال اور خومر کیلئے منصوبہ دیا۔بدقسمتی سے اس نااہل صوبائی حکومت نے نہ اس منصوبے کو آگے بڑھایا نہ ہی سابق منصوبوں کی تکمیل پر توجہ دی۔کونوداس سمارٹ کیبل سمارٹ میٹر کے منصوبے پر 10 کروڈ خرچ کرکے 02 میگاواٹ بجلی کی بچت کی گئی جبکہ ایک میگاواٹ بجلی بنانے کیلئے 30 کروڈ سے زائد کے اخراجات آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سابق صوبائی حکومت نے بجلی کے بلات کی حصولی کیلئے شفاف پالیسی اور نظام وضع کیا۔محکمہ پاور میں اصلاحات نافذ کیں۔عوام کو بجلی کے بلات کی طرف مکمل راغب کرنے کیلئے سابقہ بلات میں چھوٹ کی پالیسی مرتب کی۔

بدقسمتی سے موجودہ سلیکٹڈ صوبائی حکومت نے اس اہم عوامی اور انتظامی اقدامات کو نظر انداز کیا اور کوئی پالسی سامنے لانے میں ناکام رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سول حکومتوں میں بغیر پالیسی کے اداروں کے درست سمت کا تعین دیوانے کا خواب ہے۔جس کی مثال آج کے گلگت بلتستان کے ادارے ہیں۔سلیکٹڈ صوبائی حکومت فوری طور پر ٹھیکے اور کرایے کی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔اپنی تمام تر توجہ وفاقی اور صوبائی منصوبوں پر دے اور سمارٹ کیبل سمارٹ میٹر کے منصوبے کو وسعت دے اور عوام کے سابقہ بلات میں مکمل چھوٹ دے اور بجلی کے بلات کا شفاف اور بروقت نظام وضع کرے۔