نیب آرڈیننس 1999 کے تحت فوج کے حاضرسروس افسران کے علاوہ کسی کو استثنا حاصل نہیں ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانونی اصلاحات و احتساب عرفان قادر کی پریس کانفرنس

 
0
111

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانونی اصلاحات و احتساب عرفان قادر نے کہا ہے کہ نیب آرڈیننس 1999 کے تحت فوج کے حاضرسروس افسران کے علاوہ کسی کو استثنا حاصل نہیں ہے،این سی اے 190 ملین پائونڈ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان ، ان کی اہلیہ ، فرح گوگی اور ان کے شوہر کے خلاف مزید ثبوت سامنے آئے ہیں،فرح گوگی اور اس کے شوہر کے اکائونٹ میں ساڑھے 4ارب روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی، ان کو وطن واپس لانے کےلئے کوششیں جاری ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھرکو بدعنوانی کا سامنا ہے،اسی طرح دنیا بھرمیں کرپشن اور بدعنوانی کی وجہ سے احتساب کا عمل بھی جاری ہے، بدعنوانی و ہ فعل ہے جس سے کسی کوناجائز فائدہ یا نقصان ہو اور قانون اس کی اجازت نہ دیتا ہو، اقوام متحدہ کے بدعنوانی کی روک تھام کے کنونشن پر پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک نے دستخط کررکھے ہیں، دنیا کے تمام ممالک بدعنوانی کے خاتمے کےلئے ہم آہنگی کے خواہاں ہیں، پاکستان بدعنوانی کے خاتمے کےلئے دیگرممالک کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس 1999 کا مقصد ملک سے لوٹی ہوئی دولت واپس لانا ہے، سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کا احتساب تو ہوتا رہتا ہے لیکن سب کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہئے، نیب آرڈیننس 1999 کے تحت فوج کے حاضرسروس افسران کے علاوہ کسی کو استثنا حاصل نہیں ہے، کوئی مقد س گائے نہیں ہے، یہ قانون تمام پبلک آفس ہولڈرز اور تمام پاکستانی شہریوں پر لاگو ہوتا ہے،پاک فوج میں سخت قوانین نافذ ہیں اور سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے ججز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں صرف سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کیا جاسکتا ہے یہ درست بات ہے لیکن فوجداری جرم کی صورت میں نیب آرڈیننس کے تحت بھی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزرا اعظم کو نااہل کیا گیا، عدالتوں نے ان کے کیسز نیب کو بھیجے ا ور ریفرنس دائرکرنے اور ان کو منطقی انجام تک پہنچانے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ جج صاحبان سے متعلق آڈیوز سامنے آئیں جن کی تحقیقات کےلئے کمیشن قائم کیا گیا، ان آڈیوز سے ایسا لگ رہا تھا کہ کچھ لوگ عدالتی نظام پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں اس لئے اس کی تحقیقات کےلئے ججز پر مشتمل کمیشن بنایا گیا تاہم اسے بھی کام سے روک دیا گیا ۔

معاون خصوصی نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے تناظر میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 منظورکیا گیا جس کا مقصد سپریم کورٹ کو مضبوط کرنا تھا لیکن اس قانون کو نافذ ہونے سے پہلے ہی روک دیا گیا، قانون سازی روکنا کسی کا بنیادی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں انتخابات کے معاملے پربھی جلد بازی میں فیصلہ لیا گیا ، ہم نے کہا تھا کہ 14مئی کو انتخابات نہیں ہوسکتے اور انتخابات نہیں ہوئے ۔

انہوں نے کہا کہ این سی اےسے 190 ملین پائونڈز کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان ، ان کی اہلیہ ، فرح گوگی اور ان کے شوہر کے خلاف مزید ثبوت سامنے آئے ہیں،فرح گوگی اور اس کے شوہر کے اکائونٹ میں ساڑھے 4ارب روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی، ان کو وطن واپس لانے کےلئے کوششیں جاری ہیں ، اس کیس میں ٹھوس شواہد موجود ہیں ، اس کیس میں 190ملین پائونڈ ایک مخصوص اکائونٹ میں منتقل کرنے سے ٹیکس چوری بھی ہوئی ، ریاست کو پیسہ اور ٹیکس دونوں نہیں ملے، قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان کا پہنچایا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مریم نواز کو عدالت نے بری کیا ہے جبکہ نواز شریف کو بھی اس کیس میں سزا سنائی گئی وہ بھی بری ہوں گے۔ نواز شریف کی نااہلی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاناما کیس میں اقامہ شامل ہی نہیں تھا لیکن انہیں رقم نہ لینے پر سزا سنائی گئی، عدالت کو ماضی میں کئے گئے اپنے ایسے فیصلوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔