اسلام آباد(ٹی این ایس) وزیر خزانہ کی معاشی ترقی کے لیےآئی ایم ایف,عالمی اداروں سے بات چیت مثبت قرار

 
0
51

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے چینی ہم منصب سے ملاقات میں پاکستانی معیشت کیلئے تعاون پرشکریہ ادا کیا ہے اور معاشی ترقی کے لیےآئی ایم ایف,عالمی اداروں سے بات چیت کومثبت قراردیا ہے. آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس 17 اپریل سے 19اپریل کےدوران شیڈول تھے وزیر خزانہ کی ایم ڈی آئی ایم ایف اورصدرورلڈ بینک امریکی حکام اور دیگر مالیاتی اداروں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امید ظاہر کی ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ نئے قرض پروگرام کے خدوخال مئی میں طے پا جائیں گے۔وزیر خزانہ نے امریکا کے شہر واشنگٹن میں چینی ہم منصب سے ملاقات کے دوران پاکستانی معیشت کے لیے چینی تعاون کو سراہا ۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان مالی سال 26-2025 کے دوران چینی پانڈا بانڈ لانچ کرنا چاہتا ہے۔ وزیر خزانہ اور چینی ہم منصب کی جانب سے بین الاقوامی اداروں میں تعاون جاری رکھنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے پاکستان میں چینی شہریوں کے تحفظ کا عزم کا اظہار کرتے ہوئےان پر دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی آئی ایف سی حکام سے بھی ملاقات ہوئی، اس دوران وزیر خزانہ نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے توسیعی پروگرام سے آگاہ کیا، توانائی کے شعبے اور ٹیکس اصلاحات پر بھی بات چیت کی گئی، انہوں نے اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ میں تعاون پر آئی ایف سی کا شکریہ ادا کیا۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے چینی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے پر توجہ مرکوز ہے اور اس حوالے سے اخراجات میں کمی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے انٹرویو میں آئی ایم ایف سمیت دیگر عالمی اداروں کے ساتھ بات چیت کو مثبت قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی میں بھرپور ساتھ دیا ہے جبکہ سی پیک چین کی طرف سے شاندار اور مثالی منصوبہ ہے۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی ورلڈ بینک کےعلاقائی نائب صدر برائے جنوبی ایشیا مارٹن رائزر سے ملاقات ہوئی۔ وزیرخزانہ نے نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کو حتمی شکل دیے جانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت توانائی، ٹیکس اصلاحات اور ایس او سیز کے شعبوں میں مختصر اور طویل مدتی اہداف حاصل کررہی ہے، موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹلائزیشن، انسانی ترقی پر عالمی بینک کی توجہ حکومت کی ترجیحات سےہم آہنگ ہے۔ اس دوران انہوں نے اقتصادی ترقی کے حوالے سے ملک کی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے حکومت کے وژن کو اجاگر کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں فریقین کا زرعی شعبےمیں اصلاحات کی ضرورت، پانی کے انتظام اور گندے پانی کی صفائی پر اتفاق ہوگیا۔ان کا کہنا تھا کہ ریٹنگ ایجنسیوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ عالمی قرض مارکیٹ کے پاس جانے کے لیے بنیادی کام کیا جاسکے۔ پاکستان کا موجودہ 3 ارب ڈالر کا پروگرام اپریل کے آخر میں ختم ہو رہا ہے اور حکومت طویل اور بڑے قرض پروگرام کی خواہاں ہے تاکہ اقتصادی استحکام کے ساتھ ہی ضروری اسٹرکچرل اصلاحات کی جاسکیں۔ محمد اورنگزیب نے عالمی مالیاتی ادارے اور عالمی بینک کے ساتھ اسپرنگ اجلاس کے دوران ادارے کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی تھی، بتایا کہ ہمیں توقع ہے کہ آئی ایم ایف کا مشن اسلام آباد میں مئی کے وسط تک آ جائے گا، اور پھر پروگرام کے حوالے سے پیش رفت ہوگی۔قبل ازیں، 16 اپریل کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ پاکستان نے اپنے اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کی معاونت کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ کئی ارب ڈالر قرض کے نئے معاہدے پر بات چیت شروع کر دی ہے اور پاکستان عالمی ادارے سے کم از کم تین سالہ پروگرام کی درخواست کرے گا۔ امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عالمی مالیاتی فنڈز کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں روپے کی قدر میں بہت زیادہ کمی کی توقع نہیں ہے۔آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد ازور نے واشنگٹن میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ میرے خیال میں اس مرحلے پر جو چیز اہم ہے وہ ہے اصلاحات کو تیز کرنا تاکہ پاکستان کو پوری صلاحیت کے مطابق ترقی فراہم کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ قرض معاہدہ ہونے کے بعد پاکستان ریزیلنس اینڈ سسٹین ایبلٹی ٹرسٹ کے تحت اضافی فنانسنگ کی درخواست کرے گا۔


پاکستان حالیہ مہینوں میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں کامیاب رہا ہے، اور جون کے اختتام تک ان کے 10 ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے، جس سے 2 مہینے کی درآمدات ہوسکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دوطرفہ قرضوں کا بڑا حصہ بشمول چین کے قرضوں میں توسیع ہو رہی ہے، لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ ہم اچھی حالت میں ہیں اور مجھے اس مالی سال اور نہ ہی اگلے مالی سال کے دوران کوئی بڑا مسئلہ نظر نہیں آتا، کیونکہ ہمیں ہر مالی سال تقریباً 25 ارب ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے بھی ممکنہ طور پر گرین بانڈ کے ساتھ بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹوں میں واپس آنے کی امید ظاہر کی ہے۔ تاہم اس سے قبل کچھ مزید کام کیا جانا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ہمیں ایک مخصوص ریٹنگ کے ماحول میں واپس آنا ہوگا، حکومت اگلے مالی سال میں اپنی خودمختار درجہ بندی میں بہتری کی امید کر رہی ہے۔ پاکستان نے اپنے اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کی معاونت کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ کئی ارب ڈالر قرض کے نئے معاہدے پر بات چیت شروع کی ہے اور پاکستان نےعالمی ادارے سے کم از کم تین سالہ پروگرام کی درخواست کی ہے اپنے دورہ امریکا کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےآئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے زیر اہتمام اجلاسوں میں شرکت کی ان اجلاسوں کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ملکوں کی مدد اور دنیا کے سب سے زیادہ مقروض ممالک کی معاونت کرنا ہے۔ اجلاس میں دنیا بھر سے مرکزی بینکرز کے ساتھ ساتھ مالیات اور ترقیاتی شعبے کے وزرا، ماہرین تعلیم اور نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے نمائندوں ںے عالمی معیشت کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔پاکستان میں آئی ایم ایف کا 9 ماہ پر محیط 3 ارب ڈالر کا قرض پروگرام اختتام کے قریب ہے اس پروگرام کو ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جس نے اسے گزشتہ موسم گرما میں ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔اس معاہدے کی 1.1 بلین ڈالر کی آخری قسط اس ماہ کے آخر میں منظور ہونے کا امکان ہے اور پاکستان نے اربوں ڈالر کے ایک نئے آئی ایم ایف پروگرام کے لیے بات چیت شروع کی ہے۔مارکیٹ کا اعتماد اور اتار چڑھاؤ پہلے سے بہت زیادہ بہتر شکل میں ہے اور اسی کے پیش نظر پاکستان نے اس ہفتے کے دوران فنڈ کے ساتھ ایک وسیع پروگرام کے لیے بات چیت شروع کی۔ نئی حکومت نے ایک نئے پروگرام میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور آئی ایم ایف کا عملہ اس حوالے سے ابتدائی بات چیت کے لیے تیار ہے پاکستان کے امریکا اور چین دونوں کے ساتھ قریبی اقتصادی تعلقات ہیں جس کی وجہ سے پاکستان ایک مشکل پوزیشن میں ہے کیونکہ دونوں ملک ایک بڑی تجارتی جنگ کا آغاز کر چکے ہیں۔محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ امریکا ہمارا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور اس نے ہمیشہ ہماری حمایت کی ہے، سرمایہ کاری کے معاملے میں ہمیشہ ہماری مدد کی ہے، لہٰذا یہ ہمیشہ پاکستان کے لیے ایک بہت ہی نازک رشتہ رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف، خصوصاً بنیادی ڈھانچے میں بہت بڑی سرمایہ کاری سی پیک کے ذریعے آئی ہے لہٰذا پاکستان کے لیے تجارتی جنگ میں ویتنام جیسا کردار ادا کرنے کا ایک بہت اچھا موقع ہے، جو کچھ چینی اشیا پر محصولات کے نفاذ کے بعد امریکا میں اپنی برآمدات میں ڈرامائی طور پر اضافہ کرنے میں کامیاب رہا تھا۔ آئی ایم ایف کےساتھ نئےقرض پروگرام کے لیےابتدائی پلان پر کام ہو رہا ہے، نئےقرض پروگرام کےحجم اور دورانیہ کو تاحال حتمی شکل نہیں دی گئی، نیا قرض پروگرام 3 سال یا اس سے زائد عرصےکے لیےہوسکتا ہے جو 6 سے 8 ارب ڈالرز کا ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ ملک کے نئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے انتہائی ضروری اصلاحات کے نفاذ پر توجہ مرکوز کرنے اور معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرنے کو اپنا واحد ایجنڈا قرار دیا ہے۔ محمد اورنگزیب نے نگران حکومت کی طرف سے وضع کی گئی تمام پالیسیوں پر عملدرآمد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہا ہےکہ میں نگران حکومت کے پالیسی اقدامات کی ضرور تعریف کروں گا، جس سے معاشی اشاریے بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نئے معاہدے کی ضرورت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے انکشاف کیا کہ ان کی ٹیم کم از کم 6 ارب ڈالر مالیت کا خاطر خواہ قرض حاصل کرنے کے لیے 3 سال کے نئے انتظامات کے لیے بات چیت شروع کرنے کے لیے تیار ہےمحمد اورنگزیب نے وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق نجکاری کے لیے ایک واضح اور فیصلہ کن منصوبے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ہمارے پاس ایک مضبوط نجکاری کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا ہے، کچھ مالی آسودگی پیدا کرنے کے لیے یہ واحد قابل عمل حکمت عملی ہے۔ وزیر خزانہ نے یقین دہانی کروائی کہ ان کی اقتصادی ٹیم نہ صرف حکومتی اخراجات کو کم کرنے بلکہ محصولات کی وصولی کو بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کرے گی۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کےساتھ نئےقرض پروگرام کے لیےابتدائی پلان پر کام ہو رہا ہے، نئےقرض پروگرام کےحجم اور دورانیہ کو تاحال حتمی شکل نہیں دی گئی، نیا قرض پروگرام 3 سال یا اس سے زائد عرصےکے لیےہوسکتا ہے جو 6 سے 8 ارب ڈالرز کا ہوسکتا ہے۔ ایف بی آرمیں اصلاحات کی جائیں گی، ٹیکس نیٹ بڑھایاجائے گا اور تقریبا 31 لاکھ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے پلان بنایاگیا ہے، ریئل اسٹیٹ اور زرعی شعبہ سے ٹیکس کی وصولی ترجیحات میں شامل ہوگاجو شعبے ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں ان کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔ ٹیکس فائلرز کی تعداد اورریونیو میں اضافے کے لیے پلان بنایا گیاہے، 15 سے 20 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر کام ہورہا ہے، ٹیکس نیٹ وسیع اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو بڑھانے پرکام کیا جائے گا، ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھا کر محصولات کوبڑھایاجائے گا، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے ذریعےٹیکس نیٹ بڑھانے پرکام کیا جائےگا۔حکومت گیس شعبے میں اصلاحات اورسستی توانائی پلان پر کام کررہی ہے، توانائی شعبے میں سرمایہ کاری اور مقامی وسائل پر انحصار حکومت کی ترجیح ہے، درآمد پر انحصار کم اور مقامی وسائل سے پیداوار بڑھانا ترجیح ہے۔حکومت مقامی آئل ریفائنریز سے پیداوار بڑھانے کے پلان پرکام کررہی ہے اور مقامی ریفائنریزکی اپ گریڈیشن سےساڑھے6 ارب ڈالرزسرمایہ کاری متوقع ہے۔ بجلی کی تقسیم اورترسیل کانظام بہتر بنایاجائے گا،توانائی شعبے کے سرکلر ڈیٹ میں اضافہ نہیں ہونےدیا جائے گا اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا جب کہ خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔