خیبر پختونخوا (ٹی این ایس) خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے دوسرے مرحلے میں اب تک 153 افراد افغانستان جا چکے ہیں۔ محکمہ داخلہ کے مطابق، 2 اپریل کو 27 افراد نے طورخم کے راستے واپسی اختیار کی، جبکہ اب تک مجموعی طور پر 4 لاکھ 77 ہزار 434 مہاجرین اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔
افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کی ڈیڈ لائن 31 مارچ کو ختم ہو چکی ہے، اور یکم اپریل سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی جبری بے دخلی کا عمل شروع ہونا تھا۔ تاہم، تین دن گزرنے کے باوجود یہ عمل تاخیر کا شکار ہے۔
ملک میں غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کیخلاف کریک ڈاؤن، اسلام آباد سے متعدد افراد گرفتار، کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا
ذرائع کے مطابق، لنڈی کوتل ٹرانزٹ کیمپ آج تیسرے روز بھی فعال نہیں ہو سکا اور سنسان پڑا ہے، جبکہ پالیسی کے مطابق ملک بھر سے غیر قانونی مہاجرین کو پہلے پشاور کے عارضی کیمپ میں منتقل کیا جانا تھا، پھر انہیں لنڈی کوتل لے جایا جانا تھا۔
صوبائی حکومت نے جبری بے دخلی کے لیے وفاق سے فنڈز فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور 10 اپریل تک مہلت مانگی ہے۔ ذرائع کے مطابق، 11 اپریل سے جبری انخلاء کے عمل کے آغاز کا امکان ہے۔
ملک میں اس وقت 8 لاکھ افغان سیٹیزن شپ کارڈ ہولڈرز مقیم ہیں، اور وفاقی حکومت نے ان کی واپسی کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم، صوبائی حکومت کو اس عمل میں فنڈز کی قلت کا سامنا ہے، جس کے باعث انخلاء تاخیر کا شکار ہے۔