اسلام آباد (ٹی این ایس) آئی پی پیز سے 3 ہزار 696 ارب کی بچت آئندہ بڑا ریلیف ثابت ہوگی،وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری

 
0
3

(اصغر علی مبارک)
اسلام آباد (ٹی این ایس); وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ الیکٹریسٹی پالیسی پالیسی کے تحت آئندہ 10 سال کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، 36 آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت سے 3 ہزار 696 ارب کی بچت ہوئی، یہ بچت آئندہ برسوں میں صارفین کیلئے بڑا ریلیف ہوگا۔ اسلام آباد میں بجلی کی قیمتوں سے متعلق میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاور سیکٹر میں سب سے بڑا چینلج پیداواری لاگت ہے، بجلی ٹیرف میں حد سے زائد اضافہ بھی پاور سیکٹر کے لیے چیلنج ہے، مسقبل کے لیے مہنگی بجلی نہ خریدنے کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے۔ الیکٹریسٹی پالیسی کے تحت آئندہ10 سال کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، آئی جی سیپ تقریباً اب اس وقت اختتام پر ہے، ایک سے دو ہفتوں میں پلان وزیر اعظم کو پیش کرنے جارہے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے توانائی نے کہا کہ گردشی قرض اور ڈسکوز کی نا اہلی پاور سیکٹر کیلئے چیلنج ہے، بجلی کی طلب میں مسلسل کمی اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ گردشی قرض اس وقت 2 ہزار 4 سو ارب کے قریب پہنچ چکا ہے، ڈسکوز کی جانب سے کوآرڈینیشن لیک بہت بڑا چیلنج ہے، کوشش کر رہے ان تمام مسائل کو جلد حل کیا جائے۔ اویس لغاری نے کہا کہ 6 سال کے اندر گردشی قرضوں کو ختم کر دیا جائے گا اور آئندہ سالوں میں اسے زیرو پر لایا جائے گا، تمام بجلی کے میٹرز کو آٹومیٹڈ سسٹم سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد، فیصل اور گوجرانوالہ کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں ( آئیسکو، فیسکو اور گیپکو ) کی نجکاری کا عمل جاری ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں لاہور، ملتان اور سکھر کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں ( لیسکو، میپکو اور سیپکو ) کی نجکاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 27 ہزار ٹیوب ویلز کو 7 ماہ میں سولر انرجی پر منتقل کر دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ 36 آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت سے 3 ہزار 696 ارب کی بچت ہوئی، یہ بچت آئندہ برسوں میں صارفین کے لیے بڑا ریلیف ثابت ہوگی، اس وقت کم سے کم کسی آئی پی پی کی مدت جو باقی ہے وہ تین سال ہے، جو آئی پی پیز رہ گئے ہیں ان کے ساتھ بات چیت بھی کریں گے۔ اویس لغاری نے کہا کہ چائنا کے ساتھ سی پیک فریم ورک پر پاکستان کو فخر ہے، چائنیز پلانٹس میں کوئلے کے ذریعے پیداوار پر کوشش کی جائے گی۔ بجلی کے نرخوں میں کمی حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی یا اضافے کے بارے میں ابھی سے کچھ نہیں کہہ سکتے، بجلی کے بنیادی ٹیرف میں جون تک کیا صورتحال ہوگی دیکھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بذریعہ ریگولیٹر ہی تمام امور انجام دیے جاتے ہیں، کام حکومت کرتی ہے، ٹرانسمیشن لائنز کے نقصانات کو کم کرنے کیلئے منصوبہ بنایا گیا ہے، ٹرانسمیشن لائنز کے نقصانات کے باعث 1 سے 2 روپے بجلی مہنگی ہے، ٹرانسمیشن لائنز کے نقصانات نہ ہوتے تو آج یہ 1 سے 2 روپے کا مزید ریلیف ملتا