اسلام آباد (ٹی این ایس) پیغامِ پاکستان آئین کے بعد مضبوط قومی اتفاقِ رائے کی دستاویز قرار

 
0
5

اسلام آباد (ٹی این ایس) پیغام پاکستان وہ بیانیہ ہے جو امن، رواداری اور دہشتگردی کے خاتمے میں ایک عظیم کردار ادا کر رہا ہے, یاد رکھیں کہ پیغامِ پاکستان ایک متفقہ فتویٰ ہے جو پاکستان میں دہشت گردی، خودکش حملوں اور کسی شخص کو ناحق قتل کرنے کو حرام قرار دیتا ہے، جسے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے تیار کیا اور 1800 سے زائد علمائے کرام نے اس پر دستخط کیے، جس کا مقصد دہشت گردی کے خاتمے اور پرامن معاشرے کے قیام کے لیے اسلامی تعلیمات اور پاکستانی آئین کی روشنی میں ایک مشترکہ لائحہ عمل پیش کرنا ہے. متفقہ فتویٰ اسلام میں دہشت گردی اور جہاد کے نام پر ناحق خونریزی کی سخت مذمت کرتاہےجس میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کی مشاورت شامل ہے. مختلف اسلامی مکاتب فکر کے 1,800 سے زائد علماء اور مفتیان عظام نے اس پر دستخط کیے تھے.
بنیاد: یہ فتویٰ قرآن و سنت اور پاکستان کے آئین کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے اور ریاست کے اداروں اور دینی مدارس کے وفاقوں کی مشترکہ کاوش ہے فتویٰ پاکستان کو ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر پیش کرنا اور معاشرے میں برداشت، انصاف اور مساوات کو فروغ دینا ہے.فتویٰ پیغامِ پاکستان ایک اہم مذہبی اور قومی دستاویز ہے جو دہشت گردی کو اسلام کے خلاف قرار دے کر امن و استحکام کا پیغام دیتا ہے. یہ فتویٰ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے تیار کیا تھا اور اس پر مختلف اسلامی مکاتب فکر کے 1,800 اسکالرز نے دستخط کیے تھے پیغام پاکستان کا مقصد پاکستان میں امن و امان کو برقرار رکھنا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کی مدد کرنا ہے فتویٰ میں کہا گیا تھا کہ نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں حرام ہیں پیغام پاکستان کو 16 جنوری 2018 کو ایوان صدر اسلام آباد میں جاری کیا گیا تھا، جس میں صدر پاکستان، ریاستی اداروں کے اراکین، حکومتی وزراء، اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے تحت تمام وفاقوں کے صدور وناظمین اور علمائے کرام نے شرکت کی تھی

 

آج کے دور میں، جب دنیا بھر میں مذہبی انتہاپسندی، نفرت اور عدم برداشت میں اضافہ ہو رہا ہے، بین المذاہب ہم آہنگی وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے, پاکستان جیسے ملک میں یہ ہم آہنگی ہی قومی یکجہتی کی ضمانت بن سکتی ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک مضبوط، پرامن اور متحد قوم کی جانب لے جاتا ہے
دینی قیادت نے متفقہ طور پر پیغامِ پاکستان کو آئین پاکستان کے بعد سب سے مضبوط قومی اتفاقِ رائے کی دستاویز قرار دیا ہے ,پیغامِ پاکستان پوری قوم کو ایک لڑی میں پرونے والا ضابطہ ہے جو دہشتگردی، انتہا پسندی اور فتنہ کے خلاف واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔قومی یکجہتی و پیغامِ پاکستان کانفرنس میں جید علماء کرام نے واضح کیا ہےکہ پاکستان کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر وجود میں آیا اور عالمِ اسلام کا قلعہ ہے ۔ فتنہ الخوارج ،فتنہ الہندوستان اور انکی حمایتی قوتیں معرکہ حق کا سبق یاد رکھیں۔ فتنہ الخوارج ہو یافتنہ ہندوستان ہو کسی کو بھی پاکستان کی فوج و عوام کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ہم اتحاد اور قومی یکجہتی کے ذریعے دشمن کو شکست دے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت بانیانِ وطن نے جس ریاست کا خواب دیکھا تھا، اس کی بنیاد مذہبی رواداری، مساوات اور باہمی احترام جیسے اصولوں پر رکھی گئی تھی۔ حالیہ کرسمس کی تقریبات میں وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف اور پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کی شرکت نہایت اہم اور خوش آئند پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہ محض ایک رسمی شرکت نہیں تھی بلکہ ایک واضح پیغام تھا کہ ریاست پاکستان اپنے تمام شہریوں کو بلا امتیازِ مذہب برابر سمجھتی ہے۔ مسیحی برادری نے اس اقدام کو دل کی گہرائیوں سے سراہا اور اسے قومی یکجہتی اور بین المذاہب ہم آہنگی کی روشن مثال قرار دیاکرسمس کی تقریبات میں اعلیٰ ریاستی شخصیات کی شرکت نے اس تاثر کو تقویت دی کہ پاکستان میں اقلیتیں محض آئینی کتابوں تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر بھی برابر کے حقوق رکھتی ہیں۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کا یہ واضح اور دوٹوک بیان کہ “مذہب کے نام پر کسی کو من مانی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تمام شہری برابر ہیں” مسیحی برادری میں خاص طور پر پذیرائی کا باعث بنا۔ یہ بیان اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ محض سیاسی الفاظ نہیں بلکہ آئین کی بالادستی اور اقلیتوں کے تحفظ کے عزم کا اظہار ہے۔ ریاست کی جانب سے ایسے واضح مؤقف معاشرے میں پھیلنے والی بے یقینی اور خوف کو کم کرتے ہیں اور مختلف مذہبی طبقات کے درمیان اعتماد کو فروغ دیتے ہیں ۔ یہ تمام مناظر اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ جب ریاستی قیادت محض دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے اتحاد، رواداری اور مساوات کا پیغام دیتی ہے تو اس کے اثرات معاشرے میں دور رس ہوتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خاتمے ‘ قرضوں سے نجات کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ قومی اتحاد اور یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے نہ تھی۔ وزیر اعظم کے اس بیان کو ملک کے سیاسی‘ معاشی اور سماجی حالات کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ملک عزیز جن چیلنجز سے گزر رہا ہے ان کا حل صرف حکومتی فیصلوں سے ممکن ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ موجودہ حکومت نے ڈیفالٹ کے کنارے پر کھڑی معیشت کو دیوالیہ پن سے بچایاہے۔ معاشی اشاریے بھی خوش آئندہیں۔ مگر معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے جو کچھ کیا جانا ضروری ہے ا س کیلئے قومی یکجہتی لازم و ملزوم ہے ان حالات میں سیاسی قوتوں پر فرض ہے کہ ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے وسیع تر مفاد کو پیش نظر رکھیں‘ سوچیں اور عمل کریں۔ معاشی مسائل کا سیاسی کمزوریوں اور فیصلوں کے بحران سے قریبی تعلق ہے ہماری صنعتیں توانائی بحران اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، ان مسائل کے حل کیلئے حکومت‘ عوام‘ صنعت کاروں‘ سرمایہ کاروں اورسیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے ۔ قومی یکجہتی کا مطلب یہی ہے کہ تمام طبقات اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور مشترکہ جدوجہد کریں۔سیاسی اور معاشی بحران کے اثرات سماجی سطح پر بھی تقسیم کی صورت میں نظر آتے ہیں جبکہ سوشل میڈیا اختلافِ رائے کونفرت اور تضحیک میں بدل رہا ہے‘ جس سے سماجی ہم آہنگی مزید متاثر ہو رہی ہے۔ قومی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے مکالمے کو فروغ دیا جائے۔ برداشت‘ رواداری اور قانون کی بالادستی وہ ستون ہیں جن پر مضبوط قومیں تعمیر ہوتی ہیں۔ وزیراعظم کا بیان اس امر کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کو اس وقت صرف معاشی پیکیجز یا سیاسی بیانات نہیں بلکہ ایک واضح قومی سمت درکار ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب حکمران ‘ اپوزیشن اور عوام‘ سب ہی ایک صفحے پر ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں بحرانوں سے اسی وقت نکلتی ہیں جب متحد ہو کر فیصلے کرتی ہیں۔ قومی یکجہتی کوئی وقتی نعرہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ عمل دیانتدار قیادت‘ مضبوط اداروں اور باشعور عوام کے امتزاج سے آگے بڑھتا ہے۔ ملک عزیزکو سیاسی استحکام‘ معاشی خود کفالت اور اقتصادی ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے تو اختلافات کو کم کر کے اتفاق کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو بحرانوں سے نکال سکتا ہے۔ قومی یکجہتی، مذہبی ہم آہنگی اور تشدد سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے ایک پروقار کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان “منبر و محراب، تشدد سے پاک معاشرہ، مذہبی ہم آہنگی، فتح معرکہ حق، قومی یکجہتی اور پیغام پاکستان” تھا۔ کانفرنس کی صدارت چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا سید عبدالخبیر آزاد نے کی کانفرنس میں کمشنر راولپنڈی ڈویژن عامر خٹک، مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی کمشنرز، تمام مکاتب فکر کے جید علما کرام، مذہبی و سماجی شخصیات اور معززین نے شرکت کی۔شرکا نے قومی اتحاد، بین المسالک ہم آہنگی اور تشدد سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے مشترکہ اور منظم کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان مولانا سید عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہونے والا عالم اسلام کا مضبوط قلعہ ہے اور موجودہ حالات میں ملک کو اتحاد، استحکام اور قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے معرکہ حق میں دشمن کو عبرتناک شکست دی جس کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔مولانا سید عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان کے تحفظ و دفاع کے لیے پوری قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور افواج پاکستان پوری قوم کا فخر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ معرکہ حق میں حاصل ہونے والی کامیابی پوری امت مسلمہ کی کامیابی ہے اور پاکستان کی سلامتی و دفاع کے لیے قوم متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے معرکہ حق میں بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر کے عظیم کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ 57 اسلامی ممالک میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو محافظین حرمین شریفین کا اعزاز عطا فرمایا ہے.جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر عالم اسلام کا اعتماد پاکستان سے محبت اور اعتماد کی واضح دلیل ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کے تحفظ و سلامتی کا ضامن ہے اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خود کو پاکستان کا سفیر قرار دینا پوری قوم کے لیے باعث فخر و اعزاز ہے۔ چیئرمین رویت ہلال کمیٹی نے کہا کہ پوری قوم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور افواج پاکستان کی لازوال قربانیوں کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتی ہے ملک دشمن قوتیں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ذریعے دہشت گردی اور بدامنی پھیلا کر قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے صوبے میں آئمہ مساجد کے وقار میں اضافے اور مدارس دینیہ کی رجسٹریشن کے اقدامات کو بھی انہوں نے قابل تحسین قرار دیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مکاتب فکر کے علما کرام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پورا پاکستان متحد ہے اور تاقیامت متحد رہے گا۔انہوں نے کہا کہ اتحاد و اتفاق اور قومی یکجہتی کے ذریعے ہی دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔
اس دوران علماء کرام نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ آج پاکستان کو جس قدر قومی یکجہتی کی ضرورت ہے ، شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ پاکستان اللہ کی عظیم نعمت ہے اور ہم سب کا فرض ہے کہ اس کا شکر ادا کریں پاکستان کو وحدت اور استحکام کی اشد ضرورت ہے اور منبر و محراب کا کردار ملک میں استحکام اور قومی یکجہتی کے فروغ میں کلیدی ہے اگر ملک کے اندر اتحاد ہوگا تو کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ معرکۂ حق اور آپریشن بنیانِ مرصوص کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان اور قوم نے مل کر دشمن کو واضح پیغام دیا جسے دنیا نے تسلیم کیاعوام افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے ۔کانفرنس سے سجادہ نشین چورا شریف پیر سعادت علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اکابرین نے قیامِ پاکستان کے لیے سخت حالات کے باوجود جدوجہد کی اور قوم آج بھی عدم استحکام پیدا کرنے والوں کو سبق سکھانا جانتی ہے جب قوم متحد ہوئی تو معرکۂ حق میں دشمن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔شیعہ علماء کونسل کے رہنما علامہ کاظم رضا نقوی نے کہا کہ 10 مئی کے بعد دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان نے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتیں منوائیں۔ علامہ زیبر احمد ظہیر نے کہا کہ ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی قائم ہے ، جو علماء کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔کانفرنس سے مولانا چراغ الدین شاہ سمیت دیگر علماء نے بھی خطاب کیا کمشنر راولپنڈی عامر خٹک نے کہا کہ قومی یکجہتی کے فروغ میں علماء کا کردار نہایت اہم ہے اور ان کی باتوں سے حوصلہ ملتا ہے معاشرے کے تمام طبقات نے معرکۂ حق میں متحد ہو کر کردار ادا کیا اور ان شاء اللہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔ کانفرنس کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی و خوشحالی، عالم اسلام کے اتحاد، حرمین شریفین کے تحفظ، غزہ، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔اس دوران وفاقی وزیر مذہبی امور پاکستان سردار محمد یوسف سے چیئرمین مرکزی ر و یت ہلال کمیٹی خطیب و امام بادشاہی مسجد مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد نے ملاقات کی‘ جس میں مذہبی ہم آہنگی، رواداری، پاکستان میں قیام امن، باہمی دلچسپی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا آزاد نے کہا کہ آج عالم اسلام کو اتحاد و وحدت کی اشد ضرورت ہے۔ ملک دشمن طاقتیں پاکستان میں مذہبی منافرت، لسانی و منافرت پھیلا کر عدم استحکام پیدا کر کے پاکستان کی قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتیں ہیں۔ پاکستان پورے عالم اسلام کا قلعہ ہے،پاکستان کو دہشتگردی سے پاک بنانے میں منبر و محراب سے علماءکرام مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔معرکہ حق آپریشن بنیان مرصوص پاکستان کی ایک عظیم فتح ہے اور ہمیں اپنی بہادر مسلح افواج پر فخر ہے، فتنہ الخوارج و فتنہ الہندوستان کی سازشوں کو پاکستان میں نہیں چلنے دیا جائے گا، پوری قوم اپنی حکومت، وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر اور بہادر مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ یاد رکھیں کہ دینی قیادت نے متفقہ طور پر دہشت گردی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے پیغامِ پاکستان کو آئین کے بعد سب سے مضبوط قومی اتفاقِ رائے قرار دیاہے ، قومی پیغامِ امن کمیٹی نے قرار دیا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات سرحد پار سے منسلک قرار دے کر افغانستان سے پاکستان میں امن یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ افواجِ پاکستان کو اسلام اور امن کے محافظ قرار دیا گیا، اسلام کو امن اور محبت کا دین قرار دیا گیا، کسی بھی بے گناہ کے قتل کو حرام قرار دیا گیا، فتنہ کے خلاف جدوجہد کو جہادِ اکبر قرار دیا گیا۔ وزیراعظم کا کہناہےکہ پاکستان تمام مذاہب کے لیے مزید پرامن ہے۔آج سب سے بڑا چیلنج دہشتگردی ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں جن میں عام شہری، مائیں، بہنیں، بچے، ڈاکٹر، انجینئرز، تاجر اور چاروں صوبوں کے باسی شامل ہیں۔ شہیدوں نے اپنے خون سے ملک کی آبیاری کی ہے، افواج پاکستان، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں افسر اور جوان بھی شہید ہوئے ہیں، شہیدوں نے قربانیاں دے کر نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ کیا بلکہ دیگر ممالک کو بھی بچایا ،آج دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے ،خوارج ،ٹی ٹی پی اورٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ ہے ، ہمارے دشمنوں کے ذریعے انہیں ہر طرح کے وسائل پہنچ رہے ہیں ،جس طرح 2018 میں دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا تھا مجھے مکمل یقین ہے کہ اس مرتبہ بھی دہشتگردی کا سر کچلا جائے گا،دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے ۔جبکہ اس موقع پروفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان کی وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی نے قلیل عرصے میں قومی بیانیہ کی تشکیل بالخصوص دہشت گردی کے حوالے سے معاملات میں فعال کردار ادا کیا، امن کا پیغام لے کر پورے ملک میں جائیں گے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم کی اجازت اور منظوری سے قومی پیغام امن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، امن کمیٹی میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، مشائخ عظام اور اقلیتوں کے سرکردہ رہنمائوں کو شامل کیا جانا چاہئےامن کمیٹی نے بہت ہی قلیل عرصے بڑا فعال کردار ادا کیا ہے، قومی بیانیہ کی تشکیل بالخصوص دہشت گردی کے حوالے سے معاملات میں کمیٹی کا کردار لائق تحسین ہے۔ امن کا پیغام لے کر پورے ملک میں جائیں گے، کمیٹی کے مینڈیٹ کے تحت صوبائی کمیٹیاں اور پھر ضلعی کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔یاد رہے کہ قومی پیغام امن کمیٹی (این پی اے سی) نے قومی بیانیےکے فروغ کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے قومی پیغام امن کمیٹی نے 13 جنوری ، 2026 کو جنرل ہیڈکوارٹرمیں ملاقات کی تھی۔ملاقات میں آئی ایس پی آر کے مطابق فتنہ الخوارج کالعدم ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اےکےتناظرمیں داخلی سلامتی پرجامع گفتگو ہوئی تھی اور مشترکہ مؤقف مزید مضبوط ہوا تھا انہوں نے کہا تھاکہ قومی سلامتی کے امور میں یکسوئی، بیانیے پراتفاقِ رائے وقت کی ضرورت ہے اور مظلوموں کی حمایت پاکستان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ملاقات میں قومی بیانیے کے فروغ کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور پاک افواج سےغیرمتزلزل یکجہتی اور ریاست دشمن بیانیوں کےخلاف مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیاتھا۔قومی پیغام امن کمیٹی نے فتنہ الخوارج اورافغان طالبان کی مذمت کرتے ہوئے کہاتھاکہ دہشتگردی کا کوئی جوازنہیں۔ امن کمیٹی نے منبر ومحراب سے اتحادِ امت، سماجی ہم آہنگی، آئینی برابری کا پیغام ملک گیرسطح پرپھیلانے کا اعلان کیا جبکہ نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور تکفیری بیانیےکےخلاف زیروٹالرنس پالیسی اپنانے پر بھی اتفاق کیاتھا۔جامعۃ الرشید کے مہتمم مولانا مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ ریاست پاکستان اور حکومت کی طرف سے مضبوط قومی بیانیہ عوام تک جانا چاہیےجو سہولت کاری بھی ہو رہی ہے چاہے وہ سیاسی، مذہبی سطح پر ہویا تعلیمی اداروں کی طرف سے ہو اس کا خاتمہ ضروری ہے،شکوک و شبہات کا خاتمہ ضروری ہے،امن کمیٹی امن کا پیغام لے کر ہر جگہ پہنچے گی۔اس کے علاوہ علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ امن اور محبت کا پیغام عام کرنے کے لیے کمیٹی کی تشکیل انتہائی اہمیت کی حامل ہے، پاکستان اللہ تعالیٰ کا تحفہ ہے ،کبھی شر پسند اور منفی ذہنیت رکھنے والے اس کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے،خوارج کا دین اسلام سے تعلق ہے نہ ہی وہ پاکستان کے خیرخواہ ہیں، وہ ملک کا امن تباہ کر رہے ہیں اور دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، اتحاد امت کے لیے ہم سب مل کر کوشش کر رہے ہیں، اندرونی و بیرونی تمام سازشوں کے سامنے مل کر کھڑے ہوں گے اور ملک کو امن کا گہوارہ بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں گے۔اس کے علاوہ علامہ محمد حسین اکبر نے کہا کہ فتنہ والخوارج اور فتنہ ا لہندوستان کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے یہ کمیٹی بھرپور سرگرمی سے کام کرے گی، اس کمیٹی میں تمام مذاہب کے نمائندے شامل ہیں اور یہ قومی وحدت کا مظہر ہے،پیغام پاکستان کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔اس موقع پر علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ میں اس وقت بلند ترین مقام پہ کھڑا ہے، سیاسی اور عسکری قیادت کا ملک کی ترقی کے لیے موقف ایک ہے ، ہم نے پیغام دے دیا ہے کہ علماء پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔مزید یہ کہ علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ علمائے کرام پاک فوج کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،ملک میں قیام امن اور یکجہتی کے فروغ کےلئے حکومت کا ساتھ دیں گے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا زبیر فہیم نے کہا کہ سیاسی، دینی اور عسکری قیادت جب مل کر کام کرے گی تو یہ ملک امن کا گہوارہ بنے گا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئےمفتی محمد یوسف خان نے کہا کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو معرکہ حق میں بڑی کامیابیوں سے ہمکنار کیا ہے،قومی پیغام امن کمیٹی اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔اپنے خطاب میں علامہ محمد آصف اکبر نے کہا کہ اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ فکری دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے، پاکستان کے امن کے لیے علماء کرام ،سیاسی وعسکری قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم اپنے مدارس میں پیغام پاکستان کو بطور نصاب پڑھا رہے ہیں۔مولانا محمد عادل عطاری نےاپنے خطاب میں کہا کہ ہم سب مل کر وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہیں ،دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں گے، معرکہ حق کے بعد پاکستان کی دنیا میں عزت میں اضافہ ہوا ہے، امن کمیٹی کے قیام سے انتہا پسند عناصر کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ہندو کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے خطاب میں راجیش کمار نے کہا کہ پاکستان میں ہندو برادری خوشی اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے ،ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اس دھرتی ماں کی حفاظت رواداری، امن وآشتی کے فروغ کے لیے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،ہندو برادری ملک کے دفاع کے لیے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں۔مسیحی برادری کے نمائندگی کرتے ہوئے بشپ آزاد مارشل نے کہا کہ ہم ایسا بیانیہ بنانے میں کامیاب ہوں گےجس سے امن کا پیغام پھیلے گا۔اپنے خطاب میں مولانا طیب پنج پیری نے کہا کہ وزیراعظم نے ملک اقتصادی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، امن کی کوششوں میں ہم وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔مولانا محمد توقیر عباس نےاپنے خطاب میں کہا کہ ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے علماءکرام حکومت کے ساتھ ہیں، سکیورٹی ادارے وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں، نظریاتی سرحدوں کی حفاظت علماء کی ذمہ داری ہے ، یہ کمیٹی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے دہشت گردی پھیلانے والے عناصر کو ناکام بنائے گی۔ڈائریکٹر جنرل مذہبی تعلیمات ڈاکٹر غلام قمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں 36 ہزار مدارس ہیں رجسٹرڈ مدار س میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی بھی تعلیم دی جارہی ہے اور بچوں کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جارہی ہےتاکہ وہ جب مدارس سے فارغ ہوں تو انہیں روزگار کے اچھے مواقع میسر آسکیں۔ انہوں نےکہا کہ اساتذہ کی بھی جدید خطوط پر تربیت کی جارہی ہے، کچھ حلقوں کی طرف سے غلط پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ مدارس میں درس نظامی کی تعلیم کو متاثرکیا جارہا ہے ، نہ ہم ایسا کررہے ہیں نہ ہی کیا جائے گا۔ یاد رکھیں کہ علماء اور مفکرین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے،علماء نظریاتی محاذ کو مستحکم کر رہے ہیں،