اسلام آباد (ٹی این ایس) برآمدات کا فروغ ملکی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے، جس میں مصنوعات کی بہتر برانڈنگ، معیاری پیکجنگ، مارکیٹ انٹیلیجنس اور عالمی منڈیوں میں رسائی کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے مشترکہ اقدامات شامل ہیں تاکہ ڈالر کا ذخیرہ بڑھایا جا سکے اور پائیدار اقتصادی ترقی حاصل کی جا سکے، جیسے کہ آئی ٹی برآمدات میں حالیہ اضافہ ایک مثبت قدم ہے.وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نئے مالی سال کے پہلے ہی مہینے میں پاکستان کی برآمدات 2.7 ارب امریکی ڈالرز تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جولائی 2024 تا جولائی 2025 برآمدات میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ انتہائی خوش آئند ہے، صرف ایک ماہ میں برآمدات میں 9 فیصد اضافہ انتہائی تسلی بخش ہے۔ برآمدات پر مبنی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ معاشی اشاریے درست سمت میں گامزن ہیں اور حکومتی معاشی ٹیم کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ حکومت ملک میں برآمدات کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے اور کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کے لیے سرگرم ہے۔ فیس لیس کسٹم اسیسمنٹ سسٹم کے نفاذ سے پورٹ آپریشنز میں بہتری آ رہی ہے، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں سہولت پیدا ہوئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ جی ڈی پی کے مقابلے میں ٹیکس کلیکشن کا تناسب بڑھنا حکومت کے لیے اطمینان بخش ہے۔ انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کو معیشت میں استحکام کی علامت قرار دیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں ترسیلات زر 34.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو مالی سال 2023-24 کے مقابلے 28.8 فیصد زیادہ ہیں۔ انہوں نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے مزید سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔علاوہ ازیں، شہباز شریف نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخی کارکردگی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا، جہاں 100 انڈیکس 145,000 کی سطح عبور کر چکا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دسمبر 2025 میں ریکارڈ ترسیلات زر بھیجنے پر سمندر پار پاکستانیوں سے اظہار تشکر کیا ہے۔ ترسیلات زر میں 16.5 فیصد اضافہ اوورسیز پاکستانیوں کا حکومتی پالیسیوں پر اعتمادکا مظہر ہے، سمندرپارپاکستانیوں کا وطن کی تعمیر وترقی کے لیے ترسیلات زر بھیجنا وطن سے محبت کی اعلیٰ مثال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سمندرپارپاکستانی ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں، مجھ سمیت پوری قوم کو ان پر فخر ہے، سمندر پار پاکستانیوں کی بہبود کے لیے اقدامات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں, وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ حکومت کی بنیادی توجہ برآمدات کو فروغ دینے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے پر مرکوز ہے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیرِ نے بتایا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے باضابطہ تجویز جاری کرے گی۔’اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ عالمی مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے کے لیے ڈالر، یورو، اسلامی سکوک یا پانڈا بانڈ میں سے کون سا آپشن اختیار کیا جائے۔ پاکستان جلد اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ متعارف کرانے کی تیاری بھی کررہا ہےوزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 4 سال کے وقفے کے بعد پاکستان دوبارہ عالمی بانڈ مارکیٹ میں قدم رکھنے جا رہا ہے، جو ملکی معیشت میں آنے والے استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔وزیرِ خزانہ نے واضح کیاکہ مختلف مالیاتی ذرائع پر غور جاری ہے، جن میں ڈالر، یورو اور اسلامی سکوک بانڈز کے ساتھ پانڈا بانڈ کا اجرا بھی شامل ہے۔ ان اقدامات کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی واپسی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ورلڈ اکنامک فورم کے دوران پاکستانی وفد، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں، عالمی سرمایہ کاروں کو یہ اعتماد دلانے میں مصروف ہے کہ پاکستان کی معیشت سنبھل چکی ہے اور معدنیات، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول موجود ہے۔وفاقی وزیرِ کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں معاشی استحکام کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور مہنگائی، شرحِ سود، مالی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ جیسے اہم معاشی اشاریے مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔ برآمدات کو ملکی معیشت کا مرکزی انجن بنانا ضروری ہے، کیونکہ صرف داخلی طلب پر انحصار دیرپا ترقی نہیں دے سکتا.حکومتی اصلاحات ، آئی ایم ایف سے مثبت مذاکرات ، امن و امان کی بہتر صورتحال اور عالمی تناؤ میں کمی اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز ریکارڈ نوعیت کی تیزی رہی۔اس دوران ٹریڈنگ بینچ مارک کے ایس ای انڈیکس تیزی سے 1لاکھ 86ہزار کی حد پار کرتا ہوا 1 لاکھ 87 ہزار 761 پوائنٹس کی یومیہ بلند سطح تک ٹریڈ ہوا۔ اس دوران سرمایہ کاروں کو 220ارب روپے کا منافع ہوا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم بڑھ کر 21 ہزار 194 ارب روپے ہوگیا،تیزی کے سبب 57.20 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں۔دن بھرمارکیٹ مسلسل گرین زون میں ٹریڈ کرتی رہی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہا جس کے باعث آئل اینڈ گیس ، آٹو، سیمنٹ اور فارما کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں کام ہوا۔کاروبار کے اختتام پرکے ایس ای100انڈیکس 2662 پوائنٹس کے اضافے سے پہلی بار 187761 پوائنٹس کی تاریخی سطح پر بند ہوا، اسی طرح کے ایس ای 30انڈیکس 784پوائنٹس کے اضافے سے 57522پوائنٹس اورآل شیئرز انڈیکس 1167 پوائنٹس کے اضافے سے 112676پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروباری حجم 25فیصد زائد رہا ۔گزشتہ روز 1ارب 19کروڑ 86لاکھ 56ہزار 139 حصص کے سودے ہوئے ۔مجموعی طور پر 486 کمپنیوں کے حصص کاکاروبار ہوا جس میں سے 278 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،167میں کمی اور 41 کمپنیوں کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق دسمبر2025کے دوران آئی ٹی برآمدات میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 43کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں جو اب تک کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے ۔ نومبر 2025 میں آئی ٹی برآمدات کا حجم 34 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا تھاجس کے مقابلے میں صرف ایک ماہ کے دوران 27 فیصد نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ آئی ٹی سروسز، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، فری لانسنگ اور ٹیکنالوجی سے وابستہ دیگر خدمات کی عالمی طلب میں بہتری کا نتیجہ ہے ۔ رواں مالی سال کے ابتدائی6ماہ کے دوران آئی ٹی برآمدات میں20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 2 ارب 23 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں۔سابق چیئرمین پاشازوہیب خان نے بتایا کہ آئی ٹی سیکٹر کو پالیسی تسلسل، ٹیکس سہولتوں اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کی مزیدبہتری فراہم کی جائے تو ٹیکنالوجی برآمدات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ملک بھر میں 70فیصد سے زائد آبادی ڈیجیٹل سروسز کااستعمال کر رہی ہے جو پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی واضح عکاسی کرتا ہےگورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ حکومت اوراسٹیٹ بینک مشترکہ طور پر پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت میں تبدیل کرنے کیلئے کوشاں ہیں ،اس ضمن میں اسٹیٹ بینک کا وژن 2028ء ملک کی ڈیجیٹائزیشن کی مکمل عکاسی کرتاہے ۔
صنعتوں کو فعال کرناہےصرف چند بڑی کمپنیاں برآمدات میں حصہ لے رہی ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ مزید صنعتوں کو برآمدی شعبے میں لایا جائے. مصنوعات کی عالمی سطح پر مؤثر برانڈنگ، معیاری پیکجنگ اور مارکیٹ کے رجحانات کی درست معلومات حاصل کرنا. مقامی مارکیٹ کے تحفظ کی پالیسیوں میں نرمی لانے سے کمپنیاں عالمی سطح پر مسابقت کے لیے تیار ہوں گی. انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات میں اضافہ ایک بڑی کامیابی ہے اور اسے مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے. برآمدات کو بڑھانے کے لیے حکومت کی جانب سے برآمدی ایمرجنسی جیسی پالیسیوں اور عملی اقدامات کا نفاذہے . برآمدات کو بڑھانے کا مقصد کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم ,,مستحکم اقتصادی ترقی ,قومی سلامتی اور خود مختاری میں اضافہ کرنا ہے . برآمدات کے فروغ کے لیے حکومت، صنعت کاروں اور تاجروں کو مل کر کام کرنا ہوگا، جہاں مصنوعات کا معیار بہتر کیا جائے، نئی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو اور ڈیجیٹل شعبے کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جائے تاکہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہو سکے.موجودہ حالات میں معیشت کو سہارا دینے کا پائیدار راستہ برآمدات کا فروغ ہے۔ وزیراعظم کے برآمدات بڑھانے سے متعلق حالیہ اعلانات کے بعد عوامی سطح پر یہ تاثر اجاگر ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ حکومت نے برآمدات میں اضافے کیلئے ایکسپورٹ ایمرجنسی لگانے اور عملی اقدامات میں تیزی لانے پرغور شروع کر دیا ہے۔ اس وقت پاکستان کی سالانہ برآمدات تقریباً 32 ارب ڈالر ہیں‘ جنہیں آئندہ چار سال میں بڑھا کر 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر کے مطابق اگر چار سال میں یہ ہدف حاصل نہ کیا گیا تو پاکستان کو ایک مرتبہ پھر دوست ممالک اور آئی ایم ایف سے مالی مدد لینا پڑ سکتی ہے۔ وزیر صاحب کا خدشہ درست ہو سکتا ہے بلکہ عمومی رائے یہ ہے کہ ممکن ہے کہ چار سال سے قبل ہی دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت پڑ جائے۔ اس وقت پاکستان پر دوست ممالک کے تقریباً 13 ارب ڈالر کے قلیل مدتی قرضے واجب الادا ہیں‘ جو معیشت پر مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اب درآمدات اور اخراجات پر منحصر ترقی کے بجائے برآمدات پر مبنی معاشی ماڈل کی بات کر رہی ہے۔ برآمدات میں رکاوٹوں کی ایک بڑی وجہ ٹیکس ریفنڈز کی تاخیر کو سمجھا جا رہا ہے۔ دسمبر میں ایف بی آر کو 330 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا رہا جبکہ اسی دوران ریفنڈ کی ادائیگی میں تقریباً 47 فیصد کمی کی گئی۔ یعنی ٹیکس ریفنڈ روک کر ٹیکس اہداف پورے کرنے کی کوشش کی گئی۔ نہ ٹیکس اہداف حاصل ہوئے اور نہ ہی برآمدکنندگان کی مشکلات میں کمی آ سکی۔ اس کا براہِ راست اثر صنعت اور برآمدی شعبے پر پڑ سکتا ہے کیونکہ صنعتکاروں کا سرمایہ حکومت کے پاس رکا ہوا ہے۔ گزشتہ 24 برسوں میں پاکستان کی برآمدات میں تین گنا تک اضافہ ہو سکا جبکہ اسی عرصے میں ویتنام کی برآمدات 26 گنا بڑھ چکی ہیں۔ شاید پاکستان نے ویلیو ایڈیشن اور نئی عالمی منڈیوں پر توجہ نہیں دی۔ آج بھی ملکی برآمدات کا بڑا حصہ روایتی ٹیکسٹائل اور خام زرعی مصنوعات تک محدود ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ معیشت میں استحکام آ چکا اور پہلی سہ ماہی میں شرح نمو 3.7 فیصد رہی‘ لارج مینو فیکچرنگ نے ابتدائی چار ماہ میں پانچ فیصد ترقی دکھائی۔ تاہم یہ نمو اس وقت تک پائیدار نہیں سمجھی جا سکتی جب تک برآمدات میں واضح اور مسلسل اضافہ نہ ہو۔ اگر حکومت ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور برآمدکنندگان کے اعتماد کی بحالی میں کامیاب ہو جاتی ہے تو 60 ارب ڈالر کا ہدف مشکل ضرور مگر ناممکن نہیں۔ بصورتِ دیگر پاکستان ایک بار پھر قرضوں کے چنگل میں پھنس سکتا ہے۔
برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کی ایک اہم وجہ مہنگی توانائی بھی ہے۔ بجلی کے شعبے کی مشکلات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ مالی سال 2025ء میں بجلی کے شعبے کی ایکویٹی 800 ارب روپے منفی ہو گئی۔ اس کی بڑی وجوہات بجلی چوری‘ ریکوری کا کم ہونا اور فروخت میں کمی ہیں۔ پاور سیکٹر کے کل واجبات تقریباً نو کھرب 20 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں‘ جبکہ اثاثے آٹھ کھرب 40 ارب روپے ہیں۔ صرف نظام کو چلانے کیلئے حکومت نے ایک سال میں ایک کھرب روپے سے زائد سبسڈی دی جن میں 552 ارب روپے ڈسکوز کو دیے گئے۔ بجلی کی تقسیم کار دس میں سے چھ کمپنیاں خسارے میں رہیں۔ ان کمپنیوں کو محض گزشتہ سال 258 ارب روپے کا نقصان ہوا‘ جبکہ مجموعی خسارہ تین کھرب روپے تک پہنچ چکا۔ سب سے زیادہ نقصان کوئٹہ الیکٹرک کو ہوا جس کا سالانہ خسارہ تقریباً 113 ارب روپے ہے۔ اب اسے سولر پر منتقل کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ ان نقصانات کا بوجھ آخرکار عوام پر ہی ڈالا گیا۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور 3.23 روپے فی یونٹ سرچارج نے پاکستان کو خطے میں سب سے مہنگی بجلی والا ملک بنا دیا ہے۔ نتیجتاً گھریلو اور صنعتی صارفین تیزی سے سولر پر منتقل ہو رہے ہیں۔ حکومت اب ڈسکوز کی نجکاری کی بات کر رہی ہے‘‘ مگر جب تک بجلی چوری‘ ناقص نظام اور ریکوری کے مسائل حل نہیں ہو جاتے‘ بجلی بحران ختم ہونے کے امکانات کم ہیں۔وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی(جولائی ۔دسمبر) میں برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 8.5فیصد کمی ہوئی۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں برآمدات کا حجم 16ارب 60کروڑ ڈالر تھا جو رواں مالی سال 15 ارب20کروڑ ڈالر رہا۔ جولائی تا دسمبر غذائی اجناس کی برآمدات میں 40فیصد‘ پلاسٹک کے سامان کی برآمدات میں 43 فیصد‘ فارماسیوٹیکل مصنوعات میں 28 فیصد اور ٹرانسپورٹ کے سامان کی برآمدات میں 36 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔ برآمدات میں کمی کی سب سے بڑی وجہ مہنگی توانائی ہے‘ دیگر مسائل میں پیداوار میں کمی‘ صنعتی اور معاشی پالیسیوں کا عدم تسلسل‘ سرمایہ کاری میں کمی اور ٹیکسوں کا بھاری بوجھ شامل ہیں۔ حکومت کو برآمدات میں بہتری کیلئے فوری اصلاحات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ صنعتی پیداوار کو فروغ دینے کیلئے سستی اور بلاتعطل توانائی کی فراہمی بنیادی شرط ہے۔زرعی برآمدات بڑھانے کیلئے کسانوں کو سستی اور معیاری زرعی مداخل کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ پیداوار میں اضافہ اور معیار بہتر ہو۔ علاوہ ازیں ٹیکس‘ ریگولیٹری ڈیوٹیز اور دیگر مالی رکاوٹوں میں کمی بھی ناگزیر ہے تاکہ برآمد کنندگان کا سرمایہ کاری کیلئے اعتماد بحال ہو۔ برآمدات میں کمی صرف وقتی بحران نہیں بلکہ ملک کی اقتصادی ترقی کیلئے ایک انتباہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ برآمدات کی پالیسی کو واضح‘ مستحکم اور سرمایہ کار دوست بنائے‘ اور طویل مدتی اصلاحات کے ذریعے ملکی معیشت کو مستحکم اور عالمی منڈیوں کیلئے مسابقتی بنائے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ حکومت کاروباری برادری کو بھرپور مواقع فراہم کر رہی ہے جس سے پاکستان خوشحال اور مضبوط ملک بننے کی راہ پر گامزن ہے۔
ادھرحکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے سب سے مقبول طریقے پرسنل بیگیج سکیم کو ختم کر کے ایک نئی پالیسی کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک میں درآمد ہونے والی تقریباً 99 فیصد چھوٹی گاڑیاں اسی سکیم کے ذریعے آتی تھیں مگر اب گاڑی صرف اسی ملک سے خریدی جا سکے گی جہاں درآمد کنندہ مقیم ہو اور ایسی گاڑیاں ایک سال تک فروخت نہیں کی جا سکیں گی۔ حکومت نے پہلے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو گاڑی درآمد کرنے کی سہولت دی تھی لیکن اس سہولت کا غلط استعمال کرنے کی خبریں سامنے آتی رہیں جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے سے ہنڈی حوالہ میں بھی کمی آ سکتی ہے کیونکہ پرسنل بیگیج سکیم کے تحت زیادہ ادائیگیاں ہنڈی حوالہ سے کیے جانے کی اطلاعات تھیں۔ یہ اقدام مقامی آٹو سیکٹر کیلئے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ جب درآمد شدہ گاڑیاں محدود ہوں گی تو صارفین مقامی گاڑیوں کی طرف رجوع کریں گے جس سے پیداوار اور سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہے۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں غیر ضروری‘ اوور سپلائی یا قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔ فوری طور پر متوسط طبقے کیلئے بہتر اور سستی درآمدی گاڑی حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے لیکن اگر حکومت مقامی صنعت کو فروغ دینے اور درآمدات کو منظم کرنے میں کامیاب رہی تو طویل مدت میں پاکستان کی آٹو مارکیٹ زیادہ مستحکم اور محفوظ ہو سکتی ہے۔ پہلے پاکستان میں تین یا چار آٹو مینوفیکچرنگ کمپنیاں تھیں اب ان کی تعداد 13 ہو چکی ہے۔ نئی کمپنیاں توقع کر رہی تھیں کہ اگر وہ ملک میں سرمایہ کاری لا رہی اور نوکریاں فراہم کر رہی ہیں تو استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ ختم ہونی چاہیے۔ نئے فیصلے کو اس پس منظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کی کرپٹو کمپنی‘ ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں‘ جس کے تحت سرحد پار لین دین اور ڈیجیٹل ادائیگی کے آرکیٹکچر کے بارے میں تکنیکی سمجھ بوجھ کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ کرپٹو اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے مالی شمولیت بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان اپنا ذاتی ڈیجیٹل کرنسی سٹرکچر بھی قائم کر سکتا ہے جو ملکی مالیاتی نظام میں شفافیت اور جدت لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز پاکستان کے مرکزی بینک کے ساتھ کام کرے گی اور اپنے ایک ارب ڈالر کے سٹیبل کوائن کو ادائیگیوں کے ڈیجیٹل ڈھانچے کے ساتھ ضم کرے گی۔ اس سے بینکنگ نظام میں شفافیت آ سکتی ہے اور سرحد پار مالیاتی لین دین بھی آسان اور محفوظ ہو سکتا ہے۔پاکستان پہلے ہی دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو پلیٹ فارم بائنانس کے ساتھ دو ارب ڈالر تک کے حکومتی مالیاتی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن اور بلاک چین پر تقسیم کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر چکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل مالیاتی انقلاب کی جانب قدم بڑھایا جا رہا ہے۔یادداشت پر دستخط کر چکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل مالیاتی انقلاب کی جانب قدم بڑھایا جا رہا ہے۔برآمدات کو معیشت کا مرکزی محرک بنائے بغیر پائیدار اقتصادی ترقی ممکن نہیں۔ اسلام آباد میں پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سےخطاب کرتے وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے کم ازکم 90 فیصد شرح خواندگی ناگزیر ہے،جبکہ برآمدات کو معیشت کا مرکزی محرک بنائے بغیر پاکستان میں مستقل اور پائیدار اقتصادی ترقی ممکن نہیں ہو سکتی۔ داخلی طلب پرانحصار کرتےہوئے زیادہ سےزیادہ 6 فیصد جی ڈی پی حاصل کی جا سکتی ہے، تاہم یہ دیرپا حل نہیں۔ ان کےمطابق ڈالرکی قلت اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بڑی وجہ برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا ہے۔ ملک میں 523 لسٹڈ کمپنیوں میں سےصرف 70 ایسی ہیں جن کی برآمدات 10 ہزار ڈالرسےتجاوز کرتی ہیں، جو برآمدی صلاحیت کے محدود ہونےکا واضح ثبوت ہے،برآمدات کو قومی سلامتی اور خودمختاری کے ایک اہم ستون کے طور پر فروغ دینا ہوگا وفاقی وزیر نےکہا کہ پاکستان دنیا میں کھجور پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے،تاہم بدقسمتی سے ہم اپنی مصنوعات کی مؤثر برانڈنگ اور معیاری پیکجنگ نہیں کر پاتے جس کے باعث عالمی منڈی میں بہتر مقام حاصل نہیں ہو رہا۔ مقامی مارکیٹ کے تحفظ کی پالیسیوں کے باعث کمپنیاں عالمی منڈی میں مسابقت پر توجہ نہیں دیتیں،برآمدات میں اضافہ کے لیےمارکیٹ انٹیلی جنس، برانڈنگ اورمصنوعات کی مؤثر پروموشن ناگزیر ہے۔گیلپ انٹرنیشنل کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 53 فیصد پاکستانی سمجھتے ہیں کہ 2026ء معاشی اعتبار سے 2025ء سے بہتر ہو گا۔ بظاہر اس کی وجہ حالیہ برسوں میں ڈالر کی قدر میں استحکام‘ شرح سود میں کمی‘ ترسیلاتِ زر اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ‘ سیاسی استحکام اور گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مہنگائی میں کمی ہے۔ حکومت نے جو معاشی وعدے کیے تھے‘ انہیں پورا کرنے کی کوشش بھی دکھائی دیتی ہے۔ حکومت تین برسوں سے بہتر کارکردگی کے دعوے کر رہی ہے اور عملی میدان میں کچھ بہتری بھی دکھائی دے رہی ہے۔ 2023ء میں مجموعی مہنگائی کی شرح تقریباً 30 فیصد تھی‘ 2024ء میں تقریباً 12فیصد اور 2025ء میں تقریباً پانچ فیصد رہی۔ پچھلے چند ماہ میں عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی ہوئی ہے اور مستقبل میں مزید کمی کی پیشگوئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں براہِ راست مہنگائی کی مجموعی شرح پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کمی کی جانب گامزن رہیں تو مہنگائی میں کمی آ سکتی ہے۔ حکومت نے نئے سال کے آغاز پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دس روپے تک کمی کی ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ یہ سلسلہ اگلے ماہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان حالات کے پیشِ نظر شاید عوام کی اکثریت پُرامید ہے کہ ان کیلئے 2026ء مزید بہتر ہو سکتا ہے۔ پچھلے سال بھی وزراتِ خزانہ نے انہی حقائق کی بنا پر ڈالر کی قیمت کو نہیں بڑھایا تھا اور رواں سال یہ سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ جب ڈالر کی قیمت میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہ ہو تو شہری کے علاوہ کاروباری طبقے کو منصوبہ بندی کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک درآمدی ملک ہے اور سستا ڈالر ملک میں مہنگائی میں کمی اور مستحکم کاروبار کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2026ء میں پاکستان کی مجموعی شرح نمو تقریباً 3.6 فیصد رہ سکتی ہے۔ عمومی طور پر یہ شرح سست معاشی سرگرمیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ جو ممالک اس شرح نمو کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں وہاں غربت اور بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کم از کم پانچ فیصد تک شرح نمو ہو تو اس کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح کم ہوئی ہے۔ یہ شرح نمو حتمی نہیں ہے‘ سال کے اختتام تک ملک میں حقیقی شرح نمو آئی ایم ایف کی پیشگوئی سے مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت 2026-27ء کا کیسا بجٹ پیش کرتی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت شرح نمو میں فوراً اضافے کو مناسب نہیں سمجھتی کیونکہ یہ مانا جاتا ہے کہ اگر شرح نمو مرحلہ وار بڑھے تو اس سے دیر پامعاشی استحکام قائم رہ سکتا ہے۔ فوراً درآمدات کی کھلی چھوٹ دے کر اور درآمدات کیلئے شرح سود کم کرکے شرح نمو چھ فیصد تک لائی جا سکتی ہے‘ جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے‘ لیکن ایسی شرح نمو غیرحقیقی ہوتی ہے اور جلد ہی اس کے مضر اثرات سامنے آنے لگتے ہیں۔ 2023ء میں معاشی شرح نمو تقریباً 0.21 فیصد‘ 2024ء میں تقریباً 2.5فیصد اور 2025ء میں تقریباً تین فیصد رہی ہے۔ اگر ماضی کی پالیسیاں برقرار رہیں تو 2026ء میں حقیقی شرح نمو میں مزید بہتری آسکتی ہے۔
ملکی معیشت میں ترسیلاتِ زر بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ گزشتہ مالی سال 38ارب ڈالرز سے زیادہ ترسیلاتِ زر وصول ہوئیں۔ ہر سال برآمدات سے زیادہ ڈالرز ترسیلاتِ زر کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں۔ پچھلے تین برسوں کے دوران ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن اس سال حالات مختلف ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافے کی کئی وجوہات ہیں ۔
ملکی معیشت پر اعتماد اور مضبوطی کا انحصار بڑی حد تک زرمبادلہ کے ذخائر پر ہوتا ہے۔ اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 20 ارب ڈالرز ہیں۔ ان میں تین برسوں سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ برآمدات بہتر ہو رہی تھیں‘ ترسیلاتِ زر میں بھی اضافہ ہو رہا تھا‘ دوست ممالک قرض رول اوور کر رہے تھے اور آئی ایم ایف کی قسط بھی بروقت وصول ہو رہی تھی‘ لیکن پچھلے چھ ماہ میں برآمدات میں مسلسل کمی اور درآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور حکومت نے 2026ء کیلئے ایسا کوئی متاثر کن منصوبہ پیش نہیں کیا جس سے توانائی کی قیمتیں کم کر کے برآمد کنندگان کے اخراجات کو حریف ممالک کے اخراجات کے برابر کیا جا سکے۔ گو کہ 2025ء کے مشکل حالات کے باوجود ٹیکسٹائل برآمدات تقریباً 7.1فیصد بڑھی ہیں اور آئی ٹی برآمدات میں بھی تقریباً 18فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن ٹیکسٹائل سیکٹر رواں سال کے اختتام پر اس کارکردگی کو جاری رکھ پاتا ہے یا نہیں‘ اس حوالے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ اگر حکومت کی طرف سے مناسب ریلیف اور بہتر پالیسی نہ دی جا سکی تو خدشہ ہے کہ 2026ء کے اختتام برآمدات میں کمی کا رجحان جاری رہ سکتا ہے اور آئی ایم ایف دباؤ کی وجہ سے درآمدات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ نتیجتاً تجارتی خسارہ بھی بڑھے گا۔ آئی ٹی سیکٹر میں بہتری کے امکانات زیادہ ہیں۔ فری لانسنگ مارکیٹ میں پاکستان کئی برسوں سے چوتھی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ مہنگی توانائی آئی ٹی سیکٹر کیلئے زیادہ مسائل پیدا نہیں کرتی اور حکومت 2026ء میں فائیو جی ملک میں لا رہی ہے۔ اس کے علاوہ رواں سال سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ سائبر سکیورٹی اور آئی ٹی کے بڑے وینچرز پر عملدرآمد کی بھی امید ہے۔ بہتر سفارتی تعلقات کے باعث قرضوں کو رول اوور کرانے اور آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے قرض لینے میں زیادہ مشکلات آنے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
2026ء میں اصل سوال یہ نہیں کہ عوام کیا سوچ رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ریاست کیا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر 2026ء میں بھی معاشی پالیسیوں کا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے اور دستاویزی معیشت پر ڈالا گیا‘ جبکہ حکومتی اخراجات اور اشرافیہ کی مراعات کم نہ ہوئیں تو ملکی معیشت میں بہتری کے جو امکانات نظر آ ہے ہیں‘ وہ دم توڑ سکتے ہیں۔یاد رہے کہ وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی خواتین نے محدود وسائل کو مواقع میں بدل کر ملکی معیشت میں ایک خاموش مگر طاقتور انقلاب برپا کیا ہے، دیہی علاقوں سے لے کر شہری مراکز تک خواتین کاروبار، صنعت اور تجارت میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں اور قومی ترقی میں قابلِ فخر حصہ ڈال رہی ہیں۔ جوائنٹ پاکستان۔آذربائیجان وومن انٹرپرینیورشپ ڈائیلاگ میں بطور مہمانِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان کی خواتین نے محدود وسائل کو مواقع میں بدل کر ملکی معیشت میں ایک خاموش مگر طاقتور انقلاب برپا کیا ہے قائداعظم محمد علی جناح کا وژن آج بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے اور خواتین کی شمولیت کے بغیر قومی ترقی ممکن نہیں۔ وزیرِاعظم شہباز شریف خواتین کو معاشرے کی معمار اور معیشت کی اصل محرک قرار دیتے ہیں۔معاونِ خصوصی نے کہا کہ تعلیم، صحت، کاروبار اور پبلک سروس کے شعبوں میں خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور لوہا منوایا ہے، تاہم خواتین کاروباری افراد کو فنانس تک رسائی، ڈیجیٹل سہولیات اور عالمی منڈیوں میں شمولیت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے
ان کے مطابق ان مشکلات کے باوجود خواتین صبر، تخلیقی صلاحیت اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں حکومت خواتین کی معاشی شمولیت کو محض ایک خواہش نہیں بلکہ قومی معاشی حکمتِ عملی بنا رہی ہے۔ ہماری ترجیح صرف شمولیت نہیں بلکہ خواتین کی قیادت، کاروباری وسعت اور عالمی مسابقت ہے وزارتِ صنعت و پیداوار اور اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈویلپمنٹ اتھارٹی خواتین کی قیادت میں کاروبار کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں اسمیڈا خواتین کو تربیت، رہنمائی، مارکیٹ رسائی اور کاروباری ترقی میں سہولت فراہم کر رہا ہے اور اس کے تین سالہ منصوبے میں خواتین کے لیے خصوصی اور ہدفی اقدامات شامل ہیں۔ خواتین کاروباری افراد کے لیے ایس ایم ای فنانسنگ اسکیموں میں آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں، جبکہ پاکستان پہلی بار نیشنل ویمن انٹرپرینیورشپ پالیسی متعارف کرانے جا رہا ہے۔ نیشنل انڈسٹریل پالیسی میں بھی خواتین کاروباری افراد کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ہارون اختر خان نے کہا کہ خواتین کی مؤثر شمولیت سے پیداوار، برآمدات اور معاشی مسابقت میں نمایاں اضافہ ہوگا آج کی خاتون کاروباری رعایت نہیں بلکہ برابری اور منصفانہ مواقع چاہتی ہے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ پائیدار ترقی اور عالمی مسابقت کے لیے خواتین کے کاروبار کو معاشی حکمتِ عملی کے مرکز میں رکھنا ہوگا اور حکومت خواتین کے لیے ایک سازگار، جامع اور عالمی معیار کا کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔













