رحیم یار خان (ٹی این ایس) ہمیشہ تھکاوٹ، ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار رہنے والی خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت کو نظر انداز نہ کریں بلکہ بروقت مشورہ اور علاج کو ترجیح دیں۔ معروف معالجہ ڈاکٹر ساجدہ نسیم (ایم بی بی ایس، ایف سی پی ایس) کا کہنا تھا کہ گھریلو ذمہ داریوں، بچوں کی پرورش، ملازمت اور معاشرتی دباؤ کے باعث اکثر خواتین اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کو پسِ پشت ڈال دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں مسلسل تھکاوٹ، ہارمونل مسائل، ڈپریشن اور بے خوابی جیسی کیفیات جنم لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ علامات عام سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ خواتین متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور مثبت طرزِ زندگی کو اپنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر مسلسل کمزوری، چڑچڑاپن یا ذہنی دباؤ محسوس ہو تو ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔ڈاکٹر ساجدہ نسیم نے کہا کہ کونسلنگ نہ صرف ذہنی سکون فراہم کرتی ہے بلکہ خواتین کو اپنے مسائل سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ پریشانی چھوڑ کر ہمت کریں، اپنی صحت کو اولین ترجیح بنائیں اور باقاعدہ چیک اپ کو معمول بنائیں تاکہ ایک صحت مند اور پُرسکون زندگی گزار سکیں۔













