اسلام آباد (ٹی این ایس) پریس کانفرنس کے ساتھ میڈیا سے گفتکو کرتے ہوئے سید ندیم منصور این اے 47 صدر اسلام آباد ایم کیو ایم پاکستان نے بتلایا کہ جو اسلام آباد اور جو شہریوں کے مسائل ںیں وہ بڑھتے چلے جا رہے ہیں ۔ ہم بے شک حکومت کے ساتھ ہیں اور ان کی کئ اچھی پالیسیوں کو سپورٹ کرتے ہیں لیکن جب ذاتی رائے آ جائے تو بات کھل کر کرنی چاہیئے ۔
۱- حکومت کا اپنے ہی وعدے سے بدل جانا مجھے اچھا نہیں لگا جو سولر کے سارفین کے لیے نئے قانون بنائے ۔
۲- گھروں کو گرانا اور متاثرین کو کوئ آپشن کی دوسری جگھہ نا دینا سراسر زیادتی ہے ۔ مزید یہ کہ جو بیس تیس سال سے رہ رھے تھے ، بجلی کے بل دیتے تھے ، پولیو کے قطرے پلائے جاتے تھے ان کو جس ادارے نے اجازت دی اس آفسر کو نہ بے نقاب کیا گیا کوئئ ایکشن لیا گیا جس کی ہم معزمت کرتے ہیں ۔ ان بے گھر گھروں میں رکشہ ڈرائیور، سیکیورٹی گارڈز ، مزدور ، دفاتروں میں کام کرنے والے ، ہسپتالوں کی نرسیں ، پیرامیڈیکل اسٹاف ، ڈرائیورز وغیرہ رہتے تھے ۔
۳- جو بے دردی سے درخت کٹے ، اس کا فاہدہ کئیں نہیں سنا ، درخت بے شک نئے لگائیں لیکن کم از کم دس سال لگیں گے جب وہ ہائڈروجن جزب کرنے کی طاقت پیدا کرے گا اور وہ ہی اینوائیرمُٹ کو کنٹرول کرتا ھے ۔
۴- سرکاری ملازم ، پمز کے پیرمیڈیکل اسٹاف ، ہسپتالوں کے نرسنگ وغیرہ کے لیئے کچھ نہ ہو سکا ۔
۵- آگ پر قابو پانے کے لیئے جدید فائر برگیڈ نہیں، پانی کی قلت اور بجلی کے لیئے کوی نئے ڈیم نہیں بن رہے بلکے ہم کرکٹ کے اسٹیڈیم کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں ۔ مہنگی ، آٹا چینی سبزیاں ، فروٹ کے ناجائز ریٹ اور سب سے زیادہ تشویشناک صورت سیکورٹی کی آ چکی ہے اور دہشت گرد اسلام آباد گھس کر کاروائئ کر گئے ۔
سید ندیم منصور سے سوال کیا گیا کہ اس کا حل کیا ھے تو انہوں نے کہا کہ یہ ٹریفک اور پروٹوکول کے کاموں کو بند کیا جائے جو لاکھوں کا ڈیزل پیٹرول اور وقت ضائع کرتے ہیں ۔ ان کے لیئے ہیلکوپٹر لیں جو ائیرپورٹ سے ان کے مہمان خانے چھوڑ دے ۔ پھر یہ صرف ڈیم بنائیں، تعلیم اور صحت پر توجہ دیں ۔ کاٹج انڈسٹری پر توجہ دیں ۔ اپنی مراعات کم کریں تاکہ آئی ایم ایف کے لون اور اس پر جو سود دیتے ہیں اس سود کے اعزاب سے بچیں ۔کرکٹ اسٹیڈیم سے ضروری ہمیں ڈیم بنانا چایئے۔ سید ندیم منصورکا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے میٹرک تک تعلیم مفت ہونی چاہیے۔ اور ہر سیکٹر میں مفت ڈسپینسری ہونی چاہیے اس کے علاوہ آگ پر قابو پانے کے لیے پورے شہر میں ہر چوک پر فائر ہائیڈرنٹ یعنی پانی کی لائن ہونی چاہیئے تاکہ فائر برگیڈ کے آنے نہ آنے تک لوگ آگ خود بھی بجھا سکیں ۔













