اسلام آباد (ٹی این ایس) چکوال کے چیف اور فتح جنگ کے تحصیلدار چوھدری شفقت محمود کا شمار ایسے لوگوں میں ھوتا ھے جنہیں قدرت نے اعلیٰ نسل اور اعلیٰ ظرف کے سانچے میں ڈھال کر بھت بڑے دل سے نواز کر ایک عظیم والدہ کی آغوش میں بھیجا ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جانتے ہیں کہ اصل افسری فائلیں نپٹانا نہیں، بلکہ انسانیت کے دکھ سمیٹنا ہے۔
میں جب بھی چوہدری شفقت محمود کی شخصیت پر غور کرتا ہوں، تو مجھے تاریخ کے وہ اوراق یاد آ جاتے ہیں جہاں حاتمِ طائی کی سخاوت کے قصے لکھے تھے۔ لوگ کہتے ہیں حاتمِ طائی گزر گیا، میں کہتا ہوں نہیں، سخاوت کبھی مرتی نہیں، وہ اپنا روپ بدل کر کسی نہ کسی سخی اور فیاض انسان کی صورت میں دوبارہ جنم لیتی ہے۔ آج کے دور میں، اگر آپ سخاوت کا جدید روپ دیکھنا چاہتے ہیں، تو آپ کو چکوال کے حاتمِ طائی، چوہدری شفقت محمود سے ملنا ہوگا۔
آپ کبھی ان کے چہرے کے نقوش دیکھیں۔ وہاں آپ کو ایک بلند پایہ ایڈمنسٹریٹر کی سنجیدگی بھی ملے گی اور ایک نرم دل انسان کی شفقت بھی۔ یہ حسین امتزاج ہے جو بہت کم لوگوں میں یکجا ہوتا ہے۔ عام طور پر اچھے ایڈمنسٹریٹر سخت دل ہوتے ہیں اور نرم دل لوگ اچھے ایڈمنسٹریٹر نہیں بن پاتے۔ لیکن چوہدری شفقت محمود صاحب کے پاس وہ بہترین دماغ ہے جو قانون کی حکمرانی اور انسانیت کی خدمت کے درمیان ایک ایسا پل بنا دیتا ہے جس پر چل کر غریب کو انصاف بھی ملتا ہے اور عزتِ نفس بھی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک انسان “بڑا” کب بنتا ہے؟ کیا عہدہ اسے بڑا بناتا ہے؟ کیا دولت اسے بڑا بناتی ہے؟ نہیں۔ انسان بڑا تب بنتا ہے جب وہ اپنے سے چھوٹے انسان کے کے بارے میں اچھا سوچتا ہے۔ چوہدری شفقت محمود کی اعلیٰ نسل کا ثبوت ان کا وہ برتاؤ ہے جو وہ ایک عام سائل کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کے دفتر کا دروازہ صرف افسروں کے لیے نہیں، بلکہ ان کیلے بھی کے لیے بھی کھلا رہتا ہے جس کی فریاد سننے والا کوئی نہیں، اس مزدور کے لیے بھی کھلا ہے جس کا حق کسی ظالم نے دبا رکھا ہے۔
وہ اللہ کی مخلوق کے سچے خدمت گار ہیں۔ آپ حالیہ دنوں کی سرگرمیوں کو دیکھ لیں۔ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، پورا ملک مہنگائی کے نوحے پڑھ رہا ہے، بڑے بڑے مخیر حضرات اپنے بجٹ بنا رہے ہیں، لیکن اس فیاض انسان نے ابھی سے دسترخوان بچھانے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔ وہ اکیلا نہیں ہے، وہ ایک تحریک بن چکا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جب معاشرے کے اھل ثروت اپنا حق ادا نہیں کرتی، تب تک بھوک ، غربت اور افلاس کا خاتمہ ممکن نھی سماج کے سخی لوگوں کو آگے آنا ہوگا۔ وہ فتح جنگ میں آٹھ بڑے دسترخوان سجا رھے ھیں لیکن اس کے پیچھے مقصد شہرت نہیں، بلکہ وہ “ایثار” ہے جو چوھدری شفقت محمود کے خون میں شامل ہے۔
چوہدری صاحب کی مہمان نوازی کے قصے تو زبان زدِ عام ہیں۔ چکوال کی مٹی میں اللہ نے ایک خاص قسم کی خوشبو رکھی ہے، اور جب اس مٹی سے چوہدری شفقت محمود جیسا ہیرا نکلتا ہے، تو وہ خوشبو پورے خطے کو مہکا دیتی ہے۔ وہ ایک ایسا بہترین دماغ رکھنے والا انسان ہے جو جانتا ہے کہ معاشرے میں امن و امان صرف پولیس سے نہیں آتا، بلکہ پیٹ بھرنے سے اور محروموں کو سینے سے لگانے سے آتا ہے۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر ہمارے ملک کے تمام ایڈمنسٹریٹرز چوہدری شفقت محمود کے نقشِ قدم پر چل پڑیں، تو کیا اس ملک میں کوئی بھوکا سوئے گا؟ کیا کسی غریب کی بیٹی کی ڈولی معاشی تنگی کی وجہ سے رکی رہے گی؟ ہرگز نہیں۔ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، اصل مسئلہ “ظرف” کی کمی ہے۔ اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ چوہدری صاحب کا اعلیٰ ظرف اس کمی کو پورا کر رہا ہے۔
وہ ایک سچے اللہ کی مخلوق کے خدمت گار ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کرسی تو آنی جانی چیز ہے، آج ہے کل نہیں۔ لیکن جو دعا کسی مجبور کے دل سے نکلتی ہے، وہ عرشِ معلیٰ تک جاتی ہے۔ وہ سخی بھی ہیں اور فیاض بھی، لیکن ان کی سخاوت میں نمائش نہیں بلکہ ایک درد چھپا ہے۔ وہ درد جو انہیں راتوں کو سونے نہیں دیتا جب تک وہ کسی کی مشکل حل نہ کر لیں۔
آج کے اس نفسا نفسی کے عالم میں، جہاں بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے، جہاں عہدے دار اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں، وہاں چوہدری شفقت محمود جیسے لوگ امید کا استعارہ ہیں۔ وہ ثابت کر رہے ہیں کہ شرافت اور ایڈمنسٹریشن ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ وہ ثابت کر رہے ہیں کہ ایک نرم دل انسان بھی ایک بہترین افسر ہو سکتا ہے۔
تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے جی کر دکھایا۔ چوہدری شفقت محمود کا نام جب بھی لیا جائے گا، ایک ایسی شخصیت کا تصور ابھرے گا جس نے انسانیت کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ جو اعلیٰ نسل کا امین بھی ہے اور اعلیٰ ظرف کا مالک بھی۔ جو بہترین دماغ بھی رکھتا ہے اور سخی ہاتھ بھی۔
آئیے، ہم سب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس بلند پایہ ایڈمنسٹریٹر کو مزید ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔ کیونکہ جب تک چوہدری شفقت محمود جیسے لوگ اس دھرتی پر موجود ہیں، انسانیت کی شمع روشن رہے گی۔ چکوال کا یہ حاتمِ طائی ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ: “اگر جینا ہے، تو دوسروں کے لیے جینا سیکھو، اپنے لیے تو سب جیتے ھیں
یہ ہے وہ چوہدری شفقت محمود، جسے قدرت نے ایک خاص مقصد کے لیے منتخب کیا ہے۔ اور وہ مقصد ہے: “خلقِ خدا کی خدمت”۔
خبر شامل کرتے ھیں فتح جنگ سے ھمارے نمائندے ملک اشفاق پرنس کی رپورٹ کے مطابق
اب اس کو ٹی چینل کے مطابق
دو منٹ کی خبر میں بدل دیں اردو سلیس ھو
آسانی سے پڑھی اور سمجھی جاسکے













