اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان ورکرزفیڈریشن کا پنجاب لیبرکوڈ2025پراظہارتشویش،وسیع مشاورت اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ۔

 
0
5

اسلام آباد (ٹی این ایس)  پاکستان ورکرز فیڈریشن کے سرپرستِ اعلیٰ چوہدری محمد یٰسین، جنرل سیکرٹری اسد محمود، صدر شوکت علی انجم، چیئرمین چوہدری عبدالرحمان عاصی، منیر اختر بٹ، اشتیاق ورک،چوہدری محمد اشرف،محمد عمرسلیمی،ہدایت اللہ خان،رفیق چانڈیا،چوہدری بلال اور دیگر عہدیداران نے پنجاب لیبر کوڈ 2025ء کی منظوری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محنت کش طبقہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اس لیے کسی بھی قانون سازی کا بنیادی مقصد ان کے آئینی، قانونی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ورکرز فیڈریشن کا مؤقف ہے کہ لیبر قوانین میں کسی بھی قسم کی تبدیلی وسیع مشاورت، شفاف عمل اور تمام اسٹیک ہولڈرز، بالخصوص نمائندہ مزدور تنظیموں کی بامعنی شمولیت کے بغیر نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مؤثر سماجی مکالمہ صنعتی ہم آہنگی، پیداواری استحکام اور معاشی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے۔پنجاب لیبر کوڈ 2025ء کے حوالے سے متعدد نکات ایسے ہیں جن پر وضاحت اور ازسرِ نو جائزہ ضروری ہے، خصوصاً مستقل روزگار اور جاب سیکیورٹی سے متعلق تحفظات، یونین سازی اور اجتماعی سودے بازی کے حق کا عملی نفاذ، ہڑتال سے متعلق امور، کنٹریکٹ اور آؤٹ سورسنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے اثرات، نیز لیبر انسپکشن اور مؤثر عمل درآمد کے نظام کی یقین دہانی،مزدوررہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام لیبر قوانین پاکستان کے آئین اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے منظور شدہ کنونشنز سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں تاکہ محنت کشوں کو باوقار روزگار، محفوظ ماحول اور منصفانہ اجرت میسر آ سکے۔اس موقع پر انہوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ اس قانون پر عمل درآمد سے قبل جامع مشاورتی عمل کو یقینی بنایا جائے اور مزدور نمائندہ تنظیموں کے ساتھ باضابطہ ڈائیلاگ کے ذریعے تحفظات دور کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ مضبوط معیشت اسی وقت ممکن ہے جب مزدور کو تحفظ، احترام اور شراکت کا حق حاصل ہو۔ پاکستان ورکرز فیڈریشن جمہوری اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتی رہے گی۔