اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان نے ایک مرتبہ پھر افغانستان میں شدت پسند گروپوں کی سرگرم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پائیدار اور قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے ان عناصر کے خلاف موثر کارروائی کریں۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرے کے طور پر ابھر رہا ہے۔ سرحد پار دراندازی، دہشتگرد حملوں اور مسلح جھڑپوں کے تسلسل نے نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ وسیع تر خطے کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔افغانستان اور تاجکستان کی سرحد پر بار بار پیش آنے والے واقعات کے بعد روس کی قیادت میں قائم کلیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ تاجک سرحدی فورسز کو جدید اسلحہ اور آلات فراہم کرے گی تاکہ افغانستان سے ہونے والی دراندازی اور حملوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ اقدام اس بڑھتے ہوئے خطرے کی عکاسی کرتا ہے جو افغان سرزمین سے منظم سرگرمیوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔26 نومبر 2025 کو بدخشاں (افغانستان) سے اڑنے والے ایک کواڈ کاپٹر ڈرون نے تاجکستان میں ایک چینی تنصیب کو نشانہ بنایا، جس میں 3 چینی شہری ہلاک ہوئے۔ صرف 4 روز بعد 30 نومبر کو ایک اور حملہ افغانستان کی جانب سے کیا گیا جس میں چین روڈ اینڈ برج کارپوریشن کے 2 کارکن مارے گئے۔ یوں 4 دنوں میں 5 چینی شہری ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔18 جنوری 2026 کو افغانستان سے دراندازی کرنے والے دہشتگردوں کو مسلح مزاحمت کے بعد ہلاک کیا گیا جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ، ساز و سامان اور لاجسٹک مواد برآمد ہوا، جس سے منظم سرحد پار نیٹ ورک کی تصدیق ہوئی۔ 29 جنوری 2026 کو مسلح اسمگلرز افغانستان سے تاجکستان میں داخل ہوئے جنہیں جھڑپ کے دوران مار دیا گیا، اور بھاری مقدار میں اسلحہ و منشیات قبضے میں لی گئیں۔یہ تمام واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغان سرزمین دراندازی، اسمگلنگ اور دہشتگردی سے جڑی سرگرمیوں کے لیے اسٹیجنگ گراؤنڈ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔اقوام متحدہ کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد بین الاقوامی اور علاقائی دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں جبکہ قریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو مختلف گروہوں سے وابستہ ہیں۔ان میں تحریک طالبان پاکستان (TTP)، داعش خراسان (ISIL-K)، القاعدہ، القاعدہ برصغیر (AQIS)، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (IMU)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM/TIP) اور جماعت انصار اللہ شامل ہیں۔یہ گروہ نہ صرف پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں بلکہ چینی شہریوں، علاقائی رابطہ منصوبوں اور اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کے لیے بھی براہِ راست خطرہ ہیں۔طالبان قیادت کے نظریات اور پالیسیوں نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ملک بھر میں مدرسوں کی تیز رفتار توسیع، خواتین کی تعلیم و روزگار سے بے دخلی اور سماجی پابندیوں نے افغانستان کو نظریاتی انتہا پسندی کی نرسری میں تبدیل کر دیا ہے۔ 40 ملین آبادی والے ملک میں 23 ہزار سے زائد مدارس کا قیام ایک ایسے تعلیمی ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے جہاں تنقیدی سوچ کے بجائے نظریاتی تربیت کو فوقیت حاصل ہے۔خواتین کو عوامی زندگی، تعلیم اور ملازمت سے باہر رکھنے کے اقدامات غربت، محرومی اور سماجی تنہائی کو بڑھا رہے ہیں، جو شدت پسند تنظیموں کے لیے بھرتی کا سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔افغانستان سے پھیلنے والی بدامنی دہشتگردی، منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ کی صورت میں سرحدوں سے باہر منتقل ہو رہی ہے۔ پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک فوری نتائج بھگت رہے ہیں، جبکہ علاقائی تجارتی راہداریوں، توانائی منصوبوں اور رابطہ کاری کے اقدامات کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ماہرین کے مطابق بغیر احتساب کے طالبان حکومت کو معمول پر لانا دہشتگردی کو تقویت دینے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ کسی بھی قسم کی بین الاقوامی شمولیت کو مشروط، قابلِ تصدیق اور دہشتگرد نیٹ ورکس کے خاتمے سے منسلک ہونا چاہیے۔علاقائی سطح پر انٹیلی جنس شیئرنگ، سرحدی تعاون، مالی نگرانی اور مشترکہ سفارتی دباؤ پر مبنی حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور یورپی ممالک بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں رہیں گے، کیونکہ افغانستان کو محض علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی دہشتگردی کے مرکز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے ان خیالات کا اظہار پاکستان کی جانب سے اس قرارداد کے حق میں ووٹ کے بعد کیا، جس کے تحت 1988 میں طالبان پر پابندیوں کے نظام سے متعلق مانیٹرنگ ٹیم کی مدت میں 12 ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔عاصم افتخار نے اس قرارداد کی متفقہ منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’بروقت بھی ہے اور ضروری بھی۔‘مستقل مندوب کے مطابق: ’پاکستان کو افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی سرگرم موجودگی پر شدید تشویش لاحق ہے، جن میں ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان)، بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) اور مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور القاعدہ شامل ہیں۔ یہ گروہ پاکستان کے خلاف بعض انتہائی گھناؤنے دہشت گرد حملوں اور یرغمال بنانے کے واقعات کے ذمہ دار رہے ہیں رواں ماہ فروری میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بی ایل اے اور اسلام آباد کی مسجد میں داعش خراسان کے حملوں میں مجموعی طور پر 80 بے گناہ پاکستانیوں کی اموات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’ایک بار پھر ان حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے افغان سرزمین استعمال کی گئی۔‘ عاصم افتخار نے کہا: ’ہم ایک مرتبہ پھر اس مطالبے کو دہراتے ہیں کہ افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور بیرونی تخریب کار عناصر کو صورت حال سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہییں۔‘ ساتھ ہی انہوں نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ ’دہشت گرد گروہوں کو بلا روک ٹوک ایسے اقدامات کرنے سے روکیں اور پائیدار اور قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے اپنی انسدادِ دہشت گردی کی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کریں، تاکہ دیرپا امن اور سلامتی کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔‘ پاکستانی مندوب نے مزید کہا: ’یہ فیصلہ طالبان کو کرنا ہے کہ وہ افغانستان کے لیے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ تنہائی کا راستہ یا امن اور خوشحالی کا وہ راستہ جو عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔‘پاکستان میں حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیموں کی کارروائیوں میں افغان عسکریت پسندوں کے ملوث ہونے کے دعوے تو سامنے آتے رہے ہیں لیکن اب دو کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں نے اپنے جنگجوؤں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنی کارروائیوں میں افغان شہریوں کو شامل نہ کریں۔یہ ہدایات ایک آڈیو پیغام میں حافظ گُل بہادر اور ایک ویڈیو پیغام میں سربکف مہنمد نے اپنے پیروکاروں کو جاری کی ہیں ان دونوں طالبان تنظیموں کے رہنماؤں کے بیانات تقریباً ایک ہفتے کے جاری ہوئے ہیں۔ پہلا بیان یکم جنوری کو حافظ گل بہادر جبکہ دوسرا پیغام چھ جنوری کو سر بکف مہمند کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔حافظ گُل بہادر کالعدم ٹی ٹی پی کے اپنے گروہ کے سربراہ ہیں جبکہ سربکف مہمند جماعت الاحرار کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ کالعدم ٹی ٹی پی کا بھی حصہ ہیں۔ عسکریت پسند رہنماؤں نے پشتوں زبان میں اپنے پیغامات میں پہلے تو اپنے زندہ ہونے کے ثبوت پیش کیے اور ان ریکارڈنگز میں ان تاریخوں کا بھی ذکر کیا ہے جب یہ بیانات ریکارڈ کیے گئےحافظ گل بہادر نے اپنا آڈیو پیغام وزیری زبان میں جاری کیا ہے۔ چونکہ حافظ گل بہادر گروپ کا کوئی میڈیا ونگ نہیں ہے اس لیے یہ پیغام ان کی جانب سے ان کے پیروکاروں کو بھیجا گیا ہے اور پھر ان لوگوں کے سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کیا گیا ہے۔عسکریت پسند شخصیات کی جانب سے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گذشتہ مہینے افغان علما نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کی جائےاس اعلامیے میں واضح کیا گیا تھا کہ جو بھی افغان سرزمین کا استعمال کر کے ملک سے باہر عسکری کارروائی کرے گا اسے ’باغی‘ تصور کیا جائے گاپاکستان میں حکومتی عہدیداروں اور سکیورٹی حکام نے عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہونے افراد کی نشاندہی متعدد مرتبہ بطور افغان کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ہے پرتشدد کے واقعات کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔أفغان طالبان کی جانب سے متعدد مرتبہ ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔اس معاملے پر پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کے جنگجوؤں کے درمیان متعدد جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔ دونوں کے درمیان جنگ بندی میں ترکی اور قطر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ تاہم اس کے بعد ہونے والے مذاکرات زیادہ کارگر ثابت نہیں ہو سکے۔پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھی اپنی ایک پریس کانفرنس میں 2025 کے دوران 10 بڑے دہشت گرد واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان میں ملوث تمام عسکریت پسند أفغان شہری تھے جو مارے گئے۔پاکستان میں مبصرین حافظ گُل بہارد اور سربکف مہمند کے بیانات کو ایک تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔حافظ گُل بہادر اور سربکف مہمند دونوں نے ہی اپنے جنگجوؤں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ اپنے گروہوں میں غیر ملکی جنگجوؤں، خصوصاً أفغان شہریوں، کی بھرتیاں نہ کریں۔ کریں۔اس خطے میں مسلح تنظیموں پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار احسان ٹیپو محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دیگر تنظیموں کے قائدین کے برعکس حافظ گُل بہادر ہمیشہ میڈیا سے دور رہے ہیں اور انھوں نے کبھی سوشل میڈیا پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔‘حافظ گُل بہادر کی سوشل میڈیا سے دوری کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ انھوں نے خود اپنے بیان میں اپنے پیروکاروں کو موبائل فون یا سوشل میڈیا کا استعمال کرنے سے منع کیا ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو (یو این) اپنی پابندیوں کی رجیم کے تحت ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھا جائے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل کو دہشت گردی کی کارروائیوں کی وجہ سے ’بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات‘ پر بریفنگ میں بتایا کہ بی ایل اے کو کونسل کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی درخواست پہلے ہی زیر غور ہے۔ 31 جنوری 2026 کو بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کے تحت ’مربوط حملے‘ کیے، جنہیں سکیورٹی فورسز کے مطابق ناکام بنا کر 100 سے زائد عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا۔ اس سے قبل جمعے کو پاکستانی فوج نے بتایا تھا کہ صوبے میں سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیوں میں ’41 انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد‘ مارے گئے۔ یکم فروری کو بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے پچھلے 40 گھنٹوں میں 145 عسکریت پسندوں کو مارا، جو بقول ان کے ’دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کے دوران اتنے کم عرصے میں اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔‘ حالیہ حملوں میں 48 پاکستانی شہری بھی جان سے گئے، جن میں پانچ خواتین اور تین بچوں سمیت 31 عام شہری بھی شامل تھے۔ سلامتی کونسل کے ارکان نے بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ ’ان قابلِ نفرت دہشت گردانہ کارروائیوں کے مرتکبین، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جواب دہ ٹھہرا کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘گذشتہ سال اگست میں امریکی محکمہ خارجہ نے بی ایل اے اور اس کے مجید بریگیڈ کو اپنی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ کونسل اس وقت زیر غور فہرست سازی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے بی ایل اے کو 1267 پابندیوں کے نظام کے تحت نامزد کرنے کے لیے تیزی سے کام کرے گی۔ پاکستانی سفیر نے بلوچستان میں حالیہ حملوں کی مذمت میں ایک پریس بیان جاری کرنے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین کا شکریہ ادا ان کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی حمایت اور یکجہتی کا اظہار‘ قرار دیا کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ ’انسداد دہشت گردی کی عالمی کوششوں میں ایک فرنٹ لائن ریاست کے طور پر ہم نے 90 ہزار اموات اور بے پناہ معاشی نقصانات کے ساتھ بے پناہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔مندوب نے انسداد دہشت گردی کی سابقہ کوششوں میں پاکستان کے کردار کو دہراتے کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ کو ’پاکستان کی اہم کوششوں کی وجہ سے افغانستان میں بڑی حد تک تباہ کر دیا گیا پاکستان نے عسکریت پسند داعش کی علاقائی گروہوں سے نمٹنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔سفیر نے خبردار کیا کہ حالیہ برسوں میں خصوصاً کابل پر افغان طالبان کے قبضے کے بعد سلامتی کی صورت حال خراب ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’بیرونی طور پر سپانسر شدہ اور غیر ملکی امداد سے چلنے والے پراکسی دہشت گرد گروپس جیسے فتنہ الخوارج تحریک طالبان ُاکستان (ٹی ٹی پی) اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) اور اس کی مجید بریگیڈ کو زندگی کی نئی زندگی مل گئی ہے۔’افغان سرزمین سے امداد کے ساتھ کام کرتے ہوئے اور ہمارے مشرقی پڑوسی کی فعال حمایت سے یہ گروہ پاکستان کے اندر گھناؤنے دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار ہیں۔‘بلوچستان میں تازہ ترین تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی ایل اے نے متعدد مقامات پر مربوط حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔کہا کہ ’ہم اپنی سرزمین سے بیرونی طور پر اسپانسر شدہ اس لعنت کو ختم کرنے اور اپنی سرحدوں کے اس پار بیٹھے کفیلوں، مالی معاونت کرنے والوں، مدد کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ابھی اس ہفتے کے آخر میں بی ایل اے نے صوبہ بلوچستان میں متعدد مقامات پر دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی جس کے نتیجے میں 5 خواتین اور تین بچوں سمیت 48 معصوم شہریوں کی شہادت ہوئی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری بہادر سکیورٹی فورسز کے موثر جوابی کارروائی کے دوران بی ایل اے کے 145 دہشت گردوں کو مارا دیا گیا۔‘سفیر نے اقوام متحدہ کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان سے نکلتے ہوئے علاقائی خطرے کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا۔’یہ دہشت گرد گروہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور اس سے آگے کے لیے خطرہ ہیں۔‘انہوں نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد پیچھے رہ جانے والے جدید ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف بھی خبردار کیا۔ کہا کہ ’افغانستان میں غیر ملکی افواج کی طرف سے چھوڑے گئے اربوں ڈالر کے جدید ترین ہتھیاروں اور آلات کو دہشت گردوں کے ہاتھ میں جانے سے روکنا ناگزیر ہو گیا ہے۔عالمی برادری کو دہشت گردی کے عصری خطرات سے نمٹنے کے لیے اجتماعی، جامع اور مربوط ردعمل کے ذریعے، بشمول گلوبل کاؤنٹر تیررازم سٹریٹجی کا نفاذ۔انسداد دہشت گردی کے لیے منتخب طریقوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں میں اب تک صرف ایک مذہب کے ماننے والوں کو شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ریاستی دہشت گردی کے لیے زیرو ٹالرنس ہونا چاہیے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ’غیر ملکی قبضے کے خلاف لوگوں کی جائز جدوجہد کو تسلیم کیا جانا چاہیے اس سال کے آخر میں انسداد دہشت گردی کی عالمی حکمت عملی کے آئندہ 9ویں جائزے نے ’ہمارے اجتماعی عزم کی تجدید‘ اور موجودہ خلا کو دور کرنے کا موقع فراہم کیا۔ پاکستان کثیرالجہتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا جس کا مقصد اجتماعی کوششوں اور تعاون کے ذریعے اس لعنت سے نمٹنے اور اس کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کرنا ہے۔پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان میں حالیہ حملوں کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی، جس میں شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی اور حملوں میں خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ’گھناؤنا‘ اور ’غیر انسانی حربہ‘ قرار دیا گیا۔قرارداد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔ بلوچستان کے متعدد مقامات پر ’مربوط‘ حملوں کیے گئے جن میں 17 سکیورٹی اہلکار، 31 عام شہری، اور ڈیڑھ سو کے قریب عسکریت پسند مارے گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں کم از کم دو خواتین عسکریت پسند بھی شامل تھیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے ’یہ ایوان بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے جن میں نہ صرف معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور بلکہ خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرنے جیسے گھناؤنے اور غیر انسانی حربے اپنائے گئے۔’یہ ایوان اس امر پر گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کے استحصال، زبردستی، ذہنی دباؤ اور بلیک میلنگ کے ذریعے انہیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اسلامی، پاکستانی، اور بلوچ اقدار کے سراسر منافی ہے۔’یہ ایوان سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، صوبائی حکومت بلوچستان، اور سول انتظامیہ کے بروقت اور مؤثر اقدامات کو سراہتا ہے اور شہدا و زخمیوں کے اہل خانہ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔’یہ ایوان واضح کرتا ہے کہ شہری آبادی، خواتین اور بچوں پر حملے ناقابلِ معافی جرائم ہیں، اور ریاست ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کے اصول پر فیصلہ کن کارروائی کرے۔’یہ ایوان اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ متعدد واقعات میں دستیاب قرائن بیرونی سرپرستی کی جانب اشارہ کرتے ہیں، بالخصوص ہندوستان کے کردار کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں، جبکہ بعض ہمسایہ ممالک میں لاجسٹک اور آپریشنل سہولت کاری، مالی معاونت، تربیت، علاج، نقل و حرکت اور پروپیگنڈا نیٹ ورکس کے ذریعے دہشت گردی کو تقویت دی جاتی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے منگل کو پاکستانی صوبہ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ ’ان قابلِ نفرت دہشت گردانہ کارروائیوں کے مرتکبین، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جواب دہ ٹھہرا کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘31 جنوری 2026 کو بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کے تحت ’مربوط حملے‘ کیے، جنہیں سکیورٹی فورسز کے مطابق ناکام بنا کر 100 سے زائد عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا۔ اس سے قبل جمعے کو پاکستانی فوج نے بتایا تھا کہ صوبے میں سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیوں میں ’41 انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد‘ مارے گئے۔ بلوچستان، جس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، گذشتہ کئی دہائیوں سے علیحدگی پسندی کا سامنا کر رہا ہے جس میں سکیورٹی فورسز، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور شہریوں پر حملے شامل ہیں۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کونسل کے صدر جیمز کیریوکی نے اس حوالے سے بیان جاری کیا، جس میں متاثرین کے خاندانوں، پاکستان کی حکومت اور عوام سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، اور زخمی ہونے والوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔سلامتی کونسل کے ارکان نے اس امر کی توثیق کی کہ ’دہشت گردی اپنی تمام صورتوں اور مظاہر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ ’ان قابلِ نفرت دہشت گردانہ کارروائیوں کے مرتکبین، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جواب دہ ٹھہرا کر انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ کونسل کے ارکان نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ’بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اس ضمن میں حکومتِ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔سلامتی کونسل کے ارکان نے اس امر کا بھی اعادہ کیا کہ ’دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی مجرمانہ اور ناقابلِ جواز ہے، چاہے اس کے محرکات کچھ بھی ہوں، وہ کہیں بھی، کبھی بھی اور کسی کے ہاتھوں بھی انجام دی گئی ہو۔اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام ریاستیں اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی دیگر ذمہ داریوں، بشمول بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون، بین الاقوامی پناہ گزینوں کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ہر ممکن ذرائع سے دہشت گردانہ کارروائیوں کے باعث بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کا مقابلہ کریں۔













