اسلام آباد (ٹی این ایس) بین الاقوامی امریکی جریدے یوروشیا ریویو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال خطے کے امن کے لیے سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے اور سرحد پار دراندازی و دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ افغانستان سے شدت پسند عناصر کی جانب سے حملے اور دراندازی معمول بنتے جا رہے ہیں جس سے پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں متاثر ہو رہی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ بار بار سرحدی کشیدگی کے باعث تاجکستان کی سرحدی نگرانی مزید مضبوط کرنا پڑی۔ جریدے کے مطابق افغانستان اب صرف داخلی عدم استحکام تک محدود نہیں رہا بلکہ مسلح گروہوں اور سرحد پار جرائم کا مرکز بھی بنتا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملک میں 20 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں اور تقریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو سرگرم ہیں۔ اس غیر مستحکم صورتحال کے اثرات ہمسایہ ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں، خصوصاً سرحدی خطرات اور اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ماہرین کے مطابق افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے ساتھ منشیات اور انسانی اسمگلنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے پورے خطے کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند گروپوں کا اتحاد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان میں اب ”سب سے بڑا دہشت گرد گروپ” ہے اور سرحد پار سے پاکستان میں حملے کرنے کے لیے اسے افغانستان کے طالبان حکمرانوں کی تائید و حمایت بھی حاصل ہے۔ .عالمی سطح پر افغان طالبان رجیم کی شدت پسندی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور معاشی و سلامتی بحران کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے ۔طالبان رجیم نہ تو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت ہے اور نہ ہی اسے عوامی اعتماد حاصل ہے ، امریکی جرید ے یوریشیا ریویو نے حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان حکومت دراصل ایک مسلح آمریت ہے جو مذہب کی آڑ میں عوامی اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور افغانستان کو سنگین بحرانوں میں دھکیل رہی ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے مخالفین، سابق سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کا قتلِ عام جاری ہے ، جبکہ طالبان قیادت میں داخلی اختلافات اور فتنہ الخوارج سمیت 20 سے زائد دہشت گرد گروپ فعال ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ افغان عوام سے نہیں، افغان طالبان رجیم سے ہے۔فغان طالبان کے تمام دعوئوں کے باوجود افغانستان میں دہشتگردی، غربت اور بے روزگاری اپنی جگہ پر برقرار ہے۔ ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں نصف آبادی بالخصوص خواتین غربت کا شکار ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس کمزور اقتصادی حالات اور شدید غذائی قلت کے سبب افغانستان میں 15.8 ملین افراد متاثر ہوئے۔ جبکہ افغان طالبان کی پالیسیوں اور غربت کے باعث چائلڈ لیبر میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ افغان طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد افغان عوام کے لیے ایک وقت کی روٹی کا حصول بھی ناممکن ہوچکا ہے۔غریب افغان عوام کے نام پر جو امداد بیرونی ممالک سے آتی ہے وہ بھی طالبان اپنے قبضے میں کرلیتے ہیں۔ورلڈ بینک کے مطابق غربت کے ساتھ افغانستان کی 25 فیصد آبادی کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے جبکہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان کی ایک تہائی آبادی کو فوری غذائی امداد کی ضرورت ہے۔پاکستان کا مستقل مؤقف رہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان میں موجود پناہ گاہوں سے پاکستان میں حملے کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں ترلائی امام بارگاہ پر خودکش حملہ ہو یا سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں، حکام کے مطابق ان کے روابط سرحد پار موجود نیٹ ورکس سے جڑے ہوتے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے حوالے سے بھی پاکستانی ادارے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے بعض عناصر افغانستان میں موجود رہے ہیں یا انہیں وہاں سہولت کاری میسر آتی رہی ہے۔ اگرچہ افغان حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں لیکن پاکستان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنی حالیہ بریفنگ میں واضح طور پر کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 4 فروری کو جاری ہونے والی 1267 پابندیوں کی کمیٹی رپورٹ پاکستان کے مؤقف کی ’وسیع حد تک تائید‘ کرتی ہے۔ رپورٹ کے اہم نکات جن کا حوالہ بریفنگ میں دیا گیا افغانستان میں ٹی ٹی پی کو ’زیادہ عملی آزادی‘ حاصل ہے ٹی ٹی پی افغانستان میں سب سے بڑی دہشتگرد تنظیموں میں شمار ہوتی ہے اور پاکستان کے اندر حملوں میں ملوث ہے۔ القاعدہ افغانستان میں موجود ہے اور وہ دیگر گروہوں، بالخصوص ٹی ٹی پی، کو تربیت اور مشاورت فراہم کرتی ہے۔ترجمان کے مطابق یہ رپورٹ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر رکن ممالک کی تشویش کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کا تعاون علاقائی حدود سے باہر بھی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔پاکستان نے اس مسئلے کو مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر اٹھایا ہے:
سنہ2021 میں افغان طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کو توقع تھی کہ سرحد پار دہشتگردی میں کمی آئے گی۔ تاہم سلامتی کونسل کی رپورٹ یہ اشارہ دیتی ہے کہ افغان عبوری حکومت اب بھی بعض گروہوں کو عملی گنجائش فراہم کر رہی ہے۔ یہ نکتہ پاکستان کی سفارتی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے یہ مطالبہ کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو اب دوطرفہ سطح سے بڑھ کر عالمی سطح پر دستاویزی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔پاکستان کے لیے مسئلہ صرف سرحدی دراندازی نہیں بلکہ داخلی استحکام بھی ہے۔ ترلائی جیسے حملے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ بلوچستان میں کارروائیاں معاشی منصوبوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ اسلام آباد کی موجودہ پالیسی 3 ستونوں پر قائم دکھائی دیتی ہے۔انٹیلیجنس اور دفاعی اقدامات کی مضبوطی اس کے ساتھ ساتھ کابل کے ساتھ سفارتی چینلز کا تسلسل اور عالمی سطح پر قانونی و اخلاقی جواز کی مضبوطی۔ دفتر خارجہ کی حالیہ بریفنگ نے یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے معاملے کو محض بیانیہ جنگ نہیں بلکہ دستاویزی اور قانونی فریم ورک کے اندر لے جانا چاہتا ہے۔ سلامتی کونسل کی رپورٹ کے حوالہ جات نے پاکستان کے مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر تقویت دی ہے تاہم پائیدار حل اب بھی کابل کی عملی کارروائیوں اور علاقائی تعاون سے مشروط ہے۔اگر افغانستان اپنی سرزمین پر سرگرم گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرتا ہے تو تعلقات میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ بصورت دیگر پاکستان کی سفارتی حکمت عملی مزید سخت اور عالمی سطح پر فعال ہوتی نظر آ سکتی ہے۔افغانستان میں خواتین کی آزادی کو کم کرنے کے ضمن میں اٹھائے گئے ایک اور سخت قدم میں طالبان حکومت نے ملک میں خواتین کو ملازمت دینے والے تمام قومی اور بین الاقوامی غیر سرکاری گروپوں کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کیے ایک اعلامیہ میں افغانستان کی وزارت اقتصادیات نے خبردار کیا کہ تازہ ترین حکم نامے کی تعمیل میں ناکامی کی صورت میں این جی اوز ملک میں کام کرنے کے لائسنس سے محروم ہو جائیں گی۔حکم نامے کے مطابق وزارت اقتصادیات، غیر اماراتی اداروں کو رجسٹر کرنے کی اتھارٹی کے طور پر، ملکی اور غیر ملکی این جی اوز کی تمام سرگرمیوں کو مربوط کرنے، ان کی رہنمائی کرنے اور ان کی نگرانی کرنے کی ذمہ دار ہے۔’لہذا، ایک بار پھر غیر اماراتی اور غیر ملکی اداروں میں خواتین ملازمین کے کام کو روکنے کے لیے ایک فالو اپ سرکلر جاری کیا گیا ہے, عدم تعاون کی صورت میں، خلاف ورزی کرنے والے ادارے کی تمام سرگرمیاں معطل کر دی جائیں گی اور ان کا سرگرمی کا لائسنس اس وزارت سے موصول ہونے والی رقم منسوخ کر دی جائے گی۔ تین سال قبل افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، افغان خواتین کو عوامی زندگی کے تقریباً ہر شعبے، بشمول اسکول، یونیورسٹیاں، زیادہ تر کام کی جگہیں اور یہاں تک کہ پارکس سے بھی، باہر کیاجا چکا ہے، طالبان پہلے ہی خواتین کو بہت سی ملازمتوں اور بیشتر عوامی مقامات سے بیدخل کرچکے ہیں۔ افغان خواتین کو چھٹی جماعت سے آگے تعلیم کے حق سے محروم کرنے کے بعد طالبان نے رہائشی عمارتوں میں کھڑکیوں کی تعمیر پر پابندی عائد کر دی تھی طالبان حکومت خطے اور یورپ کے لیے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کا باعث بن رہی ہے۔ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ ہماری افغان پالیسی درست نہیں ہے لیکن جتنی صاف اور واضح آج کل پاکستان کی افغان پالیسی ہے اتنی کبھی نہیں رہی۔ امریکی افواج کے انخلا کے دوران افغانستان میں 7.2 ارب ڈالر کے فوجی ساز و سامان چھوڑے گئے تھے۔ افغان طالبان رجیم تمام افغان قومیتوں کی نمائندگی نہیں کرتا اور افغانستان کی نصف آبادی یعنی خواتین کی کوئی نمائندگی اس رجیم میں موجود نہیں۔ پاکستان کا مسئلہ افغان عوام سے نہیں بلکہ افغان طالبان رجیم کے رویے سے ہے۔ہمارے لیے اچھے یا برے دہشتگرد میں کوئی تفریق نہیں، ہمارے لیے اچھا دہشتگرد وہ ہے جو جہنم واصل ہوچکا ہے۔ طویل المدتی استحکام کے لیے جامع سیاسی حل اور افغان فریقوں کے درمیان قابل اعتماد مذاکرات ناگزیر ہیں خواتین کے حقوق کا تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی انتہائی اہم نکات ہیں۔ طالبان کی جابرانہ پالیسیاں، اقلیتوں کو نظر انداز کرنا اور معاشی بدانتظامی بڑے پیمانے پر ہجرت اور بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔واضح رہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد ملک میں طالبان کی عبوری حکومت قائم ہے، جو تاحال حالات کو درست سمت پر ڈھالنے میں ناکام نظر آ رہی ہے، اور افغان طالبان کی پالیسیوں سے دہشتگرد گروپ مضبوط ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دوحہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں اور اصلاحات سے انکار نے طالبان حکومت کو عالمی برادری سے تنہا کردیا ہے طالبان کو دہشتگرد نیٹ ورکس سے روابط ختم کرنا ہوں گے اور غیر ملکی قیدیوں کو رہا کرنا ضروری ہے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق 4 نومبر 2025 سے اب تک 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ رواں سال مجموعی طور پر 67023 انٹیلی جنس بیسڈ )آئی بی اوز( کیے گئے جن میں 1873 دہشتگرد مارے گئے، ان میں 136 افغانی شامل ہیں۔ صوبائی تقسیم کے مطابق خیبرپختونخوا میں 12857 جبکہ بلوچستان میں 53309 آپریشنز کیے گئے۔ بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے جبکہ پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر کے دشوار گزار علاقوں اور 20 کراسنگ پوائنٹس پر مشتمل ہے۔ متعدد مقامات پر چوکیاں ایک دوسرے سے 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں، لہٰذا نقل و حرکت کو کنٹرول کرنا بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد کے دونوں اطراف منقسم گاؤں صورتحال کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی مکمل سہولتکار ہے، اور افغانستان میں مختلف دہشتگرد تنظیموں کے مراکز، قیادت، اسلحہ اور فنڈنگ کے ٹھوس شواہد پاکستان نے مہیا کیے ہیں۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ طالبان رجیم ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ افغانستان پراکسیز کا پلے گراؤنڈ رہا ہے لیکن اس کو چاہیے کہ وہ پراکسی والا کام ختم کردے۔ پہلے افغانستان کا سینٹر آف گریویٹی کابل ہوتا تھا لیکن اب قندھار اور پکتیکا بھی ہیں کیوں کہ مختلف گروہ مضبوط ہو رہے ہیں۔افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے اور باڑھ بھی لگائی گئی اور طالبان رجیم سے بھی کہا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے مقصد میں استعمال نہ ہونے دے۔ دوحہ معاہدہ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ پراسس تھا جس کو بتدریج آگے بڑھنا تھا معاہدے میں طے ہوا تھا کہ افغانستان کی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔دوحہ معاہدے میں ٹی ٹی پی کا بھی حل نکالنا چاہیے تھا۔ اس معاہدے کو پبلک نہیں کیا گیا بلکہ پاکستان کو بھی آؤٹ رکھا گیا۔پاکستان پورے دوحہ معاہدے کو سہولت کاری کے ذریعے آگے ضرور لے کر گیا اور سہولت کار کا کردار ادا کیا جس کے 2 مقاصد تھے ایک امن ہو تو پاکستان کے لیے بہتر ہوجائے اور دوسرا افغانستان میں لڑائی ختم ہوجائے۔دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان کا بھی اہم کردار ہے اور پاکستان نے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرے کے طور پر ابھر رہا ہے۔ سرحد پار دراندازی، دہشتگرد حملوں اور مسلح جھڑپوں کے تسلسل نے نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ وسیع تر خطے کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ افغانستان اور تاجکستان کی سرحد پر بار بار پیش آنے والے واقعات کے بعد روس کی قیادت میں قائم کلیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ تاجک سرحدی فورسز کو جدید اسلحہ اور آلات فراہم کرے گی تاکہ افغانستان سے ہونے والی دراندازی اور حملوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ اقدام اس بڑھتے ہوئے خطرے کی عکاسی کرتا ہے جو افغان سرزمین سے منظم سرگرمیوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔26 نومبر 2025 کو بدخشاں (افغانستان) سے اڑنے والے ایک کواڈ کاپٹر ڈرون نے تاجکستان میں ایک چینی تنصیب کو نشانہ بنایا، جس میں 3 چینی شہری ہلاک ہوئے۔ صرف 4 روز بعد 30 نومبر کو ایک اور حملہ افغانستان کی جانب سے کیا گیا جس میں چین روڈ اینڈ برج کارپوریشن کے 2 کارکن مارے گئے۔ یوں 4 دنوں میں 5 چینی شہری ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔18 جنوری 2026 کو افغانستان سے دراندازی کرنے والے دہشتگردوں کو مسلح مزاحمت کے بعد ہلاک کیا گیا جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ، ساز و سامان اور لاجسٹک مواد برآمد ہوا، جس سے منظم سرحد پار نیٹ ورک کی تصدیق ہوئی۔ 29 جنوری 2026 کو مسلح اسمگلرز افغانستان سے تاجکستان میں داخل ہوئے جنہیں جھڑپ کے دوران مار دیا گیا، اور بھاری مقدار میں اسلحہ و منشیات قبضے میں لی گئیں۔یہ تمام واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغان سرزمین دراندازی، اسمگلنگ اور دہشتگردی سے جڑی سرگرمیوں کے لیے اسٹیجنگ گراؤنڈ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔اقوام متحدہ کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد بین الاقوامی اور علاقائی دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں جبکہ قریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو مختلف گروہوں سے وابستہ ہیں۔ ان میں تحریک طالبان پاکستان (TTP)، داعش خراسان (ISIL-K)، القاعدہ، القاعدہ برصغیر (AQIS)، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (IMU)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM/TIP) اور جماعت انصار اللہ شامل ہیں۔یہ گروہ نہ صرف پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں بلکہ چینی شہریوں، علاقائی رابطہ منصوبوں اور اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کے لیے بھی براہِ راست خطرہ ہیں۔طالبان قیادت کے نظریات اور پالیسیوں نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ملک بھر میں مدرسوں کی تیز رفتار توسیع، خواتین کی تعلیم و روزگار سے بے دخلی اور سماجی پابندیوں نے افغانستان کو نظریاتی انتہا پسندی کی نرسری میں تبدیل کر دیا ہے۔ 40 ملین آبادی والے ملک میں 23 ہزار سے زائد مدارس کا قیام ایک ایسے تعلیمی ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے جہاں تنقیدی سوچ کے بجائے نظریاتی تربیت کو فوقیت حاصل ہے۔ خواتین کو عوامی زندگی، تعلیم اور ملازمت سے باہر رکھنے کے اقدامات غربت، محرومی اور سماجی تنہائی کو بڑھا رہے ہیں، جو شدت پسند تنظیموں کے لیے بھرتی کا سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔افغانستان سے پھیلنے والی بدامنی دہشتگردی، منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ کی صورت میں سرحدوں سے باہر منتقل ہو رہی ہے۔ پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک فوری نتائج بھگت رہے ہیں، جبکہ علاقائی تجارتی راہداریوں، توانائی منصوبوں اور رابطہ کاری کے اقدامات کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ماہرین کے مطابق بغیر احتساب کے طالبان حکومت کو معمول پر لانا دہشتگردی کو تقویت دینے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ کسی بھی قسم کی بین الاقوامی شمولیت کو مشروط، قابلِ تصدیق اور دہشتگرد نیٹ ورکس کے خاتمے سے منسلک ہونا چاہیے۔ علاقائی سطح پر انٹیلی جنس شیئرنگ، سرحدی تعاون، مالی نگرانی اور مشترکہ سفارتی دباؤ پر مبنی حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور یورپی ممالک بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں رہیں گے، کیونکہ افغانستان کو محض علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی دہشتگردی کے مرکز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے افغانستان کو مذہبی آزادی کی سنگین، منظم اور مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث کنٹری آف پارٹیکولر کنسرن (CPC) قرار دینے کی سفارش کر دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کے تحت افغانستان میں مذہبی آزادی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور ریاستی سطح پر ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو مذہبی اقلیتوں اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے حقوق کو سلب کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مذہب کو حکومتی کنٹرول مضبوط کرنے اور اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔USCIRF کے مطابق شیعہ، احمدیہ، ہندو، سکھ اور عیسائی برادریوں سمیت دیگر اقلیتوں کو دباؤ، امتیازی سلوک اور مذہبی پابندیوں کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں عوامی سزاؤں، کوڑوں، سنگساری اور دیگر سخت سزاؤں کے نفاذ پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔خواتین اور بچیوں کی صورتِحال کو بھی رپورٹ میں نمایاں کیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں، خواتین کی نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں شرکت پر قدغنیں مذہبی احکامات کے نام پر نافذ کی جا رہی ہیں، جس سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔رپورٹ میں طالبان کے نئے تعزیری قانون پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، جس کے تحت حنفی مکتبہ فکر سے اختلاف رکھنے والوں کی مذہبی شناخت کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نتیجے میں مذہبی و سماجی تفریق کو تقویت ملتی ہے اور قانونی تحفظ کمزور ہوتا ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدارس کے نظام میں نظریاتی سختی بڑھ رہی ہے اور اخلاقی قوانین کے ذریعے معاشرتی رویوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔USCIRF نے زور دیا کہ افغانستان کو CPC قرار دینا اس بات کا عالمی اعتراف ہوگا کہ وہاں مذہبی آزادی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور بین الاقوامی برادری کو اس حوالے سے مؤثر اور مربوط پالیسی اپنانا چاہیے۔ماہرین کی اکثریت کی رائے ہے کہ مستقبل میں اگر موجودہ افغان عبوری حکومت مضبوط ہو جاتی ہے تو اس سے پاکستان ،ایران اور بھارت کی مشکلات میں مزید اضافے کا راستہ ہموار ہوگا اور اس کے نتیجے میں علاقائی کشیدگی مزید بڑھے گی ۔ افغانستان کو اس منظر نامے میں بہت سی کمزوریوں کے باوجود یہ فایدہ حاصل ہے کہ افغانستان کے تمام سیاسی فریقین سمیت اس کے عوام اپنے ملک کی سلامتی کے معاملے پر جذباتی حد تک ایک پیج پر ہیں جبکہ پاکستان کی اجتماعی صورتحال اس کے بلکل الٹ ہے ۔ دوسرا فایدہ افغانستان کو یہ حاصل ہے کہ پاکستان کے پشتون اور بلوچ قوم پرستوں کے علاوہ اسے پاکستان کے بعض اہم مذہبی جماعتوں کی ہمدردیاں بھی دستیاب ہیں جبکہ پاکستان کو تمام تر کوششوں کے باوجود افغانستان کے اندر کوئی سیاسی یا عوامی حمایت میسر نہیں ہے ۔ مستقبل میں کیا کچھ ممکن ہے اور خطے کے سیکیورٹی اور سیاسی حالات میں کس نوعیت کی تبدیلیاں آسکتی ہیں اس بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم اس بارے میں کوئی ابہام نہیں کہ خطے کے مستقبل کو مزید پیچیدگیوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ کھیل صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود نہیں رہے گا۔













