اسلام آباد (ٹی این ایس) یومِ معرکہ حق ;وزیراعظم کا خطاب, دفاعی خود مختاری کا جامع اعلامیہ

 
0
6

اسلام آباد (ٹی این ایس) وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب یومِ معرکہ حق کی تاریخی اہمیت اور پاکستان کی دفاعی خود مختاری کا ایک جامع اعلامیہ ہے۔
وزیراعظم کے خطاب کے کلیدی نکات درج ذیل ہیں:
1. اخلاقی برتری اور سچائی کا بیانیہ;
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے کے بعد الزامات کے جواب میں صبر کا مظاہرہ کیا اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کی۔ انہوں نے دشمن کے حملے کو “بزدلانہ” قرار دیا کیونکہ اس میں مساجد اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ پاکستان کا ردعمل خالصتاً دفاعی اور عسکری تھا۔
2. عسکری برتری کا خلاصہ ;
وزیراعظم کے خطاب کا یہ جملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے: “ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور ہر جانب دشمن کے طیاروں کا ملبہ تھا۔” یہ الفاظ آپریشن بنیانِ مرصوص کے دوران پاک فضائیہ کی مکمل فضائی برتری (Air Superiority) کی عکاسی کرتے ہیں۔
3. ٹیکنالوجی کی جیت (فتح میزائل);
وزیراعظم نے خصوصی طور پر “فتح میزائلوں” کا ذکر کیا، جنہوں نے بھارت کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام (S-400 وغیرہ) کو ناکارہ بنا کر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی دنیا کی صفِ اول کی ٹیکنالوجیز میں شامل ہے۔
4. فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین;
وزیراعظم کے خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو اسٹریٹجک کامیابی کا محور قرار دیا گیا۔ یہ ان کی عسکری مہارت اور شجاعت کا اعتراف ہے جس نے معرکہ حق کو ایک فیصلہ کن فتح میں بدل دیا۔ ساتھ ہی ایئر چیف اور نیول چیف کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔
5. قومی دن کا اعلان;
وزیراعظم نے 10 مئی کو “یومِ معرکہ حق” کے طور پر منسوب کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ اس دن کو بغیر تعطیل کے منانے کا مقصد قوم میں دفاعی بیداری اور ولولہ برقرار رکھنا ہے۔
6. آپریشن بنیانِ مرصوص کی حقیقت;
وزیراعظم نے اس آپریشن کو محض ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ قومی غیرت اور خودداری کی فتح قرار دیا، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کو بلند کیا۔
یہ خطاب اس عزم کا اعادہ ہے کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے اور حق کی طاقت ہمیشہ باطل کے جھوٹے پراپیگنڈے پر غالب آتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے، ہم نے دشمن کو ہر قسم کی مہم جوئی کے انجام سے آگاہ کیا تھا، ہم نے واقعے کی ہرطرح کی تحقیقات کی پیشکش بھی کی تھی، بزدل دشمن نے ہم پر جنگ مسلط کردی جس کا بہادر افواج نے تاریخی جواب دیا، جب ہمارے شاہین دشمن پر جھپٹے تو دشمن کو جان کے لالے پڑگئے، معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا، دشمن جنگ بندی کی درخواست پر مجبور ہوگیا، ایک سال گزرنے کے باوجود بھارت آج تک کوئی ثبوت پیش نہ کرسکا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں 10 مئی کو یوم معرکہ حق کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کرتا ہوں، یوم معرکہ حق ہرسال بھرپور جوش وجذبے سے منایا جائےگا۔
ان کا کہنا تھا کہ وطن کے شہدا،ان کے اہلخانہ اور عوام کو سلام پیش کرتا ہوں، بہادر مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، میں اور پوری قوم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سلام پیش کرتے ہیں، ائیرچیف مارشل ظہیراحمد بابر کا ذکر نہ کروں تو تاریخ ادھوری رہےگی، ہماری فضائیہ نے دشمن کے دعوؤں کا پول کھول دیا، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور بحریہ کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، معرکہ حق میں 24 کروڑ عوام اپنی افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کےکھڑے رہے۔ ایران جنگ میں ثالثی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ ساتھ دینے پر برادر اور دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے جنگ کےخاتمے کے لیےکردارادا کیا، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر طیب اردوان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، چین کے صدر شی جن پنگ اور چینی قیادت کا بھی شکریہ جنہوں نے معرکہ حق میں سیاسی،سفارتی اور اخلاتی حمایت کی۔انہوں نےکہا کہ پاکستان ہمیشہ مظلوم اقوام کے حقوق اور انصاف کے لیے توانا آواز بن کرکھڑا ہوا ہے، پاکستان نے فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے لیے ہر سطح پر آواز بلندکی ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بےمثال قربانیاں دیں، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ہمارےجوان بے مثال قربانیاں پیش کر رہے ہیں، نوجوان ہی ہمارا سب سے بڑا قیمتی اثاثہ ہیں۔ اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری کا اسلام آباد مونومنٹ پر خطاب ریاست کے عزم اور دفاعی برتری کا بھرپور عکاس ہے۔انکے خطاب کی روشنی میں اہم نکات درج ذیل ہیں:
تاریخی فتح کا اعتراف:
صدر مملکت نے 10 مئی کو پاکستان کی تاریخ کا “سنہری باب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی جارحیت کا جو منہ توڑ جواب دیا گیا، وہ ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
عسکری برتری (8-0 کا معرکہ): صدر مملکت نے باقاعدہ تصدیق کی کہ پاک فضائیہ نے دشمن کے 8 طیارے مار گرائے، جو فضائی جنگ کی تاریخ میں ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔
بھارتی دہشت گردی کا پردہ چاک:

صدر زرداری نے واضح طور پر افغانستان کے ذریعے پاکستان میں ہونے والی بھارتی دہشت گردی کی مذمت کی اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
کشمیر اور فلسطین پر دو ٹوک موقف:
صدر مملکت نے کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کی مذمت کرتے ہوئے کشمیریوں کی سیاسی و اخلاقی حمایت اور فلسطینیوں کے لیے غیر مشروط تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
قومی یکجہتی کا مظاہرہ:
اسلام آباد مونومنٹ پر ہونے والی اس تقریب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف اور تمام اعلیٰ سول و عسکری حکام کی موجودگی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پوری ریاست دفاعِ وطن کے لیے متحد ہے۔
غیر ملکی سفیروں کے تاثرات;
اسلام آباد مونومنٹ پر منعقدہ اس پروقار تقریب میں مارچ پاسٹ اور غیر ملکی سفیروں کے تاثرات نے اس دن کی اہمیت کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔
اس حوالے سے تفصیلات درج ذیل ہیں:مارچ پاسٹ کی خصوصیات ;تقریب کے دوران تینوں مسلح افواج کے دستوں نے روایتی جوش و جذبے کے ساتھ مارچ پاسٹ کیا، جس کے اہم پہلو یہ تھے:
سلامی اور چاق و چوبند دستے:
پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے خصوصی دستوں نے صدرِ مملکت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سلامی پیش کی۔عسکری ہم آہنگی:
مارچ پاسٹ میں شامل دستوں کی ترتیب اور نظم و ضبط نے “بنیانِ مرصوص” کے اسٹریٹجک تصور (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) کی عملی تصویر پیش کی، جو تینوں افواج کے اتحاد کی علامت تھی۔شہداء کو خراجِ عقیدت:
مارچ پاسٹ کے دوران شہداء کے لواحقین کی موجودگی میں خصوصی دھنیں بجائی گئیں، جس نے فضا کو جذباتی اور پرجوش بنا دیا۔
غیر ملکی سفیروں کے تاثراتتقریب میں موجود مختلف ممالک کے سفیروں (بشمول چین، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر دوست ممالک) نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو سراہا:
پیشہ ورانہ مہارت کا اعتراف:
سفیروں نے اس بات پر حیرت اور تعریف کا اظہار کیا کہ کس طرح پاکستان نے ایک مختصر دورانیے کی جنگ میں اپنی فضائی اور تکنیکی برتری (خصوصاً 8 طیارے گرانے کی صلاحیت) ثابت کی۔
علاقائی استحکام: دوست ممالک کے سفیروں نے پاکستان کے اس بیانیے کی تائید کی کہ یہ معرکہ کسی پر جارحیت کے لیے نہیں بلکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور امن کے تحفظ کے لیے تھا۔
تکنیکی ترقی:
غیر ملکی وفود نے خاص طور پر پاکستان کی مقامی طور پر تیار کردہ دفاعی ٹیکنالوجی (فتح میزائل سسٹم اور جے ایف-17) کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے عین مطابق قرار دیا۔
یکجہتی کا پیغام:
کئی سفیروں نے شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ملکی دفاع میں پاکستانی قوم کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
یہ تقریب محض ایک عسکری نمائش نہیں تھی بلکہ اس نے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر متحد اور جدید ترین وسائل سے لیس ہے۔
تقریب میں دکھائی جانے والی خصوصی عسکری نمائش اور شہداء کے لواحقین کے پیغامات اس دن کے جذباتی اور دفاعی پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں:
خصوصی عسکری نمائش (Defence Display)تقریب کے دوران پاکستان کی دفاعی خود انحصاری اور آپریشن بنیان مرصوص میں استعمال ہونے والے آلات کی خصوصی نمائش کی گئی:
میزائل ٹیکنالوجی:
نمائش میں “فتح-1” (Fateh-1) اور “فتح-2” میزائل سسٹمز کے ماڈلز خصوصی توجہ کا مرکز رہے، جنہوں نے دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
فضائی طاقت:
پاک فضائیہ کے جے-10 سی (J-10C) اور جے ایف-17 تھنڈر کے ماڈلز کے ساتھ ساتھ ان جدید ریڈارز کی نمائش بھی کی گئی جنہوں نے دشمن کے طیاروں کی بروقت نشاندہی کی۔
ڈرون نمائش:
جدید لوئیٹرنگ میونیشن اور نگرانی کرنے والے ڈرونز بھی رکھے گئے تھے، جو جدید جنگی حکمتِ عملی میں پاکستان کی برتری کو ظاہر کرتے ہیں۔
تصویری نمائش:
تقریب میں ایک خصوصی تصویری گیلری بھی قائم کی گئی، جس میں معرکہ حق کے دوران ہونے والی پیش قدمی اور دشمن کے تباہ شدہ طیاروں کے ملبے کی یادگار تصاویر آویزاں تھیں۔
شہداء کے لواحقین کے پیغامات ;
تقریب میں شہداء کے لواحقین کی شرکت نے ماحول کو انتہائی پروقار اور جذباتی بنا دیا ان کے پیغامات کا خلاصہ درج ذیل ہے:
فخر اور حوصلہ:
شہداء کے والدین اور بیواؤں نے اپنے پیغامات میں کہا کہ انہیں اپنے پیاروں کی قربانی پر فخر ہے کیونکہ انہوں نے وطن کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
صبر کا مظاہرہ:
لواحقین کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں ضائع نہیں ہوئیں، بلکہ انہی کی بدولت آج پوری قوم سر اٹھا کر جی رہی ہے۔
فوج سے محبت:
شہید کی بیٹی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ والد کی کمی محسوس ہوتی ہے، لیکن یہ دیکھ کر تسکین ملتی ہے کہ پوری قوم ان کے والد کو ایک ہیرو کے طور پر یاد کر رہی ہے۔عزم کا اعادہ:
شہداء کے ورثاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کو بھی ملک کے دفاع کے لیے قربان کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔
تقریب میں صدرِ مملکت نے افسران اور جوانوں کے لیے اعزازات کی منظوری بھی دی، جس میں میجر سبطین حیدر شہید، میجر حمزہ اسرار شہید ا یومِ معرکہ حق کے موقع پر پاکستانی قیادت نے جن مخصوص ہتھیاروں اور سفارتی کامیابیوں کا ذکر کیا ہے،
ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
مخصوص ہتھیار اور عسکری ٹیکنالوجی (آپریشن بنیانِ مرصوص)اس معرکے میں پاکستان نے اپنی جدید ترین جنگی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، جس میں درج ذیل ہتھیار نمایاں رہے: جے-10 سی (J-10C) اور پی ایل-15 میزائل: پاک فضائیہ کے J-10C طیاروں نے اس معرکے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ رپورٹ کے مطابق ان طیاروں نے PL-15 (بیونڈ ویژول رینج) میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے رفیل (Rafale) طیاروں کو نشانہ بنایا۔فتح-1 اور فتح-2 میزائل سسٹم: پاک فوج نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح (Fatah) سیریز کے گائیڈڈ راکٹ سسٹمز استعمال کیے۔ ان میزائلوں نے طویل فاصلے تک دشمن کی فوجی تنصیبات، بشمول برہموس میزائلوں کے اسٹوریج سائٹس کو درستگی کے ساتھ تباہ کیا۔اینٹی ریڈار اور سپرسونک میزائل: دشمن کے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بنانے کے لیے CM-400AKG سپرسونک میزائلوں کا استعمال کیا گیا، جو اپنی تیز رفتاری (Mach 4.5-5) کی وجہ سے دشمن کے ریڈاروں کی گرفت میں نہیں آتے۔
ڈرون ٹیکنالوجی:
پاکستان نے ونگ لونگ-II (Wing Loong II) اور CH-4 جیسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے ساتھ ساتھ لوئیٹرنگ میونیشن (YIHA III) کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ بھارتی فوج کے 70 سے زائد ڈرونز کو بھی تباہ کیا گیا۔
سائبر وارفیئر:
اس معرکے کے دوران پاکستان نے دشمن کے انفراسٹرکچر پر موثر سائبر حملے کیے، جس کے نتیجے میں بھارتی بجلی کے گرڈز کے بڑے حصے کو عارضی طور پر غیر فعال کر دیا گیا۔
سفارتی کامیابیاں ;
میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھی بڑی فتوحات حاصل کیں:
عالمی حمایت اور تنہائی:
معرکہ حق کے بعد پاکستان نے ثبوتوں کے ساتھ اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھا، جس سے بھارت کو عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔
ثالثی کا کردار:

پاکستان نے اس دوران نہ صرف اپنا دفاع کیا بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی کردار ادا کیا۔ صدر زرداری کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے میں بھی سفارتی مدد فراہم کی۔
چین اور سعودی عرب سے تعاون: اس بحران کے دوران چین اور سعودی عرب نے پاکستان کی بھرپور سفارتی اور دفاعی حمایت کی، جس سے پاکستان کے تزویراتی تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ یومِ معرکہ حق کے حوالے سے صدرِ مملکت نے جن فوجی اعزازات کی منظوری دی اور جن شہداء کی بہادری کو سراہا، ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:فوجی اعزازات کی فہرست (مارچ/مئی 2026)صدر آصف علی زرداری نے مجموعی طور پر 1,253 سے زائد افسران اور جوانوں کے لیے مختلف عسکری اعزازات کی منظوری دی:ستارہ بسالت (Sitara-e-Basalat): 11 (بہادری کا مظاہرہ کرنے والے شہداء اور غازیوں کے لیے)تمغہ بسالت (Tamgha-e-Basalat): 475ہلالِ امتیاز (ملٹری): 23ستارہ امتیاز (ملٹری): 100تمغہ امتیاز (ملٹری): 136امتیازی اسناد (Imtiazi Sanad): 130آرمی چیف تہنیتی کارڈز (COAS Commendation Cards): 378مخصوص شہداء کی داستانِ شجاعت1. میجر سبطین حیدر شہید (ستارہ بسالت)میجر سبطین حیدر کا تعلق کوئٹہ سے تھا اور وہ 4 پنجاب رجمنٹ (133 L/C) سے وابستہ تھے۔داستانِ شجاعت: ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (IBO) کی قیادت کرتے ہوئے انہوں نے غیر معمولی بہادری دکھائی۔ ان کی ٹیم نے تین خطرناک دہشت گردوں (خوارج) کو جہنم واصل کیا۔ وہ پہلے بھی ایک معرکے میں زخمی ہو کر “غازی” بن چکے تھے، لیکن اس بار انہوں نے وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا۔2. میجر حمزہ اسرار شہید (ستارہ بسالت)میجر حمزہ اسرار 22 فرنٹیئر فورس (133 L/C) کے نڈر افسر تھے۔داستانِ شجاعت: وزیرستان میں ایک آپریشن کے دوران انہوں نے شدید زخمی ہونے کے باوجود ہمت نہ ہاری اور 6 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ ان کی شہادت ان کی شادی کے محض 32 دن بعد ہوئی، جو ان کے ایثار اور جذبہِ حب الوطنی کی عظیم مثال ہے۔3. دیگر نمایاں شہداء (ستارہ بسالت یافتہ)میجر عدنان اسلم شہید (FF): فرنٹیئر فورس کے بہادر افسر جنہوں نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں جان قربان کی۔کیپٹن حسنین اختر شہید (Artillery): آرٹلری کے نوجوان افسر جنہوں نے معرکہ حق کے دوران شجاعت کی نئی تاریخ لکھی۔حوالدار علی بلال شہید اور نائیک بخت زمین شہید: ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کے جوان جنہوں نے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت پائی۔ یہ اعزازات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کا ہر افسر اور جوان “پہلے سے زیادہ سخت اور تکلیف دہ جواب” دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
حکومتِ پاکستان نے یومِ معرکہ حق (10 مئی) اور آپریشن بنیان مرصوص کے حوالے سے شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے ایک جامع اور تاریخی مالی امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔
اس پیکیج کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. مسلح افواج کے شہداء کے لیے پیکیج : شہداء کے ورثاء کو ان کے رینک (Rank) کے مطابق 10 ملین (ایک کروڑ) سے 18 ملین روپے تک نقد امداد دی جائے گی۔گھر کی سہولت: شہداء کے خاندانوں کو گھر کی تعمیر یا فراہمی کے لیے رینک کے لحاظ سے 19 ملین سے 42 ملین روپے تک فراہم کیے جائیں گے۔تنخواہ اور الاؤنسز: شہید کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک ان کی مکمل تنخواہ اور تمام الاؤنسز ان کے اہل خانہ کو باقاعدگی سے ملتے رہیں گے۔
بچوں کی تعلیم: شہداء کے بچوں کو گریجویشن (Graduation) تک مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔شادی گرانٹ: ہر شہید کی ایک بیٹی کی شادی کے لیے حکومت کی طرف سے 10 لاکھ (ایک ملین) روپے بطور میرج گرانٹ دیے جائیں گے۔
2. شہری شہداء اور زخمیوں کے لیے امدادشہری شہداء:
بھارتی جارحیت میں شہید ہونے والے عام شہریوں کے ورثاء کو فی کس ایک کروڑ روپے نقد دیے جائیں گے۔
زخمی شہری: زخمی ہونے والے شہریوں کو ان کی چوٹوں کی نوعیت کے حساب سے 10 لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
زخمی فوجی اہلکار: مسلح افواج کے زخمیوں کے لیے 20 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک کے پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔
3. دیگر مراعات اور بحالی تعمیرِ نو:
بھارتی حملوں سے متاثرہ گھروں اور مساجد کی تعمیر و مرمت کی ذمہ داری وفاقی حکومت نے اٹھائی ہے۔
علاج معالجہ:
تمام زخمیوں کے علاج کے مکمل اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔
وزیراعظم نے اس موقع پر واضح کیا کہ شہداء کے بچوں کی کفالت حکومت کا قومی فریضہ ہے اور ریاست اس ذمہ داری کو ہر صورت پورا کرے گی۔
اپنے تجزیے میں,سینئر تجزیہ کاراصغر علی مبارک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یومِ معرکہ حق کے موقع پر سول اور فوجی قیادت کے پیغامات محض رسمی بیانات نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ایک نیا تزویراتی (Strategic) موڑ ہیں۔
ان پیغامات کو “قومی تاریخ کا اہم باب” قرار دینے کی چند بڑی وجوہات یہ ہیں:
دشمن کے لیے واضح ریڈ لائن:
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ کہنا کہ “جواب پہلے سے زیادہ سخت اور تکلیف دہ ہوگا”، دشمن کے لیے ایک ایسی واضح حد بندی (Red Line) ہے جس نے پرانے دفاعی اصولوں کو نئے جارحانہ دفاع (Offensive Defense) میں بدل دیا ہے۔
سیاسی و عسکری وحدت:
جس طرح وزیر اعظم اور عسکری قیادت نے ایک ہی زبان میں دشمن کو للکارا، اس نے بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے اندرونی معاملات جیسے بھی ہوں، قومی سلامتی کے معاملے پر پوری ریاست ایک “سیسہ پلائی ہوئی دیوار” ہے۔تکنیکی برتری کا اعتراف: قیادت کے پیغامات میں آپریشن بنیان مرصوص کے دوران دکھائی جانے والی فضائی اور میزائل برتری کا تذکرہ اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستان اب روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی خود کفیل ہو چکا ہے۔
قومی وقار کی بحالی:
10 مئی کا معرکہ حق 1965 اور 1971 کی یادوں کے بعد ایک ایسی کامیابی کے طور پر ابھرا ہے جس نے پاکستانی قوم کے مورال کو بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ یہ پیغامات آنے والی نسلوں کے لیے ایک نصب العین کی حیثیت رکھتے ہیں، جو انہیں اپنی سرحدوں کی حفاظت اور قومی غیرت پر سمجھوتہ نہ کرنے کا درس دیتے ہیں۔
1. انٹیلیجنس اور پیشگی اطلاع کی برتری;
معرکہ حق صرف میدانِ جنگ کی فتح نہیں تھی، بلکہ یہ پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی بھی بڑی کامیابی تھی۔ پاکستان کو دشمن کے ارادوں کی پہلے سے اطلاع تھی، جس کی وجہ سے قیادت نے “سرپرائز” دینے کے بجائے دشمن کے حملے کو اس کے آغاز پر ہی ناکام بنا دیا۔
2. “سیلف ڈیفنس” سے “پرو ایکٹو رسپانس” ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی اب صرف حملے کا انتظار کرنے تک محدود نہیں رہی۔
قیادت کے پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب پاکستان “پرو ایکٹو ڈیفنس” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، یعنی خطرے کو بھانپتے ہی اسے سرحد پار ہی کچل دینا۔
3. میڈیا اور بیانیے (Narrative) کی جنگ ;
سینئر تجزیہ کاراصغر علی مبارک کے مطابق، اس معرکے میں پاکستان نے انفارمیشن وارفیئر میں بھی دشمن کو شکست دی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر اور سول قیادت نے بروقت حقائق دنیا کے سامنے رکھے، جس سے دشمن کا پراپیگنڈا عالمی سطح پر ناکام ہو گیا اور پاکستان کا موقف “حق” پر مبنی ثابت ہوا۔
4. مقامی دفاعی پیداوار پر اعتمادقیادت کے پیغامات میں مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں (جیسے جے ایف-17 تھنڈر اور مقامی میزائل سسٹمز) کا ذکر اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کم کر کے دفاعی خود انحصاری کی طرف بڑھ چکا ہے، جو کہ ایک تاریخی کامیابی ہے۔
5. علاقائی استحکام اور امن کا پیغام;
یہ نکتہ بھی اجاگر کیا کہ قیادت نے طاقت کے اظہار کے ساتھ ساتھ امن کی خواہش کا بھی ذکر کیا۔ پیغام یہ تھا کہ پاکستان کی طاقت کسی پر جارحیت کے لیے نہیں بلکہ خطے میں توازن برقرار رکھنے اور امن کی ضمانت کے لیے ہے۔
6. کائنیٹک اور نان کائنیٹک صلاحیتوں کا امتزاج ;
تجزیے کے مطابق، فیلڈ مارشل نے جہاں ٹینکوں اور طیاروں کی بات کی، وہیں سائبر سیکیورٹی اور ملکی معیشت کو دفاع کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قیادت اب “جامع قومی سلامتی” (Comprehensive National Security) کے تصور پر عمل پیرا ہے۔یومِ معرکہ حق (10 مئی) کے موقع پر پاکستانی قیادت نے جن مخصوص ہتھیاروں اور سفارتی کامیابیوں کا ذکر کیا ہے، ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
عسکری ٹیکنالوجی (آپریشن بنیانِ مرصوص)اس معرکے میں پاکستان نے اپنی جدید ترین جنگی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، جس میں درج ذیل ہتھیار نمایاں رہے:
جے-10 سی (J-10C) اور پی ایل-15 میزائل: پاک فضائیہ کے J-10C طیاروں نے اس معرکے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ رپورٹ کے مطابق ان طیاروں نے PL-15 (بیونڈ ویژول رینج) میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے رفیل (Rafale) طیاروں کو نشانہ بنایا۔فتح-1 اور فتح-2 میزائل سسٹم: پاک فوج نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح (Fatah) سیریز کے گائیڈڈ راکٹ سسٹمز استعمال کیے۔ ان میزائلوں نے طویل فاصلے تک دشمن کی فوجی تنصیبات، بشمول برہموس میزائلوں کے اسٹوریج سائٹس کو درستگی کے ساتھ تباہ کیا۔اینٹی ریڈار اور سپرسونک میزائل: دشمن کے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بنانے کے لیے CM-400AKG سپرسونک میزائلوں کا استعمال کیا گیا، جو اپنی تیز رفتاری (Mach 4.5-5) کی وجہ سے دشمن کے ریڈاروں کی گرفت میں نہیں آتے۔ڈرون ٹیکنالوجی: پاکستان نے ونگ لونگ-II (Wing Loong II) اور CH-4 جیسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے ساتھ ساتھ لوئیٹرنگ میونیشن (YIHA III) کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ بھارتی فوج کے 70 سے زائد ڈرونز کو بھی تباہ کیا گیا۔
سائبر وارفیئر: اس معرکے کے دوران پاکستان نے دشمن کے انفراسٹرکچر پر موثر سائبر حملے کیے، جس کے نتیجے میں بھارتی بجلی کے گرڈز کے بڑے حصے کو عارضی طور پر غیر فعال کر دیا گیا۔سفارتی کامیابیاں ;
میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھی بڑی فتوحات حاصل کیں:
عالمی حمایت اور تنہائی: معرکہ حق کے بعد پاکستان نے ثبوتوں کے ساتھ اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھا، جس سے بھارت کو عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔
ثالثی کا کردار:
پاکستان نے اس دوران نہ صرف اپنا دفاع کیا بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی کردار ادا کیا۔ صدر زرداری کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے میں بھی سفارتی مدد فراہم کی۔
چین اور سعودی عرب سے تعاون: اس بحران کے دوران چین اور سعودی عرب نے پاکستان کی بھرپور سفارتی اور دفاعی حمایت کی، جس سے پاکستان کے تزویراتی تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔
دفاعی برآمدات میں اضافہ:
معرکہ حق میں پاکستانی ہتھیاروں (خصوصاً JF-17 اور فتح میزائل) کی بہترین کارکردگی دیکھ کر کئی ممالک نے پاکستان سے دفاعی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے،